آدمی کائناتی ابتری کی روح ہے: زاہد ڈارکی یاد میں


زاہد ڈار جدید شاعر ہیں اور کئی باتوں میں اردو کی نئی شاعری کی تحریک میں سر بر آوردہ ہیں مگر انھوں نے اسی تحریک سے وابستہ دیگر شعراء کے برعکس سادہ، عام روزمرہ اسلوب اختیار کیا۔ آرائش اور ابہام دونوں سے گریز کیا۔ حالاں کہ جو کچھ لکھا ہے وہ سادہ نہیں ہے۔

وہ دوسرے سوالوں کو خواہ خاطر میں نہ لاتے ہوں مگر ”شاعری کا ایک اہم مسئلہ زبان ہے“ ، اس سوال کو وہ نظر انداز نہیں کر سکے۔ یہ سوال نئی شاعری کے نقادوں جیسے افتخار جالب، جیلانی کامران اور دیگر کو بھی درپیش تھا اور وہ سب ایک ایسی نئی زبان کی جستجو کر رہے تھے جو پرانے تلازمات اور پرانی نحوی ساختوں سے نجات دلائے۔ ان کے لیے یہ سوال بہ یک وقت شاعرانہ اور نیم فلسفیانہ تھا، جب کہ زاہد ڈار کے لیے حیرت انگیز طور پر یہ سوال اخلاقی تھا۔

نظم ”زبان کا مسئلہ“ اگرچہ ان کی ڈائری میں شامل تھی مگر اس میں وہ سب انسانوں سے مخاطب ہیں، اور پوچھ رہے ہیں کہ وہ کن شبدوں میں کیسے وہ بات کریں جس سے دنیا میں نفرت مٹ جائے اور روح کو اطمینان ہو۔ یہ اطمینان سب کو چاہیے، کیوں کہ سب اول و آخر منش یا آدم ہی ہیں اور جب وہ لڑائی سے تھک جاتے ہیں تو ان کے اندر ایک بے چینی پیدا ہوتی ہے۔

پیارے لوگو! تم اپنے کو
بدھ کا بھکشو، گورو کا چیلا، یا اللہ کا عاشق جانو
سب سے پہلے، سب سے آخر تو تم منش ہی ہو

زاہد ڈار نے میرا جی اور منٹو کی مانند اپنی رسمی تعلیم کی قیمت پر ادب سے تعلق قائم کیا۔ تاہم اس فرق کے ساتھ کہ منٹو اور میرا جی نے مسلسل پڑھا بھی اور مسلسل لکھا بھی اور دونوں کا ادبی کام، ان کی طبیعی عمر کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔ جب کہ زاہد ڈار نے لکھا بہت کم اور پڑھا بہت زیادہ اور عمر منٹو سے دگنی پائی۔ زاہد ڈارسے کچھ مماثلت بلراج مین را کی بھی ہے۔ مین را نے زیادہ نہیں لکھا (صرف 37 کہانیاں لکھیں جو سرورالہدیٰ کے مرتب کردہ ”سرخ وسیاہ“ میں شامل ہیں) اور پھر اچانک لکھنا ترک کر دیا مگر مطالعہ مسلسل کرتے رہے۔

مین را نے دستاویز کے نام کا ایک اہم رسالہ جاری بھی کیا تھا اور خانگی زندگی بھی بسر کی۔ زاہد ڈار نے کتب بینی کے سوا، سب کچھ ترک کیا۔ انھوں نے ایک مکمل برہم چاری کی زندگی بسر کی۔ ہندوؤں کے یہاں زندگی کے چار مراحل ہیں : برہم چاری، گرہست، ون پرستھ اور سنیاس۔ زاہد ڈار استقامت کے ساتھ پہلے ہی مرحلے پر ٹھہرے رہے، اس فرق کے ساتھ کہ انھوں نے کتاب ہی کو اپنا استاد اور ملجا و ماویٰ سمجھا۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ وہ ادب کا مسلسل مطالعہ کرنے کے باوجود، ادبی سماج اور اس کی اچھائیوں اور قباحتوں دونوں سے فاصلے پر رہے۔

انھیں نہ سماجی مرتبے سے کوئی غرض تھی نہ اپنے شاعرانہ مرتبے سے، اور نہ ادبی مناقشوں سے کوئی تعلق تھا۔ وہ زاہد خشک نہیں تھے (اگرچہ ایک نظم میں لکھا ہے کہ ”زاہد خشک ہوں، دنیا میں نہ پوچھو مجھ سے“ ۔ اصل یہ ہے کہ عورت ان کی دل چسپی کا مرکز ہمیشہ رہی، مگر حقیقی سے زیادہ تصوراتی سطح پر) مگر ان میں تارک الدنیا شخص کی کئی باتیں تھیں۔ (میں نے ایک مرتبہ لمز کے کچھ طلبا کو ان کے پاس بھیجا۔ میں انھیں جدید نظم کا ایک کورس پڑھارہا تھا۔ طلبا کے ایک گروپ کو سیمسٹر کے فائنل ریسرچ پیپر کے طور پر زاہد ڈار کی شخصیت اور شاعری پر ایک مختصر دستاویزی فلم کا موضوع دیا۔ وہ غریب تھک ہار گئے۔ زاہد ڈار نہیں مانے۔ پھر انہیں محمد سلیم الرحمٰن کی شخصیت اور شاعری کا موضوع دیا) ۔

ایسا تارک الدنیا شخص جو صرف ایک چیز کی خاطر باقی سب کچھ چھوڑ دیتا ہے اور یہ چیز کتاب تھی۔ صرف ملازمت ہی نہیں، شاعری کو بھی اس لیے ترک کیا کہ زیادہ پڑھ سکیں۔ ملازمت ترک کرنا سمجھ میں آتا ہے، تجرد کی زندگی کا انتخاب بھی سمجھ میں آتا ہے مگر شاعری ترک کرنا ذہن کو چکرا دینے والا سوال ہے، اس صورت میں کہ وہ کوئی معمولی شاعر نہیں تھے۔

وہ اپنے پیچھے یہ سوال بھی چھوڑ گئے ہیں کہ آخر پوری عمر کتابیں پڑھنے کا محرک اور مطلب کیا تھا؟ کتاب پڑھنے سے ایسے عشق کی مثال صرف نفس کشی کرنے والے مرتاضیوں کے یہاں ملتی ہے۔ کیا وہ کتاب بینی سے محض مسرت و بصیرت اخذ کرنے کی کوئی لازوال پیاس بجھاتے تھے یا مرتاضیوں کی مانند اپنے اندر کے کسی عفریت کو قابو میں لاتے تھے یا اندر کے کسی زخم کا اندمال کرتے تھے یا وہ ایک نشہ تھا؟ سب ادیب کتابیں پڑھتے ہیں، کم یا زیادہ مگر کتاب کی خاطر سب کچھ تج دینے کی کوئی دوسری مثال ہمارے پاس موجود نہیں۔ وہ یقیناً ہر کتاب نہیں پڑھتے تھے مگر ادب (اردو ہی نہیں دنیا بھر کے ادب) کی ہر اہم کتاب ضرور پڑھتے تھے۔

انھوں نے شاعری کم لکھی مگر وہ ہماری گہری توجہ کی مستحق ہے۔

زاہد ڈار سرد جنگ کے زمانے کے، شہر کے باسی جدید انسان کے ایک بڑے مخمصے کی تجسیم تھے۔ جدید انسان (مغرب کا بالخصوص ) زندگی و سماج و کائنات کے بڑے سوالوں کے جواب کے سلسلے میں مذہب و مابعد الطبیعیات کو ترک کر چکا تھا۔ جنھیں کسی زمانے میں عظیم اسرار سمجھا جاتا تھا اور جنھیں دیوتا خیال کیا جاتا تھا، وہ سب عام روزمرہ کی دنیا تھی، جسے انتہائی زرخیز تخیل کے حامل شعرا نے عظیم بھید کا حامل بنا دیا تھا۔ سرد جنگ کے زمانے کا جدید انسان زمین پر انسانیت کے سفر کا علم اور اس سفرکے ممکنہ انجام سے واقف تھا۔اس کی یہ ساری واقفیت انسانی علم کی مرہون منت تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ حد سے زیادہ جانتا تھا، اتنا جاننا اسے پاگل پن کا شکار کیے ہوئے تھا۔

پہلے زمانوں میں (خود اپنی حالت کی ) جہالت پاگل پن کا باعث تھی اب زیادہ علم۔ خصوصاً انسانی تاریخ، وقت اورانسان کی نفسی دنیا (جو دیوتاؤں کے رخصت ہو جانے کے بعد تاریکی سے اٹ گئی تھی) کے بارے میں علم جدید انسان کے پاس وافر ہو گیا۔ زاہد ڈار انسانی تاریخ کو اس کے بعید ترین زمانوں تک دیکھتے ہیں۔ امریکی شاعر سینڈبرگ سے ماخوذ ایک نظم ”سنو!“ میں ماضی کو دھواں کہتے ہیں جو اڑ گیا، اور دنیا کے لیے سمندر کی تمثال لاتے ہیں ”جہاں ایام کی لہریں / ابھرتی، پھیلتی ہیں، ٹوٹتی ہیں، ڈوب جاتی ہیں /سدا لہریں ابھرتی ہیں“ ۔

ایک نظم میں یہ خیال پیش کرتے ہیں کہ زمین ٹوٹ کر گرے گی، آدمی شہر مر جائیں گے، تاریخ، ثقافت اور فنون کی جو کہانی انسان نے ہزاروں سال پہلے لکھنی شروع کی تھی، انسان کے خاتمے کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ یہ تو مستقبل کا علم ہے۔ حال کے بارے میں دیکھیے، کس آگہی کے حامل ہیں:

گہرے شہروں میں رہنے سے عظمت کا احساس مٹا
لمبے حملوں پر جانے کا، قدرت سے ٹکرانے کا ارمان مٹا
اب آرام ہے شہروں میں۔ انسان مٹا
(نئے شہر)

اس علم نے جدید انسان (خود زاہد ڈار کو بھی ) مایوسی، تنہائی اور بیگانگی کا شکار کیا، جسے بغیر خدا کی وجودیت نے خصوصاً اہمیت دی۔ ویسے تو جدید انسان کی زندگی میں سے ہر قسم کا عظمت کا خاتمہ ہو چکا تھا یا وہ عظمت کے خاتمے میں یقین کرنے لگا تھا، تاہم اگر کوئی عظیم کشف اس کی ہستی میں موجود تھا تو وہ یہ تھا کہ وہ اکیلا ہے، اداس ہے، معمولی آدمی ہے اور بیمار ہے۔ یعنی وہ اپنی اصلی و حقیقی حالت کا علم رکھتا ہے اور اسے تسلیم کرنے کی اخلاقی جرأت بھی۔

دستوفسکی نے جدید انسان کی اس حالت کو ”نوٹس فرام انڈر گراؤنڈ“ میں پیش کیا تھا جس کا آغاز ہی اس جملے سے ہوتا ہے کہ میں بیمار آدمی ہوں اور یہی امیج زاہد ڈار کو بھی عزیز تھا۔ نظم ”بیمار لڑکا“ کی پہلی دو لائنیں ہیں : ”رحم مادر سے نکلنا مرا بے سود ہوا/آج بھی قید میں ہوں“ ۔ ایک قید رحم مادر میں تھی یا اس سے کہیں پہلے تھی، دوسری قید یہ دنیا ہے اور یہاں ہونا ہے۔ ”بیمار آدمی“ ایک گہری آئرنی کی حامل ترکیب ہے۔

فطرت، سماج اور تہذیب کا علم رکھنے کے بعد ان سے ہم آہنگ نہ ہونے کے سبب وہ بیمار ہے اور یہ جانتا ہے کہ وہ بیمار ہے۔ کوئی اپنی اصل حالت اور اس کے اسباب جاننے والا بھی بیمار ہو سکتا ہے؟ اصل یہ ہے کہ وہ خود کو بیمار کہہ کر جدید دنیا کے تہذیبی سفر پر سوال اٹھاتا ہے۔ وہ خود کو لکھتے ہوئے، دنیا کو لکھتا ہے۔ وہ دنیا جو کبھی مہذب ہو گی اور اس میں بڑے بڑے لوگ ہوں مگر اب محض جنون اور پاگل پن ہے۔

سچ پوچھو تو میں کوئی انسان نہیں
دنیا کی تہذیب و ترقی پر میرا ایمان نہیں
(ایک معمولی آدمی)
دکھ کے پھول، بدی کے شعلے، سکھ کی گھاس
سب بکواس
لرمنتوف اور دوستوفسکی، بودلیئر اور استاں دال
ایک سے ایک وبال
گوتم بدھ اور افلاطون
محض جنون
(واپسی)

بجا کہ اپنی اس حیثیت کو قبول کرنے ہی میں جدید انسان کی اخلاقی فتح تھی مگر اس کے ساتھ نباہ آسان نہیں تھا۔ وہ کئی مخمصوں میں گھرا تھا۔ ذہنی و جذباتی طور پر سادہ زندگی بسر کرنے کا زمانہ لد چکا تھا۔ ایسے میں جدید انسان کے سامنے ایک راستہ خودکشی کا تھا جو ہر طرح کی تنہائی، بے معنویت، بے زاری کا خاتمہ کرتا تھا۔ یہ اتفاق نہیں کہ جدید عہد (انیسویں اور بیسویں صدی خصوصاً) ہی میں ادیبوں نے سب سے زیادہ خود کشیاں کیں اورخود کشی کے بارے میں سب سے زیادہ سوچا اور فکشن میں کرداروں سے خود کشیاں کروائیں۔

خود زاہد ڈار خود کشی کے بارے میں مسلسل سوچتے تھے۔ ان کی نظموں میں موت کا ذکر جا بجا ہے۔ اپنی نظم ”فقط موت مجھے بھاتی ہے“ میں روح کی پیاس کا ذکر ایک بے انت صحرا کے مقابل کیا ہے، جس میں ہوا، وقت کے ہاتھوں میں تلوار کی مانند رواں ہے۔ یہ صحرا کہیں اور نہیں خود ان کے اندر اور جدید تہذیب کے باطن میں تھا۔ اردو شعرا میں شکیب جلالی، آنس معین، مصطفیٰ زیدی، ثروت حسین، سارہ شگفتہ نے خود کشی کی اور ساقی فاروقی نے کئی بار خود کشی کی کوششیں کیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3