روزنامہ امت، عورت مارچ اور اسی کوڑوں کی سزا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ اس عاجز کی کم علمی ہے کہ میں اب تک روزنامہ امت کے وجود سے بے خبر تھا۔ لیکن اس روزنامے کے مدیران اور مضمون نگاروں کو داد دینی چاہیے کہ اب اس کو بھولنا بہت مشکل ہو گا۔ انہوں نے ایک تحریر کے بل بوتے پر ہی اتنی توجہ حاصل کر لی ہے جسے حاصل کرنے کے لئے کسی بھی شریف النفس انسان کو کافی لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے۔

اس روزنامہ کی 5 اپریل کی اشاعت میں اس کے ایک وقائع نگار خصوصی کی مہیا کردہ خبر شائع ہوئی۔ اس کی سرخی کا آغاز یہ تھا ”چودہ ملکوں میں سب سے زیادہ عورتوں سے زیادتی ہوتی ہے“ اور اس کے بعد اس تحریر کے بے لگام گھوڑے کا رخ ان خواتین کی طرف ہو گیا جنہوں نے عورت مارچ میں شرکت کی ہے۔

اختلاف کرنا تو ہر ایک کا حق ہے لیکن اختلاف دلیل کے ساتھ ہونا چاہیے اوباشوں کی طرح بلا وجہ گالیاں دینے سے کوئی تبادلۂ خیالات نہیں ہو سکتا۔ اس تحریر کے اوپر درج سرخی کا اختتام یہ تھا ”عورت مارچ کی رنڈیوں کو یہ غیر مسلم ممالک نظر نہیں آتے“ ۔ اس کے بعد اس شیریں کلامی کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کا اندازہ اس تحریر میں شامل ان جملوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر لکھا ہے ”عورتوں پر پابندی کے حوالے سے بعض فاحشہ اور بدکردار عورتیں اسلامی احکامات پر جو الزامات لگاتی ہیں۔“

اس کے بعد اس گالی گلوچ کا سلسلہ ان الفاظ میں جاری رہا۔ ”فلم اور ٹی وی پروگرام کی رنڈیاں۔ چند ڈالرز پر بک جانے والی ٹی وی اینکرز۔ کیا فرماتی ہیں عورت مارچ کی رنڈیاں بیچ اس مسئلہ کے۔ پھر یہ رنڈیاں افریقی ملکوں۔ امریکہ ، بھارت ، جاپان سویڈن اور بنگلہ دیش کے سفارت خانوں کے آگے احتجاج کیوں نہیں کرتیں“

روزنامہ امت میں شائع ہونے والی اس تحریر کے بارے میں مسٹر مؤرخ اور مکرم عدنان خان کاکڑ صاحب کے کالم شائع ہو چکے ہیں۔ خاکسار اپنی کم علمی کی روشنی میں اس بارے میں کچھ گزارشات پیش کرے گا۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کیا اگر پاکستان میں کسی خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جائے تو وہ یہ سوچ کر خاموش ہو جائے کہ آخر امریکہ یا بھارت میں بھی تو اتنی عورتوں کو ریپ کیا جاتا ہے۔ کیا فرق پڑتا ہے؟ یا اگر پاکستان میں کسی عورت کا ریپ ہو تو پاکستان کے شہری امریکہ کے سفارت خانے کا محاصرہ کر لیں؟

معلوم نہیں اس وقائع نگار خصوصی کو کس بیوقوف نے یہ خبر دے دی کہ جب ان ممالک میں عورتوں کا ریپ ہو اس پر احتجاج نہیں کیا جاتا۔ جب ان ممالک میں کسی عورت کا ریپ ہو تو ان ممالک میں شدید احتجاج کیا جاتا ہے۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ جاؤ پاکستان کے سفارت خانے کا محاصرہ کر لو۔

اب اس کالم میں دو سوالات کا جائزہ لیا جائے گا۔ کیا خواتین کے بارے میں یہ انداز تکلم اب شروع ہوا ہے یا وطن عزیز میں اس کا سلسلہ آغاز سے ہی چل رہا ہے۔ چونکہ اس تحریر میں اسلامی تعلیمات کا بار بار حوالہ دیا گیا تو یہ تجزیہ کرنا ضروری ہے اس قسم کے الزامات لگانے پر اسلامی تعلیمات کی رو سے کیا کارروائی ہونی ضروری ہے؟

پاکستان بننے کے ساتھ ہی ایک مخصوص طبقہ نے اس انداز میں خواتین پر کیچڑ اچھالنے کا کام شروع کر دیا تھا۔ چنانچہ 1953 میں پنجاب میں ہونے والے فسادات پر تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں مجلس احرار کے ایک لیڈر کے بارے میں لکھا ہے:

”صاحبزادہ فیض الحسن کی جس تقریر کا ذکر ملک حبیب اللہ کی چھٹی میں کیا گیا ہے۔ اس کی روداد سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحبزادہ نے یہ تقریر 27 اگست 1948 کو موضع بھلر میں سید امام علی کے عرس کے موقع پر کی تھی۔ جس میں بتایا گیا تھا کہ بیگم لیاقت علی خان اور دوسری عورتیں جو پردہ نہیں کرتیں سب بازاری عورتیں ہیں۔ اور مشرقی پنجاب میں جو ہندوؤں اور سکھوں نے ایک لاکھ مسلمان عورتوں کو اغوا کر لیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ قائداعظم گورنر جنرل بننے کے لئے بے حد مضطرب تھے۔“

لیکن ہم سب کو علم ہونا چاہیے کہ یہی وہ طبقہ تھا جو اپنے جلسوں میں کہہ رہا تھا کہ پاکستان تو ایک بازاری عورت ہے جسے ہم نے مجبوری کے تحت قبول کیا ہے۔

[رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب ص 15 و 275 ]

اب یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اسلامی تعلیمات کی رو سے اس قسم کے الفاظ استعمال پر کیا کارروائی ہونی چاہیے۔ جیسا کہ مسٹر مؤرخ نے اپنے کالم میں سورۃ نور کی آیت 4 کا ترجمہ درج کیا ہے :

” اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں، تو ان کو اسی کوڑے لگاؤ، اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو اور وہ خود فاسق ہیں۔“

اس آیت کریمہ سے یہ واضح ہے کہ یہ الزام لگانے والے کا فرض ہے کہ جب وہ کسی خاتون پر بدکرداری کی تہمت لگائے تو یا تو چار عینی شاہد گواہ لے کر آئے یا اسے شریعت کی رو سے اسی کوڑے مارے جائیں۔ ہم یہ جائزہ لیتے ہیں کہ احادیث اور روایات کی رو سے اس حکم پر کس طرح عمل کیا گیا ہے؟ کیونکہ شاید یہ عذر پیش کیا جائے کہ روزنامہ امت نے باقاعدہ عدالت میں کسی پر الزام تو نہیں لگایا۔ صرف عادت سے مجبور ہو کر ہزاروں خواتین کو رنڈی، فاحشہ، بدکردار اور چند ڈالروں میں بک جانے والی قرار دیا ہے۔

حضرت عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما  نے اپنے دور میں ان لوگوں کو بھی اسی کوڑوں کی سزا دی جنہوں نے اپنے شعروں میں کسی عورت پر کسی بھی طرز پر بدکرداری کا الزام لگایا تھا۔ اور حضرت عمرؓ  کے دور میں ایک شخص نے ایک شخص کی ماں کے متعلق ایسا الزام لگایا۔ باوجود اس کے کہ یہ عورت عرصہ پہلے مر چکی تھی لیکن حضرت عمرؓ  نے اس شخص کو اسی کوڑے لگوانے کا حکم دیا۔

[کنزالعمال جلد 3 و 4 اردو ترجمہ ص 280 ]

اور اس حکم پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا تھا۔ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ اپنی اولاد کو مخاطب کر کے بھی بدزبانی کرتے رہتے ہیں۔ ایک شخص نے اپنے بیٹے کو غصے میں آ کر زانی کہہ دیا۔ چنانچہ اسے اسی کوڑوں کی سزا سنا دی گئی۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے استفسار پر فرمایا کہ صرف اس صورت میں اس کی معافی ہو سکتی ہے کہ اگر اس کا بیٹا اسے معاف کر دے۔ اور کوئی ایک ایسے شخص پر تہمت لگائے جو مر گیا ہو تو پھر کسی صورت میں معافی نہیں ہو سکتی۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک شخص نے دوسرے سے جھگڑے کے دوران کہا کہ میرے ماں باپ تو بدکار نہیں تھے۔ یعنی بالواسطہ طور پر یہ طنز کیا کہ تمہارے والدین تو بدکار تھے۔ اگرچہ یہ معین الفاظ ادا نہیں کیے۔ اس کے باوجود حضرت عمرؓ  نے اسے اسی کوڑوں کی سزا دی۔

[مؤطا امام مالک باب ما جاء فی القذف و النفی والتعریض ]

بلکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی مرد کسی کو صرف اے لوطی کے نام سے آواز بھی دے تو بھی اسے بیس کوڑے مارو۔ [سنن ابن ماجہ کتاب الحدود باب حد القذف]

ان حوالوں کا مفہوم بالکل واضح ہے۔ اگر کوئی کسی خاتون کے بارے میں صرف اشارے میں بھی یہ الزام لگا دے تو اسے اسی کوڑوں کی سزا ملنی چاہیے۔ روزنامہ امت نے تو بڑی دیدہ دلیری سے ہزاروں خواتین کو کسی ثبوت کے بغیر رنڈی، فاحشہ اور بدکردار اور چند ڈالروں میں بک جانے والی قرار دیا ہے۔

اب دو صورتیں ہو سکتی ہیں:

یا تو روزنامہ امت اور اس کے وقائع نگار خصوصی عورت مارچ میں شامل ہر خاتون سے تحریری معافی مانگیں اور وہ تمام کی تمام خواتین انہیں ازراہ شفقت معاف کر دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کم از کم مدیر اور اس وقائع نگار کو اسی کوڑوں کی سزا دی جائے۔ اس صورت میں ایک حل طلب مسئلہ یہ رہ جاتا ہے کہ اس تحریر میں سینکڑوں ہزاروں خواتین پر تہمت لگائی گئی ہے۔ کیا ہر خاتون پر تہمت لگانے پر علیحدہ علیحدہ اسی اسی کوڑوں کی سزا بنتی ہے یا سب کی مشترکہ سزا ایک مرتبہ اسی کوڑے کافی ہوں گے۔

میرا خیال ہے کہ اگر روزنامہ امت اپنی مثال سامنے رکھے اور اس سزا کو قبول کر لے تو مناسب ہو گا۔ کم از کم جماعت اسلامی اور جمیعت علماء اسلام اور تحریک لبیک جیسی جماعتیں جو ہمیشہ نفاذ اسلام کی داعی رہی ہیں ، اس سزا کے نفاذکی ضرور حمایت کریں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply