غیب سے پانی کی بوچھاڑ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریر : جون چو (چینی نژاد امریکی افسانہ نگار)
مترجم : نبراس سہیل

(اس افسانے نے 2014 کا بہترین افسانہ قرار دیے جانے پر ہیوگو ایوارڈ حاصل کیا۔ اس کہانی میں تصور یہ ہے کہ مستقبل قریب میں جب بھی کوئی جھوٹ بولے گا، اس پہ پانی کی بوچھاڑ ہو گی۔ پانی کی ہلکی پھوار بھی ہو سکتی ہے اور سیلابی صورت بھی۔ اس کا انحصار جھوٹ کی شدت پہ ہو گا)

یہ تصور کہ آدمی جب بھی جھوٹ بولے گا اس پہ غیب سے پانی کی بوچھاڑ ہوگی، یوں تو عام سا ہے پر ہے ایک دم خالص۔ بالکل حقیقی ہے۔ میں نے اسے خود آزمایا جب چند ہفتے پہلے پانی برسنا شروع ہوا۔ اس کرۂ ارض پہ سبھی نے اس کو محسوس کیا۔ ہر اس شخص نے جس میں لیب کے تحفظ کا ذرا بھی شعور تھا۔ یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہر مائع محض پانی ہے۔ جب آپ کہتے ہیں ’میں اپنے تجربات کی دستاویز تجربے کے ساتھ ساتھ تیار کرتا ہوں‘ تو بہت سا پانی گرتا ہے۔ ہاں مگر اتنا نہیں کہ آپ کو لیبارٹری خشک کرنا پڑے۔ جھوٹ جیسا بھی ہو، یہ بوچھاڑ والا پانی کشید کردہ پانی جیسا خالص ہوتا ہے۔

یہ کہنا کہ ’یہ بات جھوٹ ہے‘ یا ایسا ابہام ظاہر کرتا کوئی بھی جملہ آپ کے اندر ایک ایسے اضطراب کو جنم دیتا ہے، ایک ایسا خوف آپ کے سر پہ معلق کر دیتا ہے کہ اکثر لوگ پانچ سیکنڈ نہیں لگاتے کہ کچھ نہ کچھ سچ اگلنے لگتے ہیں۔ تو لہٰذا جہاں تک ہو سکے سچ کو چھپایا جائے یہ آج کل ایک نیا رواج ہے بالخصوص پینے پلانے والے ہم عمر لڑکوں اور مضبوط مردوں میں جو دانت کی جڑ کٹواتے وقت بھی تقاضا کرتے ہیں کہ انھیں نشہ نہ دیا جائے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق سچ کہنے میں جتنی تاخیر کی جائے، بالآخر راحت کے حصول کے لئے اتنی ہی زیادہ سچائی بیان کرنا درکار ہو تا ہے۔

گس کو لگ بھگ ایک منٹ ہو چکا تھا اور میری خواہش تھی کہ و ہ اب اپنا سچ اگل دے۔ اس نے شراب پی رکھی تھی نہ ہی وہ کوئی لاابالی لڑکا تھا۔ اس کی قمیض پسینے میں شرابور تھی اور اس کے بدن سے چپک رہی تھی۔ وہ بدن جو ہفتے کے ستائیس گھنٹے جیم میں گزارتا تھا۔ اس کے گھٹنے مضبوط تھے اور جینز اس کی رانوں پہ تنی ہوئی تھی۔ پر میرے سوال پر اس کا چہرہ ایسے سکڑ گیا تھا جیسے اس نے کسی کو بلی کے بچوں پہ ہتھوڑے برساتے دیکھ لیا ہو۔ یہ سراسر بیوقوفانہ کھیل تھا (جو ہم کھیل رہے تھے ) ۔ ممکن ہے آنے والے چند ہفتوں میں یہ جوش ماند پڑ جائے۔

مجھے علم نہیں اس بار اس کیفیت سے گزرتے ہوئے اس نے مجھے اپنے سامنے پابند کیوں کر رکھا تھا۔ مجھے اپنے پابند رہنے کی وجہ بھی نہیں معلوم۔ اس کی اذیت دیکھنا دراصل خود کو اذیت سے مار ڈالنے جیسا تھا۔ گس کو یہی درکار تھا تو یوں ہی سہی۔ مجھے علم تھا کہ مجھے جتنا ممکن ہو اسے وقت دینا چاہیے مگر میری خواہش تھی کہ وہ پلٹ جائے۔ وہ اس قدر اذیت میں تھا کہ مجھ سے دیکھا نہیں جا رہا تھا۔

’میں تم سے محبت کرتا ہوں، میٹ۔‘ گس کی مسکراہٹ تابناک تھی۔ اس نے مجھے صوفے پہ گرا دیا اور اپنے بوسوں سے مجھے بے بس کرنے لگا۔ میں نے بھی یکلخت اسے چوم لیا۔

نہ صرف یہ کہ اس پہ کوئی پانی نہ گرا بلکہ اس کے بدن سے سارا پسینہ بھی ہوا ہو گیا۔ اس کی قمیض گرم اور خشک ہو گئی۔ ایک سرسراتے بہار کے جھونکے نے ہمیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس میں سے پھولوں اور اوزون کی خوشبو اٹھ رہی تھی۔ اس بات نے مجھے اس کے بھیگ جانے سے کہیں زیادہ بے چین کر دیا۔ وہ بھیگ جاتا تو بات میری سمجھ میں آ جاتی۔ مجھے دکھ ہوتا، پر سمجھنا آسان ہوتا۔

جب میرا ذہن ادھر ادھر ہچکولے کھا رہا تھا، اس نے میری جینز کے بٹن اور زپ کھول دیے۔ ایسا نہیں تھا کہ اس کا جسم انسانوں سے زیادہ یونانی دیوتاؤں سے مماثل نہ تھا۔ نہ ہی یہ کہ سقراط پہ تفصیلی تبصروں کی اس میں صلاحیت نہ تھی جس پہ میرا منہ ہمیشہ کھلا کا کھلا رہ جاتا تھا۔ بات یہ تھی کہ ’میٹ، میں تم سے محبت کرتا ہوں۔‘ کے الفاظ اس کی ساری بے چینی دور کر دیا کرتے تھے۔ اس وقت بھی سارا پانی کہیں غائب ہو گیا تھا۔

ایسا طبیعات کے بنیادی اصولوں کے تحت ہوا کرتا ہے۔ ریاضی کے عمیق کلیات کے تحت ایسا ممکن ہے۔ ’میٹ، مجھے تم سے محبت ہے‘ اتنا زوردار بیان نہیں کہ اسے زمان و مکان کی ازلی سچائی مان لیا جائے۔ مگر جب بھی گس یہ الفاظ کہا کرتا، مجھے ایسا ہی لگتا۔

’ٹھہرو‘ ۔ میں نے اسے پیچھے ہٹایا۔ میرے ہاتھ نیچے بیٹھنے کے لئے آسرا لینے لگے۔

گس ایک دم رک گیا۔ اس سے پہلے کہ میرے ہاتھ صوفے کے کشن پہ پڑتے، وہ تیزی سے پیچھے ہٹ گیا۔ لیکن اس کا سر اب بھی میرے اوپر جھکا ہوا تھا۔ یہ وہی شخص تھا جسے ابھی چند لمحے پہلے یونہی ازراہ مذاق دیوانہ ہو جانے کے خطرے میں ڈالا گیا تھا، کہ درد اس کی روح تک اتر جائے۔ وہ اچانک کیسا مجروح دکھنے لگا تھا؟

ایک چیز جو ہمیشہ سے گس کے اختیار میں تھی وہ تھا اس کا مضبوط دکھنا۔ اس کا چہرہ پتھر کا سا ہو جاتا اور اس کے ہونٹ گہری، سیدھی لکیر کی طرح تن جاتے، ایسے میں اس سے زیادہ حسین مجھے کوئی نہ لگتا۔ مگر اس کی ان پتھریلی نیلی آنکھوں کے پیچھے مجھے آج وہ خوف دکھائی دیا جو ان آنکھوں میں کبھی نہ آتا تھا خواہ کیسی ہی تکلیف اسے چیر ڈالتی۔

اس لمحے کی تکلیف سہ لینا بہتر ہے۔ میں نے خود کو تقریباً اس پہ آمادہ کر لیا تھا کہ گس کو ابھی اتنا دکھ نہ ہوگا خواہ وہ اس بات سے خوفزدہ ہی کیوں نہ ہو۔ بعد میں اسے اس سے زیادہ اذیت پہنچ سکتی ہے۔

’یہ سب مظاہرہ تم پہلے بھی کر چکے ہو، گس۔‘ میں نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔ ’بس کر دو اب۔ مجھے تم سے محبت نہیں۔ اتنی ہر گز نہیں جتنی ظاہر ہے کہ تم مجھ سے کرتے ہو۔‘

وہ پانی جو آپ پہ نہ جانے کہاں سے آن گرتا ہے، برفیلا سرد ہوتا ہے۔ میرے صوفے پہ گر جانے کی وجہ سے پانی بھی مجھ پہ وہیں آ گرا۔ جب اس قدر پانی پڑ جائے تو وہ آپ کی ہڈیاں تک سن کر دیتا ہے۔ میں نے چلانا چاہا۔ ’کیا مصیبت ہے؟‘ ۔ مگر بس ایک سانس اور۔ اور مجھے ڈبکی آ جاتی۔ گس نے مجھے ڈھانپ لیا، اپنے جسم سے میرے جسم کو چھپا لیا۔ مگر اس کے اس عمل کی رفتار پانی سے زیادہ تیز نہ تھی۔ میں نے اسے اس بارش سے پرے دھکیلنے کی کوشش کی۔ وہ مارشل آرٹسٹ تھا، میں نہیں۔ ابتدائی دھچکے کے بعد اب یہ سب کچھ ہم دونوں کے لئے یکساں تھا۔ یہ سیلاب چند لمحے جاری رہا۔ ہم دونوں بھیگ گئے۔ وہ اتنی زور سے ہنسنے لگا کہ صوفے سے نیچے لڑھک گیا۔ گیلے فرش پہ دوہرا ہو گیا اور مچھلی کی طرح پلٹیاں کھانے لگا۔

اس کی ہنسی سے مجھے خجالت کا احساس ہونا چاہیے تھا مگر اس کی ہنسی ایسی خوشگوار تھی، جیسے کئی ساری گھنٹیوں کا شور۔ جیسے ایک ایسی گرج جس کا ارتعاش آپ کے اندر تک اتر جائے اور جیسے اس سے کمرے میں ہر شے لرزنے لگے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اس کے چہرے پہ آنسو تھے یا پھر کہیں سے پانی اس پہ آ پڑا تھا۔

میرا جسم یوں تھرتھرانے لگا کہ مجھ سے برداشت نہیں ہو پا رہا تھا۔ میرے گرد پڑے کشن بھی بھیگ چکے تھے اور سرد برفیلا پانی مجھے بھگو رہا تھا۔ گس کھڑا ہو گیا۔ اس پہ کوئی کپکپی طاری نہ تھی۔ اس نے مجھے اوپر اٹھایا، اپنی بانہوں میں بھر لیا اور میری پیشانی کو دھیرے سے چوم لیا۔

’ مجھے معاف کر دو، گس۔ میں نے تمہارا صوفہ تباہ کر دیا۔‘ فرش ربڑ کی ورزشی چٹائی سے ڈھنپا ہوا تھا۔ اٹھنے پہ یہ سب خشک کیا جا سکتا تھا۔

اس بات پہ اسے ایک بار پھر ہنسی کا دورہ پڑ گیا پر اب کی بار ہنسی پوری طرح اس کے اختیار میں تھی۔ اس نے اپنے ہاتھ بڑی نرمی سے میری کمر کے گرد رکھے ہوئے تھے۔ یہ نہ ہوتے تو میرا پھسل کے فرش پہ گر جانا یقینی تھا۔

’ ابھی تو تم نے (چوم کر ) مجھے بتایا کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے، یہی واحد طریقہ تھا تمہارے پاس بتانے کو۔ اور اب تمہیں صوفے کی پڑی ہے؟‘

کسی اور سے سنا ہوتا تو مجھے یہ جملہ اپنے لئے تحقیر آمیز لگتا۔ مگر اس کی بات اور تھی۔ میں نے کوشش کی مگر کوئی جواب نہ بن پڑا۔

’ میں خشک کر لوں گا۔‘ گس بولا۔ ’اور تم نے ہی تو یہ صوفہ میرے لئے خریدا ہے۔‘

یہ بات درست ہے کہ بائیوٹیک انجینئیر جسمانی کثرت کرنے والوں سے کہیں زیادہ پیسہ بناتے ہیں، بلکہ دنیا میں کسی بھی قابل ترین شخص سے کہیں زیادہ۔ اس کے ساتھ فوراً یہاں آ کے رہنے کی بجائے، میں نے اس کا اپارٹمنٹ سجانا شروع کر دیا تھا۔ گس بھی اس بات پہ راضی ہو گیا تھا کہ ایک بار اس اپارٹمنٹ کا لائبریری اور ورزشی کمرے والا مخلوط تاثر ختم ہو جائے تو میرے آنے کی راہ نکلے۔ وہ تو جانے کب سے مجھے آنے کو کہہ رہا تھا مگر میری مرضی نہ تھی۔ میری کارکردگی اس کے قابل نہ تھی۔ یہ تو محض ایک رذیل جسمانی تعلق تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2 3 4 5 6