عورتوں کے حقوق کی تحریک اور مذہبی لوگوں کی پریشانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند دن قبل ”ہم سب“ پر میرا ایک پرانا آرٹیکل ”سڈنی بیچ، قدرتی شرمیلی لڑکیاں اور اندھے مرد“ دوبارہ شائع ہوا تو اس پر ایک صاحب نے تبصرہ کیا جو ذیل میں نقل کیا جا رہا ہے:

”کافی عرصہ پہلے ٹی وی پروگرام میں نعیم بخاری صاحب کی گفتگو سنی تھی کہ پاکستان میں مخلوط تعلیم عام ہونی چاہیے۔ ہمارے جو لڑکے گرلز کالجز کے باہر خجل ہو رہے ہوتے ہیں وہ اطمینان سے لڑکیوں سے بات کر لیا کریں اور ان کو اس طرح سڑکوں پر خجل بھی نہ ہونا پڑے۔

حضور ملک صاحب! ہم تیسری دنیا کے لوگوں نے یہ کرشماتی نظارے نہیں دیکھے ہوتے ، اسی لئے دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جاتے ہیں۔ خیر سے کئی احباب حل و عقد جی جان سے کوششوں میں مصروف ہیں کہ ایسی سٹیج آ جائے کے کوئی لڑکی اپنے فطری لباس میں کسی گلی میں مرضی سے گھومے، لیٹے چلے پھر کدکڑے لگائے اور کسی ناہنجار مرد کو غیرت ویرت کے جذبات سے مغلوب ہو کر اور کشش زن سے متاثر ہو کر کسی حرکت رذیلہ کی ہمت نہ ہو۔

صنف نازک اپنی نزاکت کے جلوے کھلے عام دکھائے اور موئے مرد اپنی پلکوں کی جھالر ذرا مزید دراز کریں اور توجہ کہیں اور کر لیں یا ہمت ہے تو دیکھیں مگر پیار سے۔ ملک صاحب کیا کریں چودہ صدیوں کی جھجک ہے بڑے بڑے لوگوں نے محنت کی ہوئی ہے ۔ یہ جھجک آہستہ آہستہ جائے گی ۔ یہ نام نہاد ’غیرت‘ دھیرے دھیرے غائب ہو جائے گی۔ آپ کو بتانا تھا ، آپ ناکام نہیں آپ کی جدوجہد درست خطوط اور درست سمت میں جاری ہے ۔ کماحقہ نتائج بھی آ رہے ہیں ، قطعاً مایوس نہ ہوں ، حسد کرنے والوں کو جلنے دیں۔ جلنے والے کا منہ کٹے ورگا۔ تسی کم چک تے رکھو ”

اس کمنٹ کا جواب حاضر ہے۔

آپ کے کمنٹ کا بہت شکریہ، گو کہ یہ بہت لوڈڈ ہے لیکن آپ نے گالی گلوچ کے بغیر اچھے انداز میں اپنا نقطۂ نظر بیان فرمایا ہے۔ اور بھی بہت لوگوں نے ایسے ہی کمنٹ مختلف فورمز پر کیے ہیں۔ تو عرض یہ ہے کہ موضوع لڑکیوں کو کم لباس میں دیکھنا یا نہ دیکھنا نہیں ہے۔ بلکہ موضوع تمام انسانوں کی برابری یعنی صنفی تفریق کے خاتمے کا ہے۔ موضوع انسانوں کے اپنی زندگیوں پر مکمل اختیار کے حق کا ہے۔ اور یہ تبھی ہو سکتا ہے جب تمام انسانوں کو بغیر کسی ’اگر مگر‘ کے برابری کی بنیادی انسانی حقوق حاصل ہوں۔

اگر عورت بھی انسان ہے تو پھر اسے بھی اپنی زندگی اور اس سے متعلقہ فیصلوں پر مکمل اختیار کا حق ہے۔ اگر اسے یہ حق مل جائے تو انسانی خوشیوں میں اضافہ ہو گا اور عورتوں کے خلاف جنسی ہراسانی، ریپ اور دوسرے تشدد کے واقعات کم ہو جائیں گے۔ میں ایسی ہی دنیا کا خواب دیکھتا ہوں اور اس پر کام کرتا رہتا ہوں۔

یہ بات بھی آپ نے درست فرمائی کہ فرق پڑے گا۔ آپ یقیناً اس بات سے خوش نہیں ہوں گے لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہر اگلی صدی میں انسانوں کے درمیان برابری پہلے سے زیادہ ہوتی ہے۔ مذہب، نسل، جنس اور رنگ کی بنیاد پر تفریق کم ہوتی جا رہی ہے۔ کل تک عورتوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دنیا میں کہیں بھی نہیں تھا اور آج اس حق پر آپ جیسے شریف لوگوں کو بھی کوئی خاص اعتراض نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو آپ اس کا اظہار سرعام کم ہی کرتے ہیں۔

یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ کل تک انسانوں کی خرید و فروخت غلاموں اور لونڈیوں کی شکل میں عام اور جائز تھی اور اب یہ دنیا کے تمام حصوں میں قانوناً ناجائز ہے۔ گو کہ عورتوں کی خرید و فروخت ابھی بھی کئی حیلے بہانوں سے جاری ہے۔ کہیں اسے برائیڈ پرائس کہتے ہیں اور کہیں کچھ اور۔ اور مزید شرم کی بات یہ ہے کہ شادی کے بہانے بیچنے والے اور باقاعدہ رقم وصول کرنے والے ”غیرت مند“ بھائی اور باپ ہی ہوتے ہیں۔

ایک اور بات۔ آپ نے اپنے کمنٹ میں مذہب کی جانب بھی اشارہ کیا ہے۔ تو عرض کرتا چلوں کو عورت کو برابری کا انسان سمجھنے اور صنفی تفریق کو ختم کرنے کی مہم کا مقصد مذہب کو ختم کرنا یا نقصان پہنچانا نہیں ہوتا۔ یہ صرف عورت دشمن لوگ مذہب کو بیچ میں لے آتے ہیں تاکہ عورت کے انسانی حقوق کی مہم چلانے والوں کو روکا جا سکے۔ یہ ہتھکنڈے سارے مذاہب والے استعمال کرتے ہیں۔ اس میں یہودی، مسیحی، مسلم، اور ہندو سبھی شامل ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 265 posts and counting.See all posts by salim-malik

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *