لکھنوٴ سے آئی نظمیں
”چپ کر۔ بند کر اپنی زبان۔“ امی کو ہنسی آ گئی۔ ”بیٹا بچوں کو ایسی باتیں کہی جاتی ہیں مذاق میں۔ انہیں سچ نہیں سمجھ لینا چاہیے۔“
”اچھا مذاق ہے؟ کوئی نہیں خالہ۔ دیکھنا آپ بھی مان لو گی ایک دن۔ پر دیکھ لینا میں جاوٴں گی نہیں یہاں سے۔ خالو کو آپ منا لینا۔ میں اب یہیں رہوں گی آپ کے ساتھ ساری عمر۔“ تسلیم نے کھونٹا مضبوط کرنے کی کوشش کی۔
ادھر دو مہینے گزرے۔ پھر تین۔ پھر چار۔ اب تک تو کسی کو فکر نہ تھی مگر جب چار مہینے گزر گئے تو امی کو تشویش لاحق ہونا شروع ہوئی، نہ کوئی خیر نہ خبر۔ نہ کوئی خط نہ ہی تار۔ نہ یہ پتہ کہ کس سے پوچھیں اور کیا پوچھیں۔ تسلیم کو ذرہ برابر فکر نہ تھی۔ مگر اب امی بار بار زارا کے بھائیوں سے کہتیں کہ اس کے گھر جا کر پتہ کرو کہ کوئی خط یا پیغام آیا؟
تسلیم کے گھر سے بھی کوئی خاص پتہ نہ چلتا کہ چٹھی وغیرہ تو کوئی آئی نہیں تھی۔ نہ ہی فون وغیرہ کا کوئی کنکشن تھا ان دنوں۔ زارا اور تسلیم دونوں ساتویں جماعت میں آ گئیں۔ گھر میں تو تسلیم بہت ہوشیاری اور طریقے سے رہتی تھی مگر اسکول میں اس کی حرکتیں وہی تھیں۔ ایک نمبر کی بلیک میلر۔ زارا اسکول میں کسی کے ساتھ بات کرتی۔ اسکول کے گراوٴنڈ میں کھیلتی یا کچھ کھاتی پیتی۔ تسلیم کسی خدائی فوجدار کی طرح حاضر ہوتی۔
”میرے ساتھ کھیلو ورنہ گھر جا کر بولوں گی کہ غلط قسم کی لڑکیوں کے ساتھ کھیلتی ہے۔“
”مرچوں والے دہی بھلے مت کھایا کرو ورنہ خالہ سے شکایت کروں گی۔“
زارا بیچاری کس سے تسلیم کی شکایت کرتی۔ گھر میں تو شکایت کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ امی کو تو تسلیم نے خوب شیشہ میں اتار لیا تھا۔ ان چند مہینوں میں یوں فرفر سندھی سیکھ گئی تھی کہ ابا سے سارا کلام سندھی میں ہی کرتی جب کہ دوسری جانب ابا کی سگی اولاد سندھی میں کیے گئے سوالوں کے جواب پٹ پٹ اردو میں جواب دیتی۔ زارا کے ماں باپ کو تو تسلیم سے کوئی شکایت نہ تھی الٹا ایک بار سب کو سخت قسم کی ڈانٹ پڑ گئی تسلیم کی وجہ سے۔
رمضان کے پہلے روزے کی سحری پر سب نے روزہ کھول لیا۔ مگر تسلیم کے سامنے فروٹ کی پلیٹ اور شربت کا گلاس ویسے کا ویسا رکھا رہا۔ کیونکہ اثنا عشری کے مطابق روزہ افطار کرنے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی۔ کھجور ہاتھ میں پکڑے روزہ کھلنے کی منتظر تسلیم سے زارا اور اس کے بھائیوں کی نظریں ملیں جو کہ روزہ افطار کر چکے تھے اور اب مزے سے شربت پی رہے تھے۔ اگلے ہی لمحے تینوں بہن بھائیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ہی تھا کہ زارا کی ہنسی چھوٹ گئی۔ امی نے گھور کر زارا کو دیکھا۔ تسلیم سمجھ گئی اور اپنی موٹی موٹی آنکھوں سے تینوں کو تیکھے تیوروں سے دیکھا۔ زارا کو فوراً اپنی غلطی کا احساس تو ہو گیا مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ سب نماز پڑھنے اٹھ کھڑے ہوئے۔
نماز ختم کرتے ہی امی نے اشارے سے زارا اور اس کے دونوں بھائیوں کو کمرے میں بلایا اور سختی سے بولیں ”آج جو ہوا سو ہوا۔ دوبارہ کچھ ایسا ہوا تو تسلیم کے سامنے وہ بے عزتی کروں گی کہ یاد رکھو گے۔ ایک دوسرے کے مسلک کا احترام سمجھ نہیں آیا ابھی تک۔ شرم نہیں آئی مذاق اڑاتے ہوئے؟
کہاں خالہ کے گھر میں زارا کے لئے لاڈ اور تسلیم کے لیے فضیحتیں اور کہاں امی کے گھر میں تسلیم کا خیال رکھنے کی ہدایتیں۔
”دیکھو اگر میں نے دیکھا کہ تم میں سے کسی نے تسلیم سے بدسلوکی کی، تو مجھ سے برا کوئی دوسرا نہ ہوگا۔“
یہ امی کی آخری وارننگ تھی۔ چھوٹا سا گھر تھا۔ امی کی آواز ویسے بھی بڑی کراری تھی۔ گمان غالب تھا کہ پیغام گھر بھر کو پہنچ چکا۔ نماز سے فارغ ہوتے ہی تسلیم نے فاتحانہ انداز سے زارا کو دیکھا، جس کی آنکھوں میں آنسو امڈ امڈ آ رہے تھے۔
آ لینے دو۔ حسن بھائی کو۔ ایک ایک بات نہ بتائی تو! آنکھوں سے رواں آنسو پونچھتے ہوئے زارا نے دل ہی دل میں تسلیم کو برا بھلا کہا۔ حسن بھائی کی ہدایت کے مطابق روز کے حساب سے ڈائری میں تسلیم کی شکایتیں لکھنا شروع کر رکھیں تھیں اس نے۔
پورے دس ماہ گزر چکے تھے تسلیم کی والدہ اور حسن بھائی کو گئے۔ زارا کی امی وسوسوں میں گھر گئی تھیں۔ رمضان گزرا، پھر عید آئی۔ امی نے تسلیم کو بھی زارا کی طرح کا جوڑا سی کر دیا۔ وہ بہت خوش تھی۔ ابا نے سب کو ایک جتنا جیب خرچ دیا۔ امی نے تسلیم سے کہا بھی کہ وہ جا کر اپنے نانا، ابا، بہن اور بھائیوں سے مل کر آ جائے مگر صاف جواب دے دیا اس نے۔
”خالہ تکا بوٹی کر دیں گے میری سب مل کر۔ دشمن ہیں میرے ایک نمبر کے۔ اسی لیے تو اماں نے آپ کے ہاں چھوڑا ہے مجھے۔ اور مجھے کیا ضرورت ہے ان کی۔ کون سا وہ مجھے یاد آتے ہیں۔ میں تو کہتی ہوں اماں اور حسن بھائی بھی لکھنؤ میں ہی رہیں تو اچھا ہے۔ مجھے تو اپنے پاس ہی رکھ لیں آپ۔ اب تو میں پوری سندھن بن گئی ہوں۔ سب سندھی سمجھتے ہیں مجھے۔ زارا سے بھی اچھی سندھی بولنا آ گئی ہے مجھے۔ کیوں چچا جان؟ اس نے زارا کے ابا کو مخاطب کیا۔ جو مسکرا کر گردن ہلا کر کے رہ گئے۔
مگر تسلیم کی دعا رنگ نہ لائی۔
اگلے ہی روز صبح سویرے دروازے پہ دستک ہوئی۔ ابا گھر میں ہی تھے۔ دروازہ کھولا تو باہر سے سیاہ رنگ کے کھلے سے برقعہ میں خالہ اپنا غرارہ دونوں ہاتھوں سے سنبھالتے ہوئے گھر کے اندر داخل ہوئیں۔ زارا انہیں سلام کر کے باہر کو لپکی۔ ”حسن بھائی“ کہتے ہوئے وہ دوڑ کر حسن بھائی سے لپٹ گئی۔
”ارے۔ گڑیا۔“ حسن بھائی ٹھٹھک سے گئے۔ آہستگی سے اسے خود سے دور کیا اور بولے ”میں بہت اچھی اچھی نظموں کی کتاب لایا ہوں تمہارے لیے لکھنؤ سے اور تسلیم نے تمہیں تنگ تو نہیں کیا زیادہ؟“
کتنا اجنبی تھا حسن بھائی کا لہجہ۔ پرایا پرایا سا۔ جیسے کوئی انجانا شخص بول رہا ہو۔
زارا کے اندر چھناکے سے کچھ ٹوٹ سا گیا۔ کہاں تو ایسی لگاوٹ سے اس کی ایک ایک بات پر ہنسنے مسکرانے۔ اور اسے اٹھا کر۔ سینے سے لگانے والے حسن بھائی اور کہاں یہ اجنبی رویہ؟ کتنا انتظار تھا اسے حسن بھائی کے آنے کا۔ کیا دس مہینے کسی دوسرے ملک چلے جانے سے آدمی اتنا بدل جاتا ہے۔ زارا روہانسی سی ہو گئی۔ حسن بھائی ابا سے باتوں میں یوں مشغول تھے گویا زارا وہاں موجود ہی نہ ہو۔ ناقابل یقین انداز میں زارا نے حسن بھائی کو دیکھا اور آنکھوں میں لرزتے آنسووٴں اور دکھی دل کے ساتھ بھاری قدموں سے چلتی ہوئی گھر کے دروازے پر جا کھڑی ہوئی۔ حسن بھائی اس کی موجودگی سے بے نیاز ابا سے باتیں کرتے رہے۔
خالہ امی سے مل کر جلد ہی باہر نکلیں اور حسن بھائی ابا سے اجازت لے کر خاموشی سے ان کے ساتھ اپنے گھر کو چل دیے۔ نہ زارا سے گھر چلنے کے لیے کہا۔ نہ ہی زارا کے ابا سے اسے اپنے گھر لے جانے کی اجازت طلب کی۔ یہ کیا ہوا؟ اس کے گھر میں تو سب ہی اپنے اپنے کاموں میں مگن ہوتے تھے۔ بھائی پڑھائی اور اپنے اپنے قصے کہانیوں میں مگن۔ ابا زمینداری میں مگن۔ امی کھانا پکانے، سلائی کڑھائی، گھر گرہستی میں مگن۔ مگر توجہ سے اس کی باتیں اور نظمیں سننے اور اس کو تسلیم کی بدمعاشی سے بچانے والے حسن بھائی بھی ایسے بدلے کہ وہ حیران رہ گئی۔
بار بار آنکھ میں آنے والے آنسو چوری چوری صاف کرتے شام گزری۔ رات میں جب بھی اس کی آنکھ کھلی وہ رو دی۔ دوسری صبح بھی ایسی ہی اداس۔ دل چاہا وہ بھی ایسی ہی کٹھور ہو جائے۔ پھاڑ ڈالے وہ ڈائری جس میں اس نے تسلیم کے ایک ایک جملے اور زیادتیوں کا حساب لکھا تھا کہ ہر بات حسن بھائی کو بتائے گی۔ کون سنے گا اب اسے؟ اب وہ کس طرح سب باتیں بیان کر سکے گی جب حسن بھائی کچھ پوچھیں گے ہی نہیں۔ حسن بھائی کا ایسا تکلیف دہ رویہ اسے بے تحاشا دکھی کر گیا۔ تسلیم اپنے گھر جا چکی تھی اپنے کپڑے اور دیگر سامان لے کر۔
اس واقعے کے تیسرے یا چوتھے دن۔ شام کو وہ کمرے میں بیٹھی اسکول کا ہوم ورک کر رہی تھی کہ خالہ آ گئیں۔ امی برآمدے میں بیٹھی سویٹر بن رہی تھیں۔ سلام دعا کے بعد۔ خالہ نے امی کو اپنے سفر کی روداد بتانا شروع کی جسے وہ کمرے کی ادھ کھلی کھڑکی سے سنتی رہی۔ اپنے بھائی کی طویل علالت کا قصہ۔ ٹرین میں پیش آنے والے واقعات۔ لکھنوٴ کی گلیوں، کوچوں اور گھروں کے اداس احوال۔ جدا ہونے والوں کے دکھ۔ اچانک خالہ کو کچھ خیال آیا، بولیں۔ ”زارا گھر پہ نہیں ہے کیا؟“
”گھر پر ہی ہے۔ پڑھ رہی ہے کمرے میں۔“ امی نے جواب دیا۔
”ارے وہ حسن آئے تھے نہ اس دن ہمارے ساتھ تو حیران رہ گئے زارا کو دیکھ کر۔ بولے اماں۔ وہ تو ایک دم سے اتنی بڑی ہو گئی ہے، بالکل لڑکی جیسی۔ میں تو ڈر کے مارے اس کو ہاتھ بھی نہ لگا سکا۔ کیسے ملوں گا میں اب اس سے؟ میں نے سمجھایا کہ بچیاں یونہی ایک دم سے بڑی ہو جایا کرتی ہیں۔ تو بولے یہ کتاب لے جاوٴ اماں۔ اب تمہی دے دینا یہ کتاب اس کو۔“
”لکھنوٴ سے خریدی تھی مولوی صاحب کی نظموں کی کتاب حسن نے زارا کے لئے۔“
زارا کی سسکیاں چھوٹ گئیں۔ اس نے دونوں ہاتھوں کی بھنچی مٹھیاں اپنی آنکھوں پہ رکھ لیں اور پھوٹ پھوٹ کر بے آواز رو دی۔

