لکھنوٴ سے آئی نظمیں
زارا پان کی خوشبو اور خالہ کی محبت کے آگے انکار نہ کر سکی اور سیدھے ہاتھ کی دو انگلیوں اور انگوٹھے کی مدد سے پان پکڑ لیا۔
خالہ مسکرائیں اور بولیں۔ ”اب پورا منہ کھول کر، دائیں طرف کو، کلے میں رکھو گلوری کو۔“
زارا نے ہوبہو ایسا ہی کیا اور یوں سعادت مندی سے ہدایت ہر عمل کرتے خالہ نے جب اسے دیکھا تو اپنی دونوں بانہیں کھول کے اس کو اپنے سینے سے لگا لیا اور بے ساختہ بولیں، ”کیسی پیاری بچی ہے۔“
تسلیم نے یہ لاڈ دیکھا تو اپنی اماں کے ایک طرف ہوتے ہی بولی۔ ”تمہاری امی کو پتہ چل گیا نہ کہ تم نے پان کھایا ہے تو بہت ڈانٹیں گی۔ تمہارا ہاتھ بھی سرخ ہو گیا ہے۔“
”ارے کیوں ڈانٹیں گی اسے۔ کوئی حرام ہے پان کھانا؟ اور یہ ہاتھ ابھی دھل جائیں گے۔ تو کیوں بچی کے پیچھے پڑی رہتی ہے ہر وقت؟“ اماں نے اپنا چاندی کا پاندان بند کرتے ہوئے تسلیم کو پھٹکارا۔
چاندی کا منقش پاندان۔ جس میں کالراپن اتر آیا تھا۔ شاید زیادہ مانجھنے کی وجہ سے۔ اماں اس پاندان سے محبت کا اظہار بار بار کر چکی تھیں کہ کس طرح نسل در نسل چلتا ہوا یہ پاندان ان کے حصے میں آیا۔ مگر اس کی زکوٰۃ نکالنے کے باری میں فکرمند رہتی تھیں۔ آمدنی نہ ہونے کے برابر تھی۔ نہ معلوم کیا ذرائع آمدن تھے۔ اس بارے میں جاننے کی کہاں کسی کو ان دنوں فکر تھی۔ بچے اپنے کھیل کود میں مست ہوتے تھے۔ سوائے حسن بھائی کے کوئی بھی ان معاملات میں سنجیدہ دکھائی نہ دیتا تھا۔
نازلی باجی کا کام صرف گھر گرہستی تھا۔ بیٹھک میں تسلیم کے ابا اور نانا جان شطرنج کی بساط جمائے بیٹھے رہتے۔ دن مین ایک دو بار حقہ گرم کرنے کے لیے اندر بھجوا دیا جاتا تھا۔ اور پھر کچھ ہی دیر بعد شمائلہ باجی حقہ گرم کر کے کسی چھوٹے بھائی کے ہاتھوں اندر بھجوا دیتی تھیں جو گھر کے اندر آتے جاتے، کھانا کھاتے، پاخانے جاتے۔ اماں سے پیسے مانگتے۔ سودا سلف لاتے، باہر کی جانب بھاگتے دوڑتے نظر آتے۔ تسلیم بھی گھر گھر کی خاک چھانتی پھرتی اور جب بھی گھر میں داخل ہوتی۔ اماں اسے شرم و حیا دلانے کی ناکام کوشش کرتیں۔ مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ صرف ایک حسن بھائی تھے، جن سے اس کی جان جاتی تھی کیونکہ وہ تو اسے دیکھتے ہی جھانپڑ مارنے کے لیے تیار ہو جاتے تھے۔
پانچویں کے امتحانات ہو گئے تو چھٹی جماعت میں داخلے کا مرحلہ آیا۔ امی اور خالہ نے طے کیا کہ گرلز اسکول میں دونوں لڑکیاں ساتھ جائیں گی۔ زارا کو تو خوف محسوس ہوا۔ وہ درمیانے قد کی دبلی پتلی نو دس سالہ نفیس سی بچی تھی جب کہ تیرہ برس کی تسلیم کھجور کے درخت کی طرح لمبی نکل گئی تھی۔ ”بے ڈھنگی اونٹ جیسی لڑکی“ حسن بھائی کو اس کی الٹی سیدھی حرکتیں دیکھ کر خوامخواہ تاوٴ آیا کرتا۔ اس کا اسکول جانا برقع پوش ہو کر جانے سے مشروط ہو گیا۔
تسلیم کو بے حد غصہ آیا مگر حسن بھائی کے سامنے اس کی ایک نہ چلی۔ زارا کی قسمت اچھی کہ دونوں کو علیحٰدہ کلاسیں ملیں۔ زارا کی جان کسی حد تک تو آزاد ہو گئی۔ مگر حسن بھائی کی پریشانی بدستور رہی۔ اور وہ جب بھی زارا کو گھر میں دیکھتے تسلیم کے سامنے زارا سے پوچھتے کہ کہیں تسلیم اسکول میں اسے تنگ تو نہیں کرتی۔ اس کی چیزیں تو نہیں کھاتی۔ وہ ہر طرح سے تسلی کرنا چاہتے تھے کہ کہیں زارا تسلیم کی کسی بلیک میلنگ میں تو نہیں آ رہی۔
اسی اثناء میں حسن بھائی کو کراچی میں ملازمت مل گئی تھی۔ اب حسن بھائی نے کراچی سے مہینے میں ایک بار گھر آنا شروع کیا۔ روڈ سے بجائے سیدھا اپنی گلی کی طرف مڑنے کے، وہ پہلے زارا کی گلی میں آتے دروازے سے چند قدم دور کھڑے ہو کر ”زارا“ آواز لگاتے۔ اور زارا خواہ اوپر چھت پر ہوتی یا نیچے، کمرے، دالان یا آنگن میں حسن بھائی کی آواز سنتے ہی باہر دوڑ جاتی۔ حسن بھائی حسب عادت اسے اپنے دونوں ہاتھ اس کی بغل میں ڈال کر اسے اپنے قد سے اونچا اٹھا کر، دو تین بار جھلاتے، پھر زمین پر کھڑا کر کے۔ کبھی پڑھائی کی بات تو کبھی سکول کی بابت پوچھتے۔ پھر زارا حسن بھائی کی انگلی تھامے، امی کی اجازت سے حسن بھائی کے ساتھ ان کے گھر جایا کرتی جہاں خالہ اسے دیکھ کر نہال ہو اٹھتیں۔
اپنی پہلی تنخواہ پہ حسن بھائی اس کے لیے ایک پنسل بھی خرید کر لائے۔ زارا کو پنسل بہت اچھی لگی اس پر بے شمار ستارے اور چاند چمک رہے تھے۔ اس پنسل کے دوسرے سرے پر ربر بھی لگا ہوا تھا جو زارا نے پہلی بار دیکھا تھا۔
انہی دنوں خالہ کو علم ہوا کہ لکھنوٴ میں ان کے بڑے بھائی کی حالت بہت بگڑ گئی ہے۔ خط تو ڈاکیہ دے گیا تھا۔ خط پہنچنے میں بھی مہینے لگ گئے تھے۔ مگر خبر گیری کا اور کوئی ذریعہ تو تھا نہیں۔ خالہ چہرے کو دوپٹے سے ڈھکے روئے چلی جاتیں۔ امی دلاسے دیتیں۔ امید اور ڈھارس بندھاتیں مگر خالہ پاکستان کی سلامتی کی دعائیں مانگتے مانگتے بھی ”ہائے ہمارا لکھنؤ“ کہہ کر جو سینے پر ہاتھ مارتیں تو زارا کا کلیجہ دہل جاتا۔ کئی بار وہ خالہ کو روتے دیکھ خود بھی خوب روئی تھی۔ اسے خالہ ہنستی مسکراتی۔ گاتی گنگناتی اچھی لگتی تھیں۔ خالہ کا رونا دھونا، اس دن ذرا تھما جب حسن بھائی نے مونا باوٴ ٹرین سٹیشن سے لکھنؤ جانے والی ٹرین کی دو ٹکٹیں خریدیں اور اپنی اماں کو اپنے ساتھ لکھنؤ لے جانے کا قصد کیا۔
خالہ نے اپنا ٹرنک تیار کیا اور بڑی امید اور مان سے امی کے پاس آ کر بولیں۔ ”بہن۔ گزارش یہ ہے کہ اس پگلی کو ایک ڈیڑھ مہینہ اپنے پاس رکھ لیں جب تک ہم لکھنوٴ سے واپس آئیں۔ بڑی والی تو سب بھائیوں کو اور ہمارے میاں اور ابا کو کھانا بنا کر دے گی۔ گھر سنبھالے گی۔ یہ پگلی کسی سے نہ سنبھلے گی۔ بلکہ مجھے تو الٹا یہ ڈر ہے سارے بھائی مل کر مار ہی نہ ڈالیں اس کو۔ کسی کے قابو میں تو آتی نہیں ہے۔ آپ ماریں، پیٹیں، گھر کا کام کروائیں مگر اس کے پاوٴں میں زنجیر ڈال کر رکھیں کہ سوائے اسکول کے کہیں نہ جائے، ورنہ سب کی ناک کٹوا دے گی یہ لڑکی کسی دن۔
امی نے بغیر کسی عذر کے حامی بھر لی اور خالہ کو بے فکر ہو کر جانے کی ہدایت کی۔ ابا سے مشورہ کرنے کی کوئی ضرورت یوں نہ تھی کہ گھر میں امی کا ہی حکم چلتا تھا اور ویسے بھی تسلیم کون سی مہمان تھی۔ اگلے ہی لمحے تسلیم صاحبہ کپڑے کے بنے تھیلے میں اپنے کپڑے اور ضرورت کا سامان ڈالے، اسکول بیگ کاندھے پہ لٹکائے، دانت نکالے گھر میں آن وارد ہوئیں۔
حسن بھائی نے جاتے جاتے زارا کو گلے لگایا۔ پیار کیا۔ اس کے ہاتھ میں چھوٹی سی پیلے رنگ کی، سرخ چونچ والی پلاسٹک کی بطخ تھمائی اور ساتھ ایک چھوٹی سی پاکٹ سائز کی ڈائری دے کر بولے۔ ”زارا اس ڈائری میں اس پگلی کی ساری باتیں لکھ کر ٖرکھنا اور جب میں واپس آوٴں تو مجھے بتانا۔ اور اگر اس نے تمہیں تنگ کیا تو واپس آ کر اس کی وہ خبر لوں گا کہ اس کے فرشتے بھی توبہ کریں گے۔“
خالہ اور حسن بھائی تو چلے گئے۔ مگر اب تسلیم گھر میں خوب کھل کھیلی۔ وہ تو بھول ہی گئی کہ اس کا اپنا گھر اگلی گلی میں ہے۔ اپنے مضبوط تن و توش اور لانبے قد کا بھرپور فائدہ اٹھایا اس نے۔ گھر کے کونوں کھدروں اور کمروں کی چھتوں پرسے لٹکتے جالے اتارنے سے لے کر، باورچی خانے میں امی کی مدد اور چرب زبانی نے اسے جلد ہی امی کی ضرورت بنا دیا۔ نالائق، چڑیل، اونٹنی، گدھی اور پگلی کہلانے والی تسلیم زارا کی امی کی دلاری ہو گئی۔
ابا بیچارے زمینوں کے کام سے تھکے تھکے سے آتے اور اپنے بچوں کو فرفر اردو بولتے دیکھتے تو روز مرہ بول چال کے سندھی جملوں کی پریکٹس کروانے لگ جاتے۔ مگر اللہ جانے کیا بات تھی کہ زارا کی زبان پر سندھی زبان کا تلفظ ہی نہ چڑھتا تھا جبکہ تسلیم کی سندھی میں روز افزوں ترقی سے ابا اش اش کر اٹھتے۔ تسلیم نے یہ میدان بھی مار لیا تھا سو اب زارا سے حسد کیا کرتی کہ زارا سی کم سخن کو گھر میں بھلا کون پوچھتا تھا۔ کم گو، خاموش طبع، نہ کسی کے لینے نہ کسی کے دینے میں۔ گھر کے کاموں میں کوری، کتابوں کی رسیا۔
”خالہ بھئی اب میں اس گھر میں واپس نہیں جاوٴں گی، جب میری اماں آئیں گی تو“ ۔ تسلیم نے ایک دن امی کی سلائی مشین کے پاس بیٹھے ہوئے، اپنی قمیض کی ترپائی کرتے ہوئے فیصلہ سنا دیا۔
”چلو ٹھیک ہے۔ مگر جانا تو پڑے گا۔ گھر تو تمہارا وہی ہے نہ۔ جب تمہاری امی واپس آئیں گی تو تمہیں لے جائیں گی۔“
”تو آپ روک لینا نہ؟ اور وہ سب کون سا مجھے چاہتے ہیں؟ مار پیٹ کے لیے رکھا ہوا ہے مجھے۔ بتاوٴ خالہ بری ہوں میں؟ پھوہڑ ہوں؟ فالتو باہر جاتی ہوں؟ گھر کا کام نہیں سیکھ گئی سارا؟ وہاں تو سب میری جان کے دشمن ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک۔ اور وہ حسن بھائی چار پیسے کیا کماتے ہیں۔ خدا بن بیٹھے ہیں گھر بھر کے۔ کب سے پیٹ رہے ہیں مجھے زارا کی وجہ سے۔ اب میں زارا کی طرح خوبصورت نہیں ہوں، گوری نہیں ہوں تو کیا اس میں میرا قصور ہے؟ خالہ۔ یقین مانو۔ جب بھی زارا کو اسکول سے گھر لے کر آتے تھے نہ حسن بھائی تو میرا تو پیشاب خطا ہو جاتا تھا کہ اب تو مجھے مار پٹی ہی پٹی۔“
”ہائے ہائے۔ یہ کیسی بات کی؟“ امی جو ابھی تک ہاں ہوں میں جواب دے رہی تھیں ایک دم چونک کر بولیں۔
”قسم لے لیں خالہ جو جھوٹ بولوں۔ بس زارا کو چاہتے تھے اورمجھے گالیاں، کوسنے اور چانٹے۔“
”ارے بھائی ہے تمہارا بڑا۔ کیا مارتا ہو گا بھلا اور زارا سے بڑھ کے تم کو پسند کرتا ہے۔ سگی بہن تو تم ہی ہو نہ اس کی۔“ امی نے تسلی دی۔
”کوئی نہیں۔“ ۔ پکا سا منہ بنا کر تسلیم بولی۔ ”مجھے تو گوبر کے ڈھیر سے اٹھایا تھا انہوں نے جب پاکستان آ رہے تھے اماں ابا والے۔“
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

