مردوں میں برتھ کنٹرول
یہ لوگ سڑک پر موجود حقائق سے مکمل طور پر کٹے ہوئے ہیں۔ صرف اس لیے کہ ان کی زندگی میں یہ مسائل موجود نہیں، وہ معاشرے کے مسائل سے قطعاً ناواقف ہیں۔ خواتین جب اپنی زندگیوں کے بارے میں خود لکھ رہی ہوں تو ان افراد کو خاموشی سے سیکھنا چاہیے لیکن جو لوگ تمام زندگی خود کو عقل کل سمجھتے رہے ہوں، ان کے لیے ایسا کرنا ذرا مشکل ہے۔ بوڑھے پروفیسر بدلتے نہیں ہیں، بوڑھے پروفیسر مر جاتے ہیں۔ امید ہے کہ نئی نسل وقت کے ساتھ بدلے گی۔
کراچی کے ہسپتالوں کے ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں کی جانے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہاں آنے والی 80 فیصد خواتین گھریلو تشدد کا شکار تھیں۔ ایک پاکستانی ڈاکٹر صاحب یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ ”ڈومیسٹک وائلینس (Domestic violence) امریکہ ہی میں ہوتا ہے، ہم نے تو اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔“ میں نے اپنی ایک سائیکالوجسٹ دوست سے پوچھا کہ یہ ڈاکٹر ہوتے ہوئے بھی اتنی ضروری بات کیوں نہیں جانتے؟ اور یہ اپنی مریضاؤں کا علاج کس طرح کریں گے؟
اس نے جواب دیا کہ یہ ان افراد کے نزدیک ایک نارمل بات ہے کہ ان کے گھروں میں ڈانٹ پھٹکار، لعنت ملامت، چیخ پکار یا مار پیٹ چل رہی ہو۔ اس کو وہ لوگ گھریلو تشدد یا طاقت کا بے جا استعمال نہیں بلکہ خواتین اور بچوں کی تربیت سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی ایک گائنا کالوجسٹ ہیں اور وہ یہ ڈرامے اپنی آنکھوں کے سامنے روز دیکھتی ہیں۔ ان میں سے کئی انکلز کی بیگمات نے جب بے حسی کی دوا کے بغیر ان کے بچے پیدا کیے تو یہ بے خبر سو رہے تھے۔ ازدواجی زندگی صرف اچھے وقت میں ساتھ ہونے کا نام نہیں ہے۔ ڈاکٹر طاہرہ نے اپنے مضامین سے یہی بات لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ دوسرے انسانوں کی تکلیف کا کچھ احساس کریں۔
معترض صاحب کے مطابق ”برتھ کنٹرول کو اب شہر میں سب نے ہی نظریۂ ضرورت کے طور پر قبول کر لیا ہے اور بارہ چودہ بچے کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ شہروں سے متصل گاؤں بھی اب مکمل جہالت کے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے نہیں، برتھ کنٹرول کا سب سے آسان اور کم خرچ طریقہ کنڈوم ہی ہے جو ہر کیمسٹ کی شاپ سے دستیاب ہے۔ خواتین جو بریزیئر اور سینٹری نیپکن مانگنا بھی بے حیائی سمجھتی ہیں کسی کیمسٹ سے ایسی چیزیں کہاں مانگتی ہیں۔ لیکن ان کو تمام مانع حمل طریقوں کا علم ضرور ہوتا ہے۔ صرف انہیں کیا شہر میں تمام کالج یونیورسٹی طالبات اپنا مکمل دفاعی نظام اپنے بیگ میں رکھتی ہیں۔ کمیونیکیشن کوئی مسئلہ نہیں ہے، نرسیں پیرا میڈیکس ڈاکٹر اور میڈیکل ریپ سب کو سب بتا دیتے ہیں اور فراہم کرتے ہیں۔ دیہات میں مانع حمل طریقوں کے خلاف مذہبی فضا موجود ہے لیکن عام لوگ خاموشی اور رازداری سے اپنا کام کر جاتے ہیں، نس بندی کا آخری آپشن بہت ہی کم لوگ اختیار کرتے ہیں لیکن اس میں وہ عورت زیادہ شریک ہونا چاہتی ہے جسے بار بار حمل کا مسئلہ پریشان اور بیمار کرتا ہے، ان کے لئے کسی وضع حمل کے وقت یہ کام کرانا آسان ہوتا ہے۔“
حقائق یہ ہیں۔
Pakistan has one of the highest fertility rates in Asia, and the lowest rates of contraceptive use, resulting in poor reproductive health indicators for women and high neonatal mortality (Aga Khan University 2012 ) . In 2002, the country ’s abortion rate was estimated at 27 per 1,000, while the rate of post. abortion complications. resulting largely from induced abortions. stood at 9 per 1,000 ; by 2012, the abortion rate almost doubled to 50 per 1,000 and the rate of post. abortion complications rose to 15 per 1,000 (Sathar et. al 2014 ) .
پچاس ساٹھ سال کے زیادہ تر افراد نے پاکستان کی تاریخ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھی ہے کہ کس طرح اس ملک میں اسلامائزیشن ہوئی اور کس طرح قدامت پسندی، مذہبی انتہاپسندی اور تنگ نظری میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ تعلیم کی شرح میں بہتری کے بجائے ابتری دیکھی گئی۔ ملک میں ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں ٹی وی پر برتھ کنٹرول کے اشتہارات آتے تھے اور بچے دو ہی اچھے کا پیغام عوام کو بتاتے تھے، وہ اب غائب ہو چکے ہیں۔ 1947 میں ملک کی آبادی 30 ملین تھی جو اب 220 ملین سے تجاوز کرچکی ہے۔
پاکستان دنیا بھر میں سب سے تیز رفتاری سے آبادی بڑھا رہا ہے۔ اس ملک کے اندر پیدائش کے دوران ماؤں کے مرنے کی شرح اور بچوں میں مرنے کی شرح دیگر ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔ ملک میں تیس فیصد شادیاں کم عمری میں ہو رہی ہیں۔ اس ملک کے اندر آج بھی قبائلی نظام چل رہے ہیں جہاں خواتین کو شادی میں بیچا جاتا ہے۔ ان کم عمر بچیوں میں سے کتنی ہیں جو برتھ کنٹرول کے بارے میں کچھ جانتی ہیں؟ بچے ہی بچے پیدا کر رہے ہیں۔ یہ ایک نہایت عجیب بات ہے کہ اعتراض کرنے والے انکل یہ بھی جانتے ہیں کہ کالج اور یونیورسٹی کی طالبات کے بیگوں میں کیا ہے؟
یہ بہت ذاتی بات ہے۔ بغیر تحقیق کے یہ بتانا کہ خواتین میں برتھ کنٹرول سے متعلق کتنی معلومات موجود ہیں، مین اسپلیننگ (Mansplaining) کی ایک عمدہ مثال ہے۔
حال ہی میں ایک تصویر انٹرنیٹ پر گردش کر رہی تھی جس میں ایک طالبہ اسقاط حمل کے دوران موت کے منہ میں پہنچ گئی۔ ایسے بہت ساری خواتین مرتی رہی ہیں جو سوشل میڈیا سے پہلے گمنامی میں خاموشی سے گزر گئیں۔ میری نانی سے پہلے نانا کی پہلی بیوی پہلے بچے کی پیدائش کے دوران مر گئی تھیں اور میری نانی چھاتی کے کینسر سے مر گئی تھیں جبکہ نانا اسی سال کی عمر میں تین شادیاں اور دس بچے پیدا کرنے کے بعد فوت ہوئے۔ اپنے خاندان اور پچھلے ملک کی تاریخ دیکھ کر یہی سمجھ آتا ہے کہ ہمیں خود اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے لیڈر بننا ہو گا۔ ڈاکٹر طاہرہ کاظمی اور دیگر خواتین، خواتین کے مسائل کے بارے میں معلومات بڑھا کر ایک اہم خدمت انجام دے رہی ہیں جس کے لیے ہمیں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
