لبرل فیمینزم ناکام ہو چکا


امریکہ میں لبرل فیمینزم کو 2016 میں اپنے ’واٹرلو‘ کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب ہلیری کلنٹن کی کارپوریٹ انتخابی مہم بھی خواتین ووٹروں کو ہلیری کو ووٹ دینے پر آمادہ کرنے میں ناکام رہی۔ ہلیری عام عورت اور اشرافیہ عورت کے درمیان خلیج کی مجسم تصویر تھی جس کا بنیادی مقصد اپنے طبقے کی عورت کی اعلی عہدوں تک رسائی تھا۔

ہلیری کلنٹن کی شکست نے لبرل فیمینزم کے اخلاقی دیوالیہ پن کا بھانڈا پھوڑ کے بائیں بازو کی سیاست کویہ موقع فراہم کیا کہ وہ لبرل ازم کو چیلنج کرسکے۔ لبرل ازم کی تنزلی کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلا نے ہمیں یہ موقع دیا ہے کہ ہم ایک نئی طرز کے فیمینزم کی تشکیل کرسکیں : ایک ایسا فیمینزم جو فیمینسٹ ایشوز، طبقات اوراخلاقیات کی نئے سرے سے تشریح کرے، ایک ایسا فیمینزم جو ریڈیکل اور انقلابی ہو۔

یہ منشورہمارے نئے فیمینزم کا تعارف ہے۔ یہ کسی تصوراتی دنیا کا خاکہ نہیں بلکہ اس راستے کا انتخاب ہے جس پر چل کر ہی ایک منصفانہ معاشرے تک پہنچا جا سکتا ہے۔ اس میں ہم نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ فیمینسٹوں کو کیوں احتجاج اور ہڑتالوں کی راہ اختیار کرنا چاہیے؟ کیوں ہمیں ان تمام تحریکوں سے اتحاد کرنا چاہیے جو سرمایہ دارانہ نظام اور منظم بندشوں کے خلاف ہیں؟ یہاں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ کیوں ہماری جدوجہد کو 99 فیصد کا فیمینزم بننا چاہیے؟

آج کے دور کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ دنیا بھر کے فیمینسٹ نسل پرستی کے خلاف تحریکوں، ماحولیاتی تحریکوں، مزدوروں اور مہاجرین کے حقوق کی تحریکوں اور اس طرح کے دیگر گروہوں اور افراد کے ساتھ جڑیں۔ ہم جب تک ”ایک فیصد کے معذرت خواہانہ فیمینزم“ کو فیصلہ کن طور پہ مسترد نہیں کر دیتے، تب تک ہمارا نیا فیمینزم امید کی کرن نہیں بن سکتا ہے۔

اس پروجیکٹ پر کام کرنے کا محرک نیا فیمینزم ہے، جو ایک شدت پسند فیمینسٹ تحریک ہے۔ یہ کارپوریٹ فیمینزم نہیں جو مزدور عورتوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا اوردھیرے دھیرے اپنی ساکھ کھو رہا ہے، اورنہ ہی یہ مائکرو کریڈٹ فیمینزم ہے جو گلوبل ساؤتھ کی عورت کو چند ٹکے قرض دے کر خود مختار بنانے کا دعوی کرتا ہے۔ جو چیز ہمیں حوصلہ دیتی ہے وہ ہے 2107 اور 2018 کے فیمینسٹ احتجاج اور ہڑتالیں جن کے گرد مربوط فیمینسٹ تحریکیں جنم لے رہی ہیں۔ پہلے خواب، اور اب ایک حقیقت۔ 99 فیصد کا فیمینزم

موجودہ فیمینسٹ تحریک اکتوبر 2016 میں پولینڈ میں اس وقت شروع ہوئی جب حکومت نے اسقاط حمل پر پابندی عائد کی۔ اس پابندی کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں ایک لاکھ سے زائد خواتین نے شرکت کی۔ ان مظاہروں کی لہردیکھتے ہی دیکھتے کئی سمندر پار کر کے ارجینٹینا جا پہنچی جہاں خواتین پر وحشیانہ تشدد کیا گیا جس کے نتیجے میں لوسیا پیریز کا قتل اس نعرے۔ ’ایک بھی عورت پیچھے نہ رہ جائے‘ ۔ ”Ni Una Menos“ کی گونج میں ہوا۔

جلد ہی یہ تحریک اٹلی، سپین، برازیل، ترکی، امریکہ، میکسیکو اور چلی سے ہوتی ہوئی درجنوں دوسرے ممالک میں پہنچ گئی۔ یہ تحریک سڑکوں سے شروع ہوکے دفتروں، فیکٹریوں اور سکولوں سے ہوتی ہوئی شوبزنس، میڈیا اورسیاست میں پہنچ گئی۔ پچھلے دو سال سے اس میں لگنے والے یہ نعرے بڑی شدت سے گونج رہے ہیں : ہم ہڑتال کریں گے، ہم جینا چاہتے ہیں، وقت آ پہنچا، 99 فیصد کا فیمینزم اور ایک بھی عورت پیچھے نہ رہ جائے وغیرہ۔ یہ تحریک ایک قطرے سے لہر بنی اور دیکھتے ہی دیکھتے جوار بھاٹا بن گئی۔ یہ ایک ایسی نئی بین الاقوامی فیمینسٹ تحریک ہے جو تمام عورت دشمن گٹھ جوڑوں کو تہس نہس کر سکتی ہے اوردنیا کی سیاست کا نقشہ بدل سکتی ہے۔

آٹھ ‏مارچ 2017 کے خواتین کے عالمی دن کی تیاریوں کے دوران متعدد ملکوں میں قومی سطح پر لیے گئے اقدامات اس وقت ایک بین الاقوامی تحریک کا روپ دھار گئے جب منتظمین نے فیصلہ کیا کہ آٹھ ‏مارچ کو پوری دنیا میں ایک ساتھ ہڑتال ہو گی۔ اس اقدام نے خواتین کے عالمی دن کو جو پچھلی کئی دہائیوں سے جلسوں، مشعل بردار جلوسوں اور بحث مباحثوں تک محدود ہو کر رہ گیا تھا ایک بار پھر ایک سیاسی تحریک بنا دیا۔ سوشلسٹ فیمینسٹ ہڑتالوں نے بیسویں صدی کے اوائل کی محنت کش عورت کی جدوجہد کو پھرسے اجاگر کر دیا ہے اور ہم نے اپنا گم کردہ سیاسی اثاثہ دوبارہ پا لیا۔ امریکہ میں ان ہڑتالوں کی روح رواں یہودی مہاجرعورتیں، جرمن سوشلسٹ لویئس زیئسٹ اورکلارا زیٹکن تھیں جنھوں نے امریکی سوشلسٹوں کو ایک بار پھر اس بات پر متحد کیا کہ خواتین کے عالمی دن کو ”محنت کش طبقے کی عورت کے بین الاقوامی دن“ کے طور پر منایا جائے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

مجیبہ بتول، اسلام آباد کی دیگر تحریریں

صفحات: 1 2 3 4

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments