تھیٹر، اسٹیج، ریڈیو اور فلم کے اداکار مسعود اختر
” آپ نے اسٹیج کیا، فلم اور ٹی وی پر کام کیا۔ آپ کو ان میں سے کہاں کام کرنا زیادہ پسند تھا؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” صرف تھیٹر ہی ہے جو آپ کو فٹ ورک سکھاتا ہے۔ جو آپ کو عمل اور رد عمل بتاتا ہے۔ یہ ہی کردار کو زبان سکھاتا ہے“ ۔
” کن بیرونی ممالک میں اسٹیج ڈرامے کیے؟“ ۔
” سعودی عرب، دبئی، ابو ظہبی، شارجہ۔ پھر بلجیئم، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک“ ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: ”کوئی ضروری نہیں کہ ڈاکٹر کا بیٹا ڈاکٹر ہی بنے گا۔ اور اداکار کے بچے اداکار۔ سلطان راہی کا بیٹا بھی آ گیا۔ وحید مراد کا بیٹا بھی آ گیا۔ میں ڈاکٹر کا بیٹا تھا اور فلم لائن میں آنا بھی نہیں چاہتا تھا“ ۔
” اس وقت فنکاروں کا سب سے بڑا مسئلہ تین ’ب‘ کا ہے : پہلا بیروزگاری، دوسرا بیماری اور تیسرا بیوگی۔ ان کے سروں پر چھت نہیں ہے کیوں کہ کرایوں کی ادائیگی ناممکن ہو چکی ہے۔ اطلاعات و نشریات کے وفاقی اور صوبائی وزیروں سے میں نے کہا کہ فنکاروں کی بھی کوئی کالونی بنا دیں۔ اس میں دو دو تین تین مرلے کے مکانات بنوا دیں جن میں تین کمرے، ایک برامدہ، ایک کچن اور ایک واش روم ہو۔ جیسے پونچھ ہاؤس یا چوبرجی کوارٹر ہیں۔ پھر یہ تجویز بھی دی کہ سرکار جو ہمیں ماہانہ امداد دے رہی ہے اس میں سے ہزار پندرہ سو کاٹ لیں۔ ان وزراء نے کہا کہ بات تو آپ کی اچھی ہے لیکن اس پر خاصا وقت لگے گا“ ۔
” پھر اس کے بعد کیا ہوا؟“ ۔
” بس پھر صرف باتیں ہی رہ گئیں!“ ۔
” پنجاب حکومت کی جانب سے آرٹسٹ بہبود فنڈ کے تحت رقوم ملنے والی تھیں۔ وہ کیا ہوئیں؟“ ۔
” وہ ابھی تک تو نہیں ملی! لیکن حوصلہ افزائی کی باتیں ضرور ہوتی رہتی ہیں۔ پچھلی حکومت میں کسی کو پچیس ہزار، کسی کو پندرہ اور کسی کو دس ہزار روپے ماہانہ ملتے تھے۔ پانچ کا تو نام ہی نہیں تھا۔ کوئی ڈیڑھ سے دو سو افراد اس سہولت سے فیض اٹھاتے تھے“ ۔
ایک سوال کے جواب میں مسعود اختر بھائی نے بتایا : ”میں نے تو کبھی اپنے پرائیڈ آف پرفارمنس کے لئے درخواست نہیں دی۔ میرے ساتھی مجھے کہتے تھے کہ تم ہمارے ایوارڈوں کے لئے اعلیٰ افسران کے پاس جاتے ہو تو خود اپنا کیس کیوں لے کر نہیں جاتے۔ میں نے کہا کہ اپنے منہ سے اپنی تعریف کروں میرا من نہیں مانتا۔ پھر اللہ نے یہ تمغہ ایک نہیں دو مرتبہ دیا۔ تھیٹر سے عطا الحق قاسمی صاحب نے لیجنڈ کا ایوارڈ دیا اور ساتھ پانچ لاکھ روپے بھی۔ میں نے پی ٹی وی کے تین ایوارڈ بھی وصول کیے۔ پھر پی ٹی وی کی طرف سے مجھے طلائی تمغہ بھی دیا گیا۔ پہلا صدارتی تمغہ حسن کارکردگی 2005 میں ملا۔ دوسرا دس سال بعد 2015 میں دیا گیا“ ۔
” آپ کو کیسا لگتا ہے جب کوئی مداح خوشی سے آپ کے پاس آئے کہ یہ تو مسعود اختر جا رہے ہیں؟“ ۔
” میری گردن میں سریا نہیں ہے! میرے شائقین جو مجھے دیکھتے ہیں اور ملتے ہیں یہ ہیں تو میں ہوں!“ ۔
” آج کے پاکستان ٹیلی وژن کے ڈراموں کا کیا معیار ہے؟“ میں نے سوال کیا۔
” پاکستان ٹیلی وژن میں اب کچھ بھی نہیں لکھا جا رہا۔ اسٹاف سارا دن بیٹھ کر چلا جاتا ہے۔ پوچھو تو جواب ملتا ہے کہ فنڈ نہیں آئے۔ ڈرامے کا اسکرپٹ منظور ہو کر آئے تو کوئی کام بھی ہو!“ ۔
” نگار ویکلی بہت پرانا ہے۔ مجھے خوشی ہے وہ اب بھی مسلسل شائع ہو رہا ہے اور انہوں نے نام نہیں بدلا۔ مجھے فخر ہے کہ مجھے بھی نگار ایوارڈ ملا ہے۔ یہ ایس سلیمان صاحب کی گولڈن جوبلی فلم“ تیری صورت میری آنکھیں ”( 1971 ) میں دیا گیا“ ۔
” شو بز کے حوالے سے کیا آپ اپنے کام سے مطمئن ہیں؟“ ۔
” نہیں! ’ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں، راہ دکھلائیں کسے راہرو منزل ہی نہیں‘ ۔ سینیئر یہ بتلائیں کہ آنے والی نسلوں کو کیا دے کر جا رہے ہیں؟ وہ ڈرامہ ڈرامہ نہیں ہے جو اختتام میں تمہیں کوئی چیز دے کے نہ جائے! کہ ایسا نہ کرنا۔ ڈرامہ یونان سے تبلیغ کی صورت میں شروع ہوا تھا۔ کہ ایک کاندھے پہ نیکی اور دوسرے پر بدی کا فرشتہ بیٹھا ہے۔ ہمارے ہاں کے ڈرامے سے اب اس کو نکال باہر کر دیا گیا ہے۔ اب پی ٹی وی پر بھی آپ دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے“ ۔
” آج کے ریڈیو، ٹی وی چینلوں اور فلم کے فنکاروں کے لئے کوئی پیغام؟“ ۔
” ان کے لئے یہ کہوں گا کہ محنت کریں۔ جو آپ کے سینیئر آرٹسٹ ہیں ان سے سیکھو۔ آپ پرفارم نہیں کر رہے ہیں۔ کوئی اسکرپٹ ہی نہیں ہے۔ ہو یہ رہا ہے کہ تو یہ کہہ دینا میں یہ کہہ دوں گا۔ سب جگت بازی ہے۔ یہ پرفارمنس نہیں! اداکار کو کردار میں ڈوبنا پڑتا ہے۔ اپنا من مار کے آپ کو اس کردار میں مکمل ڈھلنا ہے کہ ایک لفظ ادا کیے بغیر آپ میں وہ کردار نظر آئے“ ۔
یوں یہ ملاقات اختتام پذیر ہوئی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مسعود اختر بھائی صحت اور عافیت کے ساتھ نئے آنے والوں کی راہنمائی کرتے رہیں اور فنکاروں اور ان کی بیواؤں کی بہبود کے لئے ان کی بھاگ دوڑ جلد رنگ لائے!


