حضرت سلطان باہو ؒ : ایک باعمل صوفی بزرگ اور پنجابی شاعر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مادر زاد ولی، قلندرانہ جلال، علم وحکمت کے خزانوں سے بہرہ ور، معرفت کا پیکر جمال اور ایمانی جگمگاہٹوں سے بھرپور شخصیت، جنہوں نے اپنا پیغام پنجابی اور فارسی میں عوام و خواص تک پہنچایا۔ ان کے اس پیغام نے لاتعداد لوگوں کی زندگیوں میں روحانی انقلاب برپا کر دیا۔ وہ سادگی کا پیکر تھے۔ خلوص و وفا ان کی حیات کا لازمی جزو اور اخلاص و مروت ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ آپؒ ریاکاری، نمود ونمائش، تکلف و تصنع اور مکرو ریا سے حد درجہ نفرت کرتے تھے۔ یہ ذات بابرکات ہے جناب سلطان العارفین حضرت سلطان باہوؒ کی۔

حضرت سخی سلطان باہوؒ 1630ء میں شور کوٹ میں پیدا ہوئے۔ شور کوٹ پنجاب کے ضلع جھنگ کا تحصیل ہیڈ کوارٹر ہے۔ ان کے والد حضرت محمد بازیدؒ ایک متقی اور پرہیزگار انسان تھے۔ وہ ایک ایسے فقیہہ تھے جنہوں نے دل سے قرآن پڑھا اور سیکھا تھا۔ وہ مغل بادشاہ شاہجہاں کے دور میں مغل فوج کے ایک سپہ سالار تھے اور شور قلعے کے قلعہ دار تھے۔ ان کی والدہ حضرت بی بی راستی اعلیٰ صلاحیتوں کی مالک اپنے وقت کی ولیہ تھیں۔ آپ اعوان قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، حضرت علی کی اولاد میں سے تھے۔

ان کی پیدائش سے پہلے ان کی والدہ کو بشارت ہوئی کہ ان کے گھر ایک ولی پیدا ہو گا جو اپنی ذہنی روشنی اور روحانیت سے اس سرزمین کو روشن کر دے گا۔ چنانچہ ان کی پیدائش پر ان کی والدہ محترمہ نے ان کا نام باہو رکھا۔ وہ پیدائشی ولی تھے، ان کی روحانی راہنمائی کا آغاز بچپن سے ہی ہو گیا تھا۔ جب ایک غیر مسلم نے آپ کے روشن چہرے کو دیکھا تو ان کے نورانی چہرے کو دیکھ کر فوراً کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔ ارد گرد کے غیر مسلم حضرت باہوؒ کی اس کرامت سے اس قدر خوفزدہ ہو گئے کہ ان کے سرکردہ افراد پر مشتمل ایک وفد نے آپؒ کے والد سے ملاقات کی اور ان سے درخواست کی کہ جب بھی یہ بچہ گھر سے نکلے تو اعلان کیا جائے۔ تاکہ جب یہ بچہ گھر سے نکلے تو ہم لوگ اپنے گھروں میں رہیں، باہر نہ نکلیں اور اپنے مذہب پر قائم رہ سکیں۔

اپنی کتاب امیرالقعون میں آپ کہتے ہیں کہ وہ روحانی راہنمائی کی تلاش میں تیس سال سرگرداں رہے لیکن ان کا اس طرح بھٹکنا بے کار رہا۔ آخر انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وہ آلہ وسلم کی روحانی طور پر بیعت کی۔ ان کی شریعت پر چلنے کا پکا ارادہ کر لیا۔ بعد ازاں انہوں نے دہلی کے شیخ پیر عبدالرحمن قادری کے ہاتھوں پر بیعت کی۔ جو غوث پاک کی اولاد میں سے تھے، ان کا مزار دہلی میں ہے۔

بچپن سے ہی اللہ تعالی کی شان و شوکت کے مشاہدہ کی وجہ سے انھیں دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اسی لئے حضرت سلطان باہو نے کوئی باضابطہ تعلیم حاصل نہیں کی۔ وہ ابتدائی زندگی سے ہی روحانی تجربات حاصل کرنے اور سچائی کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ لیکن اس دوران وہ ہمیشہ اللہ تعالی کی واحدانیت کے دریا میں غوطہ زن رہے۔ انہوں نے انتہائی سنجیدگی سے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت پر عمل کیا اور ساری زندگی شریعت پر عمل کرتے ہوئے گزار دی۔ وہ کہتے تھے کہ میں نے شریعت پر عمل کر کے یہ مرتبہ اور مقام حاصل کیا ہے اس لئے کہ میں نے شریعت کو اپنا راہنما بنا لیا تھا۔

سلطان باہو نے تقریباً ایک سوچالیس کتابیں تصنیف کیں۔ ان سب کتابوں میں طالبان حق اور سچائی جاننے والوں کو بار بار تین چیزوں کا مشورہ دیا۔

٭ اندھیروں سے نکلنا اور غفلت کو ترک کرنا۔
٭ جستجو کرنا۔ طلب رکھنا۔ خواہش کو بڑھانا۔
٭ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر سختی سے عمل پیرا ہونا۔
حضرت سلطان باہو روحانی درجات کے حصول اور ان کی بلندی کے لئے درج ذیل سرگرمیوں پر زور دیتے تھے۔
اللہ تعالی کو خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اس کی یاد میں استغراق
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں استغراق اور شریعت کی پابندی۔
کلمہ طیبہ کا ہر وقت ورد
قرآن مجید کی تلاوت کرنا اس کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا۔ روز محشر کو ہر وقت یادکرنا
تزکیہ نفس
رسول اللہ کی یاد میں محورہنا اور ان پر درود بھیجنا۔

انہوں نے 1691ء میں اکسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کا مزار تحصیل شورکوٹ میں گڑھ مہاراجہ کے قصبے کے قریب دریائے چناب کے مغربی کنارے کے ایک گاؤں موضع سلطان حق باہو  میں واقع ہے جمادی الثانی کی پہلی جمعرات کو ان کی برسی پر ان کا عرس منایا جاتا ہے۔

تاریخ کا مطالعہ کرنے سے  پتہ چلتا ہے کہ اکابر و صوفیا اپنے زمانے میں شریعت کے نامور، معتبر علماء اور فقہا تھے۔ وہ ایک طرف طریقت کے شہسوار تھے تو دوسری طرف شریعت کے اسرار و رموز سے بھی پوری طرح بہرہ ور تھے۔ یہ وہ مردان پاک باز ہیں جو اخلاقی بے راہ روی اور فکری کج روی سے فطری طور پر متنفر ہوتے ہیں۔ یہ دنیاوی آرام و آسائشوں پر قلبی و روحانی آرائش کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ منصب اور عہدے کے اسیر نہیں ہوتے بلکہ قرآن وسنت کے سرمدی پیغام کے سفیر ہوتے ہیں۔

زہد، عبادت و ریاضت، مجاہدہ و کشف، ذکر وفکر اور تزکیۂ قلب ان کے محبوب مشغلے ہوتے ہیں۔ حضرت باہوؒ فقیر کی پہچان بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ فقیر اپنی پانچ خصلتوں کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ وہ اپنے پاس موجود علم سے اپنے گردوپیش سے ریا اور جہالت کو دور رکھے۔ لوگوں کے ساتھ حلم سے پیش آئے۔ وہ فیض بخش خاص و عام بن کر لوگوں کی دستگیری کرے۔ اس کے پاس مال ہو تو وہ سخاوت کرے اور دوسروں پر خرچ کرے۔ فقیر میں کمال درجے کا استغناء تب ہو گا جب سونا اور مٹی اس کی نظر میں برابر ہو گی۔

وہ فرماتے ہیں کہ درویش صاحب شعور اور فقیر صاحب حضور کی نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے دل میں دنیا کی محبت نہ رکھے۔ فقر گر ایک جذبہ ہے تو یہ جذبہ عشق ہے۔ اسے جہالت سے واسطہ نہیں ہے۔ فقر تو محض محبت اور اخلاص کی راہ ہے۔ اگر عشق نہ ہو تو فقر کے مطالبات پورے نہیں ہوتے اور نہ ہی منتہائے مقصود کے ساتھ وہ تعلق پیدا ہوتا ہے جو شوق بے پایاں عنایت کرتا ہے۔ عشق میں یہ کمال ہے کہ اس میں منافقت یا دوئی کی کوئی گنجائش نہیں اور اس کے زیر اثر انسان مشکل سے مشکل مقام سے بھی گزرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ عشق ایک ایسا جذبہ ہے جو غیب سے دل میں پیدا ہوتا ہے اور معشوق کے سوا کسی چیز سے قرار نہیں پاتا اور اس کے سوا مخلوق کا منہ نہیں دیکھنا چاہتا۔

ابیات باہو پنجابی زبان میں حضرت سلطان باہو کی اعلیٰ شاعری کا مجموعہ ہے۔ اس میں آپ بہت ہی منفرد اور بلند مقام پر نظر آتے ہیں۔ اس میں کل دو سو ابیات ہیں۔ گو کہ ان کا پنجابی کلام مختصر مجموعے پر مشتمل ہے لیکن انہیں جو شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی ہے وہ دوسرے شعراء کے ضخیم دیوانوں کو بھی حاصل نہیں ہو سکی۔ حضرت سلطان باہو نے ابیات سی حرفی کے انداز میں لکھی ہے، جو کہ پنجابی کی خاص صنف ہے، یہ دوسری کسی ہندوستانی زبان میں نہیں پائی جاتی اور نہ ہی اس کی بنیاد فارسی اور عربی متن میں ہے۔ اس میں حروف تہجی یا حروف ابجد کے حساب سے شعر کہے جاتے ہیں۔

بعض روایات کے مطابق یہ آپ کی جوانی کے وقت کا کلام ہے۔ دوران سلوک آپ جن کیفیات سے گزرے ابیات میں انہی کا اظہار ہے۔ آپ کے بعض اشعار میں روحانی تربیت کی ابتدائی دور کی عکاسی نظر آتی ہے۔ آپ نے ابیات میں بہت ہی سادہ زبان استعمال کی ہے، یہ اس دور کے عوام کی زبان تھی۔ صوفیا نے ادب کے ذریعے عوام سے رابطہ کی جو مثال قائم کی ہے وہ بہت سبق آموز بھی ہے اور قابل تقلید بھی۔ اسی لئے آپ کے ابیات میں جو چاشنی پائی جاتی ہے وہ دیگر پنجابی شعراء کی زبان میں بہت کم نظر آتی ہے۔

ان کے کلام میں اکثر تجر علمی، واردات قلبی، روحانی اور مقامات و مراتب اصفیاء کی تشریح و توضیح ملتی ہے۔ ان میں جا بجا قرآنی تفسیر کے حوالے اور اعادہ احادیث مبارکہ شامل ہیں۔ آپ نے اپنے مرشد پاک غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کو مدعا و منشا اور محور، مرکز بنا کر مرشد کامل کے اعلیٰ مقامات، توقیر، تجریم کو ذریعہ ہدایت و وسیلہ وصال و قرب الٰہی قرار دیتے ہیں۔ آپ مرشد پاک کی اتباع کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مرشد اس کو بنائیں جو آپ کو اپنائے اور آپ کو سیدھا رستہ دکھائے۔ آپ کو شریعت کی سیدھی راہ پر آپ کو گامزن کرے۔

مرشد کامل او سہیڑئیے جہیڑا دو جگ خوشی دکھاوے ہو
پہلے غم ٹکڑے دا میٹے وت رب دا راہ دکھاوے ہو
اس کلر والی کندھی نو چا چاندی خاص بناوے ہو
جس مرشد ایتھے کجھ نہ کیتا باہو اوہ کوڑے لارے لاوے ہو

( ترجمہ۔ وہی مرشد کامل ہے جو ہمیں دو جہانوں کی خوشیاں دکھائے۔ پہلے ہمارے اندر کے غم ختم کرے اور پھر ہمیں اللہ تعالی کی طرف جانے والا سیدھا راستہ دکھائے۔ ہمارے من کی اس کلر لگی دیوار کو صاف کر کے چاندی کی طرح صاف ستھری اور پاک بنا دے۔ لیکن جو مرشد اس دنیا میں آپ کے لئے کچھ نہیں کرتا وہ آپ سے جھوٹے وعدے کرتا ہے اس نے آپ کا پاس کہیں بھی نہیں کرنا۔ اس لئے مرشد بناتے وقت دیکھ بھال کر کسی کو اپنا مرشد بناؤ)

آپ اپنی ابیات میں ناقابل تردید حقیقت اور احادیث نبوی کے حوالے سے راہ حق میں قربانی کی اہمیت واضح کرتے ہیں اور شہید کربلا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی مثال کو راہ حق کی پہلی سیڑھی قرار دیتے ہیں۔ آپ عشق کو آب حیات سے تعبیر کرتے ہیں۔ عشق کی کٹھنائیوں اور اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو صبر کے ساتھ برداشت کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ سچا عاشق وہی ہے جس کا دل اس راہ پر چلتے ہوئے کبھی نہ کانپے۔ عقل قربانی سے دور بھاگتی ہے جبکہ عشق قربانی کرنے میں پیش پیش رہتا ہے۔

عاشق ہونویں تے عشق کماویں دل نوں رکھیں وانگ پہاڑاں ہو
لکھ لکھ بدیاں تے ہزار الاہمے کر جانیں باغ بہاراں ہو
منصور جہیے چک سولی دتے جہیڑے واقف کل اسراراں ہو
سجدیوں سر نہ چاہیے باہو توئیں کافر کہن ہزاراں ہو

(ترجمہ۔ اگر تم عاشق ہو اور عشق کرتے ہو تو تمہیں اپنا دل پہاڑوں کے پتھروں جیسا سخت، اونچا اور دکھ سہنے والا رکھنا پڑے گا۔ لاکھ لوگ تمہاری برائیاں کریں یا تمہیں طعنے دیں اور شکوے کریں تمہیں اپنا دل پھولوں کی طرح نرم رکھنا ہو گا جیسے باغ ہوں۔ یہاں منصور جیسے لوگ جو بہت سے بھیدوں سے واقف حال تھے ان کو لوگوں نے پھانسی پر چڑھا دیا تھا۔ تمہیں ہزار لوگ کافر کہیں لیکن تم نے سجدے سے سر نہیں اٹھانا۔ عشق کے جس رستے پر تم چل رہے ہو اس پر ثابت قدم رہنا، اس سے واپس نہیں ہونا۔)

ایک اور جگہ آپ فرماتے ہیں کہ  سچا عشق حسین علی دا باہو، سر دیوے راز نہ بھنے ہو۔ ( سچا عشق حضرت امام حسین نے کیا تھا جنہوں نے اپنا سر کٹا دیا لیکن باطل کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا )

دنیا کی بے ثباتی کا ذکر کرتے ہوئے آپ کہتے ہیں کہ دنیا رہنے کی جگہ نہیں اس میں ہمیں اپنا دل نہیں لگانا چائیے۔ جس طرح حیض عورت کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے اسی طرح دنیا میں دل لگانے سے بندے کو کچھ یاد نہیں رہتا۔

ایہہ دنیا رن حیض پلیتی ہر گز پاک نہ تھیوے ہو ٭ جیں فقیر گھر دنیاں ہووے لعنت اس دے جیوے ہو
حب دنیاں دی رب تھیں موڑے ویلے فکر کچیوے ہو ٭ سہ طلاق دنیاں نو دیے جے باہو سچ پچھیوے ہو

( اس سی حرفی میں آپ دنیا کے بارے میں بتاتے ہیں۔ کہ یہ دنیا عورت کے حیض کی طرح پلید ہے اور ناپاک چیز ہے۔ جس فقیر کو اس دنیا سے پیار ہو اور وہ اسے اپنا گھر سمجھے اس فقیر کی زندگی پر لعنت ہو۔ دنیا کا پیار اور اس کی محبت ہمارے رب سے ملنے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ باہو اگر سچ پوچھیں تو ہمیں دنیا کو فوراً تین طلاق دے کر ہمیشہ کے لئے فارع کر دینا چاہیے )

دنیا کی خاطر خرچ کرنے کا سلسلہ وہ ناپاک عمل ہے جو ہر نیک کام سے اس طرح محروم کرتا ہے جیسے حیض عورت کو نماز اور تلاوت قرآن پاک سے روک دیتا ہے۔ دنیا کو تین طلاق دینے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا کو اس طرح چھوڑ دینا چاہیےجس طرح عورت کو تین طلاق ہو جائے تو پھر اس سے دوبارہ رجوع نہیں کیا جا سکتا،  اسی طرح ایک دفعہ دنیا کو چھوڑ کر دوبارہ اس سے رجوع نہیں کرنا چاہیے۔

ایمان سلامت ہر کوئی منگے عشق سلامت کوئی ہو ٭ منگن ایمان شرماون عشقوں دل نوں غیرت ہوئی ہو
جس منزل نوں عشق پچاوے ایمان نوں خبر نہ کوئی ہو ٭ میرا عشق سلامت رکھیں باہو ایمانوں دیاں دھروئی ہو

(ترجمہ۔ دنیا میں ہر کوئی اپنے ایمان کی سلامتی چاہتا ہے لیکن کوئی بھی اپنے عشق کی سلامتی نہیں مانگتا ہے۔ ہر کوئی ایمان کی سلامتی کی دعائیں مانگتا ہے لیکن عشق کی سلامتی مانگتے ہوئے سب ہی شرماتے ہیں جس سے دل کو بہت غیرت آئی۔ جس منزل پر آپ کو عشق پہنچاتا ہے ایمان کو اس کی خبر تک بھی نہیں ہے۔ باہو میرا رب سچا میرا عشق سلامت رکھے، مجھے ایمان کی کوئی پروا نہیں ہے۔ ایمان مطلق تو ہر فرد اور فرقہ رکھتا ہے اور ہر ایک خواہش مند ہے۔ خواہ وہ کافر ہو یا منافق یہودی ہو یا مسلم عیسائی ہو یا مشرک لیکن عشق کے طالب خاص الخاص لوگ ہوتے ہیں جو کہ اپنی جانوں کو رضامندی مالک پر قربان کر دیتے ہیں اور ننگ و ناموس کو پس پشت ڈال دیتے ہیں)

ایہہ تن رب سچے دا حجرا وچ پا فقیرا جھاتی ہو ٭ ناں کر منت خواج خضر دی تیرے اند ر آب حیاتی ہو
شوق دا دیوا بال ہنہیرے متاں لبھی دست کھڑاتی ہو ٭ مرن تھیں اگے مر رہے باہو حق دی رمز پچھاتی ہو

اس سی حرفی میں سلطان باہو ؒ آپ اپنی ذات کے عرفان کی بات کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ آدمی کی ذات بہت اونچی اور سچی ہے اسی لئے اللہ تعالی ہم سب کے دل میں رہتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ہمیشہ فقیر کہتے تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ آپ اپنے اندر جھانک کے دیکھو تو تمہیں نظرآئے گا کہ اللہ تو تمہارے اندر ہی موجود ہے۔ وہ تو تمہاری شاہ رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہے۔ تمہیں خواجہ خضر کی منت کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اپنے اندر موجود رب کو خود پہچان لو تو تمہیں آب حیات کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اپنے اندر شوق پیدا کرو۔ تمہارے اپنے اندر کی جو روشنی ہے اس کی جوت جگاؤ تو تمہیں اپنا کھویا ہوا اپنا آپ مل جائے گا۔ جو لوگ مرنے سے پہلے مر جاتے ہیں ان کو حق کا راستہ مل جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو دنیا میں ہی اس کو ترک کر کے فقر کا رستہ اختیار کرتے ہیں، اس دنیا کو بھول کر خیر کے رستے پر چلتے ہیں وہ ہی حق کی راہ پر ہیں۔

جو دم غافل سو دم کافر سانوں مرشد ایہہ پڑھایا ہو ٭ سنیا سخن گیاں کھل اکھیں اساں چت مولا ول لایا ہو
کیتی جان حوالے رب دے اساں ایسا عشق کمایا ہو ٭ مرن توں اگے مر گئے باہو تاں مطلب توں پا یا ہو

(میرے مرشد فرماتے ہیں کہ تو جو پل اپنے رب سے عافل رہتا ہے وہی پل کافر ہے۔ جس وقت تم اپنے رب کو یاد نہیں کرتے، وہ وقت تم برباد کرتے ہو۔ مرشد کی اس نصیحت نے میری آنکھیں کھول دی ہیں اور ان کی یہ نصیحت سن کر جب میں نے اللہ سے لو لگائی ہے تو میری آنکھیں کھل گئی ہیں اور تب سے میں نے اللہ کے بتائے ہوئے سیدھے رستے پر چلنا شرو ع کر دیا ہے۔ جب سے ہم نے اپنی جان اللہ تعالی کے حوالے کی ہے ، اس کی ذات سے ہمیں عشق ہو گیا ہے۔

جب سے ہم نے دنیا اور اس کی یاد ترک کی ہے ہمیں جینے کا صحیح مطلب سمجھ آیا ہے۔ جو وقت اللہ کی یاد سے غافل گزرا وہ وقت صحیح نہیں ہے ہمیں مرشد نے یہ بتایا ہے اور جب ہم نے مرشد کی بات مان لی تو ہماری آنکھیں کھل گئیں۔ جب ہم نے اپنے اللہ سے عشق شروع کیا ہے اور تارک دنیا ہوئے ہیں تو ہمیں جینے کا صحیح سبب پتہ چلا ہے )

جے کر جیوندیاں مر رہناں ہووے تاں دیس فقیراں بہیے ہو ٭ جے کوئی سٹے گدڑ کوڑا وانگ اروڑی سہیے ہو
جے کوئی کڈے گاہلاں مہنے اس نوں جی جی کہیے ہو ٭ گلا الاہماں بھنڈی خواری یار دے پاروں سہیے ہو
قادر دے ہتھ ڈور اساڈی باہو جیوں رکھے تیوں رہیے ہو۔

(دل والوں اور صوفیا کی نظر میں فقیر وہ ہے جس کے دل میں صرف اور صرف اللہ تعالی کی محبت اور طلب کے سوا کچھ بھی باقی نہ رہے۔ آپ کی نظر میں فقیری خانہ ویرانی کا نام ہے۔ آپ اس سی حرفی میں فرماتے ہیں کہ اگر دنیا میں مر کے زندگی گزارنی ہے تو فقیروں کی طرح رہو۔ اگر کوئی تمہارے اوپر کرکٹ کوڑا پھینکے تو اس کو چپ کر کے سہہ لو ایسے جیسے روڑی پر سب اپنا کوڑا اور گند پھینکتے ہیں تو وہ آگے سے کچھ نہیں کہتی بلکہ چپ چاپ سہہ لیتی ہے۔

اگر تمہیں کوئی گالیاں دیتا ہے یا طعنے دیتا ہے تو وہ بھی آرام سے سہہ لو اور ان کو آگے سے جی جی کرتے رہو۔ اپنے یار کے لئے سب گلے الاہمے اور لڑائی جھگڑا اور خواری آرام سے سہہ لیں اور آگے سے اف تک نہ کریں۔ اللہ تعالی جو ایک قادر مطلق ہے اس کے ہاتھ میں ہماری ڈور ہے اور وہ ہمیں جدھر لے جائے ہمارا کوئی دوش نہیں۔ اللہ تعالی کے سامنے سب بے بس ہیں)

یہ سی حرف آپؒ نے واقعہ کربلا کے پس منظر میں لکھی ہے۔ واقعہ کربلا کے اصل سبب اور اس میں اس وقت کے موجود لوگوں کے طرز عمل اور کردارکے بارے میں بتایا ہے:

جے کر دین علم وچ ہوندا تاں سر نیزے کیوں چڑھدے ہو ٭ اٹھاراں ہزار جو عالم آہا او اگے حسین دے مردے ہو

جے کجھ ملاحظہ سرور دا کردے تاں خیمے تمبوں کیوں سڑدے ہو ٭ جیکر مندے بیعت رسولی تاں پانی کیوں بند کر دے ہو

پر صادق دین تنہاں دے باہو جو سر قربانی کردے ہو

( وہ فرماتے ہیں کہ یہ اللہ تعالی اور اس کے دین سے عشق تھا کہ حضرت امام حسین نے دین کی عظمت کے لئے اپنا سر کٹوا دیا لیکن باطل کے سامنے نہیں جھکے۔ اگر دین صرف علم پڑھنے میں ہی ہوتا تو پھرآپ اپنی جان قربان کیوں کرتے۔ اس وقت اٹھارہ ہزار سے زیادہ عالم دین موجود تھے جو دین کو سمجھتے تھے لیکن ان کے اندر اللہ تعالی اور اس کے رسول کا عشق نہیں تھا ورنہ وہ حضرت امام حسین سے پہلے دین کے لئے مرتے۔ اگر اس وقت یزید کی فوج والوں کو حضورﷺ کا ذرا بھی خیال دل میں موجود ہوتا تو وہ ان کی اولاد کے خیموں کو آگ کبھی نہ لگاتے اور اس طرح آل رسول اور ان کے ساتھیوں کے خیمے کربلا میں کبھی نہ جلتے۔ اگر وہ حضورﷺ کے فرمان کو مانتے، ان کی راہ پر چلتے تو وہ آل رسول اور ان کے ساتھیوں کا پانی کبھی بھی بند نہ کرتے۔ سچا دین انہی کے دم سے ہے جنہوں نے اپنا سر دین پر قربان کر دیا اور ظلم کا ساتھ نہیں دیا۔ ان دین کے سچے عاشقوں کی وجہ سے آج دین قائم و دائم ہے۔ )

چڑ چناں تے کر روشنائی تارے ذکر کریندے تیرا ہو ٭ تیرے جہے چن کئی سے چڑھدے سانوں سجناں باجھ ہنیرہو
جتھے چن اساڈا چڑھدا اتھے قدر نہیں کجھ تیراھو ٭ جس دے کارن اساں جنم گوایا باہو یار ملے ایک پھیرا ہو

(آپ چاند سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے چاند نکلو اور اندھیری رات میں روشنی کرو، ابھی ستارے تمہارا ہی ذکر کر رہے تھے۔ تمہارے جیسے کئی چاند روشن ہوتے ہیں دنیا سے اندھیرا دور کرنے کے لئے لیکن جب تک میرا چاند یعنی میرا محبوب مجھے نہیں ملتا میری دنیا میں روشنی نہیں آئے گی۔ جہاں میرے چاند یعنی میرے محبوب کے نظر آنے پر ہمیں خوشی ہو گی، وہاں تمہارے نظر آنے سے ہمیں ذرا خوشی حاصل نہیں ہو گی۔ اے چاند تمہاری ہمارے محبوب کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جس کے لئے ہم نے اپنی جان گنوائی ہے اور اس دنیا کر ترک کیا ہے، اگر وہ ہمیں ایک بار مل جائے تو ہماری دنیا روشن ہو جائے گی )

سن فریاد پیراں دیا پیرا میں آکھ سناواں کینوں ہو ٭ تیرے جہیا مینوں ہور نہ کوئی میں جہیاں لکھ تینوں ہو

پھول نہ کاغذ بدیاں والے در توں دھک نہ مینوں ہو ٭ میں وچ ایڈ گناہ نہ ہوندے باہو تو بخشیندوں کینوں ہو

(اپنے رب کے حضور میں پیش ہو کر آپ فرماتے ہیں کہ اے سب پیروں کے پیر اس کائنات کے رب میں اپنی عرض آپ کو سنا رہا ہوں میری فریاد کو آپ سن لیں۔ میرے جیسے تو آپ کے لئے لاکھوں ہیں لیکن آپ جیسا میرے لئے اور کوئی نہیں ہے۔ مجھے صرف آپ کا ہی سہارا ہے۔ میں بڑے ادب سے گزارش کرتا ہوں کہ میرے گناہوں کا حساب کتاب نہ لیں کیونکہ میں بہت ہی گناہگار شخص ہوں۔ اپنے در سے مجھے نہ دھکیلنا۔ پھر بڑے مان سے اپنے رب سے عرض کرتے ہیں، اے میرے رب اگر میں گنہگار نہ ہوتا تو آپ کس کو بخشتے۔ میں گنہگار ہوں اور آپ سے بخشش کا طلب گار ہوں جس کا آپ نے وعدہ کیا ہوا ہے۔ اے اللہ ہمیں بخش دے کیونکہ آپ کے سوا ہمار کوئی اور نہیں ہے)

عشق جنہاں دے ہڈیں رچیا او رہندے چپ چپیاتے ہو ٭ لوں لوں دے وج لکھ زباناں او پھردے گنگے باتے ہو
اوہ کردے وضو اسم اعظم دا تے دریا وحدت وچ نہاتے ہو ٭ تدوں قبول نمازاں باہو جد یاراں یار پچھاتے ہو

اس سی حرفی میں آپ سچے عاشق کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جس عاشق کی ہڈیوں میں عشق گھر کرتا ہے تو وہ چپ ہو جاتے ہیں شور نہیں کرتے۔ ان کے روئیں روئیں میں ہزار زبانیں بن جاتی ہیں جو ان کے اندر شور مچاتی ہیں لیکن وہ بالکل گونگے بہرے بن جاتے ہیں۔ سارا حال احوال جانتے ہوئے بھی وہ خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ وہ سچے عاشق ہوتے ہیں اور ان کا عشق اپنے رب سے ہوتا ہے وہ اسم اعظم کا ورد کرتے ہیں اور اللہ کی وحدانیت کا ورد کرتے رہتے ہیں۔ نماز تب ہی قبول ہوتی ہے، جب آپ کا عشق سچا ہو اور آپ کا محبوب یعنی آپ کا رب آپ کو پہچان لیتا ہے۔

مذہباں دے دروازے اچے راہ رباناں موری ہو ٭ پنڈتاں تے ملوانیاں کولوں چھپ چھپ لنگھیے چوری ہو
اڈیاں مارن کرن بکھیڑے درد منداں دے کھوری ہو ٭ باہو چل اتھائیں وسئیے جتھے دعویٰ ناں کسے ہوری ہو

حضرت سلطان باہو مذاہب عالم کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مذاہب کے دروازے بہت اونچے ہوتے ہیں اور ان کے مباعث بے حد طویل ہوتے ہیں لیکن ان کے مقابلے میں اللہ عزوجل کا راستہ بہت مختصر اور آسان ہے اور اس موضوع پر بحث و مباحثہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دین کے ٹھیکیدار مولویوں ، راہبوں ، پنڈتوں نے مذہب میں بحث مباحثہ کر کے اس کو اس قدر تاریک اور خراب کر دیا ہے کہ بندے کو ان سے اپنے آپ کو بچانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ اللہ تک رسائی کا راستہ بہت آسان ہے اس کا دروازہ اونچا نہیں ہے بلکہ وہ تو شہ رگ سے بھی نزدیک ہے۔

نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں مندرجہ ذیل کتابوں سے مدد لی گئی ہے۔
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باہوؒ مصنف جناب پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی
تذکرہ حضرت سلطان باہو ؒ مصنف فقیر محمد جاوید قادری
ابیات باہو۔ کلام باہو
اہل تصوف اورحضرت سلطان باہو۔ پروفیسر سید عامر کھوکھر
www۔ sultani۔ co۔ uk/hazrat۔ sultan۔ bahu۔ by Hazrat Sultan Bahu Trust

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *