مستنصر حسین تارڑ کا سفرنامہ حج: منہ ول کعبے شریف


حضرت زیدؓ بھی زخمی تھے۔ یہیں آپ ﷺ نے دعائے طائف پڑھی تھی۔ وہ باغ ایک مکی قریشی سردار ربیعہ کے دو بیٹوں عتبہ اور شیبہ کا تھا۔ وہ دونوں اس وقت باغ میں ہی تھے، انہوں نے اپنے عیسائی ملازم عداس کو کہا کہ ایک طشتری میں انگوروں کا گچھا رکھو اور جا کر ان کو پیش کرو۔ عداس نے آپ ﷺ کو انگور پیش کیے اور پھر آپ ﷺ کا غلام ہو گیا۔ یہ مسجد اسی کے نام پر ہے۔ حضورﷺ نے وہاں بیٹھ کر بے بسی اور دلسوزی کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھ کر اپنے رب کو پکارا،

”اے رب! میں اپنی بے بسی، تدبیر کی ناکامی اور توہین کا شکوہ تجھ سے ہی کرتا ہوں، یا ارحم الراحمین۔ تو کمزوروں کا رب ہے۔ اور میرا بھی۔ اے پروردگار تو مجھے چھوڑ کر کسے سونپ رہا ہے۔ جو مجھے اور بھی کمزور بنا دے یا مجھے دشمن کے حوالے ہی کر دیا۔ یا اللہ تو اگر میری اس حالت میں مجھ سے خفا نہیں تو میں مطمئن ہوں“ ۔

حاضری دیتے ہوئے وہ ماضی کے مناظر تصور کی آنکھ سے خود بھی دیکھتے ہیں اور ہمیں بھی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب پہلی بار اللہ کے نبیﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو وہ اپنی اونٹنی قصوٰی پر سوار تھے، ہر کوئی چاہتا تھا کہ آپ ﷺ اس کے گھر میں مہمان بنیں۔ مگر آپ ﷺ نے فرمایا کہ، ”یہ فیصلہ کرنا میرے اللہ کے بس میں ہے کہ میں نے کہاں ٹھہرنا ہے، اور میری اونٹنی اللہ کے حکم کی پابند ہے، آپ اس کا رستہ چھوڑ دیں“ ۔

بنو مالک بن نجار کا محلہ آیا تو قصوٰی ادھر مڑ گئی اور ایک کھلے احاطے کا چکر لگا کر حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر کے پاس بیٹھ گئی۔ آپ ﷺ انہیں کے مہمان بنے۔ مسجد نبوی ﷺ کے اندر روضۂ رسول ﷺ سے متصل اصحاب صفہ کے چبوترے کے بارے میں بڑی عقیدت سے مصنف لکھتے ہیں۔ صفہ عربی میں چبوترے کو کہتے ہیں۔ مسجد نبوی ﷺ کی ایک قطار ایسے بے گھر لوگوں کے لئے مختص کر دی گئی تھی اور وہاں پتھر کا بینچ رکھ دیا گیا تھا، وہ لوگ اس پر بیٹھتے تھے۔

رسول اللہﷺ اور ان کا گھرانا ان کی ذمہ داری لیتے تھے، آپ ﷺ ان کو درس دیتے تھے، وہ لوگ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتے، انہیں بازار میں فروخت کر دیتے۔ وہ چبوترہ رفتہ رفتہ درس گاہ کی حیثیت اختیار کر گیا۔ مصنف لکھتے ہیں کہ اصحاب صفہ یوں تو سینکڑوں تھے مگر چیدہ چیدہ نام، حضرت عمرؓ کے فرزند، عبداللہ بن عمرؓ، حضرت بلال حبشیؓ، حضرت ابو ایوب انصاریؓ، حضرت ابوذر غفاریؓ، عبد اللہ بن مسعودؓ، عمار بن یاسرؓ، ابو عبیدہ بن جراحؓ، اور ابو ہریرہؓ وغیرہ ہیں۔

حضرت ابو ہریرہؓ بلیوں سے بہت پیار کرتے تھے، اس لئے حضورﷺ نے انہیں ”بلیوں کا باپ“ کا لقب دے دیا۔ حضرت ابوہریرہ تمام خلفائے راشدین سے زیادہ احادیث کے راوی تھے۔ کسی کے استفسار پر انہوں نے فرمایا کہ، ”صرف میں تھا جو چوبیس گھنٹے اس چبوترے پر بیٹھا رہتا تھا، مجھے کوئی کام نہ تھا سوائے اس کے کہ کب رسول اللہﷺ فجر کے وقت اپنے حجرے سے باہر تشریف لاتے، کب مسجد میں نماز پڑھتے، کب باتیں کرتے، کب درس دیتے، سوالوں کے جواب دیتے، واپس اپنے حجرے میں جاتے۔ تو صرف میں ہی تھا جو ان کے شب و روز کا حساب رکھنے والا راوی ہو سکتا ہوں۔

حضرت ابو ایوب انصاریؓ جو اس گھر کے مالک تھے جس میں حضورﷺ نے قیام کیا مگر ان کی حالت بھی ایسی تھی کہ ایک چادر تک خرید نہ سکتے تھے، وہ بھی اسی تھڑے پر بیٹھے رہتے تھے۔ رومی دار السلطنت قسطنطنیہ کو فتح کرنے والی مہم میں شامل تھے جس کا سپہ سالار یزید بن معاویہ تھا۔ محاصرے کے دوران ایک وبا کا شکار ہو کر فوت ہو گئے تھے۔ ان کی خواہش کے مطابق ان کو شہر کی فصیل کے سائے میں دفن کیا گیا۔

حضرت بلالؓ جو فتح مکہ کے بعد حضورﷺ کی خواہش کے احترام میں خانہ کعبہ کی چھت پر اذان دینے والے، کعبہ کے اندر بتوں کو پاش پاش کرنے والے، وہ دمشق کے باب الصغیر میں دفن ہیں۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ۔ جنگ احد میں حضورﷺ کی خود کے دندانے آپ ﷺ کے رخسار میں دھنس جاتے ہیں، اور زخمی ہو جاتے ہیں۔ حضرت عبیدہ اپنے دانتوں سے کھینچ کر وہ دندانے نکالتے ہیں تو ان کے اپنے اگلے دو دانت ٹوٹ جاتے ہیں اور خلاء پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی لئے انہیں جراح یعنی خلاء والا کہا جانے لگا۔ وہ اس پر عمر بھر فخر کرتے رہے۔ حضورﷺ کے وصال کے بعد بھی لوگ ان کے پاس آتے اور مسکرا کر دانت دکھانے کی فرمائش کرتے اور وہ مسکرا دیتے تھے۔ دربار رسالت سے انہیں ”امین الامت“ کا خطاب ملا تھا۔ ہم میں سے ایسا تو کوئی نہ ہو گا جس کہ دل میں کبھی نہ کبھی یہ خواہش کونپل کی مانند پھوٹی نہ ہو کہ کاش میں بھی حضورﷺ کے زمانے میں ہوتا، ان کے لباس کو چھوتا، مہر نبوت کو بو سہ دیتا، ان کے سانسوں اور پسینے کی مہک سونگھتا۔

مصنف لکھتے ہیں کہ روضۂ رسول ﷺ پر حاضری دینے کے لئے مسجد سے باہر آنا پڑتا ہے اور باب السلام سے دوبارہ داخل ہونا پڑتا ہے۔ وہ قارئین کو ایک مرتبہ پھر ماضی میں لے جاتے ہیں، مسجد کے پاس ہی حضورﷺ نے دو حجرے تعمیر کروائے، ایک ام المومنین حضرت سودہؓ اور دوسرا حضرت عائشہ صدیقہؓ کے لئے۔ یہ حجرے دس فٹ چوڑے اور تیرہ فٹ لمبے تھے، دیواریں کچی اینٹوں سے چنی گئی تھیں، اور ان پر کھجور کے پتوں کی چھتیں ڈالی گئی تھیں، دروازوں کی جگہ کمبل کے پردے لٹکا دیے گئے تھے۔

حضرت عائشہ ؓ کا حجرہ ہی آپ ﷺ کا مدفن بنا۔ سلام کرنے والے درود و سلام پڑھتے ہوئے، رینگتے ہوئے آگے بڑھتے جاتے ہیں۔ آپ ﷺ کی اولاد کے بارے میں بھی مصنف ہمیں معلومات فراہم کرتے ہیں، آپ ﷺ کے سب سے بڑے بیٹے ”قاسم“ ، دوسرے ”طیب“ اور تیسرے طاہر تھے۔ بڑے بیٹے قاسم کی مناسبت سے آپ ﷺ کی کنیت ”ابو قاسم“ تھی۔ آخری عمر میں حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن سے آپ ﷺ کے بیٹے ”ابراہیم“ پیدا ہوئے جو ہو بہو والد کی شکل کے تھے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5