امریکی صحافی ڈینیئل پرل کا اغوا و قتل: احمد عمر شیخ سے خالد شیخ محمد تک وہ تمام کردار جو اس بھیانک کھیل میں شامل رہے

جعفر رضوی - صحافی، لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈینیئل پرل

گلا کاٹ کر قتل کیا گیا تھا اُسے۔۔۔؟ خوف چھپانے کی کوشش میں امریکی صحافی کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ اُس کے گھبراہٹ زدہ چہرے پر آتے جاتے رنگوں سے مجھے اپنی غلطی کا کچھ کچھ اندازہ تو ہوا مگر تب تک تیر کمان سے نکل چُکا تھا۔

آر دیز پرلز ریمینز؟ (یہ پرل کی لاش ہی کی باقیات ہیں) ڈیوڈ نے حلق میں کچھ نگلتے ہوئے انگریزی میں دوبارہ مجھ سے تصدیق چاہی۔

اب میرے پاس بھی اثبات میں سر ہلانے کے سِوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ بدحواس ڈیوڈ نے پریشانی اور تشویش چھپانے کی اپنی سی تو بہت کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ بالآخر جتنی جلدی ممکن ہوا وہ کمرے سے چلا ہی گیا۔

صرف پانچ منٹ پہلے ہی ہم سب کراچی کے آواری ٹاورز ہوٹل کے اُس کمرے میں ڈیوڈ کے ساتھ ہی قہقہے لگا رہے تھے۔

یہ 16 مئی 2002 کا دن تھا۔ ڈیوڈ سمیت کئی امریکی و برطانوی صحافی ہوٹل میں قائم ’جیو نیوز کے اس عارضی دفتر میں پاکستان کے پہلے براہ راست (لائیو) نیوز ٹی وی چینل کی ابتدائی ٹیم کے ہم سب ارکان کو تربیت دے رہے تھے۔

چونکہ اس سے پہلے پاکستان میں لائیو ٹی وی کا وجود ہی نہیں تھا لہذٰا ہم میں سے کسی کو بھی براہ راست نشریات کا تجربہ نہیں تھا۔

جیو نیوز نے ہماری تربیت کے لیے سی این این اور بی بی سی کے ڈیوڈ جیسے کئی سابق صحافیوں پر مشتمل ایک ادارے کی خدمات حاصل کی تھیں۔

میں جیو نیوز میں کرائم رپورٹر تھا اور ڈیوڈ ہمیں ٹی وی پروڈکشن پڑھا رہا تھا۔

اچانک میرے ’پیجر (موبائل فون عام ہونے سے قبل سیلیلیولر کمیونیکیشن یا بے تار پیغام رسانی کا ایک آلہ یا ڈیوائس) پر پولیس کے ایک ’ذریعے‘ نے اطلاع دی کہ پاکستان میں اغوا ہو جانے والے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کی باقیات ایک کمپاؤنڈ سے مل گئی ہیں۔

اطلاع اتنی سنسنی خیز تھی کہ میں نے یہ پرواہ بھی نہیں کہ ڈیوڈ اس وقت کتنے انہماک سے ہمیں پڑھا رہا ہے۔

سبقت (کریڈٹ) حاصل کرنے اور اپنے طور پر خود کو بڑا ’باخبر‘ صحافی ثابت کرنے کی بھونڈی سی کوشش میںِ، مَیں نے پیجر پر آنے والی اطلاع اونچی آواز سے سب کو بتا تو دی مگر میری اِسی حماقت نے ڈیوڈ کو خوفزدہ کر دیا۔

آپ خود سوچیے، اُس وقت ’دنیا کے سب سے خطرناک ممالک‘ میں سے ایک یعنی پاکستان میں موجود ایک امریکی صحافی کو میں یہ بتا رہا تھا کہ اِسی پاکستان میں ایک اور امریکی صحافی کو اغوا کر کے اس کا سر تن سے جدا کر دیا گیا ہے۔

اس حماقت کے بعد جیو نیوز کے صدر عمران اسلم اور اُس وقت کے ڈائریکٹر نیوز اظہر عباس نے میرے ساتھ کیا سلوک کیِا اور ڈیوڈ جیسے صحافیوں کا پاکستان جیسے ملک میں کام کرنا کتنا مشکل تھا، یہ تذکرہ پھر کبھی۔

ابھی تو کچھ ذکر امریکی صحافی ڈینیئل پرل کا، جنھیں آج سے ٹھیک 19 برس قبل یعنی 23 جنوری 2002 کو کراچی سے اغوا کیا گیا اور پھر سر قلم کر دیا گیا۔

ڈینیئل پرل کون تھے؟

امریکی صحافی ڈینیئل پرل 10 اکتوبر 1963 کو امریکی ریاست نیو جرسی کے علاقے پرنسٹن میں پیدا ہوئے۔ اُن کی والدہ روتھ پرل عراقی نژاد جبکہ والد جوڈیّا پرل پولش نژاد اسرائیلی تھے۔

پرل پہلے امریکی ریاست میساچوسیٹس کے نارتھ ایڈم ٹرانسکرپٹ اور برک شائر ایگل جیسے صحافتی اداروں سے منسلک رہے پھر سان فرانسسکو بزنس ٹائمز کے ساتھ کام کرتے رہے۔

سنہ 1990 میں پرل امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے اٹلانٹا بیورو سے منسلک ہو گئے۔ وال سٹریٹ کی ملازمت کے دوران پرل 1993 میں امریکی دارالحکومت واشنگٹن منتقل ہوئے۔ پھر 1996 میں وہ اخبار کے لندن بیورو بھیجے گئے اور 1999 میں اُن کا تبادلہ پیرس بیورو میں کردیا گیا۔

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں ایک فوجی ٹھکانے پر امریکہ کے میزائیل حملے کے بارے میں اُن کی ایک تحقیقاتی خبر نے ثابت کیا کہ امریکی فوج کا مؤقف غلط تھا اور جسے فوجی ٹھکانہ بتایا گیا وہ دراصل ایک دوا ساز کارخانہ تھا۔

1999 میں پیرس کے قیام کے دوران ہی پرل کی ملاقات آن لائن جریدے گلیمر کی خاتون صحافی ماریان واں نائینوف سے ہوئی اور دونوں نے جلد ہی شادی کر لی۔

بعد ازاں پرل وال سٹریٹ جرنل کے جنوبی ایشیا کے لیے بیورو چیف مقرر کر دئیے گئے اور انڈیا کے شہر ممبئی آ گئے۔

11 ستمبر 2001 کو امریکہ پر القاعدہ کے حملوں کے بعد افغانستان میں طالبان کے خلاف امریکی قیادت میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کی رپورٹنگ کے سلسلے میں وہ ماریان کے ہمراہ پاکستان آتے جاتے رہے۔

’شو بمبار‘ کی تلاش جو ڈینیئل پرل کو کراچی لے گئی

پرل امریکہ پر 11 ستمبر کے حملوں کے بعد افغانستان کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی کوریج کرنے کے لیے پاکستان آئے تھے اور اس دوران رچرڈ کولوِن ریڈ نامی برطانوی شہری کی خبر کی تلاش میں تھے جو ’شُو بمبار‘ کے لقب سے مشہور ہوئے۔

سرکاری ریکارڈ، عدالتی کاغذات اور مختلف ذرائع سے جمع شدہ تفتیشی مواد کے مطابق رچرڈ، عبدالرحیم اور عبدالرؤف کے مسلم نام سے بھی پہچانے جاتے ہیں۔

رچرڈ 12 اگست 1973 کو لندن کے مشرقی علاقے بروملی میں انگریز ماں لیزلی ہیوز اور جمیکن باپ کولوِن روبن ریڈ کے گھر پیدا ہوئے۔

رچرڈ کے والد عادی جرائم پیشہ تھے اور رچرڈ کی پیدائش کے وقت گاڑی چُرانے کے جرم میں برطانوی جیل میں قید تھے۔ سولہ برس کی عمر میں رچرڈ خود بھی ایک گینگ کا حصہ بن گئے اور کئی بار زیر حراست رہے۔

1992 میں سڑک پر ڈاکہ زنی کی کئی وارداتوں کا جرم ثابت ہونے پر انھیں تین برس کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ اسی زمانے میں کسی وقت رچرڈ نے اسلام قبول کر لیا۔

سنہ 1995 میں جیل سے رہائی کے بعد اُن کا آنا جانا شمالی لندن کی فنس بری مسجد میں شروع ہوا۔

اُس وقت امریکہ مخالف مبلّغ ابو حمزہ المصری فنس بری مسجد کے سربراہ تھے جنھیں برطانیہ میں ’اسلامی انتہا پسندی‘ کے مرکزی بانیان میں شمار کیا جاتا تھا۔

یہیں رچرڈ کسی طرح جمال بغال کے ہتھے چڑھ گئے جو القاعدہ کے لیے دہشت گردی کرنے پر رضامند رچرڈ جیسے افراد کی تلاش میں تھے۔

جمال 28 جنوری 2001 پاکستان سے واپسی پر دبئی کے ہوائی اڈّے پر اس وقت گرفتار ہوئے جب وہ جعلی فرانسیسی پاسپورٹ پر سفر کر رہے تھے۔

دہشت گردی پر مائل اس گروہ کا حصّہ بن جانے والے رچرڈ 1999 میں پاکستان پہنچے اور افغانستان اور پاکستان میں قائم دہشت گردی کے کئی مراکز سے تربیت حاصل کرتے رہے۔ رچرڈ مبینہ طور پر لاہور میں قائم پیر مبارک علی شاہ گیلانی کے مرکز پر بھی قیام پذیر رہے۔

نومبر 2000 میں رچرڈ اپنے برطانوی ہم وطن، گلویسٹر سے تعلق رکھنے والے ساجد بادعت کے ہمراہ پھر پاکستان پہنچے۔

کچھ دن بعد رچرڈ افغانستان گئے جہاں انھیں جوتوں کی وہ جوڑی فراہم کی گئی جس نے انھیں ’شُو بمبار‘ (جوتوں کے ذریعے دھماکہ کرنے والے) کا خطاب دلوایا۔

ساجد اور رچرڈ دسمبر 2001 میں علیحدہ علیحدہ پاکستان سے برطانیہ واپس چلے گئے۔

رچرڈ نے 21 دسمبر 2001 کو پیرس سے امریکی ریاست فلوریڈا جانے والی ایک پرواز پر سوار ہونے کی کوشش کی لیکن مشکوک برتاؤ اور حکام کے سوالات کے تسلّی بخش جوابات نہ دے پانے کی وجہ سے پولیس نے جہاز پر سوار ہونے سے روک دیا۔

مگر اگلے ہی روز یعنی 22 دسمبر کو وہ پیرس سے فلوریڈا جانے والی پرواز پر سوار ہو گئے۔

دوران پرواز رچرڈ نے عملے کی رکن ہیرمس ماؤ ٹاڈئیر کو دبوچ لیا اور جب باقی مسافر ہیرمس کی مدد کو آئے تو پتہ چلا کہ رچرڈ گود میں رکھے ہوئے جوتے کے فیتے کو ہاتھ میں جلتی ماچس کی تیلی سے جلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مسافروں نے مل کر رچرڈ کو قابُو کیا اور جہاز میں موجود ایک ڈاکٹر نے انھیں دوا دے کر بے ہوش کرنے میں عملے اور مسافروں کی مدد کی۔ اس ہنگامی صورت حال میں یہ پرواز بوسٹن کے لوگان ائیرپورٹ پر اتار لی گئی۔

گرفتاری پر تلاشی کی دوران رچرڈ کے جوتے میں سی فور نوعیت کا 283 گرام دھماکہ خیز مواد ملا جو پھٹ جانے کی صورت میں اتنا بڑا سوراخ کر سکتا تھا جس سے پرواز تباہ ہو جاتی۔

چار اکتوبر کو رچرڈ نے عدالت میں نو میں سے آٹھ الزامات میں اعتراف جرم کر لیا اور 31 جنوری 2003 کو انھیں مجموعی طور پر 110 سال قید اور بیس لاکھ ڈالر جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

قید کے دوران انھیں کبھی ضمانت نہیں مل سکی۔

سزا سُن کر رچرڈ نے عدالت میں کہا کہ وہ امریکہ کے دشمن اور القاعدہ کے حامی اور اسامہ بن لادن کی قیادت میں اللّہ کے سپاہی ہیں۔

رچرڈ کولوراڈو سب سے محفوظ امریکی جیل میں اب تک اپنی سزا بھگت رہے ہیں۔

ڈینیئل پرل پاکستان میں اپنے قیام کے دوران رچرڈ کی کہانی پر کام کر رہے تھے اور اس سلسلے میں پرل پاکستانی شدت پسند شیخ مبارک علی شاہ گیلانی کا انٹرویو کرنا چاہتے تھے۔

شیخ مبارک علی شاہ گیلانی کون ہیں ؟

تحقیقاتی معلومات کے مطابق شیخ مبارک کا شجرۂ نسب براہ راست حنبلی فقہ کی سرکردہ اسلامی شخصیت شیخ عبدالقادر گیلانی سے ملتا ہے۔

شیخ مبارک نے 1980 میں امریکی شہر ڈیلاوئیر میں ’مسلمز آف امریکہ‘ نامی تنظیم کی بنیاد رکھی اور وہ انٹرنیشنل قرآنک اوپن یونیورسٹی نامی ادارے کے بھی بانی ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کا مؤقف تھا کہ شیخ مبارک کا تعلق ’جماعت الفقرہ‘ نامی دہشت گرد گروہ سے ہے لیکن شیخ مبارک کا کہنا تھا کہ مسلمز آف امریکہ کا جماعت الفقرہ سے کوئی تعلق نہیں، ہم الفقرہ کو تسلیم نہیں کرتے مگر امریکی حکام جماعت الفقرہ کا نام اچھالنا چاہتے ہیں۔

ڈینیئل پرل کو شیخ گیلانی تک پہنچانے کے لیے ان کے ساتھ کام کرنے والے پاکستانی صحافی رضا (فرضی نام) نے پاکستان میں قائم حرکت المجاہدین اور حرکت الانصار جیسی شدّت پسند تنظیموں میں موجود اپنے ذرائع سے رابطے شروع کئے اور بالآخر ایک شخص محمد ہاشم قادر تک پہنچ گئے جن کا تعلق حرکت الانصار سے تھا۔

ہاشم قادر پرل اور رضا کو لے کر راولپنڈی کے ویسٹرج (کینٹ ایریا) علاقے میں شیخ گیلانی کی رہائشگاہ پہنچے۔ چوکیدار نے بتایا کہ گیلانی اِس وقت ملک سے باہر گئے ہوئے ہیں تو ہاشم نے گیلانی کے کسی قریبی ساتھی سے ملاقات کروانے کا وعدہ کیا۔

غالباً 11 جنوری 2002 کو ہاشم نے رضا اور پرل کو راولپنڈی کے اکبر ہوٹل بلایا۔ اکبر ہوٹل میں جن صاحب سے پرل اور رضا کی ملاقات ہوئی اُنھوں نے اپنا نام چوہدری بشیر احمد شبیر بتایا اور خود کو شیخ کا مرید قرار دیا۔

پرل نے بشیر سے درخواست کی کہ کسی بھی طرح گیلانی سے اُن کی ملاقات کا انتظام کروا دے۔ اس کے بعد 12 جنوری کو پرل کسی خبر کی تلاش میں پشاور چلے گئے۔

18 جنوری 2002 کو واپس اسلام آباد پہنچ کر پرل نے رضا کو گیسٹ ہاؤس بلوایا تو پرل کی اہلیہ ماریان اس ملاقات میں بھی موجود تھیں۔ اس ملاقات میں پرل نے رضا کو بتایا کہ ’میں کراچی جا رہا ہوں۔‘

رضا نے پیشکش کی کہ وہ بھی پرل کے ہمراہ کراچی جا سکتے ہیں لیکن پرل نے کہا کہ نہیں ٹھیک ہے تم یہیں رہو میں کراچی میں شیخ سے ملاقات کے بعد وہیں سے ممبئی چلا جاؤں گا۔ پھر پرل بشیر کی دعوت پر شیخ گیلانی سے ملاقات کے لیے کراچی چلے گئے۔

پرل کے مقدمۂ قتل کی دستاویزات، عدالت میں پیش کی جانے والی معلومات، پاکستان اور امریکہ کے حُکّام، خفیہ اداروں، سرکاری ریکارڈ، پولیس اور تفتیش کاروں کے مطابق یہی چوہدری بشیر احمد شبیر دراصل پرل کے اغوا و قتل کا مرکزی کردار یعنی احمد عمر شیخ تھے۔

احمد عمر شیخ کون ہیں ؟

23 دسمبر 1973 کو لندن میں پیدا ہونے والے برطانوی شہری احمد عمر شیخ اپنے والدین سعید شیخ اور کسریٰ (یا قصریٰ) شیخ کی تین اولادوں میں سب سے بڑے تھے۔

عمر شیخ کے والدین 1968 میں لندن ہجرت کر گئے تھے جہاں ملبوسات (کپڑوں) کا ایک اچھا خاصہ منافع بخش کاروبار کامیابی سے چلارہے تھے۔

احمد عمر شیخ نے شمال مشرقی لندن کے والدھم سٹوہ علاقے کے پرائیویٹ ’فاریسٹ سکول‘ جیسے مہنگے اور نجی ادارے سے تعلیم حاصل کی۔

(برطانیہ میں نجی سکول کی تعلیم ہمیشہ مہنگی رہی ہے اور بہت زیادہ فیس کی وجہ سے عموماً صرف کھاتے پیتے متموّل خاندانوں کے بچے ہی یہ سہولت حاصل کرسکتے ہیں)۔ فاریسٹ سکول تو نجی سکولوں میں بھی سب سے خاص سمجھا جاتا ہے۔

احمد عمر شیخ کے والدین کچھ عرصے بعد عارضی طور پر واپس پاکستان کے صوبہ پنجاب منتقل ہوئے۔ یہاں بھی عمر شیخ نے 14 سے 16 برس تک لاہور کے ایچیسن کالج جیسے ادارے سے تعلیم حاصل کی۔

ایچیسن کالج کے بعد عمر شیخ دوبارہ والدھم سٹوہ کے فاریسٹ سکول پہنچے تو پاکستانی فوجی حکمراں جنرل ضیا کے زبردست مداح ، دلدادہ اور حامی تھے۔

فاریسٹ سکول کے بعد عمر نے برطانیہ کے اعلیٰ ترین تعلیمی اداروں میں شمار ہونے والے لندن سکول آف اکنامکس سے اقتصادیات ، شماریات اور اطلاقی میتھمیٹکس (حساب) کی تعلیم کے لیے داخلہ تو لیا مگر پہلے ہی برس تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔

برطانوی اخبار گارڈیئن نے لکھا ہے کہ فاریسٹ سکول اور ایل ایس ای میں اُن کے ہم جماعت علی حسن کا کہنا ہے کہ عمر دونوں تعلیمی اداروں میں کئی کئی بار معطل کئے جاتے رہے۔

’وہ شروع سے ہی تشدد پر مائل رہے اور لڑائی جھگڑے میں ملوث رہا کرتے تھے اور ہمیشہ سے ہی ایک متشدد (بُلی) طالبعلم سمجھے جاتے تھے۔‘

لندن سکول آف اکنامکس میں تعلیم کے دوران ہی عمر شیخ کا تعلق کسی اسلامی انتہا پسند حلقے سے قائم ہو گیا اور وہ بوسنیا چلے گئے پھر کبھی واپس ایل ایس ای نہیں آئے۔

1994 میں جب عمر محض 21 برس کے تھے تو وہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ریاست سے برسرِ پیکار شدّت پسند تنظیم حرکت الانصار کے رکن بن چکے تھے اور اب عمر انڈیا میں ’روہت شرما‘ کے فرضی نام سے مقیم تھے۔

انڈیا میں عمر نے حرکت الانصار کے شدّت پسند ساتھیوں کے ساتھ مل کر چار غیرملکی باشندوں کو اغوا کر لیا اور مطالبہ کیا کہ اگر انڈین جیلوں میں قید کشمیری شدّت پسندوں کو رہا نہ کیا گیا تو وہ مغویوں کے سر قلم کردیں گے۔

ان غیر مغویوں میں تین برطانوی نژاد آسٹریلوی مرد پال بینجمن، کرسٹوفر مائیلز اور رِس پیٹریج جبکہ ایک امریکی شہری بیلا نس شامل تھے۔

ڈینیئل پرل قتل کیس میں مرکزی ملزم احمد عمر شیخ

Getty Images
ڈینیئل پرل قتل کیس میں مرکزی ملزم احمد عمر شیخ

اتفاقاً کسی ڈکیتی کی واردات کا سراغ لگاتی انڈین پولیس جب غازی آباد پہنچی تو پولیس کو اس عمارت پر دھاوا بولنا پڑا جہاں بیلا یرغمال تھے اور پولیس اُن کی وہاں موجودگی سے لاعلم تھی۔

پولیس کے ہاتھوں بیلا کی رہائی اور وہاں موجود افراد کی گرفتاری کے بعد جب باقی تین غیر ملکی یرغمال مغویوں کا سراغ ملا تو پولیس نے سہارن پور میں شیخ عمر کے شدت پسند ساتھیوں کے ٹھکانے پر بھی دھاوا بول دیا۔

یکم نومبر 1994 کو پولیس سے ہونے والی اس مُڈبھیڑ میں دو پولیس اہلکار اور ایک شدت پسند ہلاک ہو گئے اور عمر شیخ زخمی حالت میں گرفتار ہوئے جبکہ تمام مغویوں کو رہا کروا لیا گیا۔

جہاز کا اغوا

گرفتاری کے بعد عمر شیخ انڈیا کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید تھے کہ24 دسمبر 1999 کو اُن کی زندگی میں ایک نیا موڑ آیا۔

اس روز نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے تری بھوَن ہوائی اڈّے سے انڈیئن ائیر لائن کی پرواز نمبر آئی سی 814 نے عملے کے ارکان سمیت 191 مسافروں کو لے کر اُڑان تو انڈین دارالحکومت دلی جانے کے لیے بھری لیکن انڈین فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی پانچ مسلح افراد نے جہاز اغوا کرلیا۔

ہائی جیکرز نے کپتان دیوی شرن کو حکم دیا کہ طیارے کو لاہور لے جایا جائے مگر پاکستان میں اترنے کی اجازت نہ ملی۔ ایندھن کم ہونے کی وجہ سے طیارے کو انڈین شہر امرتسر میں اترنا پڑا۔

امرتسر میں ایندھن کی فراہمی میں تاخیر پر ہائی جیکرز نے مشتعل ہو کر ایک جرمن شہری مسافر ستنام سنگھ پر چاقو سے حملہ کر دیا جسے گردن پر زخم آئے۔

بالآخر ایندھن کی فراہمی کے بعد طیارہ دوبارہ لاہور پہنچا تو لینڈنگ کی اجازت ملی۔ لاہور سے مزید ایندھن لے کر یہ پرواز دبئی گئی جہاں جہاز کے 27 مسافروں کو رہا کر دیا گیا۔

رہا ہونے والوں میں ہائی جیکرز کے حملے سے زخمی 25 برس کے نوجوان مسافر روپن کٹیال بھی شامل تھے مگر وہ ہلاک ہو گئے۔

دبئی سے یہ طیارہ افغانستان کے قندھار ائیرپورٹ کے لیے روانہ ہوا۔ افغانستان پر اُس وقت طالبان کی حکومت تھی جسے انڈیا تسلیم نہیں کرتا تھا۔

بہرحال اغوا کاروں نے طیارے کے مسافروں کے بدلے ابتدائی طور پر انڈین جیلوں میں قید 36 شدت پسندوں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور بالآخر تین شدت پسندوں کی رہائی پر معاملات طے ہو گئے۔

31 دسمبر 1999 کو ہائی جیکنگ کا یہ طویل معاملہ مسافروں کے بدلے ان تین شدّت پسندوں کی رہائی پر ختم ہوا۔

رہا ہونے والوں میں مولانا مسعود اظہر تھے جنھوں نے پاکستان میں شدت پسند تنظیم جیش محمد کی بنیاد رکھی ، دوسرے مشتاق احمد زرگر تھے جو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں شدت پسندوں کے تربیتی مرکز سے وابستہ رہے اور تیسرے تھے احمد عمر شیخ۔ یہ تینوں افراد رہا ہو کر پاکستان پہنچ گئے۔

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق عمر کوئی عام دہشت گرد نہیں تھے بلکہ ایسے شخص تھے جن کے تعلقات پاکستان کے خفیہ اداروں کے ساتھ ساتھ القاعدہ میں بھی اعلیٰ سطح پر قائم تھے اور وہ اسامہ بن لادن کے ’خصوصی بیٹے کا درجہ رکھتے ہیں۔

پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل مشرف نے اپنی کتاب ’ان دا لائین آف فائر‘ میں عمر شیخ کو برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی سکس کا ایجنٹ قرار دیا ہے۔

ڈینیئل پرل کیسے اغوا ہوئے؟

پاکستان میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل دراصل عمر شیخ کے منصوبے کے تحت اغوا ہوئے۔ شیخ گیلانی سے ملاقات کے لیے ڈینیئل پرل کی بیتابی کو عمر شیخ نے خوب استعمال کیا۔

عمر راولپنڈی کے اکبر ہوٹل پر ملاقات کے بعد سے پرل کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔ اعلیٰ ترین برطانوی تعلیمی اداروں کی تربیت، اپنی بہترین برطانوی انگریزی، چرب زبانی اور شاطرانہ و سازشی ذہنیت سے عمر شیخ نے پرل کو کوئی اور ہی تصویر دکھائی تھی۔

پرل انھیں اب تک چوہدری شبیر سمجھ رہے تھے اور اُن کے جھانسے میں آ کر کراچی پہنچ چکے تھے جہاں اُن کی ملاقات چوہدری شبیر کے ذریعے شیخ گیلانی سے ہونا طے پائی تھی۔

پرل کے اغوا کے لیے عمر شیخ نے مکڑی کے جالے کی طرح منصوبہ بندی کی۔

قانون نافذ کرنے والے مختلف اداروں کے حکام اور ذرائع کے مطابق اکبر ہوٹل راولپنڈی میں پرل سے ملاقات کے بعد عمر شیخ نے کراچی میں اپنے پرانے شدت پسند ساتھیوں سے رابطے کئے جو تب تک لشکر جھنگوی، حرکت الانصار اور دیگر کئی تنظیموں کے رکن بن چکے تھے۔

ان میں سے کئی عمر شیخ کے ساتھ افغانستان میں شدت پسندی کی تربیت حاصل کرچکے تھے یا پھر انتہا پسند حملوں اور کارروائیوں میں ان کے ساتھی رہ چکے تھے۔ ان ہی میں امجد فاروقی بھی شامل تھے۔

امجد فاروقی کو کئی برس بعد پاکستانی حُکام نے صدر مشرف پر حملے کا ملزم قرار دیا اور وہ 26 ستمبر 2004 کو کراچی میں پاکستانی حکام کے ساتھ ’مقابلے میں مارے گئے۔

ایک افسر نے دعویٰ کیا کہ امجد فاروقی انڈین جہاز اغوا کرکے عمر شیخ کو رہا کروانے والوں میں بھی شامل تھے مگر چونکہ اس وقت امجد فاروقی کا کوئی نیٹ ورک اسلام آباد میں نہیں تھا لہذا انہوں نے یہ مشورہ دیا کہ کسی طرح پرل کو کراچی بلوایا لیا جائے۔

کراچی میں پرل کے اغوا کی منصوبہ بندی کے لیے عمر شیخ لشکر جھنگوی کے کارکن عاصم غفور کے ساتھ پہلے خود کراچی پہنچے۔ ع

اصم غفور کے ساتھ کراچی جاتے وقت عمر شیخ نے اپنے پرانے ساتھی سلمان ثاقب کو بھی ائیرپورٹ بلوایا۔

سلمان افغانستان کے ایک تربیتی کیمپ میں عمر شیخ کے ساتھ رہ چکے تھے۔ عمر شیخ نے امجد فاروقی کو بھی وہیں بلوا لیا اور یہ سب صدر میں واقع ’کیفے سٹوڈنٹس‘ پہنچے۔

یہاں عمر شیخ کی ملاقات کراچی میں لشکر جھنگوی کے نوجوان نائب امیر آصف رمزی سے ہوئی۔

رمزی نے کہا کہ وہ عمر شیخ کی مدد کے لیے لشکر جھنگوی کراچی کے امیر عطا الرحمان بخاری کو بلوا سکتا ہے مگر یہ ملاقات آغا خان ہسپتال کے باہر ممکن ہو گی۔

آرڈر دینے کے باوجود بریانی کھائے بغیر یہ لوگ وہاں سے نکل کر پہلے ساڑھے بارہ بجے کے لگ بھگ عمر شیخ کی پھوپھی کے گھر گئے اور پھر آغا خان ہسپتال پہنچے اور شیخ عمر کی پہلی بار ملاقات عطا الرحمان بخاری سے ہوئی۔

عطا الرحمان بخاری سی ڈی 70 موٹر سائیکل پر سوا ایک بجے کے قریب وہاں پہنچے تھے۔ عطا نے پرل کے اغوا کے لیے پیسوں کا مطالبہ نہیں کیا مگر عمر شیخ نے اخراجات کے لیے عطا کو پچاس ہزار روپے دیئے۔ اس ملاقات میں مطیع الرحمان بھی شامل تھے۔

مطیع حرکت جہاد اسلامی نامی شدّت پسند گروہ کے رکن تھے۔ مطیع بھی کئی برس بعد صدر مشرف، وزیراعظم شوکت عزیز اور شیریٹن ہوٹل پر ہونے والے حملوں میں شامل رہے۔

اغوا کر کے پرل کو یرغمال رکھنے کا ٹھکانہ مل جانے کی یقین دہانی کے بعد اب شیخ کو کسی ایسے شخص کی ضرورت تھی جو اغوا کی مدت کے دوران پرل کی تصاویر دنیا تک پہنچانے میں مدد کر سکے اور یہ تھے شیخ محمد عادل۔

عادل تھے تو پولیس اہلکار مگر خفیہ طور پر حرکت المجاہدین کے رکن تھے۔ عادل بھی شیخ عمر کے ساتھ افغانستان میں شدت پسند کارروائیوں میں شریک رہ چکے تھے۔

عادل سے شیخ عمر نے کراچی کے نارتھ ناظم آباد علاقے کے میکڈونلڈز ریسٹورنٹ میں ملاقات کی اور بہن کے علاج کے لیے عادل کو کچھ رقم بھی دی۔

اب شیخ عمر کو ایک ایسے ساتھی کی تلاش تھی جو اغوا کے بعد پرل سے انگریزی میں گفتگو کر سکے۔ عطا الرحمان نے کہا کہ ساجد جبار ایسا کر سکتا ہے۔

ساجد جبار خود بھی لشکر جھنگوی کے کارکن تھے جو کالج کی تعلیم کے بعد افغانستان میں شدت پسند کی تربیت حاصل کر کے واپس کراچی آ چکے تھے۔

اگلے روز عطا الرحمان عمر شیخ کو ساجد جبار سے ملوانے کے لیے بلوچ کالونی کے پل کے نیچے پہنچے۔ عمر شیخ نے یہ جاننے کے لیے کہ کیا وہ درست انگریزی بول کر پرل کو لے جا سکے گا ساجد کا مختصر ’انٹرویو‘ بھی کیا۔

عمر شیخ نے ساجد جبار کو امتیاز صدیقی کا فرضی نام دیا۔ اگلے روز یعنی 23 جنوری 2002 کو ساجد نے اپنا سر منڈوا لیا تاکہ وہ امتیاز صدیقی کا فرضی کردار ادا کرتے ہوئے پرل کو لبھا کر لے جا سکے۔

پھر شیخ عمر نے عطا کو محمد عادل سے ملوایا۔ عادل کو ذمہ داری دی گئی کہ وہ اغوا کے بعد پرل کی تصاویر مطیع الرحمان سے لے گا۔

یہ اس لیے کہ اگر عادل تصاویر سمیت پکڑا بھی جائے تو نہ تو وہ خود یہ جانتا ہو کہ اغوا کر کے پرل کو کہاں رکھا گیا ہے اور نہ ہی گرفتاری کی صورت میں حکام کو بتا سکے۔ تصاویر دینے کا مقام سبیل والی مسجد طے ہوا جو گُرو مندر کے قریب واقع تھی۔

اب شیخ عمر کے لیے یہ کام رہ گیا کہ کوئی ایسا علیحدہ گروہ تشکیل دیا جائے جو دنیا کو پرل کے اغوا کی خبر دے کر رہائی کے مطالبات بتا سکے۔ یہ کام عمر شیخ نے سلمان ثاقب کے سپرد کیا۔

سلمان اپنے بیروزگار کزن اور کمپیوٹر پروگرامر فہد نسیم کے ہمراہ دس بجے شیخ عمر سے ان کی پھوپھی کے گھر پر ملے۔ شیخ نے دونوں کو پولو رائیڈ کیمرا اور دو فلم رول خریدنے کے لیے پیسے دیے جو یہ دونوں اُسی وقت صدر کی ایک دکان سے خرید لائے۔

طے یہ ہوا کہ تصاویر سبیل والی مسجد پر عادل کو ملیں گی پھر عادل سلمان کو دے گا۔ اس فیصلے کے بعد سب نے عادل کی امامت میں نماز ادا کی۔

نماز کے بعد عمر شیخ نے سلمان اور فہد کو پرل کو اغوا کرنے کے بعد صحافیوں کو بھیجنے کے لیے تاوان اور مطالبات پر مبنی وہ تحریر دی جو انگریزی اور اردو زبان میں تھی۔

عمر شیخ نے دونوں کو سختی سے ہدایات دیں کہ یہ تحریریں صحافیوں کو ای میل کرتے وقت ذاتی کمپیوٹر ہرگز استعمال نہ کیا جائے۔

اسی شام شیخ عمر نے مطیع الرحمان اور اس کے ساتھی محمد سہیل سے ملاقات کی۔ شیخ عمر نے اغوا کے بعد پرل کی تصویر کھینچنے کے لیے پولو رائیڈ کیمرہ اُن کے حوالے کیا۔

فہد اور سلمان نے مطیع اور سہیل کو سکھایا کہ پولو رائیڈ کیمرے سے تصویر کیسے کھینچی جاتی ہے۔

فہد نے شیخ عمر سے پوچھا کہ پرل کو اغوا کیا ہی کیوں جارہا ہے تو شیخ عمر نے کہا کہ وہ یہودی ہے جو پاکستان میں مسلمانوں کے خلاف کام کر رہا ہے۔

ادھر پرل کو اغوا کر کے یرغمال رکھنے کے لیے ٹھکانے کی تلاش میں عطا بخاری نے حرکت المجاہدین کے 33 سالہ رکن فضلِ کریم سے ملاقات کی۔

فصل کریم رحیم یار خان کے رہنے والے شدت پسند تھے اور وہ بھی افغانستان میں شیخ کے ساتھ شدت پسند کارروائیوں میں شریک رہ چکے تھے۔ پھر کراچی واپس پہنچ کر پہلے بطور الیکٹریشن کام کرتے رہے اور بالآخر کراچی کے ایک تاجر سعود میمن کے ڈرائیور بن چکے تھے۔

سعود میمن بظاہر کراچی کے تاجر تھے مگر ان کا تعلق الرشید ٹرسٹ سے تھا۔ الرشید ٹرسٹ بظاہر خیراتی ادارہ تھا مگر امریکی حکام کا خیال ہے کہ سعود میمن اور الرشید ٹرسٹ دونوں دراصل القاعدہ کو مالی مدد فراہم کرنے میں ملوث تھے۔

ایک اور ذریعے کا کہنا ہے کہ سعود میمن بھی پرل کے اغوا کے منصوبے میں شریک تھے۔ اس سلسلے میں ہونے والی ایک ملاقات میں سعود نے پرل کو یرغمال رکھنے کے لیے پاپوش نگر میں اپنا گھر استعمال کرنے کی تجویز دی مگر بالآخر احسن آباد کے کمپاؤنڈ کو چُن لیا گیا۔

عطا بخاری نے فضل کریم کے ساتھ جا کر اس کمپاؤنڈ کا جائزہ لیا جس کے پاس کوئی آبادی نہیں تھی صرف ایک مدرسہ قائم تھا جس کا تعلق فرقہ وارانہ تنظیم سپاہ صحابہ سے تھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پرل کے اغوا کی اس منصوبہ سازی میں محمد رشید نامی ایک اور شخص بھی شریک تھا جو کراچی میں القاعدہ کے عرب ارکان کا ڈرائیور تھا۔

اب منصوبہ پوری طرح تیار تھا اور شیخ عمر نے پرل کو کراچی بلانے کے لیے ’نو بدمعاشی ایٹ یاہو ڈاٹ کام‘ کے ایڈریس سے ای میل بھیجی۔

عمر شیخ نے پرل کو بھیجی جانے والی اس ای میل میں چوہدری بشیر بن کر بتایا کہ وہ کراچی پہنچ کر امتیاز صدیقی (دراصل ساجد جبار) سے اس فون نمبر پر رابطہ کر لیں تاکہ شیخ مبارک علی شاہ گیلانی سے ان کی ملاقات کا بندوبست ہو جائے۔

سارے منصوبے پر کامیابی سے عملدرآمد کی یقین کے بعد عمر شیخ نے مظفر کے نام سے جہاز کا ٹکٹ لیا اور شہر سے چلے گئے۔

ادھر پرل عمر شیخ کی ای میل اور دیگر ہدایات کے مطابق کراچی پہنچ گئے۔ پرل کے ساتھ ان کی اہلیہ ماریان بھی کراچی آئیں اور یہ دونوں ڈیفینس کے علاقے زمزمہ میں اپنی ایک دوست اسرا نعمانی کے ساتھ رہے۔

اسرا برصغیر کی تاریخی شخصیت شبلی نعمانی کی نواسی، امریکی شہری اور وال سٹریٹ جرنل کی صحافی ہیں۔

عمر شیخ کی ہدایات کے مطابق پرل نے کراچی پہنچ کر امتیاز صدیقی (دراصل ساجد جبار عرف بڈھا) سے رابطہ کیا۔

فون کال ڈیٹا کے مطابق یہ کال تین منٹ جاری اور امتیاز صدیقی نے پرل کو ہدایت کی کہ وہ 23 جنوری کی شام سات بجے میٹروپول ہوٹل کے قریب واقع ویلج ریستوران کے سامنے امتیاز کا انتظار کریں۔

امتیاز (ساجد) نے پرل کو بتایا کہ وہ وہاں پرل کو شیخ مبارک گیلانی سے ملوانے کے لیے لے جائیں گے۔

اسلام آباد کے صحافی رضا کے مطابق کراچی میں موجود پرل نے 23 جنوری کی صبح گیارہ بجے کے لگ بھگ رضا کو فون کیا اور پوچھا کہ شیخ گیلانی سے ملاقات کرنا خطرناک تو نہیں ہو گا؟

رضا نے پرل کو صلاح دی کہ اگر آپ اپنی گاڑی پر جا رہے ہیں اور ملاقات کا اہتمام کسی عوامی مقام یعنی مسجد یا مدرسہ یا کسی تبلیغی مرکز وغیرہ میں ہورہا ہے تو پھر تو بظاہر یہ خطرناک نہیں دکھائی دیتا۔

پرل نے اسی روز کراچی میں امریکی قونصل خانے کے ریجنل سکیورٹی افسر رینڈل بینیٹ سے ملاقات کی اور اُن سے بھی پوچھا کہ اگر وہ (پرل) مبارک گیلانی سے ملنے جائیں تو یہ خطرناک تو نہیں ہو گا؟

رینڈل نے بھی وہی کہا جو رضا نے کہا تھا یعنی اگر ملاقات کسی عوامی مقام مسجد و مدرسے میں ہورہی ہے تو بظاہر کوئی خطرہ نہیں۔

رینڈل سے مل کر پرل کو رچرڈ شو بمبار کی ای میل کی خبر کے سلسلے میں انٹرنیٹ پرو وائیڈر کمپنی سائبر نیٹ کے کسی افسر کا انٹرویو کرنا تھا۔ پھر پرل کی ملاقات جمیل یوسف سے طے تھی۔

جمیل یوسف سٹیزن پولیس لائژاں کمیٹی (سی پی ایل سی) کے سربراہ تھے۔ واضح رہے کہ اُس زمانے میں سندھ میں اغوا برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے پیش نظر ہی سی پی ایل سی قائم کی گئی تھی۔

سندھ کے شہریوں کے اغوا کے معاملات میں یہ شہری تنظیم پولیس کے ساتھ بہت سرگرمی سے شریک رہتی تھی۔ پولیس بھی سی پی ایل سی کی کمپیوٹر ڈیٹا اینالسز کی مہارت اور ٹیکنالوجی سے بھرپور مدد لیتی تھی۔

جمیل یوسف کے بعد پرل کو امتیاز صدیقی (یعنی ساجد جبار) کے ساتھ اپنے تئیں شیخ مبارک گیلانی کے انٹرویو کے لئے جانا تھا۔

ساڑھے چار بجے پرل نے زمزمہ پر اپنی رہائشگاہ پر ٹیکسی منگوائی جو پشتون ڈرائیور ناصر عباس چلا رہے تھے۔ پرل نے اپنی اہلیہ اور اسرا کو بتایا کہ وہ نو بجے واپس آ جائیں گے اور ٹیکسی میں بیٹھ کر پہلے سائبر نیٹ کے دفتر لیکسن ہاؤس گئے۔

وہاں پہنچ کر انھوں نے اشاروں سے ٹیکسی ڈرائیور ناصر کو بتایا کہ وہ انتظار کریں۔ پندرہ منٹ بعد پرل واپس آئے اور سندھ کے گورنر ہاؤس گئے تاکہ سی پی ایل سی کے دفتر میں جمیل یوسف سے مل سکیں۔

ملاقات میں پرل نے جمیل یوسف سے بھی پوچھا کہ کیا شیخ گیلانی سے ملنا خطرناک تو نہیں ہوگا؟ جمیل یوسف نے کہا کہ وہ گیلانی کو نہیں جانتے۔ کبھی نام بھی نہیں سنا۔

فون کال ڈیٹا کے مطابق جمیل یوسف سے ملاقات کے دوران بھی 5:52 پر پرل کو امتیاز صدیقی (ساجد جبار) کا فون آیا اور انھوں نے سات بجے ملنے کی بات کی۔

پھر پرل نے 6:26 پر اسرا کے گھر فون کرکے بتایا کہ وہ رات کا کھانا گھر پر ہی کھائیں گے۔ 6:28 پر پرل کو دوبارہ امتیاز (ساجد جبار) کی کال آئی ایک منٹ بات ہوئی۔ 6:30 پر پرل نے اپنی اہلیہ ماریان کو بتایا کہ اب وہ گیلانی سے ملنے جا رہے ہیں۔

ٹیکسی ڈرائیور ناصر نے انھیں ویلج ریستوران پر اتارا تو پرل نے ناصر کو پانچ سو روپے دیے جس میں دو سو روپے ٹپ بھی شامل تھی۔

سابق ایس پی فیاض خان کے مطابق پرل ٹیکسی سے اترے تو امتیاز کا روپ دھارے ہوئے ساجد جبار لال رنگ کی سوزوکی آلٹو گاڑی میں وہاں پہنچے۔ساجد نے پرل کو گاڑی میں بٹھایا اور شارع فیصل کی سمت روانہ ہو گئے۔

سندھ پولیس کے سابق ایس پی فیاض خان پرل کے قتل کے وقت کراچی پولیس کے کرائم انویسٹیگیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کے انسپکٹر تھے۔

فیاض خان نے اس کہانی کے بہت سے کردار گرفتار کیے اور پرل کی لاش کی باقیات برآمد کرنے والوں میں بھی شامل رہے۔

فیاض خان کے مطابق ساجد کی گاڑی میں بیٹھے ہوئے پرل کو ’بحفاظت احسن آباد میں اپنے ٹھکانے تک پہنچانے اور راستے میں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے یا نگرانی کرتے رہنے کے لیے عطا بخاری، فضل کریم اور آصف رمزی خود موٹر سائیکلوں پر ساجد کی گاڑی کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔

شام 7.04 پر پرل کو کسی نے فون کیا اور چار منٹ بات ہوئی مگر جب 7:45 پر کراچی میں پرل کے فکسر افضل ندیم نے انھیں فون کیا تو پرل نے کال کا جواب نہیں دیا۔

پرل کے مقدمے کے ایک ملزم نے خفیہ ادارے کے تفتیش کاروں کو بتایا کہ کچھ دور جا کر پیچھے آنے والی موٹر سائیکل پر سوار عطا الرحمان ساجد کی گاڑی سے آگے نکل کر مغرب کی نماز سے ذرا دیر پہلے احسن آباد کے کمپاؤنڈ پر پہنچ گئے۔

عطا نے وہاں پہنچ کر اپنی ٹیم کو یہ کہہ کر تیار رہنے کا حکم دیا کہ ’مہمان‘ آنے والا ہے۔

پھر عطا نے اپنی موٹر سائیکل کے خفیہ خانے سے دو روسی ساختہ TT- 30 پستول نکالے اور ایک اپنے ایک ساتھی کو دیا اور دوسرا خود پکڑ کر فضل کریم کو کہا کہ دروازے کا دھیان رکھو جیسے ہی گاڑی آئے دروازہ کھول دینا۔

ساجد کی گاڑی پرل کو لے کر سہراب گوٹھ سے آگے اور اُس وقت شہر کی مضافاتی بستی سمجھے جانے والے علاقے احسن آباد پہنچی تو پرل آگے والی نشست پر بیٹھے تھے اور گاڑی رکنے پر فضل کریم نے کمپاؤنڈ کا دروازہ کھول دیا۔

گاڑی اندر آئی تو عطا نے گاڑی کا اگلا دروازہ کھول کر پرل کو اتار لیا اور گلے میں ہاتھ ڈال کر پرل کو اندر لے گئے۔ پرل اب تک یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کی گیلانی سے ملاقات کروائی جائے گی۔

ایک اور ملزم نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ ’عطا بخاری نے انگریزی میں پرل سے کہا کم آن۔۔‘ اندر عطا کے کئی ساتھی موجود تھے۔ اندر پہنچ کر عطا نے پرل کو حکم دیا کہ سارے کپڑے اتار دیں۔

پرل سے اُن کی تمام اشیا پرس، موبائل فون، کیمرہ، گھڑی، ٹیپ ریکارڈر، چشمہ، موبائل فون کے چار پانچ کارڈ، جوتے اور سٹی بینک کا کریڈٹ کارڈ اور سم وغیرہ لے لی گئیں۔

تب تک بھی پرل اس سب کو گیلانی سے ملنے کے لئے حفاظتی انتظامات سمجھ کر مانتے رہے۔ دیگر ذرائع کے مطابق عطا اللّہ نے پرل سے پوچھا کہ کیا کھائیں گے تو پرل نے کہا کہ وہ ہیم برگر کھائیں گے۔

عطا بخاری نے باقی سب کو پرل کی نگرانی پر مامور کر کے ساجد کو ساتھ لیا اور قریبی بازار سہراب گوٹھ پہنچے۔ تقریباً ڈھائی گھنٹے کے بعد 10:00 بجے عطا الرحمان اور ساجد سہراب گوٹھ سے واپس لوٹے۔

وہ بازار سے کھانا، زنجیریں، تالا اور وہ ٹریک سوٹ خرید کر لائے جس میں پرل کی آخری تصویریں منظر عام پر آئیں۔

فیاض خان نے انکشاف کیا کہ میرے ہی ہاتھوں گرفتار ہوئے فضلِ کریم نے مجھے تفتیش کے دوران بتایا کہ پھر انھوں نے پرل کو ٹریک سوٹ پہننے کے لئے دیا تو پرل نے پوچھا کہ ’ہو کیا رہا ہے؟‘

اکبر ستار نے جو تھوڑی بہت انگریزی جانتا تھا پرل سے جھوٹ بولا کہ یہ افراد شیخ گیلانی کے آدمی ہیں اور یہ سب کچھ شیخ سے پرل کی ملاقات کے لیے بطور حفاظتی انتظامات کیا جارہا ہے اور پرل مان بھی گئے۔

ذرائع کے مطابق پھر پرل کو زنجیروں سے اور زنجیر کو کمرے میں پڑے کسی گاڑی کے ایک ناکارہ انجن سے باندھ دیا گیا۔ جس کے بعد عطا الرحمان یہ ہدایت دے کر چلے گئے کہ پرل کا دھیان رکھا جائے۔

اسرا نعمانی کے گھر پر کیا ہورہا تھا؟

جب پرل رات کے کھانے تک رہائشگاہ واپس نہیں پہنچے تو اُن کی اہلیہ ماریان اور اسرا پریشان ہوئیں اور انھوں نے متعلقہ افراد سے رابطے شروع کیے۔

اس سارے معاملے سے جڑے ایک افسر کے مطابق اسرا نے پہلے رات گئے 2:10 پر کراچی میں امریکی قونصل خانے کے حکام سے رابطے کی کوشش کی مگر کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔

آخر کار انھوں نے صبح چھ بجے رینڈل بینیٹ سے رابطہ کر کے انھیں پرل کی ’گمشدگی‘ کے بارے میں بتایا۔

اطلاع ملنے پر قونصل خانے میں تعینات امریکی تحقیقاتی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) کے تفتیش کار بھی فوراً ہی معاملے کی تحقیقات میں ملوث ہو گئے۔

پولیس کو گمشدگی کی اطلاع

کراچی پولیس کو اطلاع ملنے کے بعد پرل کی ’گمشدگی کا یہ معاملہ اُس وقت سندھ پولیس کی سپیشل برانچ کے سینئیر سپرنٹینڈینٹ (ایس ایس پی) دوست علی بلوچ اور ایس ایس پی میر زبیر محمود کے سپرد ہوا۔ سپیشل برانچ تب تک انسدادِ اغوا کی وارداتوں میں زبردست مہارت حاصل کر چکی تھی۔

یادداشت پر زور ڈالتے ہوئے دوست علی بلوچ نے بتایا کہ ’مجھے تو رات کوئی دس بجے کراچی پولیس کے سربراہ طارق جمیل کا فون آیا کہ ذرا یہ معاملہ دیکھ لو۔ میں جب ڈینیئل پرل کی رہائشگاہ پہنچا تو وہاں جمیل یوسف اور میر زبیر بھی موجود تھے۔‘

’اس خدشے کے پیش نظر کہ یہ اغوا برائے تاوان کی واردات بھی ہو سکتی ہے ہم نے ایک علیحدہ فون لائن فوری طور پر اُس گھر میں لگوا دی کہ اگر تاوان کی وصولی کے لئے ملزمان رابطہ کریں تو سراغ لگایا جاسکے۔‘

کراچی میں امریکی باشندے اور وہ بھی صحافی کی ’پُراسرار گمشدگی اس قدر اہم تھی کہ جلد ہی پاکستانی خفیہ ادارے بھی متحرک ہو گئے۔

اِدھر راتوں رات یہ تفتیش جاری تھی اور اُدھر پرل کے اغوا کار اپنا کھیل، کھیل رہے تھے۔ اغوا کے اگلے روز 24 جنوری کو عطا بخاری صبح 10:00 بجے ناشتہ لے کر احسن آباد کے کمپاؤنڈ پہنچا۔

تب تک بھی پرل یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کی گیلانی سے ملاقات کے لئے یہ طویل انتظار کروایا جا رہا ہے مگر اب پرل کے ہاتھ سے صبر کا دامن چھوٹ رہا تھا اور وہ بد دل ہوچکے تھے۔

پہرے پر موجود شدت پسندوں سے (جنھیں پرل گیلانی کے آدمی سمجھ رہے تھے) پرل نے کہا کہ اب وہ نہ تو مزید انتظار کر سکتے ہیں اور نہ ہی اب وہ گیلانی کا انٹرویو کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا انھیں جانے دیا جائے یا پھر فون واپس کیا جائے۔

اس پر ملک تصدق حسین نے پرل کو منہ پر تھپڑ مارا اور کہا کہ ’تم ہماری حراست میں ہو، منہ بند رکھو، خاموشی سے بیٹھو، بولو گے تو ہم تمہیں قتل کردیں گے۔‘

ایک اور پہریدار شدت پسند فیصل بھٹی نے پرل کو لات ماری اور ان کے بال مُٹّھی میں پکڑ کر جھنجھوڑ دیئے۔ تب پہلی بار پرل کو پتہ چلا کہ یہ سب پہریدار گیلانی کے آدمی نہیں ہیں بلکہ انپیں اغوا کرلیا گیا ہے۔

ایک افسر نے بتایا کہ 25 جنوری کو عطا الرحمان پولو رائیڈ کیمرے کے ساتھ احسن آباد پہنچا اور پرل کو اس روز کا انگریزی اخبار ڈان دیا گیا اور اغوا شدہ پرل کی تصاویر کھینچی گئیں۔

یہ تصویریں جو پرل کے اغوا ہو جانے اور زندہ ہونے دونوں کا ثبوت تھی،ں سبیل والی مسجد میں جمعے کی نماز کے بعد عادل کے حوالے کر دی گئیں۔

عادل نے سفید لفافے میں بند یہ تصویریں صدر کے نو بہار ریسٹورینٹ پر سلمان ثاقب کے حوالے کیں تاکہ صحافیوں کو ای میل کی جا سکیں۔

ڈینیئل پرل

Getty Images

سلمان کا کزن فہد اس وقت قریب کھڑا تھا۔ تصویریں لے کر سلمان اور فہد گلستان جوہر کے نعمان گرینڈ سٹی اپارٹمنٹس میں واقع اپنے ٹھکانے پر پہنچے۔

ایک افسر نے بتایا کہ اور تب ہی عمر شیخ نے دونوں کو فون کرکے کہا کہ ’یہی وقت ہے کہ صحافیوں کو ای میل بھیج دی جائیں۔‘

سلمان اور فہد دونوں فوراً ہی شارع فیصل کے جوگی کمپیوٹر سپر سٹور پہنچے جہاں سے انھوں نے کینن کا پرنٹر اور ہیولٹ پیکارڈ کا سکینر اُن پیسوں سے خریدا جو عمر شیخ نے جانے سے پہلے دونوں کو دیئے تھے۔

واپس گلستان جوہر کے نعمان گرینڈ سٹی اپارٹمنٹس کے ٹھکانے پر پہنچ کر دونوں نے تصویریں سکین کرکے فلاپی پر سیو کر لیں۔ تصویریں سائز میں بہت بڑی تھیں اور انٹرنیٹ کی سپیڈ بہت کم ہونے کی وجہ سے دونوں تصویریں اسی روز نہیں بھیج سکے۔

بالآخر ہفتے کی شام انٹرنیٹ کیفے سے تصویروں اور مطالبات پر مبنی ای میل ’کڈنیپر گائے ایٹ ہوٹ میل ڈاٹ کام کے ای میل ایڈریس سے بھیج دی گئیں۔ چار تصویروں پر مبنی ای میل کی سبجیکٹ لائن تھی ’امریکی سی آئی اے کا افسر ہماری حراست میں۔‘

ای میل میں لکھا تھا کہ ’قومی تحریکِ بحالی خودمختاری پاکستان نے سی آئی اے کے افسر ڈینیئل پرل کو حراست میں لے لیا ہے جو امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے صحافی کا روپ دھارے ہوئے تھا۔‘

’اگر امریکہ مسٹر پرل کی رہائی چاہتا ہے تو مبینہ طور پر جتنے بھی پاکستانی ایف بی آئی کی حراست میں ہیں انھیں وکلا اور اہلخانہ تک رسائی دی جائے۔ جتنے بھی پاکستانی کیوبا میں حراست میں ہیں انھیں وطن واپس بھیجا جائے اور یہاں ان پر مقدمہ چلایا جائے۔ افغانستان کے سفیر ملا ضعیف کو بھی واپس پاکستان بھیجا جائے اور کوئی الزامات ہیں تو پاکستان ان سے نمٹے۔‘

اس ای میل کے آتے ہی کراچی سے واشنگٹن تک دنیا بھر میں سنسنی پھیل گئی۔اس اثنا میں ایک رات پرل نے اغوا کاروں کی حراست سے بھاگنے کی کوشش بھی کی۔

گرفتار ہونے والے ایک ملزم نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ ’پرل بیت الخلا جانے کے بہانے عمارت کے ایک حصے سے باہر نکل کر دوسرے حصے میں گئے، ایک کھلے ہوئے پانی کے ٹینک کے قریب انھوں نے پہریدار اکبر ستار کو پانی کے ٹینک میں دھکا دے دیا اور خود بھاگ کر تقریباً چھ فٹ اونچی دیوار عبور کرنے کی کوشش کی تاکہ نکل بھاگیں۔‘

’پرل مدد کے لئے چلائے مگر آس پاس صرف ایک مدرسہ تھا اور وہ بھی اُس وقت ویران تھا۔ چیخ و پکار سن کر باقی پہریدار جاگ گئے اور مزمل، تصدق اور فضل کریم سب پرل کی طرف بھاگے۔ اکبر بھی ٹینک سے نکلا اور سب نے مل کر فرار ہوتے پرل کو دوبارہ دبوچ لیا۔‘

’اندر لے جا کر انھوں نے پرل کو پستول کے بٹ سے تشدد کا نشانہ بنایا، ان کی ہاتھ پشت پر باندھے اور منہ میں کپڑا ٹھونس دیا گیا۔‘

28 جنوری کو عمر شیخ کی ہدایت پر عادل نے پرل کی مزید تصویریں نو بہار ہوٹل پر ہی سلمان کو دیں۔ عمر شیخ نے یہ تصویریں سلمان کو ای میل کرنے کی ہدایت کی۔ سلمان اور ثاقب نے یہ تصویریں اپنے لیپ ٹاپ پر سکین کیں اور برن کر لیں۔

عمر شیخ نے سلمان ثاقب کو ہدایت کی تھی کہ ای میل کے لیے اپنا ذاتی کمپیوٹر ہرگز استعمال نہیں کرنا مگر سلمان اور فہد سے یہیں غلطی ہو گئی اور ای میل کے لیے ذاتی کمپیوٹر استعمال کرلیا گیا۔

اس ای میل میں دھمکی دی گئی کہ ’پرل امریکی نہیں بلکہ اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے ایجنٹ ہیں اور اب چاہے امریکہ ہمارے مطالبات پورے بھی کر دے ہم تب بھی پرل کو قتل کر دیں گے۔‘

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور وال سٹریٹ جرنل دونوں ہی نے وضاحت کی کہ پرل کا کسی امریکی خفیہ ادارے سے کوئی تعلق نہیں اور وہ کبھی کسی جاسوسی وغیرہ میں ملوث نہیں رہے۔

دوسری جانب ماریان بھی مسلسل دن و رات صبح و شام پرل کے موبائل پر فون کیے جا رہی تھیں، یہ موبائل جو عطا نے بند کر دیا تھا ایک بار کھلا اور پھر بند ہو گیا۔ دوست علی بلوچ نے بتایا کہ ’ماریان نے دعویٰ کیا کہ فون پر ایک بار گھنٹی بجی تھی۔

سلمان کا لیپ ٹاپ استعمال ہوتے ہی دن و رات پرل کا سراغ لگانے میں مصروف پاکستان اور امریکہ کے خفیہ اداروں اور پولیس کو مواصلاتی نظام سے انٹرنیٹ پر فٹ پرنٹ ملنا شروع ہو گئے۔

چونکہ ایف بی آئی اور سی آئی اے جیسے ادارے بھی پرل کا سراغ لگانے کی بھرپور کوشش کر رہے تھے اور اس سلسلے میں پاکستانی حکام کا تعاون بھی جاری تھا۔

آئی پی ایڈریس اور موبائل فون کی لوکیشن پتہ چلتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے پولیس اور تمام ریاستی نظام حرکت میں آ گیا۔ عمر شیخ اور سلمان سمیت کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ پاکستانی اور امریکی خفیہ ادارے اور پولیس ان کے کس قدر قریب پہنچ چکے ہیں۔

اسی دوران سلمان کے ذاتی کمپیوٹر کے استعمال سے بے خبر عمر شیخ نے سلمان کو ایک اور ای میل بھیجنے کی ہدایت کی مگر اب سلمان گھبرا چکا تھا اور اس نے عمر شیخ کو منع کردیا کہ وہ اب کچھ نہیں کر سکے گا جس پر عمر شیخ نے اسے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ ’تم کرو گے۔‘

پھر سلمان نے اپنے موبائل فون کی سم نکال دی تاکہ عمر شیخ مزید رابطہ نہ کر سکے۔

دوست علی بلوچ کے مطابق ایسے ہی میں پولیس سلمان ثاقب اور فہد نسیم کی غلطی اور پرل کے فون کی لوکیشن، پاکستانی پولیس اور امریکی و پاکستانی خفیہ اداروں کو سلمان ثاقب تک لے گئی اور سلمان کو حراست میں لے لیا گیا۔

دوست علی بلوچ کے مطابق گرفتار ہوتے ہی پہلے سلمان نے انکار کیا کہ اس نے کچھ غلط کیا ہے۔ پھر جب اسے اس کے ہی لیپ ٹاپ میں پرل کی تصویر دکھائی گئیں تو اس نے تفتیش کاروں سے کہا کہ یہ تو اس نے اخبارات (غالباً) ڈان سے ڈاؤن لوڈ کی ہیں۔

مگر جب حکام نے پوچھا کہ اخبارات میں تو محض چار تصاویر شائع ہوئی ہیں تمہارے پاس چھ اور غیر شائع شدہ تصاویر کہاں سے آگئیں تو سلمان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔

جلد ہی سلمان سے ہونے والی تفتیش سے یہ کہانی اور اس کے تمام کردار کھلنے لگے اور حکام کو پتہ چلا کہ عمر شیخ بھی ملوث ہیں۔ پھر گرفتاریاں اور چھاپے شروع ہوئے اور جو ہاتھ میں آتا گیا، پکڑا جاتا رہا۔

بعض ذرائع کے مطابق سلمان کی گرفتاری کی خبر ملنے پر یا پھر سلمان اور عمر شیخ کا رابطہ ٹوٹ جانے پر احسن آباد کے کمپاؤنڈ میں پرل کو یرغمال رکھے ہوئے عطا بخاری کی ٹیم سے بھی عمر شیخ کا رابطہ منقطع ہو گیا۔

پرل اس دوران اپنے اغوا کاروں کی منت سماجت کرتے رہے کہ انھیں رہا کر کے جانے دیا جائے۔

ایسے میں عطا نے فضل کریم سے صلاح و مشورہ کیا کہ اب آگے کیا کرنا چاہیے۔ فیاض خان کے مطابق فضل کریم نے سیٹھ سعود میمن سے رہنمائی چاہی۔ سعود جو الرشید ٹرسٹ کے مالی مددگار سمجھے جاتے ہیں، کراچی میں القاعدہ کے ارکان سے رابطے میں تھے۔

سعود نے عطا اور فضل کریم کو بتایا کہ پاکستان میں پوشیدہ القاعدہ کے ارکان پرل کے معاملے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

سعود کا کہنا تھا کہ اب جبکہ عمر شیخ کا کوئی پتہ نہیں تو پرل کو القاعدہ ارکان کے حوالے کردیا جائے۔ اس طرح پرل کا معاملہ بھی نمٹ جائے گا اور ممکن ہے کہ القاعدہ اس کے صلے میں لشکر جھنگوی کی مالی مدد بھی کر دے۔

خفیہ اداروں سے منسلک ایک ذریعے نے آف دی ریکارڈ گفتگو میں اشارہ دیا کہ سعود میمن نے شاید القاعدہ ارکان سے سودے بازی کی کہ وہ پچاس ہزار ڈالر کے عوض پرل کو القاعدہ کے حوالے کر سکتے ہیں لیکن سعود میمن نے عطا الرحمان بخاری اور فضل کریم کو یہ رقم محض دس ہزار ڈالر بتائی۔

پیسے ملے یا نہیں یا کتنے ملے اس بارے میں کوئی ذریعہ یا افسر یقین سے کچھ کہنے سے قاصر ہے۔

مالی لین دین کے حقائق کچھ بھی ہوں قتل سے متعلق حکام کی تفتیش کہتی ہے کہ القاعدہ کے اعلیٰ ترین رہنما سیف العدل نے اس سلسلے میں القاعدہ کے تیسرے بڑے رہنما خالد شیخ محمد سے رابطہ کیا۔

سیف العدل القاعدہ کے سینیئر رہنما ہیں اور امریکہ نے خود سیف کی گرفتاری پر پچاس لاکھ ڈالر انعام مقرر رکھا تھا۔

سیف العدل نے القاعدہ رہنما خالد شیخ کو بتایا کہ پرل جن کے یرغمالی ہیں انھیں نہیں معلوم کہ اب پرل کے ساتھ کیا کیا جائے۔ تو اب یہ عناصر (سعود میمن اور عطا بخاری وغیرہ) جاننا چاہتے ہیں کہ اگر ہماری (القاعدہ کی) کوئی دلچسپی ہو تو؟

سیف العدل کی اس تجویز پر امریکہ کو سبق سکھانے پر مائل خالد شیخ محمد پرل کے قتل پر آمادہ ہو گئے۔

پرل کے قتل کے تقریباً ایک برس بعد یکم مارچ 2003 کو خالد شیخ محمد کو پاکستان سے گرفتار کر کے کیوبا میں قائم گوانتاناموبے کے امریکی حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا تھا۔

گوانتاناموبے میں دوران حراست اُن سے ہونے والی تفتیش، پرل کے قتل کی تحقیقات، پاکستانی اور امریکی حکام کا موقف، سرکاری ریکارڈ، ذرائع ابلاغ اور دیگر اداروں کے افسران کی رائے اگر سب کا مؤقف ملا لیا جائے تو پرل کے قتل کی بہت ہی بھیانک تفصیلات سامنے آتی ہیں۔

امریکی و پاکستانی حکام ہوں یا خود شدت پسند سب کا اس بات پر اختلاف ہے کہ پرل اغوا کے کتنے دن بعد قتل کئے گئے۔ یہ مدت چار سے دس روز تک بتائی جاتی ہے۔

خالد کا کہنا ہے کہ انھیں پتہ تھا کہ جب بھی وہ گرفتار ہوں گے انھیں سزائے موت دی جائے گی۔ تو پھر وہ اپنے ہاتھوں پر خون دیکھ کر موت کی سزا پانا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ’مبارک ہاتھوں پر امریکی یہودی کا خون اور اپنے ہاتھ میں اس کا کٹا ہوا سر دیکھنا چاہتے تھے اور یہ پرل کا خون ہی ہو سکتا تھا۔‘

خالد بلوچی النسل ہیں جو کویت میں پیدا ہوئے اور پاکستانی نژاد سمجھے جاتے ہیں۔

پرل کا قتل

ایک تفتیش کار نے بتایا کہ جب پیسے لے کر (یا بغیر لئے) سعود میمن اور عطا نے پرل کو القاعدہ کے حوالے کر دیا تو پرل کے قتل کا بھیانک کھیل شروع ہوا۔

’شاید چوتھے یا پانچویں روز، اس وقت تقریباً 37 برس کے خالد شیخ محمد احسن آباد کے اُس کمپاؤنڈ پہنچے تو اُن کے دو ساتھی ممکنہ طور پر خالد کے بھانجے 40 سال کے مساد اروچی اور ایک بھتیجا تقریباً 20 سالہ عبدالعزیز علی اُن کے ساتھ تھے۔‘

’ان افراد کے ہاتھوں میں بیگ اور کچھ تھیلے تھے۔ بیگ میں ویڈیو کیمرہ تھا جبکہ کچھ تھیلے بھی تھے۔ خالد نے وہاں موجود لوگوں سے خود کو مختار کے نام سے متعارف کروایا۔

ان کے سامان میں کپڑے میں لپٹے ہوئے دو خنجر اور ایک بغدا شامل تھا۔ انھیں دیکھ کر عطا نے وہاں موجود اپنے تمام ساتھیوں سے کہا ’اب یہ جو کریں، کرنے دینا۔‘

خالد اور ساتھیوں نے آتے ہی پرل کی ویڈیو بنانی شروع کر دی۔ خالد کا بھانجہ اروچی اُن سے انگریزی میں گفتگو کر رہا تھا۔ گفتگو میں انھوں نے پرل کو کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ اس کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے پرل کو ایک تحریر دی کہ وہ کیمرے کے سامنے پڑھ دیں۔ اس دن تک پرل کی شیو بڑھ چکی تھی اور وہ کمزور دکھائی دی رہے تھے۔ پرل نے وہ تحریر پڑھنی شروع کی۔

ایک پہریدار نے بتایا ’آنے والے تین میں سے ایک نے پرل سے کسی اور زبان میں بات کی جو عربی یا انگریزی نہیں تھی، شاید عبرانی زبان تھی جسے سن کر پرل مطمئن نظر آنے لگے۔‘

’پھر ان سب نے نماز پڑھی اور عطا بخاری یہ کہہ کر چلا گئے کہ یہ کچھ کرنے آئے ہیں جو یہ کریں کرنے دینا۔‘

فضل کریم نے بتایا کہ ’عربوں‘ (خالد اور ان کی ساتھیوں) نے بتایا کہ وہ پرل کو قتل کرنے آئے ہیں۔ انھوں نے پرل کے ہاتھ پشت پر باندھ دیئے اور آنکھوں پر پٹی باندھ دی۔ پھر انھوں نے پرل کو بائیں پہلو سے زمین پر لٹا دیا۔

خالد نے کپڑے میں لپٹے خنجر اور بغدا نکالا اور پرل کو بالوں سے پکڑا تو فضل کریم اور مزمل جو وہاں موجود تھے، انھوں نے پرل کو ٹانگوں اور کولہوں کے پاس سے پکڑ لیا۔

عبدالعزیز علی نے ویڈیو کیمرہ آن کر کے ویڈیو بنانی شروع کی جبکہ مساد اروچی نے پرل کو نیچے دبا رکھا تھا۔

پرل انھیں انٹرویو دے کر بظاہر کسی حد تک مطمئن ہو چکے تھے اور انھوں نے اپنے ساتھ اتنا سب ہونے پر بالکل مزاحمت نہیں کی۔ خالد نے اچانک خنجر سے پرل کا گلا کاٹ دیا۔

یہ دیکھ کر مزمل کی حالت غیر ہونے لگی۔ خالد نے چلّا کر زور سے مزمل کو ڈانٹا اور اس کمرے سے نکلا دیا۔ ایک اور پہریدار تصدق حسین کو بھی کمرے سے نکال دیا گیا۔

اب عطا کے ساتھیوں میں صرف فضلِ کریم اور سراج کمرے میں رہ گئے۔ خالد نے اپنی توجہ پھر پرل کی جانب کی مگر تب ہی ایک اور صورتحال پیدا ہو گئی اور وہ کہ معلوم نہیں کہ کیمرہ آن بھی تھا یا نہیں۔

حکام کا خیال ہے کہ خالد کے ساتھی عبدالعزیز علی سے قتل کی یہ بھیانک واردات ریکارڈ نہیں ہو پا رہی تھی۔

خالد نے چیخ کر اُسے بھی ڈانٹا تو جیسے وہ چونک کر ہوش میں آیا۔ خالد نے ایف بی آئی کو بتایا کہ علی نے کیمرہ ہی نہیں کھولا تھا۔

خالد نے اب ویڈیو کے لئے ایک بار پھر قتل کی نقل کی، پھر اس کے بعد ان پہریداروں نے فرش دھو کر خون صاف کیا اور پرل کے قاتلوں نے وہیں نماز پڑھ کر سجدہ کیا جہاں ابھی ابھی انھوں نے پرل کا سر تن سے جدا کردیا تھا۔

نماز کے بعد خالد اور ان کے دونوں ساتھی خنجر و بغدا، کیمرا اور اسلحہ ساتھ لے کر وہاں سے چلے گئے۔

ویڈیو

ایس پی فیاض خان کے مطابق امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اس بھیانک قتل کی حقیقت ابھی دنیا کے سامنے کھلی نہیں تھی اور ان کے بعد ان کو ذبح کرنے کی یہ ویڈیو بھی ایک قیمتی شے تھی۔

’یہ ویڈیو بھی ساری دنیا خصوصاً حکام و مغربی ذرائع ابلاغ کی دلچسپی کے لئے بہت ہی خاص اور قیمتی چیز ہو سکتی تھی۔

کئی دن بعد عطا کے ساتھی شاہد اور فضل کریم یہ ویڈیو بیچنے کے خیال سے آن لائن نیوز ایجنسی کے اس وقت ایڈیٹر عبدالخالق علی تک پہنچے تاکہ عالمی ذرائع ابلاغ کو ویڈیو بیچ سکیں۔

پرل کی کہانی کے لئے رابطہ کرنے پر عبدالخالق علی نے مجھے بتایا کہ ’اپنی خبریں دینے کے لئے شدت پسند تنظیم جیشِ محمد کا کارکن شاہد میرے پاس آتا تھا۔‘

’ایک روز اس نے کہا کہ میرے پاس پرل کے بارے میں قابل اعتبار اطلاع ہے مگر ہم اس کے پیسے لیں گے۔‘

’اس زمانے میں افغانستان میں امریکہ کی جنگ ہورہی تھی تو عالمی ذرائع ابلاغ کے نمائندے یہاں جمع تھے جن میں نشریاتی ادارے این بی سی کے نمائندے (غالباً) سٹیون بھی تھے اور سٹیون کراچی میں فکسر بھی تھے۔‘

’ہم نے سٹیون کو بتایا کہ پرل کے بارے میں قابل اعتبار ثبوت ہیں مگر جو دے رہے ہیں وہ پیسے مانگ رہے ہیں۔ سٹیون نے کہا کہ ٹھیک ہے اگر کوئی مسلمہ ثبوت ہے تو ہم پیسے دے سکتے ہیں۔‘

’ہم نے شاہد کو کہا کہ لاؤ کیا اطلاع ہے تو شاہد اور فضل کریم ایک سی ڈی لے کر آئے مگر اس وقت تک پاکستان میں کمپیوٹر اتنے عام اور جدید نہیں تھے کہ سی ڈی دیکھی جا سکتی ہو۔ ہم نے شاہد سے کہا کہ ہم کسی سے تم کو پیسے دلوا سکتے ہیں مگر خود تو دیکھیں۔‘

’اس پر انھوں نے ہمیں بتایا کہ یہ پرل کے قتل کی عکسبندی (ویڈیو) ہے۔ ہم نے کہا کہ تمہاری بات صحیح ہو سکتی ہے مگر دیکھے بغیر کیسے کسی کو بیچ سکتے ہیں۔ اس پر شاہد اور فضل کریم نے کہا کہ آپ سی ڈی واپس کر دیں ہم آپ کو کچھ اور لا کر دیتے ہیں۔‘

’پھر وہ ایک (منی ڈی وی) ٹیپ لے کر آئے۔ ہم نے بازار سے کیم کوڈر (کیمرا) خریدا تاکہ ٹیپ دیکھی جا سکے۔‘

’پھر میں نے اپنے اسلام آباد میں ایڈیٹر سہیل اقبال کو بتایا سہیل نے چیف ایڈیٹر محسن بیگ کو بتایا جو امریکہ میں تھے اور پہلے ہی اپنے کسی ذاتی معاملے میں ایف بی آئی ان سے کچھ پوچھ گچھ کر رہی تھی۔‘

’محسن کو یہ موقع غنیمت لگا اور انھوں نے ایف بی آئی حکام کو بتایا کہ وہ پرل کی تفتیش میں امریکہ کی مدد کر سکتے ہیں۔ جس پر ایف بی آئی نے کراچی میں ہمارے دفتر کی نگرانی شروع کردی۔‘

’بہرحال محسن نے مجھ سے کہا کہ ٹیپ نشریاتی ادارے سی این این والے لے لیں مگر دینے کے لئے کراچی کے شیرٹن ہوٹل جانا ہو گا۔ ہم نے کسی اور مقام کی فرمائش کی تو محسن سمیت سب نے اصرار کیا کہ شیرٹن ہوٹل ہی جانا ہوگا۔‘

’جب میں ٹیپ لے کر وہاں پہنچا تو وہاں امریکی خفیہ اداروں کے اہلکار ہی اہلکار بھرے تھے۔ ہم ٹیپ انھیں (سی این این کی ٹیم) دے کر آ گئے۔ دو گھنٹے کے بعد ہمیں فون آگیا کہ ٹیپ اصلی ہے مگر آپ واپس شیرٹن ہوٹل آئیں۔ وہاں پہنچے تو پاکستانی اور امریکی اداروں کے حکام پولیس افسران اور بہت سے لوگ تھے۔‘

’اب یہ خبر ہمارے لئے وبال جان بن گئی۔ حکام کا سوال تھا کہ آپ ٹیپ بنانے والے یا پرل کے قتل میں ملوث رہنے والے عناصر سے رابطے میں کیسے ہیں؟ یہ کون لوگ ہیں؟ کہاں رہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔‘

’پھر پولیس ستانے لگی تو ہم یعنی سہیل اقبال اور میں جا کر صدر جنرل مشرف کے قریبی ساتھی اور پرنسپل سیکرٹری طارق عزیز سے ملے۔ اتنی دیر میں کراچی سے پولیس کی ٹیم مجھے گرفتار کرنے کے لئے اسلام آباد پنچ گئی۔

’طارق عزیز کی مداخلت سے گرفتاری تو رک گئی مگر ہمیں ہدایت کی گئی کہ جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) بنے گی آپ سے تفتیش کی جائے گی۔‘

’ہم کو دو بار جے آئی ٹی میں تفتیش کے بعد حکام نے پرل کے اغوا یا قتل سے علیحدہ (کلئیر) قرار دے دیا تو میں پھر ملک سے چلا گیا پہلے دبئی اور پھر لندن میں تقریباً ایک سال گزار کر طارق عزیز سے ہی مشورہ کر کے واپس آیا اور اب تک یہیں ہوں۔‘

عبدالخالق نے بتایا کہ جیش محمد کی خبریں دینے تو شاہد اکیلا آتا تھا مگر پرل کی ویڈیو کے لئے وہ جب بھی آیا فضل کریم ساتھ آیا۔ پھر فضل کریم کو پولیس نے گرفتار کر لیا اور پرل کی باقیات کمپاؤنڈ سے فضل کریم کی ہی نشاندہی پر برآمد کی گئیں۔‘

عبدالخالق کی کہانی پر ردعمل دیتے ہوئے ایک ذریعے نے بتایا کہ یہ درست ہے اور شاہد پھر بعد میں القاعدہ کے ساتھ ہو گیا اور (شاید) 2019 میں پاکستانی حکام کے ہاتھوں بلوچستان میں ہونے والے ’مقابلے‘ مارا گیا۔

ادھر پرل کیس کی تفتیش کرتے ہوئے امریکی اور پاکستانی اداروں کی مدد سے پولیس حکام نے اغوا کے منصوبہ ساز عمر احمد شیخ اور عملدرآمد کرنے والی ٹیم یعنی عطا الرحمان بخاری کے کئی ساتھیوں کو گرفتار کر لیا۔

مگر حیرت انگیز طور پر اس مقدمۂ قتل میں قتل کر دینے والی ٹیم یعنی القاعدہ رہنما خالد شیخ محمد کا نام پاکستان میں عدالتی کارروائی کا مرکزی حصہ نہیں رہا۔

ایس پی فیاض خان کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے فضل کریم کی نشاندہی پر احسن آباد کے کمپاؤنڈ سے پرل کی لاش کی باقیات 16 مئی 2002 کو برآمد کر لیں گئیں۔

یہی وہ اطلاع تھی جو مجھے کسی ذریعے سے تب ملی تھی جب ڈیوڈ ہمیں جیو نیوز کی تربیت کے دوران پڑھا رہے تھے۔

دنیا بھر کے نشریاتی اداروں میں خبر نہ دینے پر صحافیوں کی نوکری خطرے میں پڑ جاتی ہے مگر یہ میرے اور شاید پاکستانی صحافت کے لیے بھی پہلا موقع ہو گا کہ خبر دینے پر کسی صحافی کی نوکری خطرے میں پڑ گئی ہو۔

پرل کی لاش کی باقیات ملنے کی خبر ایسی تھی جو (ڈیوڈ کو) دینے پر (اور دے کر خوفزدہ کر دینے سے) میری نوکری خطرے میں پڑ گئی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17656 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp