لبرل فیمینزم ناکام ہو چکا


Zetkin and Rosa Luxemburg, 1910

آج کی شدت پسند ہڑتالیں دراصل محنت کش طبقے کی عورت کی جدوجہد کے اس تاریخی ورثے کی بازیافت ہے جس کی بنیاد مزدوروں کے حقوق اور معاشرتی انصاف پر رکھی گئی تھی۔ اس نئی فیمینسٹ لہر نے پہاڑوں، سمندروں، براعظموں، دیواروں، سرحدوں اور خاردار تاروں کے ذریعے بٹی ہوئی عورتوں کو ایک بار پھراس نعرے کے ذریعے متحد کر دیا کہ ”یکجہتی ہمارا ہتھیار“ ۔ ان ہڑتالوں نے ثابت کیا کہ آج کی عورت میں گھر کی گھٹن زدہ علامتی دیواریں توڑنے اور اپنی سیاسی طاقت دکھانے کی بے پناہ صلاحیت ہے۔ آج کی عورت کو اس بات کا مکمل ادراک ہے کہ اس کی معاوضے اور بغیر معاوضے کی محنت کی وجہ سے دنیا کی معیشتیں اپنے پیروں پہ کھڑی ہیں۔

یہی نہیں بلکہ اس بورژوائی تحریک نے احتجاج کے ایسے اچھوتے طریقے ایجاد کیے ہیں جن سے سیاست کی ایک نئی جہت نکل کر سامنے آئی ہے۔ مارچوں اور ہڑتالوں کے ذریعے ملوں اور چھوٹے کاروباروں کی بندش، ناکہ بندیوں، اور بایئکاٹ کی حکمت عملیوں نے اس خلآ کو پر کر دیا ہے جو کئی دہایؤں کے نیو لبرل استبداد نے پیدا کر دیا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ یہ لہر احتجاج کو جمہوری بناتے ہوئے اس کا دائرہ کار ”محنت“ کی نئی تشریح کر کے وسیع کر رہی ہے۔

اس تحریک نے با معاوضہ محنت کے بوسیدہ نظریے کو یکسر ٹھکرا دیا ہے اور گھر کے کام کاج، جنسی خدمات اور مفت کی مسکراہٹوں کو بھی کام یا محنت میں شمار کیا ہے۔ ن۔ئی فیمینسٹ تحریک نے عورت کی بلا اجرت محنت سے سرمایہ دارانہ معاشروں کے پنپنے کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ صرف محنت کی اجرت اور کام کے اوقات ہی مزدورعورت کا مسئی۔ لہ نہیں بلکہ یہ تحریک جنسی ہراسیت، خواتین پر حملے، تولیدی حقوق و انصاف اور احتجاج کے حق پر بندشوں کو بھی عورت کے اہم مسائل سمجھتی ہے۔

نئی فیمینسٹ لہر نے ”شناخت کی سیاست“ اور ”طبقاتی سیاست“ کی مصنوعی تقسیم کو پچھاڑ ڈالا ہے۔ گھر اور کام کی جگہ کے مابین ایکتا کو اجاگر کرتے ہوئے اس نے اپنی جدوجہد کسی ایک جگہ تک محدود کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ کام کیا ہے اور محنت کش کون ہے کی دوبارہ تشریح کرتے ہوئے، اس نے سرمایہ دارانہ نظام کی عورت کی با معاوضہ محنت یا بلا معاوضہ محنت کی وقعت اور قدروقیمت کے پرانے پیمانوں کو رد کر دیا ہے۔ نیا احتجاجی فیمینزم ایک ایسی بے مثال طبقاتی کشمکش اور جدوجہد کی پیشن گوئی ہے جو فیمینسٹ ہے، بین الاقوامی ہے، ماحول دوست ہے اور نسلی تفریق سے بالا تر ہے۔

فیمینسٹ احتجاجی تحریک کے آغاز کا وقت بہت اہم ہے کیونکہ یہ ایسے دور میں شروع ہوئی ہے جب ٹریڈ یونینز جو کبھی مینیوفیکچرنگ صنعتوں میں بہت مضبوط ہوا کرتی تھیں، کمزور ترین ہیں۔ طبقاتی کشمکش اور جدوجہد کو متحرک کرنے کے لیے کارکنوں نے ایک نئے میدان کا انتخاب کیا ہے جس میں انھوں نے نیولبرل ازم کو نشانہ بنایا ہے جو لوگوں کی صحت، تعلیم، پینشن اور رہائش کی سہولتوں پر حملہ کرتا ہے۔ یہ محنت کش اور درمیانے طبقے کو زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم کرتا ہے۔

اس کی نظر ان کی محنت اوران سہولیات پر ہے جو انسانی زندگی اور سماج کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ نیولبرل ازم دراصل ان سب سماجی نا ہمواریوں کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم دنیا بھر میں اس کے خلاف ہڑتالیں اور احتجاج دیکھ رہے ہیں جیسا کہ امریکہ میں اساتذہ کی ہڑتال، آئرلینڈ میں پانی کی نجکاری کے خلاف ہڑتال اور انڈیا میں دلت جمعداروں کی ہڑتال۔ ان ہڑتالوں کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ سب خواتین کی قیادت میں کی جا رہی ہیں۔

یہ محنت کش طبقے کی سرمایہ دارانہ نظام کی سماجی نا ہمواریوں کے خلاف بغاوت ہے! گو یہ احتجاج فیمینسٹ احتجاجی تحریک کے ساتھ باقاعدہ طور پر وابستہ تو نہیں ہیں لیکن ان میں بہت سی باتیں مشترک ہیں جیسے ان کا ماننا ہے کہ کام ہماری زندگیوں کی بقا کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے لیکن کام کرنے والے کا استحصال ناجائزہے، اجرت میں اضافے اور کام کی جگہ کی تقدیس کے مطالبوں کے ساتھ ان کے یہ مطالبے بھی زوروں پر ہیں کہ حکومتیں عوام کو سہولیات مہیا کرنے کے اخراجات میں اضافہ کریں۔

ارجینٹینا، اٹلی، سپین اور دیگر ملکوں میں فیمینسٹ احتجاجی تحریک کا ساتھ نہ صرف خواتین، ٹرانس جینڈر اور ایسی قوتیں جو حکومتوں کے عوام پر اخراجات میں کٹوتی کے خلاف ہیں نے دیا بلکہ ان مردوں کی بہت بڑی تعداد بھی جو حکومتوں کے سکولوں کے فنڈز میں کٹوتی اور صحت، رہائش، ٹرانسپورٹ اور ماحولیاتی تحفظ کے اخراجات میں کمی کے خلاف ہیں، اس تحریک میں شامل ہیں۔ فیمینسٹ احتجاجی تحریک سرمائے کے فلاح عامہ پر وار کے خلاف، وسیع بنیادوں پر سماج کے دفاع کا ماڈل بن چکی ہے۔ ن۔ئی فیمینسٹ تحریک نا ممکن کو ممکن بنانے کی جدوجہد کر رہی ہے : اس کا مطالبہ روٹی اور پھول ہے، نہ کہ صرف روٹی، جو نیولبرل ازم دہایؤں سے ہمارے دسترخوانوں سے اچک چکا ہے، بلکہ وہ خوبصورتی بھی جوہماری روحوں کو سرشارکرتی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

مجیبہ بتول، اسلام آباد کی دیگر تحریریں

صفحات: 1 2 3 4

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments