آدرش : صلاح الدین عادل کے ناول ”خوشبو کی ہجرت“ سے ایک اقتباس
چلو! ایک دن ہمت کر کے ان پہاڑوں کے اس پار جا نکلیں۔ ”
”اپنے ابا کی کتابیں پڑھ پڑھ کر تو دیوانی ہو گئی ہے۔ عورتوں کو کتابیں پڑھانی ہی نہ چاہئیں۔ نہ پوری ہونے والی آرزوئیں ان کے دل میں پیدا ہو جاتی ہیں اور ان کے کانوں میں سرگوشیاں کرتی ہیں اور ان سرگوشیوں کے سوا ان کے کانوں میں کوئی آواز سنائی نہیں دیتی ہے۔
ان آرزوؤں کو بھول جاؤ۔ یہ تمہیں اور مجھے، ہمیں، بہت خراب کریں گی۔ بیٹیوں کی طرح پیدا ہو کر ایسی آرزوئیں مرا نہیں کرتیں۔ مجھے نظر آتا ہے کہ یہ آرزوئیں مجھے بھی اک دن لے اڑیں گی۔ مگر کچھ برسوں کے لیے ان کو رخصت کر دو۔ خدا کے لیے اپنے آپ پر قابو رکھو۔ ”
اس گفتگو کے بعد میں اپنے گاؤں کی فضا کو اک نئی نظر سے دیکھنے لگا، میرے اندر بیک وقت دو نظریں رہنے لگیں۔ گاؤں کی دھرتی، اس سے اگتی ہوئی فصلیں، پھول، درخت، پھل، سبزہ، جنگلی پھول، آسمان اور اس کے تارے اور چاند اور کہکشاں، اندھیری راتوں میں دمکتا ہوا نیلا آسمان اور اس کی قبا میں جڑے ہوئے تارے، سردیوں کے سورج کا دمکتا چہرہ گرم کرتا ہوا لمس خوب خوب لبھاتے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اک دور کا منظر انہی مناظر میں سے ابھرتا ہوا اور ان مناظر پر چھاتا ہوا نظر آنے لگتا، شہر کا منظر شہر کے چمکتے ہوئے مینار و گنبد۔ کبھی کبھی گھبرا کر میں آنکھیں میچ لیتا اور میچے رہتا مگر کانوں میں شہر کا شور موسیقی بن کر داخل ہونے لگتا اور خون میں رچ رچ جاتا اور میں بے بس کھڑے کا کھڑا، بیٹھے کا بیٹھا، یا لیٹے کا لیٹا رہ جاتا۔ جسم دکھنے لگتا، دکھن بن جاتا۔ ہل چلاتے، کھیتوں سے واپس آتے قدم رک رک جاتے، کھانا کھاتے لقمہ ہاتھ میں رہ رہ جاتا اور میں کہیں کھو جاتا۔ ان دنوں جب کبھی بھی سارہ کو بے دھیانی میں دیکھ پاتا تو اس کا سارا جسم خوشی کا روپ نظر آتا۔
اس بے دھیانی کے عالم میں ایک دن میرے کان میں ایک نئے گھوڑے کی بھنک پڑی۔ میں اس کو دیکھنے کے لیے بے تاب ہو گیا۔ میں سب کچھ بھول گیا۔ میں بہت خوش ہوا۔
ہمارے گاؤں سے بیس کوس پر ایک چھوٹی سی زمینداری ہے۔ اس زمینداری کے آس پاس کے گاؤں اس زمینداری کے مالک، مہابت خان، کے رشتے داروں اور دوستوں کی چھوٹی بڑی کئی زمینداریاں تھیں جن کا بندوبست وہی کرتا تھا۔ آدمی دلیر اور دبدبے والا تھا۔ اس کا اثر و رسوخ بدیسی سرکار کے افسروں سے بھی تھا۔ اس نے ان زمینداریوں میں پہلی بار باڑیں اور باغ لگوائے تھے۔ اچھا ناظم تھا اس لیے زمینداری کے سبب اس کو فراغت نصیب تھی۔ فرصت کے لمحوں میں وہ طرحدار اور منہ زور گھوڑوں کو حاصل کرنے اور ان کی تسخیر میں لگا رہتا۔ دور دور تک اس کے گھوڑوں کا جواب نہ ملتا تھا اور کبھی کبھی چاندنی راتوں میں، سال میں پانچ چھ دفعہ، وہ اپنے نوکروں کے ساتھ دور دور کے گاؤں میں اپنی دھاک بٹھانے کے لیے ڈاکے ڈالا کرتا تھا۔ ڈاکے ڈالنا گھوڑوں کو تسخیر کرنے کے بعد اس کا محبوب مشغلہ تھا۔
اس زمیندار کے پاس ایک سیاہ گھوڑا لایا گیا۔ اس کو رام کرنے کی سب کوششیں ناکام ہو گئیں۔ اس پر سواری کی آرزو میں کئی بار اس گھوڑے سے گر چکا تھا، زخمی ہو چکا تھا۔ اس لیے اس کو اس سے ایک طرح کی نفرت ہوتی چلی گئی مگر وہ اس کو اپنے آپ سے جدا کرنے کے لیے بھی راضی نہ تھا۔ آخر اس نے طے کر لیا کہ جو کوئی اس کو رام کرے گا اور اس پر سواری کرے گا وہ گھوڑا اسی کو نذر کر دے گا۔
اس گھوڑے کی خبر ملتے ہی میں نے طے کر لیا کہ اس کو رام کرنا ہی زندگی کی معراج ہے۔ میں زمیندار کے سائیس سے ملا۔ میں نے گھوڑے کو دیکھا۔ ایسا خوبصورت گھوڑا میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میں کئی دن اس سائیس کے پاس رہا۔ دن میں، رات میں، کئی کئی بار میں اس کو جا جا کر دیکھتا۔ بار بار کا دیکھنا میرے لیے عشق کی کیفیت بنتا چلا گیا۔ میں اس کو رام کرنے اور اس پر سواری کرنے کی آرزو بن گیا۔ آخر ایک چاندنی رات میں نے اس گھوڑے کو اس کے تھان سے کھول لیا اور پاس کے سبزہ زار میں اس کو لے آیا۔ چاندنی میں، پھول دار درختوں کے سائے میں، اس کی چال میں ایک عجیب مستی تھی۔ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ اس کی آنکھوں میں خشونت میں لپٹی ہوئی اک بڑی نازک نرمی تھی۔ میں اس کی گردن پر، اس کے ماتھے پر، اس کی تھوتھنی پر آہستہ آہستہ ہاتھ پھیرتا رہا۔ میرے دل میں جو خوف چھپا تھا وہ اس کے جسم کے لمس سے بالکل گم ہو گیا۔ میں اس کو اس طرح پیار کرتے ہوئے چاندنی کے بیچوں بیچ لے آیا۔ اس کو میں نے کھلا چھوڑ دیا اور اس سے پرے ہٹ کر سارہ کے انداز میں ناچنے لگا۔ میں اس کے گردا گرد نہ جانے کب تک ناچتا رہا۔ ایک بار میں نے کن انکھیوں سے چاند کو دیکھا، چاند مغرب کی طرف بڑی تیزی سے بڑھا جا رہا تھا۔ میں ناچتا رہا۔ ناچتے ناچتے کبھی کبھی گھوڑے کے جسم پر، اس کی گردن پر، اس کے ماتھے پر، اس کی تھوتھنی پر، اس کی کمر پر، اس کے کولہوں پر، اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرتا۔ گھوڑا پہلے پہل تو ڈرا اور اس کی ٹانگوں میں حرکت مچلتی رہی مگر بعد میں وہ ساکت ہو کر مجھے ناچتے دیکھتا رہا۔ چاند مغرب میں ڈوب گیا۔ سبزہ زار پر اندھیرا چھا گیا۔ پھر یکایک میرے دل میں سما گیا کہ یہی وقت ہے کہ اس کو ایال سے پکڑ کر اس پر کود کر جم کر بیٹھ جاؤں۔ ناچتے ناچتے اس کو ایال سے پکڑ کر میں ہوا میں کود گیا اور اس کی کمر پر آ رہا اور جم کر بیٹھ گیا۔ گھوڑے کے بدن میں ایک جھرجھری پیدا ہوئی، اس نے گردن کو میری طرف سختی سے جھٹکا دیا۔ اس کی گردن میری بانہہ پر کہنی اور پہنچے کے درمیانی حصے میں بڑے زور سے لگی۔ میں لرز گیا۔ میں نے اس کی ایال کھینچی، اس کو اپنی رانوں میں جکڑ لیا اور ایڑیاں اس کے پیٹ میں گاڑ دیں اور اس کو للکارا۔ اندھیرا لرز اٹھا۔ گھوڑا اپنی پچھلی ٹانگوں پر الف ہو گیا۔ میں نے رانوں کی گرفت کو اور مضبوط کر لیا اور ایڑیاں اس کے پیٹ میں سختی سے گاڑ دیں اور بائیں ہاتھ سے اس کے ماتھے کو آنکھوں کے درمیان سہلایا۔ گھوڑا چیختا، چنگھاڑتا، اگلے پاؤں زمین پر گاڑتا، پچھلے پاؤں اٹھاتا ہوا، پٹختا ہوا، سبزہ زار میں چکر لگانے لگا۔ میں اس پر جما رہا یا یوں کہیے کہ چپکا رہا۔ آخر گھوڑا پسینے پسینے ہو کر دوڑنے لگا، دوڑتا چلا گیا۔ گھوڑا سبزہ زار سے دور کھیتوں میں سے، مربعوں کے گردا گرد پستہ قد منڈیروں کو، باڑوں کو، نالوں کو پھاندتا ہوا چلا گیا۔ میں فتح مندی کے جذبات میں سرشار آسن جمائے، رانوں میں گھوڑے کو دبائے، ایڑیاں اس کے پیٹ میں گاڑے، دونوں ہاتھوں میں ایال مضبوطی سے پکڑے، اس کے جسم کا ابھرا ہوا حصہ بنے بیٹھا، درختوں، کھیتوں، آفاق کو گھومتے ہوئے اور ان گھومتے درختوں، کھیتوں اور آفاق کے درمیان ابھرتے ہوئے سورج کی ترچھی کرنوں کی روشنی میں ایکا ایکی نئی نئی شکلوں کو، اپنے حجم کی حدود میں مسدود، کمہار کے پہیے پر گھومتی ہوئی، مٹی میں سے نکلتی ہوئی شکلوں کو انگڑائی لے کر، اپنے آپ کو کوشش سے اندھیرے سے نکالتے ہوئے، دیکھتا چلا گیا۔ آہستہ آہستہ رقصاں اشیا اپنے اپنے مقام پر، اپنی اپنی حدود میں قائم ہوتی چلی گئیں۔ گھوڑا روشنی میں بیدار ہوتی ہوئی باڑوں، منڈیروں، کھڑی فصلوں کو صبح کی پھیلتی ہوئی روشنی میں پھاندتا ہوا، جھومتے ہوئے درختوں میں سرسراتی ہوا کو چیرتا ہوا، انجانی منزل کی طرف سرپٹ بھاگتا چلا گیا۔ یکایک سپاٹ میدان میں ڈھلوان سا قطعہ زمین کا آ گیا جو اوپر کی طرف بلند ہوتا گیا۔ گھوڑا بھاگتا ہوا ڈھلوان پر چڑھ گیا اور پھر یکایک بلندی پر پہنچ کر ایک مرتفع سطح پرایک بڑا سا تالاب آیا اور وہ اندھا دھند تالاب کے پانی کو چیرنے لگا۔ پانی کے چھینٹے فضا میں اڑنے لگے، گھوڑے کی آنکھوں میں، میری آنکھوں میں پڑنے لگے۔ گھوڑا غرایا اور غراتے ہوئے اس نے تالاب کو پار کیا اور پھر تیزی سے نیچے اترتی ہوئی ڈھلوان پر بھاگنے لگا۔ ڈھلوان سے اتر کر وہ کھیتوں، باڑوں، منڈیروں کو پھاندتا ہوا آبادی کی طرف بڑھنے لگا۔ یکایک کھیت ختم ہو گئے اور آبادی کے گھر نمایاں ہونے لگے اور ان گھروں میں زمیندار کی حویلی بھی صاف نظر آنے لگی۔ گھوڑے کی ٹاپوں سے صبح کی خاموش فضا گونج رہی تھی۔ حویلی کے سامنے کے میدان میں گھروں سے لوگ نکل نکل کر باہر آنے لگے۔ اتنے میں گھوڑا عین حویلی کے سامنے جا نکلا۔ مہابت خان اپنے دیوقامت ڈیل ڈول سمیت میدان میں دھاڑتا ہوا، لنگڑاتا ہوا، نکل آیا۔ گھوڑا اس کو دیکھ کر چنگھاڑا، اس نے اگلے دونوں پاؤں ہوا میں اٹھا دیے اور پھر زمین پر گاڑتے ہوئے ہنہنانے لگا۔ میں نے اس کی گردن کو تھپکا اس نے گردن موڑ کر میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں حیرانی تھی اور احسان مندی۔ میں اس کی پیٹھ سے کود کر اتر آیا۔ مہابت خان حیرت سے کبھی گھوڑے کو اور کبھی مجھے دیکھ رہا تھا۔ میں نے مہابت خان سے اس کے اعلان کا ذکر کیا اور گھوڑے کا طلبگار ہوا۔ اس نے سر کے اشارے سے مجھے اپنے پاس بلایا اور ساتھ چلنے کا اشارا کرتے ہوئے حویلی کی طرف چل دیا۔ حویلی میں داخل ہو کر وہ مردانے کے صحن کی طرف بڑھا۔ صحن میں ایک چبوترے پر بچھی ہوئی دری اور چادر پر بڑے سے گاؤ تکیے پر وہ سر رکھ کر لیٹ گیا اور مجھے فرش پر بیٹھ جانے کا ہاتھ سے اشارہ کیا۔ وہ کچھ دیر خاموش سانس لیتا رہا اور پھر کہنے لگا:
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


