آدرش : صلاح الدین عادل کے ناول ”خوشبو کی ہجرت“ سے ایک اقتباس
”بی بی! یہ ایک لمبی دکھ بھری کہانی ہے۔ آپ سن کر اپنے دل کو برا کیوں کریں۔“
”دلاور خاں! دکھ اور انسان ایک لمبے سفر کے ساتھی ہیں۔ ان دونوں میں جدائی شاید ممکن نہیں۔ اگر ممکن بھی ہو تو انسان کو شاید یہ جدائی ناگوار گزرے۔ دکھ ایک ایسا کھیت ہے جس میں سے انسان کی خوشیاں پھوٹتی ہیں، ایک ایسا باغ ہے جس میں انسان کے حسین ترین لمحے کھلتے ہیں۔ مائیں دکھ میں پلوٹھی کے بیٹے جنتی ہیں، ان کو پالتی پوستی ہیں، جوان کرتی ہیں اور دوسری عورتوں کے سپرد کر دیتی ہیں۔
میرے سوال سے تمہیں دکھ ہوا، میں جانتی ہوں۔ مگر میں یہ بھی جانتی ہوں اس دکھ کے ساتھ وہ سب حسین لمحے لوٹ آئے ہیں جو تمہاری زندگی کا عزیز ترین سرمایہ ہیں۔ ان کا حسن اک نئی نویلی، انوکھی، پھبن لے کر آیا ہے جس سے تم پہلے کبھی آشنا نہ تھے۔ اس نئی پھبن کے سہارے تم اپنے ماضی سے رضامند ہو جاؤ گے، تم ان سب کو معاف کر سکو گے جنہوں نے تمہیں دکھ دیا۔ ”
ان دونوں کے درمیان خاموشی بہنے لگی اور وہ دونوں خاموشی کے کناروں پر کھڑے ایک دوسرے کو تکتے رہے۔ دلاور خان کی آنکھوں کی آب ماند پڑ گئی، اس کی آنکھوں کے کناروں پر قطرے جھلملانے لگے اور اس کی آنسوؤں میں بھیگی ہوئی، مگر واضح، آواز خاموشی کے سینے پر تیرنے لگی۔
”بیٹی۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ میرے ماضی کی حسین یادوں نے، میری چھپی ہوئی، مستقبل سے وابستہ، آرزوؤں نے تمہیں ابھی ابھی جنم دیا ہے۔ مجھے اجازت دو کہ میں تمہیں بیٹی کہہ سکوں۔ تم اگر اجازت نہ بھی دو تو اس لمحے سے تم بیٹی ہو اور ہمیشہ بیٹی رہو گی، میرے لیے۔“
اس نے ایک لمبا، بہت ہی لمبا، سانس لیا، جیسے کہ وہ تمام ہوا کو اپنے سینے میں چھپا لے گا، اور بولنے لگا اور بولتا ہی چلا گیا!
”ان شمالی پہاڑوں کے اس پار ایک بلند ٹیلے پر اونچے اونچے درختوں کے سائے میں میں نے پہلی بار آنکھ کھولی۔ ہر طرف امن تھا۔ اس امن میں دن بھر کھیلتے، رات کو ماں سے شہر کی، پریوں کی، شہزادیوں کی کہانیاں سنتے میں اور میرا بھائی جوان ہوئے۔ باپ سے ٹیلے کے سائے میں اپنے کھیتوں میں ہل چلانا سیکھا۔ کھیتوں سے اتنا غلہ پیدا ہوتا کہ ہم اور ہمارے جانور پیٹ بھر کر کھا کر بھی برے وقتوں کے لیے کچھ نہ کچھ بچا لیتے۔
دن بھر محنت کرتے اور شام ہوتے ہی کھانا کھا کر، کچھ دیر باتیں کرتے کرتے رات بھر سوتے رہتے۔ زندگی ایک میدانی دریا کی طرح آہستہ آہستہ گزرتی چلی جاتی تھی کہ ہمارے امام مسجد کی بیٹی سارہ جوان ہو گئی۔ ہمارے ننھے سے گاؤں میں، جو ہر دوسرے گاؤں سے الگ تھلگ اور دور تھا، ایک ہلچل پیدا ہو گئی۔ گاؤں کے نوجوان ایک دوسرے کو شک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے، ایک دوسرے پر جاسوسی کرنے لگے۔ ان دنوں مجھے گھوڑوں سے نیا نیا عشق ہوا تھا۔ جہاں کہیں کسی منہ زور یا طرحدار گھوڑے کی خبر پاتا اس کو دیکھنے کے لیے بے تاب ہوجاتا۔ میں نے گھوڑوں کے عشق میں دور دور کا سفر کیا۔ کئی کئی دن تک گھر سے، گاؤں سے دور رہتا، لوٹ کر آتا تو سارہ ان گھوڑوں کے متعلق مجھ سے طرح طرح کے سوال کرتی اور میں اپنے عشق میں جانے کیا کیا کچھ بتاتا کہ وہ ہر دم میرے انتظار میں رہتی۔ کئی بار اس نے خواہش کا اظہار کیا کہ کاش وہ ایسی جگہ جاسکے جہاں ہزاروں گھوڑے ہوں اور وہ ان کو مسحور کرسکے۔ ایک رات جب میں ایک نئے گھوڑے کی تسخیر کر کے گاؤں لوٹا تو چاندنی رات تھی۔ رات کافی جا چکی تھی۔ میں جب گاؤں کے قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ سارہ ٹیلے کے سائے میں کھلتی چاندنی میں ناچ رہی ہے۔ اس کے ناچ میں اک عجیب جادو تھا۔ چاند آسمان پر ساکت ہو گیا، ہوا سو گئی تھی۔ کٹی ہوئی فصلوں کے ڈھیروں کے درمیان سارہ کا ہلکا پھلکا جسم اندھیری راتوں میں نیلے آسمان پر بجلی کے کوندے کی طرح لہکتا، تھرکتا تھا۔ اس رات وہ رات بھر ناچتی رہی اور میں کھیت کی منڈیر پر بیٹھا اسے دیکھتا رہا۔ صبح ہوئی تو میں نے اپنے آپ کو منڈیر پر سر رکھے سوئے ہوئے پایا۔
میرا باپ بہت سیانا تھا اس نے امام مسجد سے میرے لئے سارہ کا رشتہ مانگ لیا۔ امام مسجد کو اس سے اچھا رشتہ شاید ہی ملتا۔ ہماری شادی ہو گئی۔ سارہ ہر لحاظ سے اچھی بیوی، اچھی بہو ثابت ہوئی مگر اس کی آنکھوں میں کبھی کبھی، چند لمحوں کے لیے، اک عجب اداسی تیرتی نظر آتی۔ میں اس سے اس اداسی کا سبب پوچھتا تو وہ ٹال جاتی۔
ایک رات ایسی ہی چاندنی تھی، مگر بہت ہی پروقار اور حسین۔ اچانک میری آنکھ کھلی اور نظر سارہ کے بستر کی اور گئی۔ سارہ بستر پر نہ تھی۔ میں حیران رہ گیا، سکتے میں آ گیا۔ دل میں لاکھوں گمان گزر گئے۔ میں اس ڈر سے بستر سے نہ اٹھ سکا کہ اگر سارہ بے وفا نکلی تو اسے قتل کردینے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا۔ اور یہ قتل برسوں میں اس پورے علاقے کا پہلا قتل ہو گا۔ اور بہت رسوائی ہو گی۔ اس کے قتل کے خیال سے میرا سارا بدن سن ہو گیا۔ آخر بے وفائی کے تصور سے دل میں غیظ و غضب کی اک گرم گرم لہر اٹھی اور یکایک بستر سے اٹھ کھڑا ہوا اور تیزی سے باہر نکل گیا۔ دور دور تک دیکھا۔ سارہ کہیں نہ تھی، کوئی نہ تھا۔ ٹیلے کے مغربی کونے پر درختوں کے جھنڈ کے درمیان ایک چھوٹا سا سبزہ زار تھا جہاں بیاہ شادی کے موقعوں پر برات کو دوپہر کے وقت ٹھہرایا جاتا تھا۔ سارہ کو ڈھونڈتے میں اس سبزہ زار میں جا نکلا تو سارہ کو چاندنی میں رقص کرتے پایا۔ اس کا رقص بڑا ہی اداس اداس تھا۔ اس کو یوں رقص کرتے دیکھ میرے دل کو چرکا سا لگا اور دل بیٹھ گیا۔ میں ایک اونچے سے درخت کا سہارا لیے اس کو ناچتے دیکھتا چلا گیا۔ چاند مغرب کی طرف ڈوبتا چلا گیا۔ سارہ ناچتی رہی۔ جب چاند مغرب کی گہرائیوں میں ڈوب گیا تو سارہ تھک کر سبزے پر گر گئی اور سو گئی۔ میں دیر تک اس کے بھرپور، دمکتے، ابھرتے ڈھلکتے جسم کو دیکھا کیا۔ یکایک مجھے خیال آیا کہ کہیں اس کے گرم گرم جسم کو ہوا نہ لگ جائے۔ میں اس کی طرف لپکا، اس کو اٹھایا اور گھر کی طرف لڑکھڑاتا ہوا چل دیا۔ پو پھٹ رہی تھی۔ ہلکی ہلکی ہوا کے سہارے بھینی بھینی خوشبوؤں نے بہار کی آمد کا اعلان کیا۔ میں رقص اور خوشبوؤں کے نشے میں گھر کی اور چلتا گیا۔ مجھے آج بھی یاد نہیں کہ کب اور کیسے گھر پہنچا کیونکہ اس رات کے بعد کئی دن رات ہم دونوں بخار میں پھنکتے رہے اور بے ہوش پڑے رہے۔
بخار اترنے کے کئی روز بعد ایک دوپہر ہم دونوں گھر میں اکیلے تھے کہ باقی سب لوگ کھیتوں میں تھے۔ میں نے سارہ کو اپنی جان کی قسم دے کر پوچھا کہ اس کو کیا دکھ تھا کہ وہ کبھی کبھی بیٹھے بیٹھے یوں اداس اور بے خود ہوجاتی تھی کہ مجھے بھی اس لمحے نہ پہچانتی تھی۔ پہلے تو وہ کچھ نہ بولی مگر میرے اصرار پر اس نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھول کر، چہرہ اٹھا کر، میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:
” میں نے جب سے چلنا سیکھا ہے میرے دل میں سمائی ہے کہ جنوبی پہاڑوں کے اس پار کسی بڑے شہر میں جاؤں۔ اس ننھے سے گاؤں میں، اونگھتی، سائیں سائیں کرتی راتوں، اداس دوپہروں، سنسناتی سہ پہروں، حیران شاموں کی وسعتوں میں مجھے اکیلے رہ جانے کا دکھ ستاتا رہا ہے اور میرے دل میں ہر دم صدا اٹھتی رہتی ہے : تیرا مقام اس گاؤں میں نہیں، دور شہر کے بڑے بڑے باغوں کے درمیان ننھے سے، خوبصورت گھر میں ہے جہاں موسیقی کا ہلکا ہلکا شور کانوں کو سہلاتا ہو۔ جہاں سڑکوں پر گہماگہمی کے گنگناتے شور میں ہجوم کے درمیان رنگین کپڑے پہنے، کسی کے ہاتھ میں ہاتھ دیے، اونچی عمارتوں، نت نئی چیزوں سے بھرپور دکانوں کو دیکھتے ہی جائیں، مگر اس اجنبی شہر کے تصور سے میری روح تھرا اٹھتی ہے، مگر پھر بھی میرا رواں رواں، میرے حواس، میرے کان، میری آنکھیں، شہر کی ہوا، شہر کے ماحول، شہر کے شور کے لیے بے تاب ہو جاتے رہے ہیں اور ہو جاتے ہیں۔
تمہارے گھوڑوں کی باتیں سن سن کر کچھ دیر کے لیے دل سے، خیال سے، یہ شہر کا جادو اتر جاتا، مگر تمہاری غیر حاضری میں دل مچل مچل جاتا اور قدم پہاڑوں کی اور لپکنے کے لیے بے تاب ہو ہو جاتے۔
پھر ایک دن آنکھوں کو تمہارا چہرا مہرا، تمہارا جسم، تمہاری چال بھلی لگنے لگی، تن من میں تمہارا رنگ روپ سما گیا۔ مگر جب شادی کے بعد بھی تم گھوڑوں کے عشق میں بے بس پھرتے رہے تو میرے اندر ایک بار پھر شہر کا شور، شہر کی باس رچنے لگی اور اب تم اور شہر میرے اندر اس زور شور سے لڑتے سنائی دیتے ہیں کہ میں ڈر ڈر جاتی ہوں، راتوں کو تنہائیوں میں اٹھ اٹھ کر صدیوں جاگتی رہتی ہوں۔ بدن دکھنے لگتا ہے، تمہارے بغیر کہیں رہنے کا خیال ڈسنے لگتا ہے۔ مگر۔ اس گاؤں کی فضا میں میرا دم گھٹنے لگتا ہے۔ میں اس گاؤں کے حسن سے بے خبر نہیں ہوں مگر اس کا حسن میرے لیے نہیں ہے۔ میرے اندر ایک بڑا میدان ہے جہاں ہر لمحہ مختلف رفتار سے ہوا چلتی ہے۔ کبھی اٹکھیلیاں کرتی، کبھی دندناتی، کبھی سنسناتی ہوئی، کبھی کبھی صدیوں کے لیے ہوا سو جاتی ہے اور ویرانی دور دور تک چھا جاتی ہے۔ اور مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں مر گئی ہوں اور صدیاں گزر گئی ہیں اور اک شہر میں سڑک بنانے کے لیے زمین ہموار کی جا رہی ہے اور زمین سے اک لاش نکلی ہے، گلی سڑی ہوئی اور میرے کانوں میں صدا آتی ہے ”یہ لاش تو ہے“ ۔ شہر میں ایسی حالت میں پہنچنے کے خیال سے میں لرز اٹھتی ہوں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


