لبرل فیمینزم ناکام ہو چکا


لبرل فیمینزم دیوالیہ پن کا شکار ہو چکا، اسے ترک کرنے کا وقت ہے

کارپوریٹ میڈیا فیمینزم کی تشریح لبرل فیمینزم کے طور پر کرتا ہے۔ لیکن لبرل فیمینزم مسئلے کا حل ہونے کے برعکس بذات خود فیمینزم کے لئے مسئلہ ہے۔ چونکہ یہ گلوبل نارتھ میں پنپا ہے اس لئے اس کی توجہ کا مرکز صرف پروفیشنل اور انتظامی سطح پہ اصلاحات اورگلاس سیلنگ کو توڑنا ہے، جس سے صرف مراعات یافتہ طبقے کی عورت کارپوریٹ سیڑھی کی بلندیوں تک اور فوج کے اعلی عہدوں تک پہنچ سکے۔ لبرل فیمینزم مکمل مقابلے، مارکیٹ پر مبنی برابری اور تنوع کے ساتھ نتھی ہے۔

اگرچہ یہ امتیازی سلوک اور تفریق کی مذمت کرتا ہے، اور انتخاب کی آزادی کا پرچارک ہے تاہم یہ عورت کی راہ میں حائل سماجی اور معاشی رکاوٹوں کو مسمار کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہی وہ بنیادی مشکلات ہیں جو عورتوں کی بہت بڑی تعداد کو آزادی اور خود مختاری حاصل کرنے سے روکتی ہیں۔ لبرل فیمینزم کا اصل مقصد برابری نہیں بلکہ ”میرٹوکریسی“ ہے۔ بجائے اس کے کہ یہ سماجی اور معاشی ناہمواریوں کا خاتمہ کرے، یہ ”تنوع“ کے ذریعے ”با صلاحیت“ عورت کی اعلی عہدوں تک رسائی اور خود مختاری کا خواہاں ہے۔ لبرل فیمینزم کے حامی مراعات یافتہ طبقے کی عورت کو اعلی ملازمت اور اسی طبقے کے مردوں کے برابر اجرت کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ بنیادی طور پر اس سے فائدہ اٹھانے والے اسی طبقے کے لوگ ہیں جو پہلے ہی سماجی، تہذیبی اور معاشی برتری کے حامل ہیں، اور باقی سب پاتال میں!

لبرل فیمینزم دراصل بڑی چالاکی سے عدم مساوات اور سماجی ناہمواریوں کے غبارے میں ہوا بھرتا ہے اور استحصال کو آؤٹ سورس کرتا ہے۔ یہ نیو لبرل کلچر کے فریب کو پروان چڑھاتا ہے۔ اس کا انفرادی ترقی کے سا تھ عشق حقیقت میں مخصوص طبقے کی عورت کو سوشل میڈیا پر خود مختار دکھاتا ہے اور انفرادیت پسند ترقی کو ”اصل“ فیمینزم کے ساتھ ‏گڈ مڈ کرتا ہے۔ یہ انفرادی ترقی کو فیمینزم کی اصل روح کے ساتھ الجھاتا ہے۔ لبرل فینیزم سب کی آزادی اور خود مختاری کی بجائے چند ایک کی خود نمائی اور آزادی کا خوہاں ہے جس سے خطرہ ہے کہ فیمینزم محض ایک ٹرینڈنگ ہیش ٹیگ بن کے رہ جائے گا۔ ‎

لبرل فیمینز عموماً نیولبرل ازم کے ہاتھ مضبوط کرتا ہے۔ دراصل یہ خود مختاری کے خول میں رجعت پسند پالیسیوں کا حامی ہے اور سرمایہ دارانہ قوتوں کو ترقی پسند بنا کے پیش کرتا ہے۔ یہ فیمینزم کا روپ دھار کر امریکہ میں گلوبل فنانس کا جگری دوست اور یورپ میں اسلاموفوبیا کو چھپانے میں مددگار ہے۔ یہ ان طاقتور عورتوں اور کارپوریٹ گروؤں کا ہتھیار ہے جو گلوبل ساوتھ میں سٹرکچرل ایڈجیسٹمنٹ اور مائکرو کریڈٹ کے ایجنڈے کو بڑھاوا دیتے ہیں۔

ہمارا اس جھکاؤ کے فیمینزم کو جواب ہے ”کک بیک فیمینزم“ ۔ جہاں عورتوں کی اکثریت کے پاؤں کرچیوں سے خون آلود ہیں وہاں ہمیں گلاس سیلنگ توڑنے میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟ ہمارا فیمینزم بڑی بڑی کارپوریشنوں میں شیشوں کے کمروں میں بیٹھی خواتین سی ای اوز کی ترقی کا جشن منانا نہیں بلکہ ان دونوں سے جان چھڑوانا ہے۔

(جاری ہے )
Translation of the book: فیمینزم for 99%: A Manifesto
By: Cinzia Arruz, Tithi Bathacharya and Nancy Fraser
Translation by: Syeda Mujeeba Batool


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

مجیبہ بتول، اسلام آباد کی دیگر تحریریں

صفحات: 1 2 3 4

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments