گلگت بلتستان: آئینی حیثیت اور عوامی حقوق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے پیارے وطن پاکستان کے 95 فیصد سے زائد شہریوں کو تو اس بات کا علم بھی نہیں ہو گا کہ گلگت بلتستان کہاں واقع ہے، یہ پاکستان کا باقاعدہ حصہ ہے یا پھر صرف پاکستان کے زیر انتظام علاقہ ہے، اس کی آئینی حیثیت کیا ہے، اس خطے میں بسنے والے عوام پر کون سا آئین اور قانون لاگو ہوتا ہے، وہاں کے عوام اپنے حقوق اور انصاف کے حصول کے لیے کس عدالتی نظام سے رجوع کر سکتے ہیں اور وہ عدالتیں کس قانون کے تحت کام کرتی ہیں۔ سیر تفریح کے شوقین بعض پاکستانیوں کو بہرحال اتنا معلوم ہو گا کہ وہاں خوبصورت پہاڑ اور حسین وادیاں ہیں۔ لوگ دور دراز سے سیر و تفریح کے لیے وہاں جاتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

گلگت بلتستان، متحدہ کشمیر کے شمال میں واقع ایک ایسا حسین و جمیل خطہ ہے جسے ہم شمالی علاقہ جات کہا کرتے تھے۔ مجموعی طور پر یہ خطہ 72، 496 کلو میٹر رقبہ پر مشتمل ہے اور یہاں کی آبادی تقریباً 15 لاکھ ہے۔ یہ خطہ اپنے دیو مالائی حسن، برف پوش پہاڑوں، خوبصورت وادیوں، اور پھلوں سے لدے باغوں کی وجہ سے کسی جنت کے تصور سے کم نہیں۔ لیکن اس کے قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ اس کی جغرافیائی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ اس کا بارڈر آزادکشمیر، خیبر پختونخوا ، افغانستان، چین، تاجکستان، جموں کشمیر اور لداخ سے ملتا ہے۔

معاشرتی علوم میں پڑھائی جانے والی شاہراہ قراقرم اور اب مستقبل کا معمار سمجھا جانے والا سی پیک بھی یہیں سے گزر کر پاکستان پہنچتا ہے، جس نے گلگت بلتستان کی اہمیت کو اور بھی بڑھا دیا ہے۔ گلگت بلتستان، چین۔ پاکستان اقتصادی راہ داری کے دروازے کے اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ یہاں بسنے والے لوگوں کا دار و مدار مجموعی طور پر ٹورازم، زراعت اور باغبانی پر ہے۔ وہاں کے لوگ بہت محنتی، جفاکش اور محبت کرنے والے ہیں۔

گلگت بلتستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو 1845۔ 1846 کی اینگلو سکھ جنگ کے زمانے میں سکھ ایمپائر کا گلاب سنگھ جموں کا حاکم تھا۔ جب متحدہ ہندوستان میں برطانوی سامراج سے آزادی کی جنگ زوروں پر تھی تو دیگر جابر حاکموں، بادشاہوں، راجوں، مہاراجوں اور سرداروں کے طرح وہ بھی بڑا مکار نکلا اور اس نے اپنے وطن اور شہریوں سے غداری کرتے ہوئے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے خوشنودی اور حمایت کا راستہ اپنایا اور سازش کے تحت غیر جانب دار رہنے کا اعلان کر دیا۔ گلاب سنگھ کی اس وفاداری کے صلے میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1846 میں اسے کشمیر ساڑھے سات ملین روپوں کے عوض بیچ دیا۔ خرید و فروخت کے اس معاہدے کے تحت گلاب سنگھ جموں و کشمیر کا مہاراجہ بن گیا۔

خطے کی جغرافیائی اہمیت اور روس کی جانب سے وسطی ایشیا کے راستے حملے کے خدشے کو بھانپتے ہوئے برطانوی سامراج نے گلگت کو دوبارہ اپنے ہاتھ میں لے کر گلگت ایجنسی قائم کر دی، تاکہ اسے براہ راست کنٹرول کر سکے۔ بعد ازاں 1935 میں برطانوی سامراج نے ڈوگرہ راج کے حکمرانوں سے گلگت کو 60 سال کی لیز پر لے کر گلگت ایجنسی کا کنٹرول سنبھال لیا، جبکہ بلتستان ریجن بدستور ڈوگرہ راج ہی کے کنٹرول میں رہا۔

سامراج کا کردار ہمیشہ ہی عوام دشمن اور مکار لومڑی والا رہا ہے۔ اس لیے اس نے برصغیر کی آزادی سے دو ہفتے قبل، 30 جولائی 1947 کو ڈوگرہ راج کے زیرکنٹرول ریاست جموں و کشمیر کو گلگت کا کنٹرول دوبارہ سنبھالنے کے پیشکش کر دی اور یکم اکست 1947 کو گلگت ایجنسی کا چارج ڈوگرہ راج کے برگیڈیر گھنسارہ سنگھ کے حوالے کر دیا۔

برصغیر کی آزادی کے بعد 1948 میں گلگت بلتستان کے عوام نے ڈوگرہ راج سے بغاوت کر دی اور اپنی آزادی کے لیے باقاعدہ جنگ کا آغاز کر دیا۔ اس زمانے میں پاکستان کا دارالحکومت کراچی تھا اور گلگت بلتستان کی آزادی کے رہنماؤں نے پاکستان کی سرکار کو ڈوگرہ راج سے آزادی میں مدد کے لیے خطوط لکھے، مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ گلگت بلتستان کے عوام نے مجبوراً خود ہی ڈنڈوں، خود ساختہ ہتھیاروں اور اپنے زور بازو سے آزادی کی جنگ لڑی اور کامیاب ہوئے۔

پاکستان نے پہلے پہل تو اس کا الحاق آزادکشمیر کے ساتھ کر دیا، لیکن بعد ازاں معاہدہ کراچی کے تحت آزاد کشمیر کی انتظامیہ نے گلگت بلتستان کو پاکستان کے حوالے کر دیا۔ 1970 سے وہ شمالی علاقہ جات کے نام سے جانا جانے لگا اور ایک طویل عرصہ تک انگریز سامراج کے بنائے ہوئے بدنام زمانہ ایف سی آر نامی قانون کے تحت چلایا گیا۔ اس طرح گلگت بلتستان کے عوام کو  پاکستان کے قانون کے تحت حقوق اور تحفظ مل سکا اور نہ ہی کشمیر جتنے حقوق مل پائے۔

چین پاکستان اقتصادی راہ داری کی بدولت گلگت بلتستان میں پاکستان کی جانب سے اب ایک نام نہاد صوبائی نظام تو نافذ کیا گیا ہے اور حکمران دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا اپنا گورنر اور وزیراعلیٰ بھی ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ وہاں کے عوام اور علاقے کو قانونی اعتبار سے وہ آئینی حقوق حاصل نہیں جو ملک کے دیگر صوبوں کو حاصل ہیں۔ پہلے یہاں پر ’اسٹیٹ سبجیکٹ رول‘ نام کا قانون نافد تھا، جس کے تحت یہاں صرف مقامی لوگوں کو ہی سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے، سیاسی عہدے رکھنے اور جائیداد خریدنے کا حق حاصل تھا۔لیکن ستر کی دہائی میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں اسے بھی ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد یہاں مختلف قوانین کے تحت نظام چلایا جاتا رہا، لیکن وہاں کے عوام کا کسی کو احساس نہ ہوا۔ مقامی لوگوں کا ہمیشہ سے ہی مطالبہ رہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو پاکستانی عوام کے مساوی آئینی اور قانونی حقوق دیے جائیں۔

گلگت بلتستان کی آئینی، قانونی یا سیاسی حیثیت کا مسئلہ ہو یا پھر کشمیر کا مسئلہ، یہ پاکستان کی سول حکومتوں کے اختیارات سے ہمیشہ بالاتر رہے ہیں، یا پھر ملکی سیکورٹی اسٹیبلشمینٹ نے سیاسی حکومت کو اس کے قریب پھٹکنے ہی نہیں دیا۔ اسی لیے مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت تمام رولنگ پارٹیاں اچھے بچوں کی طرح بڑی سرکار کی ہدایات کی روشنی میں ہی اپنی پالیسیاں بناتی ہیں اور سیاسی بیان داغتی ہیں۔ اقتدار کی بھوکی اشرافیہ کی یہ ایلیٹ کلاس اپنے اوپر مسلط کی گئی حدود سے تجاوز کرنے کا گمان بھی نہیں کرتی۔

قوم پرست جماعتیں یا تو وہاں ہیں ہی نہیں، یا پھر ان کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے۔ 2009 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے اصلاحات کر کے کچھ قوانین نافذ کرنے کی کوشش کی، لیکن اسٹیبلشمینٹ نے شٹ اپ کال دے دی اور وہاں کے شہریوں کو آج تک پاکستان کے دستور میں دیے گئے حقوق نہ مل سکے۔ اس لیے آج تک وہاں کے شہریوں کی دستوری و سماجی حیثیت کا تعین نہ کیا جا سکا۔ ایک طرف وہ تنازعۂ کشمیر کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں اور دوسری طرف ان کی پاکستانی انتظام والے کشمیر والی حیثیت بھی نہیں ہے۔

اگر معیار زندگی کو دیکھیں تو پورے خطے میں صحت، سیاحت اور تعلیم بہت پسماندہ ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں بچوں کے لیے سکول اور صحت کے مراکز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ وہاں پر ایک بھی میڈیکل کالج یا انجنیئرنگ کی تعلیم کا ادارہ نہیں ہے۔ رولنگ ایلیٹ اور اقتدار کی بھوکی حکمران جماعتیں جب اپوزیشن میں ہوتی ہیں یا الیکشن کا سیزن آتا ہے تو گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں لانے کے بلند بانگ دعوے کرتی ہیں، لیکن اقتدار میں آتے ہی ان کے تیور بدل جاتے ہیں۔

اب سی پیک کے بعد نئی صورت حال ابھر کر سامنے آئی ہے اور چین کو اندیشہ ہے کہ امریکی سامراج انڈیا کو گلگت بلتستان میں مداخلت پر اکسا کر سارے سی پیک منصوبے کو پیرالائز کر سکتا ہے۔ اس لیے پاکستان کی سیکورٹی اسٹیبلشمینٹ چین کے دباؤ کے تحت گلگت بلتستان کو محدود حد تک پاکستان میں ضم کرنے کا عندیہ دے چکی ہیں۔ ملکی اشرافیہ اور حکمران جماعتیں اچھے بچوں کی طرح یس سر کہہ چکی ہیں۔ اس سارے عمل میں گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ دھوکا ہو رہا ہے، جس کا کسی کو کوئی احساس تک نہیں ہے۔

جنوری 2010 میں موسمیاتی تبدیلیوں اور ہنزہ کے علاقہ میں لینڈ سلائیڈنگ نے وسیع پیمانے پر تباہی مچا دی اور یہ دردناک واقعہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں خبروں کا محور بھی بنا رہا۔ البتہ اس بات کی کسی کو فکر نہ ہوئی کہ اس سے یہاں کے عوام پر کیا قیامت گزری۔ لینڈ سلائیڈنگ سے دریائے ہنزہ بند ہو گیا اور پیچھے ایک بہت بڑی جھیل بن گئی، جسے سیر و تفریح کے شوقین سیاح عطا آباد جھیل کے نام سے جانتے ہیں۔ اس جھیل کے بننے سے علاقے کے بے شمار گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔

ہزاروں لوگوں کے گھر بار، مال مویشی اور زرعی زمینوں کا نام و نشان مٹ گیا اور بہت بڑی تعداد میں لوگ بے آسرا اپنی خواتین اور بچوں کے لیے چھت کی تلاش میں بھٹکتے رہے۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے مالی معاونت کا اعلان کیا گیا، لیکن وہ بھی انتظامیہ تک رسائی والوں کو ہی مل سکا۔ تب نوجوانوں کا ایک گروپ ابھر کر سامنے آیا جس کے قیادت ہنزہ کے قریبی گاؤں کے ایک محنت کش طبقے سے تعلق رکھنے والے بائیں بازو کے طالب علم رہنما بابا جان کر رہے تھے۔

جلد ہی اس گروپ نے لوگوں کو منظم کیا اور متاثرین کی آبادکاری اور معاونت دلوانے کے لیے سڑکوں پر آ گئے۔ مظاہرے شدت اختیار کر گئے تو 11 اگست 2011 کو علی آباد میں پولیس نے غیر مسلح اور پر امن مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گولی چلا دی، جس سے 22 سالہ نوجوان اور اس کا والد ہلاک ہو گئے۔ بابا جان، جو اس مظاہرے میں شامل بھی نہیں تھا، اس کو 13 ساتھیوں سمیت دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں نامزد کر دیا گیا۔ نومبر 2012 میں پاکستان میں بائیں بازو کی جماعتوں نے باہمی انضمام سے عوامی ورکرز پارٹی کے بنیاد رکھی تو عابد حسن منٹو کو اس کا صدر اور بابا جان کو نائب صدر منتخب کر لیا گیا۔بعد ازاں بابا جان کو 13 ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا۔

دلچسپ صورت حال یہ تھی کہ جس وقت انہیں گرفتار کیا گیا، اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔ جب انہیں جھوٹے مقدمات میں 70 برس تک کی سزائیں سنائی گئیں تو مسلم لیگ نون کی حکومت تھی اور تحریک انصاف کی حکومت آئی تو انہوں نے مقدمہ کسی عدالت میں نہ لگنے دیا تاکہ ان کی ضمانت نہ ہو سکے۔ گزشتہ برس اکتوبر میں ہنزہ کے غیور عوام نے ہزاروں کے تعداد میں سات روزہ دھرنا دیا تو سیکورٹی اسٹیبلشمینٹ کی قائم کردہ کمیٹی کے ساتھ مذاکرات ہوئے اور دھرنا ختم کرنے کے معاہدہ کے تحت اسیران ہنزہ کو مرحلہ وار رہا کر دیا گیا۔ اپنی نو سالہ اسیری میں بابا جان گلگت بلتستان کا ہیرو بن کر ابھرا، لیکن مقدمات کی تلوار ان کے سر پر مسلسل منڈلا رہی ہے۔

عوامی ورکرز پارٹی پاکستان نے اپنے قیام کے وقت سے ہی آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو متنازع خطہ تصور کرتے ہوئے ان خطوں میں اپنی پارٹی کی شاخیں بنانے سے گریز کیا اور وہاں سے تعلق رکھنے والے پارٹی کارکنوں کو مقامی حالات کے مطابق ترقی پسندوں کو اکٹھا کر کے ایک مقامی اور متحدہ پارٹی بنانے کا اختیار دیا۔ اس طرح عوامی ورکرز پارٹی آزادکشمیر اور عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان اپنے قیام سے ہی عوامی ورکرز پارٹی پاکستان کا براہ راست حصہ نہیں ہے، بلکہ انہوں نے اس کے ساتھ الحاق کیا ہے۔

اس وقت عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان ہی اس خطے کی واحد سیاسی جماعت ہے جو نسبتاً نئی ہے اور گلگت بلتستان کے آئینی و قانونی حقوق اور عوام کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ایک واضح پروگرام لے کر نکلی ہے۔ حال ہی میں عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان نے اپنا پالیسی اجلاس منعقد کیا ہے، جس میں خطے کو پاکستان کا عبوری صوبہ بنانے کے حق میں گلگت بلتستان اسمبلی کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فل الفور خطے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق لوکل اتھارٹی بنایا جائے اور یہاں ایک با اختیار آئین ساز اسمبلی کا قیام عمل میں لایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ علاقے کی متنازع حیثیت کے تناظر میں عوامی ورکرز پارٹی کا شروع دن سے ہی واضح موقف ہے کہ اس خطہ کو اقوام متحدہ کی 1949 اور 1951 کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے مسئلے کے حل تک داخلی خود مختاری دی جائے، اور ایک با اختیار آئین ساز اسمبلی کا قیام عمل میں لایا جائے، جسے تمام امور پر قانون سازی کا مکمل اختیار حاصل ہو اور وہ خطے کے لئے آئین مرتب کرے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز، یعنی پاکستان کے پاس صرف دفاع، کرنسی اور خارجہ پالیسی کے امور ہوں اور ان کے علاوہ تمام اختیارات مقامی قانون ساز اداروں اور اسمبلی کو منتقل کیے جائیں۔

عوامی ورکرز پارٹی کے اس اجلاس میں اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا گیا تاکہ خطے میں لوگوں کی زمینوں اور وسائل پر غیر مقامیوں کے قبضہ اور مقامی آبادی کو اقلیت میں بدلنے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق صرف اور صرف یہاں کے عوام کو حاصل ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عبوری صوبہ بنانے کی مذکورہ قرارداد کو واپس لے کر اس علاقے کی داخلی خود مختاری کے سلسلے میں واضح اقدامات اٹھائے جائیں۔

اس کے باوجود کہ قربانیوں سے سرشار عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کی نوجوان قیادت نے خطے کے نوجوانوں اور خواتین کو وسیع پیمانے پر متحرک کیا ہے، لیکن آنے والا وقت بتائے گا کہ وہ سارے گلگت بلتستان میں اپنی جڑیں کیسے مضبوط کرتی ہے اور قومی دھارے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر لوگوں کے مسائل حل کرنے اور ان کے زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔

بدلتے ہوئے ان حالات میں ہم امید کر سکتے ہیں کہ آنے والے دنوں اور سالوں میں گلگت بلتستان کی آئینی اور قانونی حیثیت کا تعین ہو گا، وہاں کے عوام کے سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق بحال ہوں گے اور وہاں کے عوام اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو روشن بنائیں گے۔ آخری فتح یقیناً عوام کی ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرویز فتح (لیڈز-برطانیہ)

پرویز فتح برطانیہ کے شہر لیذز میں مقیم ہیں اور برٹش ایروسپیس انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ وہ برطانیہ میں ساوتھ ایشین ممالک کے ترقی پسندوں کی تنظیم ساوتھ ایشین پیپلز فورم کورڈینیٹر ہیں اور برطابیہ میں اینٹی ریسزم اور سوشل جسٹس کے لئے سرگرم ہیں۔

pervez-fateh has 14 posts and counting.See all posts by pervez-fateh

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *