دوسری شادی اور ہمارا معاشرہ(قسط دوم)


جذباتی بیانات اور مفادات سے باہر نکلیں تو حقیقت حال یہ ہے کہ شادی کے پانچ سے دس سال بعد ہی عورت و مرد تقریباً ایک دوسرے کی شکلوں سے بھی بیزار ہو جاتے ہیں۔ دس پندرہ سالوں میں بہت سے میاں بیوی کمرے جدا کر لیتے ہیں۔ عورت بچوں کی تعلیم و تربیت میں مگن ہونا چاہتی ہے، مرد کا مچلتا دل ہر وقت سجی سنوری بیوی مانگتا ہے تو ایسے میں کیا برا ہے اگر وہ ایک بیوی اور لے آئے، آپ کے پاس فراغت نکلے گی، بندہ بھی گھر میں ہی رہے گا۔ بچوں کے سر پر باپ کا ہاتھ بھی، بیوی کو چھت بھی اور کفالت بھی اور محبت بھی۔ اگر ایک دوسرے کو تھوڑی تھوڑی جگہ دینے سے تھوڑی سی خوشی ملتی ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے؟ وعدہ بھی تو آپ نے عمر بھر خیال رکھنے کا کر رکھا ہے۔

دوسری شادی کا رواج آج کی دنیا اور آپ کے معاشرے کی ضرورت ہے، مگر بات صرف مرد کی دوسری شادی سے شروع ہو کر وہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ ایک حق کو لیتے ہوئے فرائض بھی ادا کرنا پڑتے ہیں، تبھی انسانیت کے تمام تر تقاضے پورے ہو سکتے ہیں۔ دوسری شادی کا رجحان پیدا کرنے کے لئے ایسی عورتیں بھی ضروری ہیں جو تعلیم یافتہ ہوں، میاں کے پاؤں دھونے کے ساتھ اپنا سر بھی اٹھا کر چلنا چاہتی ہوں، بددعائیں دینے والے فرشتوں کے علاوہ اس دن سے بھی ڈرتی ہوں جب ان سے پوچھا جائے کہ اے عورت! تجھے میں نے بشر بنا کر اتارا تھا، اس بشر سے کیا کام لیا۔

عورت کو پیدا ہوتے ہی شہزادے کے سپنوں میں دھکیلنے کی بجائے تعلیم، روزگار، کاروبار، کی آزادی دینا سیکھیں تاکہ ان کی سوچ کا محور مرد کی ذات کے گرد ہی ختم نہ ہو جائے، اس کی شخصیت اور اخلاق کو اصل میں مضبوطی اور استحکام دیا جائے، اس کو زندگی کے مختلف معاملات میں شامل رکھا جائے تو یقینی طور پر ہر عورت اپنی زندگی کے کچھ سال ضرور اپنے خوابوں اور خواہشوں، اپنے مقاصد اور ارادوں کو دینا چاہے گی جو گھر بنانے، سجانے اور میاں کی خدمت کرنے سے بڑھ کر ہوں۔ معاشی طور پر خود مختار عورتیں ہی مردوں کے لئے دوسری شادی کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔

ایک عورت کو بھی اکیلے ہی ایک بندے کے چار، چھ یا آٹھ بچے اور درجن بھر گھر والے پالنے پڑتے ہیں، اگر اس میں اسے ایک دوسری عورت کا سہارا مل جائے تو برا کیا ہے؟ اگر چھ بچے ایک عورت کی بجائے دو عورتیں پیدا کر لیں تو خود عورت ہی کی صحت اور زندگی کا تحفظ ہے۔ میاں کی کمائی پر مکمل راج کی خاطر خود کو نیست و نابود کر دینا کوئی اتنی بھی اچھی آپشن نہیں۔

ایک دوسری بیوی کی موجودگی عورت کی بہت سی ذمہ داریوں میں کمی کر کے اسے اپنی ادھوری تعلیم کی تکمیل، روزگار یا کاروبار کرنے کا وقت دے سکتی ہے، بچے اپنے ڈھنگ سے پالنے کی آزادی دے سکتی ہے، میریٹل ریپ سے آپ کی جان چھڑوا سکتی ہے، مرد و عورت کی زندگی پہلے سے زیادہ بہتر اور محفوظ ہو سکتی ہے، بچوں کے پاس گھر کے اندر ہی محفوظ کمپنی ہو سکتی ہے۔

صرف حسد اور ملکیت کا احساس اس قدر خوبصورت نہیں کہ اس کی خاطر ہمیشہ ایک دوسرے کی شہ رگ پر پاؤں رکھ کر کھڑا ہوا جائے۔ ایک بیوی والا مرد گھر میں ماں کو بچوں کے لئے بھی عموماً ڈھنگ سے مہیا نہیں ہونے دیتا، دو بیویاں کم سے کم مل کر گھر سنبھالنے کی ذمہ داریاں بانٹ سکتی ہیں، آدھے کام کاج کے لئے ویسے بھی نوکر اور ملازمائیں ڈھونڈنے پڑتے ہیں تو دوسری بیوی کیوں نہ ہو جو گھر کو گھر کے فرد کی طرح چلا سکے، آپ کو کہیں دور و نزدیک ایسی کوئی مثال ضرور مل جائے گی جہاں دو بیویاں آرام سے ایک ہی گھر میں رہتی رہی ہوں، نہ بچے بگڑے نہ گھر ٹوٹے، الٹا بچوں کو دو دو مائیں اور کھیلنے کے لئے زیادہ بہن بھائی مل گئے۔

اس سے مرد کو جو سکون ہو گا سو ہو گا خود عورت بھی اپنی حسد کی چادر اتار کر دیکھے تو اس کی ذمہ داریوں میں بے تحاشا کمی ہو گی۔ چالیس سال بندوں کو گھٹنوں سے باندھ کر آپ نے آخر کرنا بھی کیا ہے، شوہروں کے علاوہ بھی دنیا میں ہزار جھمیلے ہیں، دوست رشتہ دار ہیں، علم ہے، فلاحی کام ہیں، غریب ہیں، یتیم ہیں، روزگار اور فلاح کے طریقے ہیں جن کو آپ کی ضرورت ہے۔ ان کو بھی وقت دیجیے۔ ، خدا نے آپ کو انسان بنایا ہے۔ سوچ، سمجھ، علم سب کچھ دیا ہے تو ان سے گھر میاں اور بچوں کے علاوہ اس معاشرے اور دوسرے لوگوں کو بھی کوئی فائدہ بانٹیں۔ کوئی کاروبار، کوئی روزگار ڈھونڈیں، تسلی سے قرآن و دین کا مطالعہ ہی کر لیں، آخر کب تک غسل کر کر کے ہلکان ہوتی رہیں گی اور بچے پیدا کرتے کرتے گھستی رہیں گی۔

ایک پوری نہیں پڑتی دو کیسے پالیں گے؟ اس سوچ نے معاشرے میں غربت کی لکیر کو مزید گہرا کر دیا ہے کہ ہر کوئی اپنی روٹی سینے سے لگائے بیٹھا ہے، مل بانٹ کر کھانے کا نظام ہی ختم ہو چکا ہے۔ حالانکہ سب جانتے ہیں ایک بندے کا کھانا دو کھا سکتے ہیں، دو کے حصے کا کھانا چار میں بانٹا جا سکتا ہے، لیکن بات یہ ہے کہ ہم خدا کی فرمانبرداری کی برکت سے ناآشنا لوگ ہیں، ہمیں صرف حرام خوری کی برکت سے آشنائی ہے۔ ہمارے دماغ یہ بات سمجھ ہی نہیں پاتے کہ روزی کو اگر روزی دینے والے کے بتائے حساب سے بانٹ دیا جائے تو وہ روزی پہلے سے بڑھ جاتی ہے۔

ہمارے جیسے علم و تہذیب کی روشنی سے محروم معاشرے نے ایسی سوچ کو کبھی جانا نہ سمجھا۔ ہمیں یہ انگریزی تعلیم کے اداروں نے سکھایا نہ اسلامی تعلیم کے مدرسوں نے۔ ہر ادارے نے صرف وہی علم دیا جو آخر میں ان کو فائدہ دے سکے۔ بالکل ایسے جیسے ریاست مدینہ بناتے بناتے ہمارے وزیراعظم ہندو معاشرے کے مشترکہ خاندانی نظام کے قصیدے پڑھنے لگے۔ مظلوم اسلام ہمیشہ اپنے فرمانرواؤں کے ہاتھوں استعمال ہوتا رہا ہے۔

اگر، مگر، سوال جواب کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو سکے گا کچھ دلائل حق میں ہوں تو ہر موضوع پر اختلافی نوٹ بھی ہوتے ہیں۔ یہ دنیا ہے، اس میں کچھ بھی بھرپور اور مکمل نہیں ہوتا۔ بات صرف ترجیحات کی ہوتی ہے کہ آپ کی ترجیح کیا ہے۔

معاشرہ بدلنے سے پہلے سمجھنا پڑتا ہے کہ آخر بدلاؤ کی ضرورت کہاں پر اور کیوں ہے۔ کچھ اچھے رستے اور کامیاب طریقے آپ کے پاس موجود ہیں، حلال کو اپنی خودغرضی سے حرام نہ بنائیں۔ انگریز بھی اپنی تمام تر لیاقت کے ساتھ ایک وقت میں ایک شادی پر محدود کر کے اور ہر طرح کے تعلق جائز کر کے بھی دیکھ چکا ہے۔ عمر بھر کی وفاداری کا نسخہ آج تک وہ بھی نہیں ڈھونڈ سکا۔

ہمارے پاس تو پہلے سے ہی رستے موجود ہیں پھر کیوں نہیں ریاست مدینہ کے نعرے پر ہر دور میں بک جانے والی قوم ایک بار اپنی کتاب کے علم کو آزما کر دیکھتی؟

پہلی قسط یہاں پڑھیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

Comments are closed.