”اسے پرواز کرنے دو!“ پر ایک نظر
ضیاء الدین یوسف زئی کی انگریزی کی کتاب Let Her Fly کے اردو ترجمہ پر ایک ریٹائرڈ پرنسپل کا تبصرہ
کتاب زندگی ہے اور زندگی کتاب۔ اس کتاب میں خوشی ومسرت کے انمٹ وحسین رنگ شامل ہو جاتے ہیں جب کتاب کاتحفہ ڈاکیہ ہاتھ میں تھما دے۔
”اسے پرواز کرنے دو“ ضیاء الدین یوسف زئی کی آپ بیتی (Let Her Fly) کا اردو ترجمہ ہے جسے فضل ربی راہی نے انگریزی سے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے اور یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ کسی کتاب کا ترجمہ کوئی سہل کام نہیں مگر فضل ربی راہی نے اس مشکل کام کو اتنی مہارت اور حسن و خوبی سے انجام دیا ہے کہ ترجمے پر طبع زاد کا گمان ہوتا ہے کہ فضل ربی راہی شاعرہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے نثر نگار اور کالم نگار بھی ہیں۔
روزنامہ ”جنگ“ لندن، روزنامہ ”نئی بات“ لاہور اور ”ہم سب“ کی ویب سائٹ پر ان کی تحریریں باقاعدگی سے شائع ہوتی رہی ہیں۔ ان کی سات کتابیں شائع ہوئی ہیں جن میں ایک سفر نامہ اورچھ کتابیں سوات کی تاریخ، سیاحت اور سوات کی حالیہ طالبانائزیشن کے بارے میں ہیں۔ اس سے پیشتر وہ ”میں ہوں ملالہ“ کے نوجوانوں کے لئے لکھے گئے ایڈیشن کا بھی ترجمہ کر چکے ہیں۔ کئی رسائل کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں اور شعیب سنز کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ بہت کامیابی سے چلارہے ہیں۔
محترم شجاعت علی راہی صاحب کی کتابیں اور میری کتاب ”کہکشاں یہ مرے خوابوں کی“ بھی ان ہی کے ادارے نے شائع کی۔ فضل ربی راہی صاحب کا تعلق بھی سوات سے ہے، لہٰذا وہاں کے رسم و رواج سے آگاہی نیز طالبان کے اس پرآشوب دور اور دور ابتلا کو قریب سے دیکھا ہے۔ اس لئے ضیاء الدین یوسف زئی کی کتاب کا ترجمہ انہوں نے اس خوبی سے کیا ہے کہ پڑھتے ہوئے کہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ ہم ترجمہ پڑھ رہے ہیں۔ ”اسے پرواز کرنے دو“ ضیاءالدین کی آپ بیتی بھی ہے اور سوات کی جنت نظیر وادی پر ایک تاریک دور کی کہانی بھی جب یہاں کے باسیوں پر یہ زمین ایسے تنگ کر دی گئی تھی کہ مجبوراً گھر بار چھوڑ کر انہیں آئی ڈی پیز بننا پڑا تھا۔
ضیا ءالدین کی ان حالات میں ہمت، جرات اور استقامت قابل تعریف وستائش ہے۔
گو اس کتاب کا مرکزی کردار تو ملالہ اوراس کی پرواز ہے مگر ضیاء الدین کی نامساعد حالات میں پرواز اور اپنے ہدف سے بڑھ کر پا لینا اس بات کی دلیل ہے کہ جب بندہ محنت اورلگن سے کسی راہ پر چلتا ہے تو اللہ اس کے لئے راستے آسان بناکر اسے اس کی توقع سے بھی زیادہ عطا کرتے ہیں۔ محترم شجاعت علی راہی صاحب نے اپنے تبصرے میں انہیں بجا طور پر شاہین کہا ہے اور ان کی مستقل جدوجہد کی داستان پڑھتے ہوئے اقبال کا شعر ذہن کے پردے پر ابھرتا رہا۔
پلٹنا، جھپٹنا جھپٹ کر پلٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
نامساعد حالات میں تعلیم کی تکمیل، پھر بولتے ہوئے ہکلانا اور اپنی کمزوری کو سمجھنا، اس پر قابو پانا اور خود اعتمادی کے ساتھ تقریریں کرنا ان کی خود اعتمادی اورخود شناسی کی واضح دلیل ہے۔ پھر ایک ایسے ماحول میں جہاں ان کی بہنوں سے امتیازی سلوک روا رکھا گیا۔ صدیوں کے لگے بندھے رسم و رواج اور اقدار کی زنجیروں سے آزادی کوئی آسان کام نہیں۔
پتہ نہیں حسب حال ہے یا نہیں لیکن یہ سب پڑھتے ہوئے بار بار اک شعر نوک زباں پر مچل رہا ہے کہ
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
تو ملالہ کی پیدائش پر ایک مجاہدہ کے نام سے متاثر ہو کر ملالہ نام رکھنا، شجرۂ نسب میں ملالہ کا نام لکھوانا، بچپن سے اس کی صلاحتیوں کونکھارنا، سنوارنا تقریری مقابلوں میں بھجوانا اور سب سے بڑھ کر اسے خود اعتمادی کا بھر پور اور مضبوط ہتھیار دینا اور اسے یہ باور کرانا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ہر میدان میں جھنڈے گاڑ سکتی ہے۔ ملالہ اور اس کے پر عزم باپ نے بے نظیر بھٹو کوآئیڈیل بنایا۔ مگر قدرت کی فیاضی دیکھئے کہ اتنی کم عمری میں دنیا کا سب سے بڑا انعام نوبل پرائز ملالہ نے کس شان اور خود اعتمادی سے وصول کیا اور اتنی کم عمری میں جہاں جہاں اسے انٹرویو دینا پڑا، بولنا پڑا، وہاں اس نے بہت خود اعتمادی اور باوقار انداز سے خطاب کیا۔
وہ لوگ جو ملالہ کے نوبل پرائز اور اس کی کامیابیوں کو ایک گولی کا مرہون منت سمجھتے ہیں اور تعصب سے کام لیتے ہیں، انہیں جہد مسلسل کی یہ دل چسپ داستان ضرور پڑھنی چاہیے۔
اس کتاب کا ایک اور اہم کردار تور پیکئی کا ہے جو نہ صرف ایک اچھی ماں اور پیار کرنے والی بیوی ہے بلکہ سوات کے پہاڑوں جیسا عزم راسخ اور ہمت و جرات رکھتی ہے اور ہر کٹھن مرحلے پر شوہر کی ہمت بندھاتی ہے۔ پدر سری معاشرے اور پشتون راویات کے برعکس حقوق نسواں کاعلمبردار ہونا اورعملی جدوجہد کرنا کانٹوں بھری راہ پر چلنے کے مترادف ہے۔ بیوی اور بیٹی کو پیار کے ساتھ ساتھ عزت و احترام اور حقوق دینا ضیاءالدین یوسف زئی کے کردار کی اہم خوبی ہے۔
کتاب کے آخری دوباب مترجم نے اس خوب صورتی سے لکھے ہیں کہ جس نے آنکھیں نم کر دیں۔
اس باب سے وہ چند سطریں جو مجھے بہت پسند آئیں کہ خود مجھے بچپن میں ایسی قینچیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
کسی نے مجھ سے پوچھا کہ آپ نے ملالہ کے لئے کیا کیا ہے، میں نے جواب دیا کہ یہ نہ پوچھو کہ کیا کیا ہے بلکہ یہ پوچھو کہ کیا نہیں کیا ہے؟ میں نے اس کے پروں کو نہیں کاٹا اورجب میں یہ کہتا ہوں کہ میں نے اس کے پروں کو نہیں کاٹا تومیرا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب وہ چھوٹی تھی تو میں نے وہ قینچیاں توڑ ڈالی تھیں جن کے ذریعے معاشرہ لڑکیوں کے پر کاٹ ڈالتا ہے۔ میں نے ان قینچیوں کو ملالہ کے قریب بھی نہیں آنے دیا۔
میں اسے آسمان کی بلندیوں میں پرواز کرتی ہوئی دیکھنا چاہتا تھا۔ میں اس کے ساتھ کھڑے رہنا چاہتا تھا، اسے تحفظ دینا چاہتا تھا۔ جب تک کہ اسے ازخودبلند پرواز کرنے کا اعتماد اور طاقت حاصل نہ ہوتی۔
ملالہ کے پاس جو بھی ہے، وہ اس کی تعلیم کی وجہ سے ہے۔ ملالہ جو ایک رول ماڈل بن گئی ہے، تعلیم کے بغیر ساری زندگی غیر معروف رہتی، علم اس کی زندگی میں کوہ نور ہیرے کی حیثیت رکھتی ہے۔
جانے کون سا لمحہ تھا کہ خدا نے ضیاء الدین کو اس کے خوابوں سے بھی اونچا مقام دیا اور ان کے والد جن کے نام کتاب نذر کی گئی ہے۔ ان کی دعا کہ
”ضیا الدین خدا تمہیں علم و حکمت کے آسمان پر درخشندە سورج کر دے۔“
والدین کی دعائیں بھی کیسی مقبول ہوتی ہیں کہ دیکھئے ضیاءالدین کی کم سن بیٹی کو نوبل پرائز کا ملنا اور دنیا بھر میں تعلیم کے حوالے سے کام کرنا قبولیت دعا اور اللہ کے جود و سخا کا بین ثبوت ہے کہ اللہ طلب سے بھی بڑھ کر نوازتا ہے۔
آخر میں برادر اصغر فضل ربی راہی کو اس خوب صورت ترجمے پر داد و تحسین کہ انہوں نے اردو میں ترجمہ کر کے اسے اپنے لوگوں تک پہنچایا اور مزید شکریہ اور دعائیں کہ انہوں نے ”اسے پرواز کرنے دو“ کا یہ قیمتی تحفہ مجھے بھجوایا۔ جزاک اللہ خیراً کثیر


