مستنصر حسین تارڑ کا سفرنامہ حج: منہ ول کعبے شریف
آپ ﷺ کی چار بیٹیاں تھیں، سب سے بڑی ”رقیہ“ اس کے بعد ”زینؓب“ ، پھر ”کلثومؓ“ اور سب سے چھوٹی ”فاطمؓہ“ تھیں۔ جب آپ باب السلام سے داخل ہو کر روضۂ رسولﷺ تک آتے ہیں تو سنہری جالی آپ کے بائیں جانب نظر آتی ہے۔ اس میں تین سوراخ ہیں۔ پہلا سوراخ جو نسبتاً بڑا ہے رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کی نشاندہی کرتا ہے، اس کے بعد دو چھوٹے سوراخ، حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کی قبروں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مدینہ میں قیام کے دوران مصنف مختلف مقامات کی زیارتیں کرتے ہیں، سب سے پہلے مسجد نبوی ﷺ کے پہلو میں واقع ”جنت البقیع“ ۔ دنیا کا سب سے خوش قسمت قبرستان جس کی مٹی میں کیا کیا صورتیں پنہاں ہیں، جنہیں لالہ و گل میں نمایاں ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ لالہ و گل ان میں نمایاں ہوتے ہیں۔ گو کہ یہ قبرستان ہے مگر اس میں قبریں نظر نہیں آتیں، صرف پتھر پڑے ہیں جو قبروں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہاں عورتوں کا داخلہ یکسر منع ہے۔
سید الشہداء حضرت حمزہؓ آرام فرما رہے ہیں۔ مصنف تاریخی حوالوں کی مدد سے ہمارے سامنے جنگ احد کا نقشہ کھینچ دیتے ہیں۔ مخلص مومنین کی تعداد جنگ احد میں سات سو سے زیادہ نہ تھی، مگر وہ مضبوط ایمان والے تھے۔ اس موقعے پر آپ ﷺ نے فرمایا، ”کسی نبی کے شایان شان نہیں کہ وہ زرہ پہن لینے کے بعد دشمن سے لڑے بغیر زرہ اتار دے“ ۔ آپ ﷺ نے لشکر کا جھنڈا مصعب بن عمیرؓ کو عطا کیا اور ابو دجانہؓ کو اپنی تلوار عطا کی اور انہوں نے اس تلوار کا حق ادا کر دیا۔
رسول اللہ نے حضرت حمزہؓ کو ان کی شہادت کے بعد اپنی چادر میں لپیٹا اور بہتر ( 72 ) نماز جنازہ پڑھی گئیں۔ مصنف نے مسجد قبا، مسجد قبلتین اور بئر عثمانؓ کی بھی زیارت کی۔ دنیا کی پہلی مسجد جو رسول اللہ نے اپنے ہاتھوں سے تعمیر کی، جس میں دو نفل پڑھنے کا ثواب ایک عمرے کے برابر ہے۔ مدینہ سے تقریباً 6 میل باہر قبا ایک بستی ہے، نبی اکرمﷺ جب ہجرت کر کے مکہ سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہمراہ مدینہ تشریف لائے تو سب سے پہلے یہیں چار دن قیام کیا اور مسجد قبا کی بنیاد رکھی۔
آپ ﷺ کی عمر مبارک 53 سال تھی۔ نبی کریم ﷺ کا پہلا جمعہ سالم بن عوف کے محلے میں وادیٔ رانونا کے مقام پر پڑھا گیا جہاں اب ایک مسجد بن چکی ہے۔ مصنف مسجد قبلتین بھی گئے، دو قبلوں والی مسجد، اس مسجد کے اندر داخل ہو کر پیچھے مڑ کر دروازے کے اوپر دیکھیں تو ایک مصلٰی بنا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ جب قبلے کا رخ تبدیل کرنے کا حکم آیا، جس میں رسول اللہﷺ کی خواہش اور بے چینی بھی شامل تھی، اس وقت آپ ﷺ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے۔
اللہ کا حکم آ جانے پر آپ ﷺ نے اور ان کے پیچھے تمام نمازیوں نے بھی نماز کے دوران ہی اپنا منہ خانہ کعبہ کی طرف پھیر دیا۔ بئر عثمان وہ کنواں جو حضرت عثمانؓ نے یہودیوں سے خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا تھا، اور فرمایا کہ میں نے اللہ سے بہترین سودا طے کیا ہے۔ مصنف اس مقام پر بھی گئے جہاں جنگ خندق کے موقع پر حضرت سلمان فارسیؓ کے مشورے پر خندق کھودی گئی تھی۔ اس وقت مسلمانوں کی تعداد محض تین ہزار تھی اور مسلسل پچیس روز تک یہ محاصرہ جاری رہا تھا۔ آج کے زمانے میں وہاں نہ کوئی خندق موجود ہے اور نہ اس کے آثار نظر آتے ہیں۔
طواف وداع کرتے ہوئے مصنف نے اللہ کے حضور اپنی دعا پیش کی کہ، ”مجھے واپس بلانا“ ۔ یہ دعا تو اللہ کے گھر جانے والا ہر مسلمان واپسی پر کرتا ہے۔ دوبارہ جانے کی تڑپ ہر مسلمان کے دل میں جگہ بنا لیتی ہے۔ الغرض مصنف نے اپنے اس سفر نامے ”منہ ول کعبے شریف“ میں، جو کہ حج کا سفرنامہ ہے، نہایت سادہ انداز میں اور تفصیل کے ساتھ ہمیں جہاں مناسک حج کے متعلق بتایا ہے وہاں ساتھ ہی ساتھ ہمیں تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے کا موقع بھی فراہم کیا ہے۔
یہ ایک خوبصورت کاوش ہے۔ قاری اپنے آپ کو صدیوں پیچھے اس دور میں کھڑا ہوا محسوس کرتا ہے، اور قدم بہ قدم مصنف کے ساتھ سفر بھی کرتا ہے۔ جزاک اللہ خیر


