مستنصر حسین تارڑ کا سفرنامہ حج: منہ ول کعبے شریف


انسان تھوڑا سا سو کر بھی ہشاش بشاش ہو جاتا ہے۔ حج کے دنوں میں سعودی حکومت کی جانب سے لاکھوں کی تعداد میں حاجیوں کو سنبھالنے کے لئے انتظامات کی داد دینی پڑتی ہے۔ مگر منیٰ میں غسل خانوں کی کمی مصنف کو شدت سے محسوس ہوئی۔ ایک دن منیٰ میں گزارنے کے بعد وہ عرفات کا رخ کرتے ہیں۔ مصنف کو ہر جگہ پر لوگوں کے چہرے پڑھنے کا شوق تھا۔ وہ لکھتے ہیں، صحرا کی وسعت میں ہزاروں قافلے ریت کے ذروں کی دمکتی چادر میں سفید پیراہن لہراتے سوئے عرفات جا رہے تھے۔

عرفات میں 9 ذوالحج کو دعائیں قبول ہوتی ہیں کیونکہ اللہ اپنے گھر کو ترک کر کے وہاں موجود ہوتا ہے، کھلی کچہری لگتی ہے، چہرہ بہ چہرہ، رو بہ رو، جو مانگنا ہو براہ راست مانگ لو، سب کی دعاؤں کی عرضیوں پر ”قبول ہے“ کی مہر لگا کر دستخط کر دیتا ہے۔ شنید ہے کہ قیامت اسی میدان میں برپا ہو گی۔ لوگ اپنے رب کی سلطنت میں دعائیں مانگتے ہوئے داخل ہو رہے ہیں۔ ”اے اللہ میں آپ ہی کی طرف متوجہ ہوا ہوں، اور آپ ہی پر بھروسا کرتا ہوں اور آپ ہی کو راضی کرنے کا ارادہ کیا ہے۔

آپ میرے گناہوں کو معاف فرمائیں۔ میرا حج مبرور بنائیں اور مجھ پر رحم فرمائیں اور عرفات میں میری حاجت پوری فرمائیں۔ اے اللہ میرا اس حج کے لئے چلنا اپنی رضا مندی حاصل کرنے کے قریب تر کر دیجیے اور اپنی ناراضگی دور کرنے کا بڑا ذریعہ بنا دیجیے۔ اے اللہ میں آپ ہی کی طرف چلا اور آپ پر ہی میں نے اعتماد کیا۔ اور آپ کی رضا مندی کا میں نے ارادہ کیا۔ پس آپ مجھے ان لوگوں میں سے کر دیجیے جن کے ذریعے آپ فخر فرمائیں گے ان لوگوں کے سامنے جو مجھ سے بہتر اور افضل ہیں۔

اے اللہ میں آپ سے معافی اور عافیت دوامی کا اس دنیا اور آخرت میں سوال کرتا ہوں۔ اور درود نازل ہو اللہ کا اس کی سب سے بہتر مخلوق حضرت محمدﷺ اور ان کی آل اور اصحاب ؓ پر۔ ”

”لبیک اللھم لبیک“ کی صدائیں عرفات سے اٹھ کر آسمانوں تک جاتی تھیں اور ان کی گونج سے بدن کانپ جاتے تھے۔ بدن کا رواں رواں پکارتا تھا، میں حاضر ہوں، میرے اللہ میں حاضر ہوں۔ اسی میدان میں اللہ کے آخری نبیﷺ نے آخری خطبہ دیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا:

”اے لوگو! میری بات غور سے سنو، اگلے برس اور اس کے بعد پھر کبھی۔ شاید میری تمہاری ملاقات نہ ہو سکے۔ کیا میں نے تم تک اپنا پیغام پہنچا دیا؟“ جو حاضر تھے انہوں نے کہا، ”ہاں آپ ﷺ نے پہنچا دیا“ ۔

آپ ﷺ نے فرمایا، ”اے اللہ گواہ رہنا“ ۔ آپ ﷺ نے تین مرتبہ دہرایا۔ ”میں پڑوسی کے بارے میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں۔ اے لوگو سنو۔ جو حاضر ہے میری بات غیر حاضر تک پہنچا دے۔ بہت سے غیر حاضر۔ سننے والوں سے بہتر یادداشت رکھتے ہیں۔ مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں سوائے اس کے کہ مجھ پر وحی اترتی ہے“ ۔

اسی میدان میں جبل رحمت کا نظارہ، ہوا میں پھڑپھڑاتے سفید احراموں سے ڈھکی یہ پہاڑی کسی برف پوش پہاڑی کا منظر پیش کر رہی تھی۔ عرفات میں صرف وقوف تھا، یہاں شب بسری نہیں ہوتی۔ غروب آفتاب سے پہلے ہمیں خیموں کا یہ شہر چھوڑ دینا تھا اور منیٰ کے راستے میں مزدلفہ میں رات گزارنی تھی، خیموں میں نہیں، کھلے آسمان تلے، جس کو جہاں جگہ ملے۔ عرفات سے لوگ حاجی بن کر نکلتے ہیں۔ میدان عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں ملا کر اکٹھی ادا کی جاتی ہیں۔

پھر مغرب تک قبلہ رو کھڑے ہو کر دعائیں مانگی جاتی ہیں، اسی کو وقوف کہتے ہیں، کھڑے ہونے کی سکت نہ رہے تو بیٹھ بھی سکتے ہیں۔ حضورﷺ نے بھی یہاں قبلہ رو کھڑے ہو کر وقوف کیا تھا۔ آپ ﷺ کے ہاتھ سینے تک اٹھے ہوئے تھے، اور آپ ﷺ اللہ سے ایک مسکین ”مانگنے والے“ کی طرح دعا کر رہے تھے۔ آج بھی ہر کوئی ہاتھ پھیلائے اپنے رب سے دعائیں مانگ رہا تھا، اس کی رحمت اور بخشش کا طلبگار تھا۔ فاضل مصنف اپنی کیفیت کو بیان کرتے ہیں کہ، ”میرا وجود پگھلنے لگا، میں جو پتھر کا بت تھا، پتھریلی چٹانوں میں سے جیسے جھرنے بہنے لگے، آنکھوں سے بے سبب آنسو بہنے لگے۔

یہ آنسو بس تھینک یو ویری مچ کے گیلے سندیسے تھے۔ اس کے ساتھ ہی جیسے میری پتھر کی زبان میں بھی جان پڑ گئی اور میں اللہ سے چپکے چپکے باتیں کرنے لگ گیا۔ میں نے اس سفر کے دوران کہیں بھی، حتیٰ کہ خانہ کعبہ میں طواف کے دوران اور اس کے بعد بھی زندگی بھر کبھی اللہ کی موجودگی کو اس طرح آمنے سامنے، رو برو محسوس نہیں کیا، جیسے میدان عرفات میں محسوس کیا تھا ”۔ میدان عرفات میں وہ دعاؤں کی قبولیت کی گھڑیاں ایسی تھیں کہ جدھر بھی نگاہ اٹھتی تھی، ہر کوئی اپنے اللہ سے ہمکلام تھا، ایک دوسرے سے بے نیاز، اپنے خالق، اپنے محبوب حقیقی سے مانگنے، سوال کرنے اور رو رو کر اسے راضی کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۔

پھر جونہی سورج عرفات پر غروب ہونے لگتا ہے تو لاکھوں کا یہ مجمع دیوانہ وار وہاں سے نکلنا شروع ہو جاتا تھا، ایک نیا طوفان شروع ہو جاتا ہے، یہی منشا تھی، یہی حکم تھا۔ اللہ کے رسول ﷺنے بھی سورج غروب ہونے کا انتظار کیا تھا، جب سورج کی زردی ختم ہوئی تو آپ ﷺ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے، اسامہ بن زیدؓ کو اپنے پیچھے بٹھایا اور مزدلفہ روانہ ہوئے۔ کچھ لوگوں نے اپنی سواریاں دوڑا دیں، آپ ﷺ نے منادی کرا دی کہ آہستہ چلیں، تیز روی ٹھیک نہیں ہے اور آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی کی نکیل کو خوب کھینچ رکھا تھا تاکہ وہ تیز نہ چلے۔

عرفات کے بعد حاجیوں کی اگلی منزل مزدلفہ تھی۔ جہاں رات گزارنی تھی، کھلے آسمان تلے، جہاں جگہ مل جائے۔ اور اگلے دن منٰی میں شیطانوں کو جو کنکریاں مارنی تھیں، وہ بھی یہاں سے اکٹھی کرنی تھیں۔ کل 70 کنکریاں ہر فرد جمع کرتا ہے، 7 کنکریاں 10 ذوالحج کو بڑے شیطان کو ماری جاتی ہیں، 21 کنکریاں 11 ذو الحج کو ( سات سات تینوں شیطانوں کو) ، 21 کنکریاں 12 ذوالحج کو اور 21 کنکریاں 13 ذوالحج کو ماری جاتی ہیں۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو دعائیں عرفات میں قبول ہونے سے رہ جاتی ہیں وہ یہاں قبول ہو جاتی ہیں اس لئے دعائیں مانگنے کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5