آدرش : صلاح الدین عادل کے ناول ”خوشبو کی ہجرت“ سے ایک اقتباس
بیٹے کی موت کا صدمہ مالک کو بہت تھا مگر اس میں اک شرمساری بھی تھی جو اس کو مجھ سے آنکھ ملانے سے روکتی تھی۔ اس شرمساری کے اور موت کے صدمے کے سبب اس کا دل گھوڑوں سے اچاٹ ہو گیا۔ شکار پر جانا خواب ہو گیا مگر اپنی بنائی ہوئی روایت کو قائم رکھنے کی خاطر اس نے اصطبلوں کو قائم رکھا۔ افسر آتے رہے، شکار کھیلتے رہے۔ ان کے ساتھ صداقت علی کبھی نہ گیا۔ کسی نہ کسی بیٹے کو ساتھ جانے کا حکم مل جاتا۔ میں تو بہرحال ساتھ رہتا۔ جوان اور لائق بیٹے کی موت کے ستم سال بھر سے زیادہ نہ سہ سکا اور چل بسا۔
چند برسوں تو بیٹوں نے باپ کی روایت کو قائم رکھا، مگر ان کو گھوڑوں سے محبت نہ تھی، شکار کا شوق نہ تھا، روپے کی محبت تھی، کاروبار کی محبت تھی۔ انہوں نے گھوڑے بیچ دیے۔ میں وہاں سے رخصت ہو آیا۔ برسوں شہر شہر کی خاک چھانتا پھرا۔ کہیں دل نہ لگا۔ بھائی نے یہاں چلے آنے کی دعوت دی تو چلا آیا۔ برسوں سے یہاں ہوں۔ جو ولی پور میں کمایا تھا وہ محفوظ ہے۔ لہٰذا روزگار کے فکر سے فارغ ہوں۔
یادیں تمام رات سونے نہیں دیتیں۔ نور سے لگاؤ ہو گیا ہے، نور زندگی میں دلچسپی کا باعث ہے۔ ”
وہ بولتے بولتے تھک گیا تھا۔ بھولے ہوئے دکھ درد لوٹ آئے تھے۔ بھلائے ہوئے حسین لمحے ایک بار پھر جوان ہو گئے تھے۔ اسے سینہ تنگ معلوم ہونے لگا۔ وہ آہستہ آہستہ سانس لینے لگا جیسے بڑی تکلیف میں ہو۔
”میں نے یہاں آ کر اکثر سوچا ہے کہ اگر سارہ میں شہر جانے کی آرزو نہ ہوتی تو ہم اپنے ننھے سے سنہرے گاؤں میں کتنے خوش رہتے۔ کبھی خیال آتا ہے کہ کیسے خوش رہ سکتے تھے؟ گاؤں میں زندگی بہت ہی محدود ہوتی ہے۔ جلد وہ لمحہ آ جاتا جب سارہ اور مجھ میں سب باتیں ختم ہو جاتیں۔ پھر زندہ رہنے کی کشمکش رہ جاتی۔ میں دن بھر ہل چلاتا یا رہٹ کی گھومتی نشست پر پڑا اونگھتا رہتا۔ سارہ کھانا پکاتی، کپڑے سیتی، بچوں کی (اگر ہوتے تو) دیکھ بھال کرتی اور دوپہر کو کھانا لے کر کھیتوں میں چلی آتی۔ ہم دونوں کی زندگی کے مرکز بدل جاتے، محور بدل جاتے۔ وہ بچوں میں محو رہتی، میں کھیتوں میں، بیلوں میں، کنویں کے بہتے پانی میں۔ دن رات میں، چند لمحے ہماری زندگی مل کر چلتی اور بس۔
کسان کی زندگی کا جہان کتنا تنگ ہوتا ہے، مجھے اکثر خیال آتا ہے۔ اس کی زندگی کائنات کی ہر حرکت کے ساتھ بندھی ہے۔ وہ زمین اور آسمان کی زندگیوں میں ایک ضروری موڑ ہے۔ اس کی زندگی کائنات کے تغیر و تبدل کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ صبح کے ساتھ اٹھتا ہے اور کبھی اس سے بھی پہلے، آسمان کی حالت پر نظر ڈال کر مطمئن یا پریشان ہوجاتا ہے۔ وہ دھوپ کو اپنے خون میں حل کرتا ہے اور اپنے پسینے سے زمین کو سیراب کرتا ہے۔ راتوں تاروں کی چھاؤں میں کھیتوں کی زمین کو پانی سے نہال کرتا ہے۔ اس کا سانس دھرتی کے سانس کے ساتھ مل کر اک ایسا نغمہ پیدا کرتا ہے جو زمین کو سہلاتا ہے اور وہ اس کے لیے فصلیں جنتی ہے۔ اس کی زندگی زمین کے ساتھ بندھی ہے۔ زمین مردہ ہو جائے تو وہ بھی مردہ ہوجاتا ہے۔
شہر کی زندگی میں انسان مظاہر فطرت کے اثر سے اپنے آپ کو آزاد کر لیتا ہے، تنہا ہوجاتا ہے، اس پر اندر کی زندگی کھلنے لگتی ہے۔ شہر میں ایک نئی نویلی روح ہر دم رنگ بدلتی رہتی ہے مگر یہ روح اداس کرتی ہے، بے آفاق وسعتیں انسان پر مسلط کر دیتی ہے۔
کاش شہر اور دیہات کی زندگیوں میں ملاپ ہو سکتا ۔ ہم فطرت سے ہم آہنگ بھی ہوتے اور اس کے عوامل میں بندھے ہوئے بھی نہ رہتے اور ہمارے اندر اور باہر ایک ایسا ملاپ ہوتا جو مختلف فصلوں کے کھیتوں میں ہوتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کو قوت بخشتے ہیں، ایک دوسرے کو خصیب کرتے ہیں۔ ایسا ہو سکنا کیا انسان کے لیے واقعی مشکل ہے؟ ”
وہ چپ ہو گیا۔ اس کو اب کچھ نہ کہنا تھا۔ اس کو قرار آ گیا تھا۔
”بابا! بڑی دانائی ہے تمہاری باتوں میں۔ کہاں سیکھی تم نے یہ دانائی۔“
”سارہ کے محبوب سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اس کی باتیں پہلے پہل تو میری سمجھ میں نہ آتی تھیں۔ جب اس کو اس کا احساس ہوا تو وہ اپنی باتوں کا تانا بانا مظاہر فطرت کے عوامل اور گھوڑوں کی حرکات سے تیار کرنے لگا۔ اس کا علم میرے تجربے میں حل ہونے لگا مگر میرا تجربہ، افسوس صد افسوس، اس کے لیے علم کی شکل اختیار نہ کر سکا۔ شاید وہ زندگی سے بہت زیادہ حسن کا خواہاں تھا اور خود اپنے آپ سے وہ معجزوں کا طلبگار تھا مگر روزمرہ کی زندگی معجزہ نہیں۔ اس کو روزمرہ کی زندگی قبول نہ تھی۔ وہ ہر لمحے کو غیر معمولی بنا دینے پر ہر دم تلا رہتا تھا۔ اس کی زندگی میں سارہ غیر معمولی کا روپ تھی۔ اگر اس کا باپ اس کا تعاقب نہ کرتا تو شاید وہ غیر معمولی کو روزمرہ بنانے میں کامیاب ہوجاتا۔ کبھی کبھی مجھے اس کی زندگی پر، اس کے انجام پر رشک آتا ہے۔ اس کو زندگی کو غیر معمولی بنانے کا موقع ملا اور وہ اس کے لیے جان پر کھیل گیا۔ کتنا دلیر جواں مرد تھا وہ۔
میں نے اکثر سوچا ہے کہ میری یادوں میں اس کے علم کا خون رواں ہے۔ میرا جسم میرے تجربے کا امین ہے اور میرا دل سارہ کی آرزوؤں کا محافظ ہے اور میرا ذہن اس کے محبوب کے خیالات کا روپ بن چکا ہے۔ میرے جسم، میرے دل اور میرے ذہن کی زندگیاں الگ دائروں میں بند ہیں، ان میں کوئی رشتہ نہیں۔ میں نے ان دائروں کو توڑ کر ایک کرنے کی اور ان سب میں ملاپ پیدا کرنے اور ان سے زندگی کی نئی نئی، موصل منزلوں کی تخلیق کی بہت کوشش کی ہے مگر کامیابی کا حسین چہرہ نظروں سے اوجھل ہی رہا۔ میں ایک کسان ہوں، دانا انسان نہیں بن سکتا۔ اگرچہ گاؤں میں پیدا ہوا ہوں، مجھے شہر کی ہوا لگ گئی ہے۔ دونوں میں ملاپ نہیں کرا سکا۔ میں اپنے مرکز سے ہٹا ہوا، اپنے محور سے گمراہ ایک سیارہ ہوں۔ میری زندگی ایک دم دار ستارہ ہے جس کا کوئی محور نہیں، جس کی کوئی منزل نہیں۔ ”
دلاور خان نے جھک کر نور کے پاؤں سے گھونگھرو کھولے، طبل اٹھایا اور فردوس سے الوداع کہے بغیر، نور کی گردن میں بانہہ ڈالے اس سے رخصت ہو گیا۔
(بشکریہ: ڈاکٹر ساجد علی)


