Queen’s Gambit اور شہ مات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم نے چونکہ ترتیب کے اعتبار سے دی کوئین ز گیمبٹ پہلے دیکھی لہذا اس کی بات پہلے۔

سنہ 1980 سے سن 1990 تک ہم ایک مفت کی جنگ میں الجھے رہے۔ یہ سوویت-افغان جنگ تھی۔ لکڑی کے بکسوں میں اس قدر ڈالر آتا تھا کہ کسٹم کے چپراسی بھی ایک آدھ گڈی اپنے پاس رکھ کر نہال ہو جاتے تھے۔ یہ کچھ ایسا مشکل کام نہیں۔ نیٹو کے اسلحہ کے کنٹینرز بھی تو آخر کراچی پورٹ سے ہی کھسکائے گئے تھے۔

سرکش غیر ملکی جذباتی نوجوان جنگجوؤں کو، جن سے ہمارے دوست ممالک بشمول اسرائیل کو ہر وقت شورش کا سامنا رہتا تھا، ہمارے مقامی جنگجو ہماری سرزمین پر ہانک کر تمام سہولتیں فراہم کرتے تھے۔ انہیں حکم تھا کہ پشتو سیکھیں اور بولیں، ڈاڑھی رکھ کر شلوار قمیص پہنیں۔ شادی کے لیے مقامی بیگم خریدنے کی رقم کی متعلقہ سرکار کے خزانے سے دی جائے گی۔ جن دنوں ہم یہ کام راہ حق کے شہیدوں، وفا کی تصویروں سے کلاشن کوف، اسٹنگر میزائل اور آئی ای ڈیز کے ذریعے کرا رہے تھے تو دور کہیں ایک امریکی مصنف   Walter Tevis  جو اوہایو یونی ورسٹی میں انگریزی ادب کے استاد تھے، پول، شطرنج، شراب اور جوئے کے رسیا تھے انہوں نے ایک ناول کے ذریعے امریکہ کی شطرنج میں روس پر برتری ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ ان کی لکھائی کمال کی ہوتی تھی۔

ایک طویل عرصے سے دنیائے شطرنج پر روس کھلاڑیوں کی حکمرانی رہی ہے۔ ان کے آخری ورلڈ چیمپیئن ولادیمر کرامنک تھے جنہیں بھارت کے وشوا آنند نے ہرایا۔ چلتے چلتے یہ بھی بتا دیں کہ مردوں میں اس وقت ورلڈ چمپین ناروے کے مگینس کارلسن ہیں اور خواتین میں چین کی جو وین جن۔ درمیان میں آپ کو بھارت کی وشالی کا نام بھی دکھائی دیتا ہے جو ورلڈ چمپئن تو نہیں مگر ان بڑے کھلاڑیوں میں شمار ہوتی ہیں جنہیں دنیا گراینڈ ماسٹر کہتی ہے۔ یہ ٹائیٹل تمام عمر کے لیے عطا کیا جاتا ہے۔ انہیں نامور کھلاڑیوں میں روس کی Aleksandra Kosteniuk  کا شمار بھی ہوتا ہے جو ورلڈ چمپئین بھی رہی ہیں۔ ان کے ساتھ بازی جماتے وقت ان کے حسن دل فریب کی وجہ سے یہ بڑی الجھن ہوتی ہے کہ ان کی چال پر نظر رکھیں کہ اپنا چلن سنبھالیں۔

والٹر ٹیوس جن کا خود اپنے بارے میں کہنا تھا کہ وہ دوسرے درجے کے امریکن لکھاری ہیں۔ یہ محض ایک کسر نفسی کا بیانیہ ہے ورنہ ان کی تحریر اس کمال کی ہوتی تھی کہ مشہور کنیڈین ادیب و شاعر مائیکل اونداچی (Ondaatje)  کا کہنا تھا کہ  گیمبٹ کوئین کی نثر اتنی عمدہ ہے کہ وہ اسے ہر سال دو سال بعد پھر سے اس لیے پڑھتے ہیں کہ اس سے ان کی تحریر میں پختگی آتی ہے۔ ایلن اسکاٹ جنہوں نے اس سیریز کا اسکرپٹ لکھا وہ کہتے ہیں کہ والٹر ٹیوس بیسویں صدی کے بہترین امریکی مصنف ہیں۔

ہم نے کتاب تو نہیں پڑھی مگر دی کوئینز گیمبٹ کا پلاٹ، واقعات اور ماحول چارلس ڈکنس کی کہانیوں جیسا ہے۔ ایک واقعے سے دوسرا واقعہ جڑا ہوا، شکستہ خاندان، یتیم بچی، منشیات کی عادی ماں، یتیم خانے کا ماحول۔ حوصلہ مند ہیرو یا ہیروئن کو پامردی سے حالات کا مقابلہ کر کے انہیں شکست دینا ہے۔

ہمارا اپنا مشاہدہ یہ ہے کہ فلم کی ہیروئین بیتھ ہارمون اور ٹیوس کی زندگی میں بڑی مماثلت ہے۔ مصنف ٹیوس کے والدین بھی دور ایک شہر کے کسی یتیم خانے میں اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ ٹیوس کو بھی چیس کھیلنے کا بہت شوق تھا گو وہ بیتھ ہیرمن کے لیول کے کھلاڑی نہ تھے۔ ان کو جوڑوں کی شدید تکلیف کے باعث ایسی درد کی روک تھام والے Phenobarbital کیپسول سات برس کی عمر سے دیے جاتے تھے جن سے ان کا دماغ درد سے سن ہو کر کہیں اور فوکس کر رہا ہوتا تھا۔ یہ بات آپ فلم کے دوران بھی ہیروئن کے حوالے سے نوٹ کریں گے۔ یتیم خانے کی ان سب بچیوں کو بھی وٹامن سپلیمنٹ کے نام سے ایسے سکون آور کیپسول دیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں احتجاج و اشتعال بہت قابو میں رہتا ہے

مصنف ٹویس کی تین کتابیں فلم کے روپ میں ڈھل چکی تھیں

1-            “The Man Who Fell to Earth

2-            The Hustler

3-            The Color of Money,”

سیریز اس لئے بہت بڑا  phenomenon  ثابت ہوئی کہ لوگوں کے پاس تسلی سے کرونا کے ایام وبا میں گھر بیٹھ کر سیریز دیکھنے کا اور چیس سیکھنے کا وقت تھا۔ سیریز میں چونکہ شطرنج کی اعلی لیول کی چالوں بالخصوص کرکٹ کی طرح، اوپننگز کا بہت رول تھا لہذا گرینڈ ماسٹر بروس پینڈول فنی اور دنیا کے عظیم چمپئن گیری کیسپورو جن کا تعلق تو روس سے تھا مگر وہ ترک وطن کرکے نیویارک آگئے ان دونوں کو بطور مشیر خاص رکھا گیا تھا۔ گیری کیسپورو کا کہنا تھا کہ ناول کے حساب سے چون کہ مصنف محض ایک شوقیہ لیول کے عام سطح سے ذرا بلند درجے کے کھلاڑی تھے لہذا ان اوپننگ کو عالمی معیار کے مقابلے کی مووز بنانے کے لیے انہیں خاصی محنت کرنی پڑی۔ اس محنت میں اس وقت اور بھی اضافہ اور پروفیشنل مہارت کو شامل کرنا پڑا جب انہیں یہ احساس ہوا کہ بیتھ ہیرمن دراصل امریکہ کے واحد ورلڈ چمپئین بابی فشر کا ایک طرح سے زنانہ خاکہ ہے۔ بابی فشر ان کے ہیرو تھے۔

جب فشر کا سن 2008 میں انتقال ہوا تو ان کے وفات نامے میں نیویارک ٹائمز نے لکھا تھا کہ ان کا شطرنج کھیلنے کا انداز volatile (کافور صفت) ڈرامائی ذہانت بھرا اور بے حد پیچیدہ تھا۔ کم و بیش ایسا ہی اہتمام بیتھ کے کردار میں دکھائی دیتا ہے

فلم کی اصل ہیروئن اداکارہ آئینہ تمثال Anya Taylor-Joy  کی چیس بورڈ پر ہر چال کی جھلک چہرے کے تاثرات سے عیاں ہو تی رہتی ہے۔ کیمرہ کہیں بھی ہاتھ کی جنبش کو نظر انداز نہیں کرتا۔ جب وہ بہت سرعت اور ایک تفاخر سے سامنے والے کھلاڑی کا مہرہ پیٹ کر اسے ایک طرف پھینک کر کلاک کا بٹن دبا دیتی ہے۔ وہ وہیں فوکس کررہا ہوتا اس رول کے لیے ہیروئن کا انتخاب بہت سجیلا اور لاجواب ہے۔

انایا ٹیلر کی پیشہ ورانہ خوبیوں میں یہ بات شامل ہے کہ ان کا ہر کیریکٹر ان کی فلم میں مکمل طور پر ان پر طاری لگتا ہے۔ گویا کردار کا جن ان کے وجود کے اندر سے ظاہر ہوتا ہے۔ ان کے لباس اور بدن کی نمود سے بیتھ کے کردار کی عمر کے مختلف ادوار کا بہت ہی نفیس اظہار ہوتا ہے۔ وہ سیریز میں اپنے رول کے بارے میں اس حد تک سنجیدہ تھیں کہ André Courrèges نامی فیشن ڈیزائنر کو منتخب کیا جنہیں چیک کے ڈیزائن والے ملبوسات پسند ہیں۔ انہوں نے صرف اتنی سی بات پر اکتفا نہیں کیا ک بلکہ جزیات کو اس حد تک نبھایا کہ شطرنج کے ان کے عالمی مقابلے والے دن ان کے مہروں کا رنگ سفید ہوتا ہے اس لیے ان کا لباس بھی کامل سفید رنگ کا تھا۔

 ہم نے آپ کو بتایا تھا نا کہ ٹی وی سیرئیل۔ اپنے لکھاری کے زور پر چلتی ہے۔ پی ٹی وی کے سیرئیل اندھیرا اجالا (یونس جاوید) ایک محبت سو افسانے (اشفاق احمد) انکل عرفی (حسینہ معین) اور وارث (امجد اسلام امجد) کو ذہن میں لا کر ہمارا نقطہ سوچیں۔ باقی معاملات اس میں ثانوی اہمیت اختیار کرجاتے ہیں جس میں واحد نقب کسی اداکار کی کیریکٹر کی بہت عمدہ عکاسی ہوتی ہے۔ ہیروئن معمولی تعلیم یافتہ اور نسبتاً ایک محروم پس منظر سے ابھری ہے لہذا اس میں سارا زور چہرے پر ظاہر ہونے والے تاثرات کے اتار چڑھائو کا ہے۔ ہیرمن بیتھ کی دنیا، ذہن کی دنیا ہے۔ وہ تاریک کمروں کی چھت پر بھی شطرنج کی بساط بچھا کر Blind Chess  کھیل رہی ہوتی ہے۔ شطرنج کی دنیا چونکہ بہت منطقی دنیا ہے لہذا اس کا دوسرا مظاہرہ کہیں کہیں اس کی ریاضی میں مہارت سے بھی ہوتا ہے جس میں منطق کا بہت زور ہوتا ہے۔

صوفی کہتے ہیں انسانوں کی اکثریت، دنیائے شکم میں بستی ہے۔ ان سے بلند دنیائے دماغ میں رہنے والے ہوتے ہیں اور ان سے بھی اعلی اہل قلوب۔

کسی فلم کا کمال یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک ٹرینڈ سیٹر بن جائے۔ اس حوالے سے کوئینز گیمبٹ بہت ہی لاجواب ثابت ہوئی کہ ایک بہت بڑی غلطی کی طرف کسی کی توجہ نہیں گئی کہ فلم کا عرصہ سنہ ساٹھ کا امریکہ ہے مگر  کم لوگ اس امر سے واقف ہیں کہ شطرنج کے عالمی مقابلوں میں سن اسی تک خواتین کو شرکت کی اجازت نہ تھی۔ یہی وجہ کہ سیریز میں دکھائے گئے شطرنج کے مقابلوں بیتھ کے علاوہ کوئی خاتون کھلاڑی دکھائی نہیں دیتی۔

 ایک امریکی اداکار اور مصنف و ہدایات کار ھیتھ لیجر نے سن 2008 میں فلم پر کا کام شروع کردیا تھا۔ وہ بہت پائے کے شطرنج کے کھلاڑی تھے۔ وہ ٹیوس کے ناول کوئینز گیمبٹ پر بنائی جانے والی اس فلم میں خود کو بطور ہیرو اور اداکارہ ایلیٹ پیج کو ہیروئن کاسٹ کرنا چاہتے تھے۔ زندگی نے وفا نہ کی مگر ان کے ساتھ جو Allan Shiach  نامی ایک اسکرین رائٹر تھے انہوں نے اس کا اسکرپٹ سنبھال کر رکھا اور اپنے دوست  اسکاٹ فرینک کے ساتھ اس سیریز کو بنایا یہ الگ بات ہے کہ وہ فلم کے ٹائٹیل پر اپنے قلمی نام ایلن اسکاٹ کے ساتھ نمودار ہوئے۔

سات ایپی سوڈز کی اس سیریز کے ٹرینڈ سیٹر ہونے کی بات کریں تو ساڑھے چھ کروڑ گھروں میں اسے دیکھا گیا اور چورانوے ممالک میں 63 ایسے تھے جہاں یہ نمبر ون کے درجے پر براجمان رہی۔ سیریز یوں بھی بہت کمال ہے کہ twitch.tv نامی ایک گیم چینل پر لوگ لائیو ٹورنامنٹس میں شرکت کرتے ہیں۔ گوگل پر چیس کے بارے میں کھوج میں دو سو گنا اضافہ ہوا۔ اس سیریز کے منظر عام پر آنے کے بعد چیس ڈاٹ کام نامی سائٹ کی ممبر شپ میں ہر ماہ دس لاکھ کا اضافہ رجسٹر کیا گیا۔ گولیاتھ گیمز جو کھیلوں کا سامان بناتی ہے اس کے مطابق چیس بورڈز کی فروخت میں گیارہ سو گنا اضافہ دیکھا گیا۔ خود خواتین کھلاٹیوں کی تعداد میں بھی اس سیریز سے پہلے کی نسبت دس فیصد اضافہ ہوا۔ یہی نہیں ایک خاتون نے جن کی لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی ایسی خاص جائیداد نہیں انہوں نے عسکری مہروں پر مشتمل Carolingi XIV chess set خریدا ہے۔ یہ الگ بات کہ وہ جن مولانا صاحب اور سندھ کے خوبرو نوجوان کے ساتھ بازی لگانا چاہتی ہیں وہ ان کے چچا سمیت پہلے ہی طے شدہ عسکری مہرے ہیں۔ یہ بات ہم نے مذاقاً لکھی ہے۔ ورنہ خریدار خاتون امریکہ میں رہتی ہیں۔ پاکستان کی طاقت ور پینڈو اشرافیہ کے ہاں یہ ذوق گاڑیوں اور چپل جوتوں تک محدود ہے جب کہ شطرنج میں دماغ کا بہت استعمال ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 59 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan