دوسری شادی اور ہمارا معاشرہ(قسط دوم)


جن کی اچھی تربیت ہو اور ان کے سامنے والدین کے رویوں کی اچھی مثالیں ہوں، وہ ہزار طرح کی سختیوں سے بھی کامیاب انسان بن کر نکلتے ہیں، ایسا نہ ہوتا تو پیغمبروں سے لے کر بڑی ہستیوں تک ہر ایک کا بچپن تلخیوں کی ایک نئی داستان نہ ہوتا۔ پھولوں کی سیج پر بھی کبھی کامیاب انسان پلے ہیں؟ ہم انسانوں کو اپنے رب کے الفاظ پر اعتقاد رکھنا چاہیے۔ جس نے انسان کو بنایا ہے، اس سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ ان کو چلانے کا بہترین طریقہ کیا ہے۔

عورت مرد سے سب سے پہلی چیز جو چاہتی ہے وہ معاشی آسودگی ہے، اس کے بعد جذباتی اور نفسیاتی تحفظ و ضروریات، گھر بچے۔ جذباتی ضروریات ایک مخصوص مدت کے بعد کسی حد تک قابل کنٹرول ہو سکتی ہیں مگر معاشی و نفسیاتی، اخلاقی ضروریات صبح و شام کی کہانیاں ہیں جن میں آپ کے ساتھ کوئی ہمدرد، حوصلہ دینے والا، زمانے کے سامنے آپ کے ساتھ کھڑا ہونے والا، کما کر لانے والا کوئی مرد، کم سے کم آپ کے معاشرے میں ضروری ہے ہر عورت کے لئے۔ تو پھر کیوں ایک مرد دو عورتوں کا آسرا نہیں ہو سکتا؟ ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ دونوں عورتوں کو برابر کی یہ دونوں چیزیں مہیا کرے یا بانٹ کر مہیا کرے۔ اور اگر عورت طلاق لینا چاہتی ہے یا مرد دینا چاہتا ہے تو دوسری شادی تک عورت کی اور ہمیشہ کے لئے بچوں کی کفالت کرے، اس کی جائیداد اور اثاثوں میں ان کا حصہ ہو بلکہ قانونی طور پر ہونا تو یہ چاہیے کہ جس کاغذ پر طلاق لکھی جائے، اسی پر اثاثے بھی قانونی طور پر بانٹ دیے جانے کا قانون موجود ہو۔ (اگرچہ ہمارے دوسرے قوانین کون سا کام کرتے ہیں جو یہ کرے گا)

ہم سعودیہ اور عرب امارات سے ہر طرح کے عقیدے درآمد کرتے ہیں یہ قانون بھی درآمد کر لیں جس میں طلاق کے لفظ کے ساتھ ہی عورت مرد کے آدھے اثاثوں کی مالک ہو جائے۔ بات یہ ہے کہ عورت کو مرد کی دوسری شادی سے نہیں بلکہ بے سہارا ہو جانے سے ڈر لگتا ہے، اس رویے سے ڈر لگتا ہے جو عموماً ایسے مرد ہمارے معاشرے میں روا رکھتے ہیں جن میں پچھلی بیوی کو بے آسرا چھوڑ دینا، بچے چھین لینا یا بچوں کی اور بیوی کی کفالت سے ہاتھ اٹھا لینا تک جیسی حرکات شامل ہیں۔

ہر حق کے ساتھ ایک فرض کی قیمت ہے۔ عورت مرد کے اس استحصال سے ڈرتی ہے۔ اگر مرد میں اتنا دم ہے کہ دونوں بیویوں کی طرف اپنے جذباتی، اخلاقی، سماجی اور معاشی فرائض پورا کرے تو میرا نہیں خیال کسی بھی عورت کو اس پر کوئی اعتراض ہو گا۔ ایک بیوی جو ایک روٹی اور بچوں کے سر پر چھت کی قیمت پر چار دیوروں، چھ نندوں، آٹھ دس بھابیوں کی خدمت گزار بن کر رہ لیتی ہے کس نے اس پر یہ بہتان لگا رکھا ہے کہ وہ ایک دوسری عورت کے ساتھ نہیں رہ سکتی؟

کیا حسد، کیسی جلن، کیا ایک عورت ہر قسم کے جذبات کنٹرول کر کے دس اور غیر ضروری لوگوں کی خدمت گزار نہیں ہوتی، تو پھر وہ دوسری عورت کو بھی برداشت کر سکتی ہے۔ معاشرے کو، لوگوں کو اور نسلوں کو برین سٹارم کرنا بند کریں۔ اگر مرد میں اتنا کردار ہے کہ دو عورتوں کے ساتھ جس قدر انصاف ممکن ہو کر سکے تو دو عورتیں بھی ایک روٹی بانٹ کر کھا سکتی ہیں۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ عورتوں کی تعداد مردوں سے بڑھ چکی ہے مگر پھر بھی صاحب اختیار اور قانون بنانے والے خواب خرگوش میں محو ہیں۔ کم عمر بیوائیں اور مطلقہ خواتین بھی چھوٹے بچوں کے ساتھ عمر بھر گزار دینے کی قسمیں کھانے پر مجبور ہیں۔ کیوں کیا وہ انسان نہیں؟ کیا ان کی جذباتی نفسیاتی، اخلاقی اور معاشی ضروریات نہیں؟ کیا اس بھیڑیوں کے معاشرے میں ان کے دروازے پر ایک مرد کے نام کی تختی کی، ایک ہاتھ کی، ایک سپورٹ کی ضرورت نہیں؟

کیا ہم اتنے بے حس اور خود غرض ہو گئے ہیں کہ ہمیں سوائے اپنی تھالی کے اور کسی چیز سے غرض نہیں۔ صرف اپنے حلقۂ احباب میں میں دس ایسی عورتیں گن سکتی ہوں جو چھوٹے بچوں کے ساتھ کم عمری میں بیوگی کا شکار ہو گئیں۔ کیا اس ریاست، اس کے قانون دانوں، اس کے رہنے والوں کی طرف ان کا کوئی حق فرض نہیں نکلتا؟ ہر وقت سنت سنت کا راگ الاپنے والی قوم ایک بے سہارا عورت کو سہارا نہیں دے سکتی۔ صرف یہ کہہ کر چپ ہو جاتی ہے کہ پیارے نبی ﷺ نے نو شادیاں کیں۔ یہ نہیں کہتے نو عورتوں کو آسرا دیا۔ آپ بھی سنت زندہ کریں ایک کو ہی دے لیں۔ اپنے فرائض کو پہچانیں۔

دوسری شادی کو متنازعہ کر کے سب سے بڑا نقصان بھی عورت اٹھا رہی ہے۔ دوسری شادی کا رواج پیدا کیجیے، اور اس کے لئے دوسری شادی والی عورت ہی بہترین ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ رجحان آپ کی بیٹیوں اور بہنوں کی ضرورت ہے، آج آپ ایسی عورتوں کا آسرا بنیں کل کو آپ کی بہنوں بیٹیوں کے لئے دوسرے شریف لوگ کھڑے ہو جائیں گے۔

ایسے رشتے اور جوڑے جو ایک دوسرے کے ساتھ خوش نہیں رہ پا رہے، جن کو اپنی زندگی دن رات جہنم سے کم نہیں لگتی، ان کے لئے کوئی رستہ نکالنے کی ضرورت ہے۔ دوسری شادی سے مراد طلاق یافتہ یا بیوہ عورت کی دوسری شادی بھی ہے۔ مرد کی دوسری شادی تبھی آساں ہو سکے گی جب عورت کی طلاق اور دوسری شادی بھی اتنی ہی آسان اور معاشرے کے لیے قابل عمل ہو گی، ورنہ معاشرہ ہمیشہ اسی طرح لنگڑا رہے گا، ایک طرف کو جھکا دوسری طرف اٹھا۔

دوسری شادی کا رجحان ایسے افراد کی بھی ضرورت ہے جو دل کے یا جذبات کے ہاتھوں مجبور خفیہ تعلقات رکھنے پر مجبور ہیں۔ ان کو سیدھا رستہ دکھائیں۔ وہ رستہ جو خدا نے ان کے لئے حلال کر رکھا ہے۔ عزت، بے عزتی، معاشرہ، رواج کے نام پر ان کو گناہ کی طرف دھکیلنے سے بہتر ہے ان کے لئے صحیح دروازے کھولیں۔ جب انسان کی جذباتی حالت بہتر اور مطمئن ہو تو وہ زندگی کے تمام شعبوں میں بہتر رویہ دکھاتا ہے اور بہت سارے مطمئن افراد مل کر ایک مطمئن اور مثبت معاشرے کو جنم دیتے ہیں۔

معاشرے کے افراد کی اکثریت گھٹن کا شکار ہو گی تو ریاست کا منظرنامہ یہی ہو گا جو دکھائی دیتا ہے۔ جذباتی روگ کی بہرحال ایک نفسیاتی اہمیت ہے۔ لعنت ملامت، گالم گلوچ یا ان کے مسائل کو مسائل سمجھنے سے ہی انکار کر دینا مسئلہ کا حل نہیں بگاڑ ہے۔ خود پیارے نبی ﷺ کو جب حضرت عائشہ کے طرف سے ایک واقعہ میں وہم ہوا تو آپ نے انہیں طلاق دینے کا فیصلہ کیا، کیا ہم سمجھتے ہیں کہ خدانخواستہ ہمارے عظیم نبی ﷺ اپنی سب سے پیاری بیوی کو سزا دینا چاہتے تھے، جیسا کہ طلاق کو ہمارے ہاں سمجھا جاتا ہے؟

آپ ﷺ اپنی بیوی کو ان کا وہ حق دینا چاہتے تھے جو بحیثیت ایک بشر ان کو حاصل تھا جب تک کہ خدا نے آیت اتار کر آپ کی الجھن دور نہ کر دی۔ کیونکہ یہ رشتہ بہرحال دو لوگوں کی خالص رضامندی کے بغیر کچھ نہیں۔ اور آپ مانیں یا نہ مانیں مگر آپ کے معاشرے میں اس خفیہ مصیبت میں پھنسے مردوں اور عورتوں کی تعداد برابر ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

Comments are closed.