مستنصر حسین تارڑ کا سفرنامہ حج: منہ ول کعبے شریف


فاضل مصنف عرفات اور مزدلفہ کے مقامات کا موازنہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عرفات، علم و آگہی اور سائنس کی منزل ہے جو کہ سورج اور دنیاوی حقیقتوں کے درمیان ایک خارجی رشتے کی حیثیت رکھتی ہے۔ چنانچہ اس کے لئے ایک شفاف اور روشن نظر درکار ہے۔ جو صرف دن کے وقت جب ہر شے واضح اور نمایاں ہو جاتی ہے، تبھی ممکن ہے۔ جبکہ مزدلفہ شعور کی ایک ایسی منزل ہے جہاں سوچ کے درمیان ایک خارجی کی بجائے داخلی رشتہ ہے، چنانچہ اپنے آپ میں گم ہو کر سوچنے اور سمجھنے کے لئے جو طاقت درکار ہے وہ صرف رات کی خاموشی میں ہی ذہن میں اترتی ہے۔

یہاں کوئی کسی سے افضل نہیں، سب برابر ہیں۔ اس سے پیشتر آپ طواف کے بہتے سیلاب میں ایک بوند تھے، عرفات کے سمندر میں ایک قطرے کی مانند تھے، اجتماع کا حصہ تھے۔ مگر مزدلفہ میں آپ تنہا ہو کر اپنے آپ کو پہچان رہے ہوتے ہیں۔ اس رات میں اول شب آرام کرنے اور آخر شب میں عبادت کرنے کی تاکید ہے۔ لوگ آنسو بہاتے ہوئے اپنے رب سے ہمکلام تھے، جو باتیں کرنی رہ گئی تھیں وہ گوش گزار کر رہے تھے۔ حج کے دنوں میں آپ کے اندر ایک بہت حساس گھڑیال نصب ہو جاتا ہے جو ہر وقت ٹک ٹک کر کے از خود عبادات کے لئے آپ کو آگاہ کرتا رہتا ہے۔

فجر کے کی نماز کے بعد طلوع آفتاب کے ساتھ ہی لوگ منیٰ کی طرف کوچ کرنے لگے، شہر مزدلفہ ویران ہونے لگا اور منیٰ پھر سے آباد ہونے لگا۔ لوگ اپنی کنکریوں کی ایسے حفاظت کر رہے تھے جیسے وہ ان کے پاسپورٹ ہوں۔ منیٰ میں ہمارا مقابلہ شیطان سے ہونے والا تھا، جمرۂ اولیٰ، جمرۂ وسطیٰ، اور جمرۂ کبریٰ کو کنکریاں مارنی تھیں۔ لاکھوں کا ہجوم ایک ہیجان والی کیفیت کے ساتھ جمرات کی طرف بڑھ رہا تھا، پہلے دن صرف جمرۂ کبریٰ کو کنکریاں مارنی تھیں، یہ دعا بھی پڑھ رہے تھے، ”میں اللہ کا نام لے کر کنکری مارتا ہوں، اللہ سب سے بڑا ہے، میرا یہ عمل شیطان کو ذلیل کرنے اور رحمٰن کو راضی کرنے کے لئے ہے۔

” شیطان کو کنکریاں مارنے کا یہ عمل“ رمی ”کہلاتا ہے۔ اس سے فارغ ہو کر لوگ قربانی کرتے ہیں اور پھر سر منڈواتے ہیں۔ اس کے بعد حجاج اکرام اپنے احرام کھول دیتے ہیں، نہا دھو کر دوسرے لباس زیب تن کرتے ہیں اور عید الاضحیٰ مناتے ہیں۔ فاضل مصنف لکھتے ہیں کہ احراموں کی سفیدی نے ہم سب کو اپنا آپ بھلا کر یکجا کر دیا تھا مگر احرام اترنے کے بعد سب اپنی قومیتوں اور شناختوں میں واپس آ گئے تھے۔

اس کے بعد حجاج طواف زیارت کرنے مکہ آتے ہیں، خانہ کعبہ کا طواف اور سعی کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حطیم جو کہ خانہ کعبہ ہی کا حصہ ہوتا تھا، بی بی ہاجرہ کا گھر اسی مقام پر ہوتا تھا اور خانہ کعبہ کی جو دیوار حطیم کی جانب ہے اسی کے نیچے ان کی قبر مبارک ہے کیا شان ہے۔ کیا مقام ہے۔ وہ اللہ کی ہمسائی ہیں اور اللہ ان کا ہمسایہ ہے۔ سبحان اللہ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خانہ کعبہ کے صحن کے نیچے تو کئی انبیاء کی قبریں ہیں مگر خانہ کعبہ کے اندر یا اس کی دیواروں کے نیچے اماں ہاجرہ کے علاوہ کسی کی قبر نہیں ہے۔

وہ اماں ہاجرہ جن کا بھروسا اپنے اللہ پر اس قدر مضبوط تھا، جب انبیا کے باپ حضرت ابراہیم ؑ نے اللہ کے حکم پر ان کو اسمٰعیل کے ہمراہ لق و دق صحرا میں چھوڑا تھا تو بغیر واویلا کیے فرمایا تھا کہ ہمارا رب ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ طواف کے سات چکر پورے کرنے کے بعد مقام ابراہیم پر دو نفل پڑھنے ہوتے ہیں اور اس کے بعد آب زم زم سے اپنی پیاس بجھائی جاتی ہے۔ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا کہ اگر اماں ہاجرہ، زم زم (ٹھہر، ٹھہر) نہ کہتیں تو یہ پوری دنیا میں پھیل جاتا۔

صفا کی پہاڑی سے سعی کا آغاز کیا جاتا ہے تھوڑا سا آگے چل کر سبز لائیٹیں آتی ہیں وہاں سے مرد حضرات دوڑنے لگتے ہیں جبکہ عورتیں تیز تیز قدم اٹھاتی ہیں، اس مقام پر اماں ہاجرہ کی نظروں سے بیٹا اوجھل ہو جاتا تھا اور وہ بے چین ہو کر بھاگنے لگتی تھیں، اللہ نے ان کے اس عمل کی بھی پیروی کرنے کا حکم ہر مرد و زن کو دے دیا۔ صدیاں گزرنے کے بعد بھی یہ عمل دہرایا جاتا ہے۔ سبحان اللہ۔ فاضل مصنف کہتے ہیں کہ غور طلب بات یہ ہے کہ اس سعی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

اماں ہاجرہ جو ایک نبی کی بیوی تھیں اور ایک نبی کی ماں، اللہ کی واحد ہمسائی، انہوں نے محض دعاؤں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ پانی ڈھونڈنے کے لئے سعی (کوشش) کی۔ ان کا یہ عمل ساری دنیا کے انسانوں کے لئے دعوت عمل ہے۔ کہا جاتا ہے کہ طواف اگر سراسر روحانی بالیدگی کے لئے ہے تو سعی اس دنیا کے لئے ہے۔ جس سے انسان کو یہ سبق ملتا ہے کہ صرف اللہ پر سب کچھ چھوڑ کر، ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ نہیں جانا بلکہ بھر پور تگ و دو کر کے اس چشمے کو دریافت کرنا ہے جو آپ کی قوم، آپ کے بچوں کی پیاس کو بجھا دے۔ طواف مکمل عشق ہے اور سعی مکمل دانش ہے۔

12 ذوالحج کو شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے زیادہ تر لوگ مکہ واپس آ جاتے ہیں، اور جو کسی مجبوری یا اپنی مرضی سے رک جاتے ہیں وہ پھر 13 ذوالحج کو دوبارہ کنکریاں مارنے کے بعد وہاں سے نکلتے ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ بھی اپنے تھوڑے سے ساتھیوں کے ہمراہ وہاں 13 ذوالحج تک رکے تھے۔ مصنف انسانی فطرت کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حج کرنے کے دوران انسان میں بہت بڑی تبدیلی آ چکی ہوتی ہے، جب وہ واپس دنیاوی زندگی کی طرف لوٹتا ہے تو کئی دنوں تک اس میں ایڈجسٹ نہیں ہو پاتا، کنفیوز رہتا ہے، اور ذہنی طور پر حج والی جگہ پر ہی رہتا ہے۔

حج کے بعد مصنف اپنے بیٹوں کے ہمراہ زیارت کی غرض سے طائف کا سفر کرتے ہیں۔ انہیں نبیٔ مکرمﷺ کا سفر طائف یاد آتا ہے جو انہوں نے دعوت حق دینے کی غرض سے زید بن حارثؓ کے ساتھ کیا تھا۔ طائف والوں نے پتھر مار مار کر آپ ﷺ کو لہو لہان کر دیا تھا۔ مصنف انگوروں کے اس باغ میں بھی گئے جہاں حضورﷺ نے پناہ لی تھی، وہاں اب مسجد بنا دی گئی ہے، مسجد عداس، اس باغ کے چاروں طرف دیوار تھی، آپ ﷺ اس دیوار کا سہارا لے کر بیٹھ گئے، دیوار پر لٹکی انگور کی بیل اوپر سایہ کر رہی تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5