پیپلزپارٹی کی سیاست: کارکنوں کے لئے کوئی جگہ نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پچھلے دنوں اخبارات میں چھپنے والی ایک غیر اہم اور مختصر سی خبر مجھے اضطراب اور تشویش میں مبتلا کر گئی۔ جس میں افلاس اور لاچارگی کی شکار قوم کے لئے یہ اطلاع تھی کہ آصف علی زرداری نے اپنی بیٹی بختاور کی شادی پر ایک بڑا بنگلہ اسے تحفے میں پیش کیا ہے۔

اس پر دو باتیں پوری شد و مد کے ساتھ میرے ذہن میں آئیں۔ پہلی یہ کہ محترم زرداری اس کے علاوہ اپنی لاڈلی بیٹی کو اور کیا دے سکتے تھے؟ لین دین میں وہ بڑی مہارت رکھتے ہیں اور لازم ہے انہوں نے وہی کرنا تھا جو انہوں نے زندگی میں سیکھا ہے۔ کراچی کے بمبینو سینما سے لے کر اب تک کی تجارت کے معاملات کو وہ خوب جانتے ہیں۔

شادی کی اس پروقار تقریب کے موقع پر میرا دوسرا دھیان پاکستان پیپلز پارٹی کے ان جانثار سیاسی کارکنوں کے خاندانوں کی طرف بھی گیا۔ جو ضیا الحق کی آمریت کے گیارہ سال پس دیوار زنداں رہے۔ اپنی پیٹھ پر کوڑے برداشت کئے۔ شاہی قلعہ کے عقوبت خانوں میں تشدد اور جبر کے ہتھکنڈوں کا سامنا کرتے اور پھانسی کے پھندوں کو اپنے گلے کا ہار بنا کر جھولتے رہے۔ یہ تو صرف ابھی ان کی کہانی ہے، جو ضیا الحقی آمریت کا شکار ہو کر اگلے جہاں کو رخصت ہوئے۔

ان کے علاوہ آٹھ کے قریب ایسے نوجوان بھی تھے۔ جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے نام نہاد مقدمہ قتل کی سماعت کے دوران بطور احتجاج لاہور اور راولپنڈی کی مرکزی شاہراؤں اور چوکوں میں خود کو آگ کے شعلوں کے سپرد کر دیا۔ مساوات اخبار نے اگلے دن پہلے صفحہ پر آگ میں جھلستے جسموں کی تصاویر کے ساتھ سرخی لگائی۔ کہ ”پروانے جل اٹھے“ خود سوزی کرنے والے اپنے وفاداروں کا ذکر بھٹو نے سپریم کورٹ میں اس وقت بھی کیا۔ جب انہیں تقریباً چار دن تک اپنے دفاع میں بولنے کا موقع فراہم کیا گیا۔

بھٹو نے سپریم کورٹ کے ججوں کو باور کروایا کہ میں یہاں اس لئے نہیں آیا کہ یہ محض میری زندگی کا سوال ہے بلکہ انصاف کے حصول کے لئے اس کٹہرے میں کھڑا ہوں۔ میں پھر کہتا ہوں کہ میں اس جرم کا مرتکب نہیں ہوں جس کی سزا مجھے دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مجھے جیل میں طرح طرح کی سخت اذیتیں دے کر تنگ کیا جاتا ہے۔ میں اس کا ذکر بھی نہیں کرنا چاہتا۔ کیونکہ میں اس عدالت کے علاوہ تاریخ کو بھی جواب دہ ہوں۔ میرے آٹھ نوجوانوں نے پچھلے دنوں خود کو زندہ جلا دیا۔ کیا آپ کے ہاں اس کی کوئی اہمیت نہیں؟ یہ میرا نہیں بلکہ ملک و قوم کے مستقبل کا سوال ہے۔

بھٹو کا انگریزی میں عدالت کے رو برو دیا گیا موقف آج بھی ایک خوب صورت دستاویز کے طور پر پڑھا جا سکتا ہے۔

بھٹو چونکہ ہمیشہ سے عوام سے جڑے ہوئے تھے۔ اس لئے انہوں نے خود کو زندہ جلا لینے والوں کو یاد کر کے خراج تحسین پیش کیا۔ ان دنوں ہمارے گھر کا ماحول بھی کچھ سیاسی نوعیت کا ہوتا تھا۔ انگریزی اور اردو کے ایک دو اخبارات گھر پر آتے تھے۔ رات آٹھ بجے بی بی سی سننا اور حالات حاضرہ سے آگہی روز کا معمول تھا۔ میری عمر ان دنوں کچھ زیادہ تو نہ تھی۔ لیکن ان حالات میں سیاسی تربیت سے گزرتا رہا۔ سیاسی جلسے جلوسوں میں جانے سے میرا سیاسی شوق پروان چڑھتا گیا جو سیاست اور تاریخ کے طالب علم کی حد سے آگے نہ بڑھ سکا۔ جب سیاسی جلسے جلوسوں اور ہنگاموں میں شرکت کے بعد اپنے والد کے خوف سے گھر واپس آتا تو وہ اکثر مجھے کوستے اور کہتے کہ تم جیسے ورکر لوگ اصل میں سیاسی لیڈروں کا ایندھن ہوتے ہیں۔ جن پر وہ اپنی سیاست چمکاتے ہیں اور اگر تم جیسے نہ ہوں تو ان کا سیاسی کاروبار کب کا ٹھپ ہو چکا ہوتا۔

ان کی بتائی باتیں آج کے ملکی حالات میں مجھے بہت یاد آتی ہیں کہ جن سیاسی خواہشات کو اپنے سینے میں سجا کے میں نے یا مجھ جیسے سینکڑوں کارکنوں نے مستقبل کے خواب بنے تھے۔ کیا وہ پورے ہوئے؟ افسوس! کہ اس کا جواب زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہے۔

شورش کاشمیری کہا کرتے تھے کہ ”سیاست ایک ایسی کھیتی ہے جس میں بہت دفعہ اس بیج کا مول بھی نہیں ملتا جو فصل بوتے وقت لگاتے ہیں۔“ پاکستان کی حالیہ سیاست پر واقعی یہ بات صادق آتی ہے۔

اپنی بیٹیوں کو شادیوں پر تحفوں کے طور پر بنگلے پیش کرنے والے رات کے بھوکے حکمران طبقوں کی اشرافیہ نے کبھی ان سیاسی کارکنوں کے بارے میں سوچا کہ وہ اور ان کے خاندان کس کس مپرسی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بھٹو کے لیے خود سوزی کر کے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والے فیصل آباد کے بہادر سپوت رشید عاجز کا پتہ ہے کہ جب بے نظیر بھٹو 1986 میں فیصل آباد کے دورے پر آئیں تو اس شہید کی قبر کا نشان تک باقی نہ تھا۔

اسی آگ کی نذر ہونے والے منور اور یعقوب مسیح کے بارے کسی کو خبر ہے کہ وہ پنڈی کے کون سے قبرستان میں ابدی نیند سو رہے ہیں؟ رحیم یار خان کے اسلم لدھیانوی کے بارے میں کسی کو جاننے میں دلچسپی ہے اور حنیف نارو کی آخری آرام گاہ کو کون سا راستہ جاتا ہے۔ فیصل آباد کا صوفی امین اپنے جسم پر تشدد کے نشانوں کے ساتھ کہاں مدفون ہے؟ پھانسی پر جھولنے والے لاہور کے ادریس طوطی شہید کی بہن شاہدہ جبیں کی گزر اوقات کیسے ہوتی ہے؟

ریاستی جبر سے پھانسی کے پھندوں کو چوم کر اپنے گلے میں ڈالنے والے لاہور کے محمد ادریس اور عثمان غنی، بھکر کے رزاق جھرنا، سندھ کے اعجاز سموں اور بلوچستان کے حمید بلوچ کے خاندانوں کی کبھی کسی نے ڈھارس بندھائی؟ 14 اگست 1985 کو لاہور کے موچی گیٹ پر جلسہ کے انعقاد کو روکنے پر پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے پانچ کارکنوں کی موت کا ماتم کس کس کو یاد ہے۔

حبیب جالب کی بیٹی کس طرح لاہور میں ٹیکسی چلا کر اپنے روزگار کا بندوبست کرتی ہے۔ کیا کبھی کسی نے جاننے کی سعی کی؟ بے نظیر بھٹو کے ساتھ کراچی اور پنڈی میں مرنے والے سینکڑوں کارکنوں کی قبریں کسی نے ڈھونڈیں۔ لاہور کی سڑکوں پر اپنی کل ملکیت ایک گدھا گاڑی پر پیپلز پارٹی کے جھنڈے لگا کر 40 سال تک پارٹی کو زندہ رکھنے والے قلندر ہرا سائیں کا جنازہ لاہور کی کس گلی اور محلہ میں کس بے بسی میں اٹھا۔ ان کے مزار بنے اور نہ کسی کو فاتحہ پڑھنے کی تکلیف سے گزرنا پڑا اور نہ ہی ان بے نام مقابر پر کسی کو قندیل جلانے کی ضرورت پیش آئی۔

آج بلاول کا بہن کی شادی پہ کہنا، ہو سکتا ہے، درست ہو؟ کہ ہمارے خاندان نے بڑے عرصے بعد کوئی خوشی دیکھی ہے۔ ایک خوشی کے لئے کتنی لاکھوں خوشیوں کو قربان کیا گیا؟ اور جبر و استبداد سے لڑتے ہوئے جانیں دینے والے ان ہزاروں گھروں کی روٹھی خوشیاں کون بحال کروائے گا؟ کیا کبھی بلاول زرداری ماضی میں کارکنوں کی پیٹھوں پر پڑنے والے کوڑوں اور ان کی چیخوں کا مداوا کر سکے گا؟

حالات کی ستم ظریفی دیکھیے اور اندازہ کریں کہ شادی کی ان رسومات میں لندن میں بیٹھے اس شخص کی بیٹی بھی مہمان بنی۔ جو آخر تک کہتا رہا کہ پیپلز پارٹی اور بھٹو کا نام سن کر میرا خون کھولتا ہے۔ جو تمام عمر ضیا الحقوں، حمید گلوں اور جیلانیوں کے زیر سایہ پل کر جوان ہوا اور بھٹو کی عوامی پارٹی کا پنجاب میں صفایا کر گیا۔ اس کے ساتھ اتحاد کر کے، آج کس کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے؟

آج دکھ سے لکھنا پڑ رہا ہے کہ وطن عزیز میں بسنے والے لاکھوں بلاول، حسن اور حسین نواز دو وقت کی روٹی کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور بے شمار بختاوریں اور مریم نوازیں بغیر کسی تحفہ کے گھروں کی دہلیزوں سے ایسے مکاروں اور سفاک کاروں کے ساتھ روانہ کر دی جاتی ہیں۔جو ان کی بے چارگیوں اور معصومیت سے کھیل کر ان کے نیم مردہ جسموں کو ہسپتال کی ایمرجنسیوں میں پھینک کر فرار ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ ان کے مقدروں میں بے بسی کے تحفوں کے سوا کچھ نہیں لکھا۔ نہ بڑے بنگلوں کے خواب، نہ کھوکھروں کی جانب سے پیش کردہ 50 لاکھ کے پرس اور نہ ہی فوجی جرنیلوں کو بی ایم ڈبلیو کی چابیوں کی پیشکش۔

ستم ظریفی دیکھیے کہ محنت سے نہیں بلکہ لوٹی ہوئی دولت کے انبار ہی آپ کے مقدروں کا تعین کرتے ہیں۔ کہاں ہیں انصاف کی فراہمی کے ادارے؟ نیب اور احتساب کے ذمہ داران کو کیا یہ معاشرتی ناہمواریاں نظر نہیں آ رہیں۔ عوام کیوں خاموش ہیں؟ اور وہ چائنہ میں 60 کی دہائی میں ماؤزے تنگ کے اس ثقافتی انقلاب کی راہیں کب متعین کریں گے جس میں ہر مراعات یافتہ کو مجرم ٹھہرایا گیا۔

اگر ان تمام کہانیوں میں کسی کو دلچسپی ہو اور وطن کی تلخ سیاست کی حقیقت جاننے کی کبھی ضرورت محسوس ہو تو اپنے جسم و جاں پر سہنے والے مظالم کی داستانیں، لاہور کے شاہی قلعہ میں سب سے لمبی قید کاٹنے والے، امریکہ اور جرمنی کی درسگاہوں میں پڑھنے اور پڑھانے والے، ضمیر کے قیدی، کمیسٹری کے پروفیسر اور رحیم یار خان کے رہائشی ڈاکٹر اسلم نارو سے پوچھیے جن کے خاندان کو تیرہ ماہ تک اس بات کا ہی پتہ نہ چل سکا کہ وہ کہاں پر قید ہیں اور کس جرم میں پکڑے گئے۔ ایسا ہی حال پروفیسر جمال نقوی اور جام ساقی سے روا رکھا گیا۔ لاہور کے سردار مظہر علی، ٹوبہ کے فاروق طارق، راولپنڈی کے کامران رضوی اور سیالکوٹ کے غلام عباس بھی ان سیاسی کرداروں میں اس نمایاں مقام پر کھڑے ہیں۔ جو ابھی زندہ ہیں۔

واہ پاکستان! منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •