آدرش : صلاح الدین عادل کے ناول ”خوشبو کی ہجرت“ سے ایک اقتباس
”مجھے تمہاری کامیابی پر کوئی خوشی نہیں ہوئی مگر میں اپنے وعدے کا پاس کروں گا۔ تم گھوڑا لے جاؤ۔ دور بہت دور، لے جاؤ اسے جہاں سے اس کے متعلق مجھے کوئی خبر نہ آئے۔ نہ جانے میں اس کی خبر سن کر کیا کر بیٹھوں۔“
اس کے بعد وہ اپنے آپ میں کھو گیا۔ جب چونک کر لوٹا تو مجھ سے پوچھنے لگا کہ میں نے گھوڑے کو کس طرح رام کیا تھا۔ میں نے تمام روداد کہہ سنائی۔ سن کر کہنے لگا کہ میں ہی گھوڑے کا صحیح حقدار تھا۔ پھر اس نے مجھ کو جانے کے لیے کہا۔ اس نے میرے پیچھے ایک نوکر کو روانہ کیا جس نے مجھے سائیس سے گھوڑا دلا دیا۔
گھوڑا لے کر جب میں گاؤں لوٹ آیا تو چاند مشرق سے نکل رہا تھا۔ درختوں کے لمبے لمبے سائے چاندنی سے مل کر عجیب عجیب شکلیں بنا رہے تھے۔ گاؤں کے سرے پر سارہ مجھے میری راہ دیکھتی ہوئی ملی۔
کچھ دنوں کے بعد سارہ اور میں اس گھوڑے پر سوار ہو کر شہر کی سمت چل دیے۔ جب ہم ولی پور کے قرب و جوار میں پہنچے تو مشرق سے کوکتی ہوئی ایک روشن آنکھ مغرب کی طرف تیزی سے بڑھی چلی آتی نظر پڑی۔ گھوڑا، میں اور سارہ ڈر گئے۔ مجھے ایکا ایکی خیال آیا کہ یہ ریل گاڑی ہے۔ میں نے پہلے ریل گاڑی کبھی نہ دیکھی تھی مگر گھوڑوں کے عشق میں دور دور کے گاؤں کا سفر کرنے کے دوران میں نے ریل کے متعلق سن رکھا تھا۔ گاڑی کی روشن آنکھ سے روشنی کا ایک دھارا، زمین پر بل کھاتا ہوا ہمارے سامنے سے زن سے گزر گیا اور اس کے پیچھے روشنی کا ایک شہر پہیوں پر گزر گیا۔
ہم شہر میں داخل ہو گئے۔ لوگوں سے پوچھا کہ شہر میں کس کے پاس گھوڑے ہیں۔ معلوم ہوا کہ شہر کے سب سے بڑے رئیس صداقت علی کے پاس سینکڑوں ہی گھوڑے ہیں اور ان کے لیے اصطبلوں کا ایک شہر آباد ہے۔ ہم رئیس کے حضور پہنچے۔ ہمارے پہنچنے سے پہلے ہمارے گھوڑے کی خبر اس تک پہنچ چکی تھی۔ اس نے مجھے ملازم رکھ لیا۔ میں چند ہی برسوں میں اس کا میر اصطبل ہو گیا۔ گھوڑوں سے مجھے عشق تو تھا ہی مگر یہاں پہنچ کر مجھے معلوم ہوا کہ گھوڑے بھی میرے عشق کا جواب دینا جانتے تھے۔
شہر کی ہوا میں سارہ پنپنے لگی، اس کے حسن کو چار چاند لگ گئے۔ میرا اور اس کا پیار بڑھتا ہی چلا گیا۔ ہم اصطبلوں کے قریب، شہر سے ذرا نکل کر، ایک مکان میں رہنے لگے جس کے چاروں طرف سبزہ زار تھا اور اس سے پرے کھیت تھے۔ جب بھی چاندنی رات ہوتی تو سارہ آدھی رات کے بعد اٹھ کر گھوڑوں کے تھانوں میں چلی جاتی اور کئی ایک گھوڑے کھول سبزہ زار میں لے جاتی۔ گھوڑے اور وہ سبزہ زار میں کلیلیں کرتے اور پھر وہ ان کے درمیان صبح تک رقص کرتی۔ گھوڑوں کو مسحور کرنے میں اس کو عجیب مزا ملتا۔ ان راتوں میں صبح تک رقص کر لینے کے بعد وہ دنوں خوشی کے ساتویں آسمان پر اڑتی پھرتی۔
زندگی کے دن مزے سے گزرتے رہے۔ میں اپنے کام میں مگن رہنے لگا۔ مالک کو شکار کا شوق تھا۔ اس کے ہزاروں دوست تھے، شہر اور صوبے کے افسر اس کے یہاں شکار کرنے کی خاطر دور دور سے آتے تھے۔ اس نے ایک رکھ میں ہرن پال رکھے تھے۔ ہزاروں کی تعداد تھی ان ہرنوں کی۔ سال میں دو تین بار وہ اعلیٰ افسروں کے ساتھ ان کا شکار کھیلتا تھا۔ میں بھی اکثر، بلکہ ہمیشہ، اس کے ساتھ ساتھ رہتا۔
ایک دفعہ تو سارا سال ہی افسروں اور اس کے دوستوں کی چہل پہل میں ایک ہنگامہ رہا۔ میں سارا سال مصروف رہا۔ سارہ کی طرف اتنی توجہ نہ دے سکا جس کی وہ عادی ہو چکی تھی۔ اس میں ایک نئی آرزو نے جنم لے لیا: اس کو جانوروں کی طرح انسانوں کو بھی مسحور کرنے میں مزا ملنے لگا اور وہ ان کو مسحور کرنے کے لیے نئے نئے جتن سوچتی رہتی۔
مالک کا سب سے چھوٹا لڑکا میری ملازمت سے پہلے ہی عین نوجوانی میں افرنگ تعلیم کے لیے گیا ہوا تھا۔ جب وہ لوٹ کر آیا تو ان دنوں سارہ میں مسحور کرنے کی آرزو زوروں پر تھی۔ بیسیوں ہی نوجوان اس کے حسن کے جال میں پھنس کر تڑپ رہے تھے مگر اس کی نظر کی تاب لانا کسی کے بس میں نہ تھا۔
مالک کا بیٹا بہت ہی وجیہہ اور عقیل اور دلیر تھا۔ اس کو اللہ نے سب کچھ دے رکھا تھا جس کی انسان خواہش کر سکتا ہے۔ حسن اور جوانی، رعنائی اور قوت، دولت اور اقتدار، علم اور ذہانت۔ مگر اس کے دل میں اپنے جیسے کی آرزو برسوں سے تڑپ رہی تھی۔ افرنگ میں بھی اس کو اپنا جواب نظر نہ آیا تھا۔ اس بات کا اس نے مجھ سے کئی بار، شکار پر جاتے ہوئے، شکار سے واپس آتے ہوئے، ذکر کیا تھا۔ اس کو بھی میری طرح گھوڑوں سے عشق تھا مگر میرے اور اس کے عشق میں بڑا فرق تھا۔ میرا عشق اس عشق سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھا جو ایک مرد کو ایک عورت سے، یا ایک عورت کو ایک مرد سے ہوتا ہے۔ مگر اس کا عشق بہت ہی انوکھا تھا، غیر انسانی تھا۔ اسے گھوڑوں سے زیادہ گھوڑپن سے عشق تھا۔ اس کے نزدیک گھوڑا رعنائی اور بھرپور قوت کا یکتا مظہر تھا اور گھوڑے کی آنکھ ایک جہاں، ایک طلسم تھی جس میں شعور اور ناشعور ایک دوسرے سے بغلگیر ہوتے رہتے ہیں اور ان کی نیند میں بیداری کی آب ہوتی ہے۔
ہم اکثر ایک دوسرے کے ساتھ رہتے تھے۔ وہ مجھ سے عجیب قسم کی باتیں کرتا۔ وہ ذہن کی روشنیوں، دل کے اندھیروں، اجلے ریگستانوں جن میں نور ہی نور ہوتا، ایسے بنوں، جنگلوں کے متعلق جس کے اندھیروں میں انوکھے جانور ہوتے، گھنٹوں مستی کے عالم میں مجھ سے جواب کا طلبگار ہوئے بغیر، باتیں کرتا رہتا۔ پہلے پہل تو میں کچھ نہ سمجھ سکا مگر آہستہ آہستہ اس کے ساتھ رہتے رہتے مجھ پر بھی اس کے دل کی گہرائیوں، اجلی اور اندھیری آرزوؤں کا ماجرا کھلنے لگا۔ مجھے آج بھی اس کی ایک ایک بات یاد ہے۔ میں نے برسوں اس کی باتوں پر غور کیا ہے۔ میں نے لاکھوں بار چاہا ہے کہ اس کی باتوں کو بھلا دوں مگر ایسی ہر کوشش ان کو میرے دل پر نقش کرتی چلی گئی۔ اس کی زبان سے سیدھے سادھے فقرے بھی عجیب طلسم معلوم ہوتے۔ وہ جانے بوجھے لفظوں کو اتنے نئے رشتوں میں سمو دیتا کہ اکثر یہ خیال آتا کہ وہ بالکل اجنبی زبان میں باتیں کر رہا ہے۔ اس کے لفظ اپنے نئے رشتوں سمیت میری نیند میں بھی میرے خیالوں کا تعاقب کرتے۔ کبھی کبھی تو تنہائی میں مجھے احساس ہوتا کہ میں اور وہ ایک ہو گئے ہیں : میرا ذہن اس کے ذہن کا ہمزاد بن گیا ہے، اس کا دل میرے سینے میں دھڑک رہا ہے۔ راتوں کو شکار سے لوٹتے ہوئے میرے جسم کو ہوا، تارے، آسمان اجنبی معلوم ہوتے۔ وہ مجھ میں حلول کرچکا تھا۔ وہ اب بھی میرے اندر زندہ ہے، سانس لے رہا ہے۔
ایک چاندنی رات کو وہ اور میں شکار سے لوٹ رہے تھے۔ جب اصطبلوں کے سبزہ زار میں پہنچے تو رات آدھی جا چکی تھی۔ چاند اپنے پورے جوبن پر تھا۔ ہر طرف گھوڑے کلیلیں کر رہے تھے اور ان کے درمیان سارہ رقص کر رہی تھی۔ اس کے جسم سے شعاعیں پھوٹ رہی تھیں۔ اس کو دیکھ کر میرا دل ڈوب گیا۔ وہ اور میں گھوڑے روکے چاند کے ڈوبنے تک اس منظر کو دیکھتے رہے۔ ہلنے کی سکت نہ اس میں تھی اور نہ مجھ میں۔ جب اس کا رقص ختم ہوا تو سارہ نے ہمیں دیکھا۔ چاند کی ترچھی کرنوں کی روشنی میں مجھے خیال گزرا کہ اس کے ہونٹوں کے کونوں میں، اس کی آنکھوں کی سیاہ پتلیوں میں، مسکراہٹ ناچ رہی تھی، ایسی مسکراہٹ جس میں فتح کا شعور رچا تھا۔
اس رات کے بعد کسی رات بھی میں آرام سے نہیں سو سکا۔ جب بھی چاندنی راتیں آتیں تو مجھے دل تھامے سارہ کے اٹھنے کا انتظار رہتا مگر وہ گہری نیند سوئی رہتی۔ اس کے تن بدن میں اتھاہ سکون ہوتا اور اس کے چہرے پر انجانی جنت میں آرام کرنے کا تاثر ہوتا۔ مہینوں اسی طرح گزر گئے؟ چاندنی راتیں آتی اور چلی جاتیں، سارہ رات بھر مدہوش سوئے رہتی۔ مالک کا لڑکا ہر دم کھویا کھویا رہنے لگا۔ وہ شکار پر نہ جاتا اور نہ ہی مجھ سے بات کرتا۔ وہ شہر کے ہنگاموں میں اپنے آپ کو مصروف رکھنے لگا۔
اس رات کے چھ سات ماہ بعد مالک کی بیٹی کی شادی ہوئی اور اس کا جشن بڑی دھوم دھام سے کئی دن تک رہا۔ رخصتی کی رات چودھویں کا چاند تھا۔ ہر طرف فضا میں چاندنی تنی ہوئی تھی۔ چاندنی میں اک بے قراری تھی۔ آخر آدھی رات کو رخصتی کا لمحہ آیا، برات کے باجے دردناک نغمے چھیڑتے دولہا کے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ حویلی میں عورتوں نے ایک کہرام مچا دیا۔
جب رخصتی کا ہنگامہ ختم ہوا تو سارہ اور مالک کا لڑکا دونوں غائب تھے۔ کئی ماہ کی تلاش کے بعد پتہ چلا کہ مغربی پہاڑوں کے اس پار ایک پہاڑی گاؤں میں وہ دونوں رہ رہے ہیں۔ جب وہاں ان کا تعاقب کیا گیا تو وہ وہاں سے کھسک گئے۔ مالک نے بیٹے کا تعاقب کیا۔ ایک رات ہم نے ان کو ایک غیر آباد گاؤں میں ایک کچے مکان میں سوتے میں جا لیا۔ جب ہم گھر کے قریب پہنچے تو مشرق میں ستائیسویں کا منحنی سا چاند طلوع ہوا اور میرا سیاہ گھوڑا پھیکی، اداس چاندنی کو اندھیرے سے نبردآزما دیکھ کر ہنہنایا۔ اس کے ہنہنانے سے سونے والے جاگ اٹھے۔ فضا میں دو بار گولی کا دھماکہ ہوا اور پھر ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ جب ہم کوٹھے پر پہنچے تو دونوں دم توڑ رہے تھے۔ ہم کو دیکھ کر دونوں نے آنکھیں موند لیں اور جان دے دی۔ دونوں کے چہرے پر عجب غضب کا حسن اور ولولہ تھا اور اس ولولے میں مراقبے کی سی کیفیت تھی جیسے کہ دونوں نے اپنی معراج کو پا لیا ہو اور اب کسی شے کی آرزو نہ رہی ہو۔ میرے دل میں عجب طرح کا سکون چھا گیا جو نفرت اور غصے کے جذبات سے بالکل عاری تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


