یعنی اب محبت بھی بھاشن دے کر سکھائی جائے گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


محبت کے اظہار پر دو پریمیوں کو یونیورسٹی بدر کر دیا گیا۔ کوئی شک نہیں کہ لڑکی کی پسند لاجواب تھی کیونکہ لڑکے نے یونیورسٹی سے نکالے جانے کا الزام لڑکی پر تھوپنے کے بجائے نہ صرف اس کا دفاع کیا بلکہ فوراً ہی شادی کر کے اپنی محبت کا حق بھی ادا کیا اور ایک انوکھی مثال قائم کی۔ انوکھی اس لئے کیونکہ ہوتا یہی ہے کہ جتنے نیکو کار سوشل میڈیا پر بڑے بڑے بھاشن دے رہے ہوتے ہیں ان میں سے اکثر محبت کے نام پر گرل فرینڈ کے اعصاب پر تو سوار ہو جاتے ہیں لیکن جب حالات کا مقابلہ کرنے کا وقت آتا ہے تو ”امی نہیں مان رہیں“ کا نعرہ بلند کر کے اپنے اپنے بلوں میں واپس گھس جاتے ہیں۔ ایسے میں لڑکے کی وفا اور لڑکی کا خلوص دونوں ہی اس کم ظرف معاشرے کے لیے خودبخود مثال بن گئے ہیں۔

اب آگے چلتے ہیں۔ شادی کرنا اور بات ہے اور شادی کے لیے مجبور کرنا ایک اور بات۔ میں نہیں جانتی وہ دونوں بچے کون سی کلاس میں تھے، ان کی تعلیم یونیورسٹی سے نکال دیے جانے کے بعد مکمل تو خیر کیا ہونی تھی لیکن کیا وہ دونوں زندگی کی گاڑی کھینچنے کے لئے معاشی طور پر مضبوط ہیں؟ ان کی جگہ کسی ایسے جوڑے کا تصور کریں جو پہلے سیمسٹر سے تعلق رکھتا ہو، معاشی طور پر کھڑا ہونے کی کوشش کر رہا ہو تو کیا اس کے محبت کرنے پر پابندی عائد کردی جائے؟ یا محبت کے جرم میں اس کے کردار پر اتنی کیچڑ اچھالی جائے کہ اسے معاشی سختیاں جھیلنے کے لئے زبردستی شادی کو سزا کے طور پر اپنانا پڑے؟

دوسری بات یہ کہ زمانہ طالب علمی میں پسندیدگی یا محبت کا اظہار تعلق جوڑنے کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔ ایک دوسرے کو سمجھنا، زندگی ساتھ بتانے کے لئے ایک دوسرے کو اسی حوالے سے پرکھ کر ہی شادی کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اگر آپ میں سے کسی نے کالج یونیورسٹی میں پڑھا ہو تو یقیناً کسی نہ کسی کے لئے چاہت کا جذبہ بھی پیدا ہوا ہوگا۔ دل ہی دل میں اظہار کا طریقہ بھی ڈھونڈتے ہوں گے لیکن کیا بہتر زندگی گزارنے کے لیے شادی سے پہلے ایک دوسرے کو سمجھنا ضروری نہیں؟

میں نے مختلف ویب سائٹس پر ایسے بہت سے کالم اور لوگوں کے کمنٹس پڑھے ہیں جس میں وہ تعلیمی اداروں کے تقدس پر بھاشن دیتے نظر آرہے ہیں تو جناب دنیا کی ایسی کون سی یونیورسٹی ہے جہاں لڑکے لڑکیاں عشق نہیں کر سکتے یا ان کے عشق پر پابندی ہے؟ کچھ کو تعلیمی اداروں کے تقدس کی فکر ستارہی ہے اور کسی کو علم پر آوارگی کے حاوی ہونے کا ڈر کھائے جا رہا ہے اور کچھ تو محبت کے ادب آداب اور حدود سے آگاہی دینے کا فرض بھی بڑھ چڑھ کر ادا کر رہے ہیں۔

انسان کے بے ضرر، پر خلوص جذبات پر پہرے باندھنا اور آزاد جذبوں کو لگے بندھے راستوں پر موڑنے کے لئے بیڑیاں ڈالنا، اپنے آپ میں ایک گھٹن زدہ خیال ہے۔ سوچنے والی بات ہے جہاں بچوں کے سامنے ماں کا ریپ ہونے پر معاشرہ بے حسی کی تصویر بنا رہا وہاں دو بالغ لوگوں کے محبت کرنے سے کون سی اخلاقیات داؤ پر لگ جائیں گی؟

مجھے ان دو معصوم بچوں کی شادی پر کوئی اعتراض نہیں۔ اعتراض تو مجھے اس اعتراض پر ہے جو اظہار محبت کرنے پر اٹھایا گیا۔ اعتراض تو مجھے اس کردار کشی پر ہے جس کی وجہ سے دونوں بچوں کو اپنا دفاع کرنا پڑا۔ اور اعتراض تو مجھے اس زبردستی پر ہے جس کی وجہ سے ایک دوسرے کو سمجھنے، پرکھنے کے مرحلے میں شادی کو آخری حل کے طور پر مسلط کرنا لازمی خیال کیا جاتا ہے۔

مجھے ان بچوں کی محبت پر پورا بھروسا ہے۔ زندگی کے کٹھن مرحلے پر ایک دوسرے کا ساتھ دے کر بلاشبہ دونوں نے محبت کو دوام بخشا ہے اور میں ان دونوں کے لئے دعاگو ہوں۔ لیکن شکر ادا کرتی ہوں کہ ہمارے مہذب بھاشن دینے والے خواتین و حضرات انسان کے اوائل ارتقا کے دوران نہیں پیدا ہوئے ورنہ اس وقت بھی ہر فطری عمل کو توڑ مروڑ کر گھسی پٹی شکل دیتے رہتے تو یقیناً بندر سے انسان بننے میں ہمیں کروڑوں سال مزید لگ جاتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply