لڑکیو! دروازہ بند کر دو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چے گویرا کی ماں کے بارے میں لوگ جانتے ہوں گے کہ وہ خود ایک باغی عورت تھیں۔ انہوں نے اپنی جوانی میں نہ صرف اس وقت ڈرائیونگ کی، جب لڑکیوں، عورتوں کا گاڑی چلانا ممنوع تھا بلکہ اس وی آئی پی روڈ پر بائک لے کر چلی گئیں جہاں سرے سے گاڑی چلانے پر ہی پابندی تھی۔ زندگی میں وہ کام جو منع ہیں، ہمیشہ لطف کی خاطر ہی نہیں کیے جاتے بلکہ کئی دفعہ اپنے وجود کے اثبات کے لیے بھی کیے جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں سے خاص طور پر یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ جہاں تک ہوسکے اپنے نہ ہونے کا بھرم سماج کو دلاتی رہیں۔ مسلمان معاشرے میں تو یہ پابندی ایک سیاہ ہیولے کی شکل میں ابھرتی ہے، جہاں بچپن سے لڑکیوں کو تربیت کی جاتی ہے کہ وہ انسانی بدن کے بجائے زندگی بھر سڑک پر ایک سائے کی طرح چلتی پھرتی نظر آئیں۔ اچھا ہے کہ ان کا چہرہ دکھائی نہ دے اور اگر وہ دکھائی بھی دیتا ہے تو سینہ تو ہرگز نظر نہ آئے۔ لیکن ایک مسئلہ ہندو مسلم سماج کا مشترکہ ہے اور وہ ہے لڑکیوں کی تنہائی، ان کی پرائویسی کو ان سے چھیننا۔

ہمارے سماج میں یہ کام زیادہ تر شرم و حیا اور لحاظ کی آڑ میں کیا جاتا ہے۔ میں ذہن پر زور ڈالتا ہوں تو یاد نہیں آتا کہ میری طرح میری بہن یا ماں نے بھی کبھی دروازہ بند کرکے کسی دوست یا رفیق سے گھنٹوں باتیں کی ہوں گی۔ یہ پابندی صدیوں سے چلی آ رہی ہے اور پابندی بھی وراثت میں ملتی ہے۔ جب کسی لڑکی سے یہ کہا جاتا ہے کہ تمہیں دروازہ بند کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اسی وقت اسے بتا دیا جاتا ہے کہ تمہیں دروازہ بند کرنے کا حق ہی نہیں ہے۔

کم سن چے گویرا اپنی والدہ کے ہمراہ

عورت بازار میں ہو تو مسئلہ ہے، مگرعورت تنہا ہو تو اس سے بھی زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔ اساطیری کنویں جھانکیے تو سیتا سے لے کر میرا بائی تک آپ کو عورت کے ساتھ ہنٹر لیے ایک مرد ضرور کھڑا نظر آئے گا اور اگر عورت اپنا کھویا ہوا ہار ڈھونڈنے یا جنگل میں کسی ہرن کو پکڑنے نکل پڑے تو اس پر ایسی کہانیاں بنادی جائیں گی، جنہیں عبرت کے طور پر استعمال کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ دیکھیے عورت ذرا آزاد ہوئی اور معاشرے کیسی سخت مشکل میں پڑے۔ یہ بات سننے میں مشکل ہے مگر حوصلہ رکھیے تو آپ کو بتا دوں کہ جب تک آپ ان مذہبی روایتوں پر اندھا یقین رکھتی ہیں، تب تک آپ اپنی تنہائی میں مرد کے شکنجے کو خود پر سے ہٹا نہیں سکتیں۔

اس کی مثال میں اپنی ماں سے دیتا ہوں، میں جب بھی عورت کی آدھی گواہی کے حق پر معترض ہوا، میری امی جان نے فورا فرمایا کہ ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اللہ نے ہمیں بنایا ہے، چنانچہ وہ چاہے گا تو ہمیں پورا حق دے گا، اور نہیں چاہے گا تو آدھے سے بھی محروم کردے گا۔ عورت کے استحصال کے لیے مرد نے اس کی تربیت ہی کچھ ایسے کی ہے کہ خود مظلوم کہتا نظر آتا ہے کہ ہمیں اس ظلم پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اب مذہبی لٹریچر کو چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں۔ وہ لڑکے یا مرد جو غیرت کے نام پر جوش میں آجاتے ہیں کیوں کبھی اس کا تصور نہیں کرتے کہ ہمارا یہ سماج، ایلیٹ کلاس والا نہیں، بلکہ متوسط اور اس سے بھی نچلے درجے کا سماج اس بات کو لے کر حساس بنے کہ لڑکی یا عورت اپنے سینے میں ایک دل رکھتی ہے اور اپنے فیصلوں کے لیے آزاد ہے، جن میں سے ایک فیصلہ یہ ہے کہ وہ کب، کس سے، کہاں اور کتنی بات کرے گی۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ بند کمرے میں اپنی محبوبہ سے محبت یا جنسی لذت میں ڈوبے ہوئے جملے آسانی سے کہہ سکیں تو یہ حق اپنی بہنوں کو بھی دیجیے اور اگر آپ نہیں دے سکتے تو مانیے کہ آپ منافق ہیں۔

ورجینیا وولف

شہروں میں بننے والے رشتوں کا المیہ دیکھیے۔ یہاں ایک لڑکی محبت کرتی ہے، اول تو اسے بہت روز تک وہ محبت خود سے بھی چھپا کر رکھنی پڑتی ہے۔ پھر جب اس کے محبوب سے باتوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو وہ چھپتے چھپاتے، لحاظ کرتے، ادھر ادھر دیکھتے ہوئے، موقع نکال کر بات کرتی ہے۔ باپ، بھائی یا دوسرے رشتہ دار سبھی ایک کھوکھلا فخر لے کر گھوم رہے ہیں کہ ہمارے گھر کی بیٹی شریف ہے اور شریف بیٹی وہی ہے جس کے دروازے پر کبھی کنڈی نہیں لگتی، جو کبھی اندر سے دروازہ بند نہیں کرتی اور کچھ کے کمروں میں تو سرے سے دروازہ ہی نہیں ہوتا۔

اب ہوتا یہ ہے کہ لڑکی محبت بھی کرتی ہے، بات بھی کرتی ہے، پورن بھی دیکھتی ہے اور اپنےمحبوب سے ملتی بھی ہے مگر یہ سب باتیں اسے ان کھوکھلے فخر میں سنے ہوئے رشتہ داروں سے چھپا کر کرنی پڑتی ہیں۔ اب آپ کہیں گے کہ پورن تو لڑکے بھی تنہائی میں دیکھتے ہیں مگر میرا موقف ہے کہ لڑکوں کو جو تنہائی اور جتنی خاطر خواہ تنہائی اس معاشرے میں میسر ہے، لڑکی کو وہ بڑی مشکل سے کھوجنی پڑتی ہے۔ اسے اپنے ہونے کو محسوس کرنے کے لیے بھی ایک الگ سپیس بنانا پڑتا ہے۔ یہ وہ عام باتیں ہیں جو ہماری زندگی کا حصہ ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ جس معاشرے میں کنڈی لگانا لڑکیوں کے لیے اتنا بڑا مسئلہ ہے وہاں ان کے حقوق کی پاسداری کا بھرم پالنے والے کن بنیادوں پر اپنی پیٹھ ٹھونکتے ہوں گے۔

خوش ہونا، کوئی بیماری نہیں، کوئی فریب نہیں، کوئی گناہ نہیں، کوئی عذاب نہیں۔ خوش ہونے کے لیے خود کو مجرم سمجھنا ایک بے وقوفی ہے۔ آپ اپنے لیے ایک پارٹنر چنتی ہیں، نہیں بھی چنتیں اور اکیلے بھی اگر آپ کو کسی سینما گھر میں بیٹھ کر مسالے دار سین پر سیٹی بجانے میں لطف ملتا ہے تو یہ آپ کا بنیادی حق ہونا چاہیے۔ اب کوئی کہے گا کہ یہ تو مسئلہ ہے مگر اس کا حل کیا ہے تو میرا جواب ہے کہ حل یہی ہے کہ لڑکیوں کو چھوٹے چھوٹے ٹیبوز توڑنے ہوں گے۔ اپنے گھروں میں، اپنے لوگوں میں، اپنے آپ میں بنے ہوئے، جمے ہوئے ٹیبوز۔

Mary McCarthy at Her Desk in Paris

کوئی گناہ نہیں اگر کوئی لڑکی ہتھے سے اکھڑ جائے اور کہہ دے کہ اسے اکیلے سونا ہے، کنڈی لگا کر وہ گھنٹوں اپنے کمرے میں کسی سے فون پر بات کرتی رہے، اس سے جس سے مزہ آرہا ہو، کوئی بات کرنے کے لیے نہ ہو تو کچھ لکھے، پڑھے، میوزک سنے، ڈانس کرے یا پھر کوئی گیم کھیلے اور یہ بھی نہیں کرنا تو بس لیٹے، اس بے ڈھنگے طریقے سے جس سے وہ لیٹنا چاہتی ہے اور اپنی بازیافت کے عمل میں لگ جائے۔

کوئی کہے گا کہ اگر حقوق نسواں کی بات ہے تو یہ سب باتیں کھلم کھلا کرنے کا درس کیوں نہیں دیتے تو میرا جواب ہے کہ میں دروازہ بند کرنے کے حق پر زیادہ زور اس لیے دے رہا ہوں کیونکہ انسان خود کی تنہائی کا حق جیت لے یہ سب سے زیادہ ضروری ہے۔ گوتم بدھ ہوں، اوتار ہوں یا پھر دوسرے مفکر و فلسفی، سب کو گیان کے گوہر تنہائی میں ہی ملے ہیں، حتی کہ نیوٹن بھی اپنی تنہائی میں ہی کشش ثقل کو دریافت کرسکا تھا۔ ورجینا وولف نے ایک کمرہ مانگا تھا، ہمارے سماج میں ایک بند کمرہ لڑکی کے لیے اس سے بھی زیادہ ناگزیر ہے۔

ماں باپ ہمارے خیر خواہ ہیں، اور ہم ان کے۔ مگر اپنی خیر خواہی بھی کوئی برائی نہیں ہے۔ میری ایک دوست کہتی ہے کہ اسے اپنی ماں کی نیت پر کوئی شک نہیں ہے، بس ان کی سمجھ پر ہے۔ ماں باپ کو یہ حق کسی نے نہیں دیا کہ وہ اپنی لڑکیوں کو آنکھوں کی قید میں رکھیں۔ کسی بھی لڑکی کا اپنی ماں یا باپ سے یہ جواب طلب کرنا ضروری ہے کہ شرم و لحاظ کے نام پر اسے جن بیڑیوں میں جکڑا جا رہا ہے، جیسا نظر بند کیا جا رہا ہے، اس کا بالکل ٹھیک ٹھیک جواز کیا ہے؟

میرے خیال میں ایسی شرمیلی تربیت کے بجائے ماں باپ کو سیکس ایجوکیشن پر زیادہ دھیان دینا چاہیے۔ کسی لڑکی کو یہ معلوم ہو کہ کس عمل سے حمل ٹھہر سکتا ہے تو وہ اس سے باز رہ کر اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ دوسری جنسی لذتیں کیوں حاصل نہیں کرسکتی؟ کیوں اس کی تربیت میں یہ شریفانہ دھمکی ٹھونسی جاتی ہے کہ ایک لڑکی پر فرض ہے کہ وہ لجا شرما کر ہی اپنا مدعا بیان کرے اور جہاں تک ہو سکے خود آگہی کے عذاب سے دور رہے۔

Hannah Arendt

لڑکیوں کو چاہیے کہ وہ ہر اس پابندی کی مخالفت کریں، جو ان کے وجود کو کچلتی ہو۔ جن سے انہیں منافقت کی بو آتی ہو اور یا پھر بہت سادہ زبان میں جس کے لیے ان کے ذہن و دل راضی نہ ہوں۔ میں برقعہ پوش لڑکی کی جذباتی اور جنسی خواہش دونوں کا احترام کرتا ہوں، بشرطیکہ وہ خود بھی ان ضرورتوں کو سمجھتی ہو۔ کسی کو کوئی حق نہیں کہ ہمیں ان باتوں پر ٹوکے یا روکے، جن کے صحیح یا غلط، اچھے یا برے نتائج کے بارے میں ہم خود فیصلہ کر سکتے ہیں۔

جن لڑکیوں کو یہ سہولت حاصل ہے، جن کو یہ حق مل چکا ہے انہیں اپنی دوسری ہم جنسوں کے لیے برابر آواز اٹھانی چاہیے۔ اسے ایک اخلاقی جنگ میں تبدیل کرکے لڑکیوں کو باقاعدہ اپنے حقوق کو سمجھنے اور جاننے اور ان کے لیے جذباتی حربے استعمال کرنے کی مکمل چھوٹ ہونی چاہیے۔ کم از کم میں تو بالکل غلط نہیں سمجھوں گا اگر وہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے ان ترکیبوں کا بھی استعمال کریں، جنہیں عرف عام میں کمینے پن یا کھلی بے شرمی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

کوئی کہہ سکتا ہے کہ پابندی کو توڑنے کا یہ سارا سبق صرف لڑکیوں کو ہی کیوں کہ سماج میں بہت سے ایسے لڑکے بھی ہیں، جن کو دروازے بند کرنے کی اجازت نہیں، پرائیویسی ان کو بھی حاصل نہیں تو میرا جواب ہے کہ اگر کہیں ایسا ہے تو اس لڑکے کو بھی ایسے گھریلو تشدد کی کھل کر مخالفت کرنی چاہیے، اس کے لیے مشکلیں سہنا اور ان چہیتوں کا دل دکھانا بھی ضروری ہے جو انسان کے بنیادی حق کو محبت یا طعنہ زنی کے بوٹ تلے کچلنے میں کوئی پریشانی محسوس نہیں کرتے۔ پرائیویسی کا لحاظ نہ کرنے والا کوئی شخص ہو یا چیز، اس کی مخالفت ہونی ہی چاہیے، پھر چاہے وہ ماں باپ ہوں یا واٹس ایپ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •