’بن لادن‘ خاندان کی الف لیلوی داستان

شیخ کی سخاوت کے قصے بھی بہت مشہور ہیں۔ ایک واقعہ میں کچھ انڈونیشیائی حاجیوں کو ان کے گائیڈ نے دھوکا دیا اور ان سے روپے بٹور کرغائب ہو گیا۔ بے بس اور لاچار حاجی، شیخ بن لادن کے پاس پہنچے کہ کچھ مزدوری مل جائے تو واپسی کا کرایہ نکل سکے۔ بن لادن نے انھیں کام دینے کے بجائے اتنے پیسے دیے کہ وہ عزت سے گھر جا سکیں۔

بن لادن کے ایک پرائیویٹ امریکی پائلٹ کا کہنا ہے کہ شیخ کی رسمی تعلیم نہ ہونے کے برابر تھی مگر ان میں انجینئرنگ کی سمجھ بوجھ بہت سے یونیورسٹی گریجویٹس سے زیادہ تھی۔ اس کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے گرد ہر فرد ان سے محبت کرتا تھا۔ شیخ اکثر کنسٹرکشن سائٹس پر، جو تمام مملکت میں پھیلی ہوئی تھیں، خیموں میں اپنی مجلس منعقد کرتے جہاں مقامی لوگ ان سے اپنے فیصلے کرانے آتے۔ کبھی کبھار شیخ اپنی جیب سے پیسے ادا کر کے طرفین کو راضی کرتے۔

بن لادن نے حرمین شریفین کی توسیع میں جو اعلیٰ تعمیراتی معیار متعارف کرایا، وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں مگر امریکی اور یورپی سفارت خانوں کی کیبلز کے مطابق مملکت کے پراجیکٹس کے ٹینڈرز میں ان کی بولیاں غیر ملکی تعمیراتی کمپنیوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتیں، اس طرح ان کی کامیابی پر یورپی اور امریکی کمپنیاں تلملاتی رہ جاتیں۔ کارمن کے بیان کردہ ایک دلچسپ واقعہ میں شیخ بن لادن نے ایک اطالوی فرم کو شکست دے کر جدہ طائف روڈ بنانے کا ٹھیکہ کچھ اس طرح حاصل کیا کہ وہ ایک خچر لے کر طائف گئے اور خچر کی ”پیروی“ کر کے روڈ کا نقشہ بنایا جو مختصر ترین راستہ تھا اور جس کی تعمیر سب سے آسان اور کم خرچ تھی۔

کہا جاتا ہے کہ شاہ عبدالعزیز ضعیف العمری اور غالباً گھٹنے کی تکلیف کے سبب جدہ میں واقع قصرخزام کی سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتے تھے۔ بن لادن نے ان کے لئے ایسی ڈھلان ڈیزائن کی کہ اونٹ اور بعد ازاں آٹو موبائل گاڑیاں براہ راست دوسری منزل پر واقع ان کے بیڈروم اور مجلس تک پہنچ سکتی تھیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ شاہ فیصل کے ایک بڑے بھائی شاہ سعود اپنے دور حکومت میں شاہ خرچی کے باعث اکثر مقروض ہو جاتے تھے۔ 1964 ء میں علماء اور شاہی مشاورتی کونسل کے ارکان نے انھیں معزول کر کے جلاوطن کر دیا۔ شاہی خاندان کو شرمندگی سے بچانے کے لئے اس سال ملازمین کی تنخواہیں شیخ بن لادن نے ادا کیں جس پر شاہ فیصل ان کے ذاتی طور پر شکر گزار ہوئے۔ اس عمل نے آگے چل کر بن لادن کی مزید ترقی کے لئے زینے کا کام کیا۔

کارمن کے مطابق شیخ کی گھریلو زندگی بھی نہایت دلچسپ اور رنگین تھی، انھوں نے 22 شادیاں کیں۔ اسلام میں چار شادیوں کی شرط کے سبب موصوف نئی شادیاں کرتے ہوئے اپنی پچھلی بیویوں کو طلاق دیتے جاتے۔ ان کی موجودہ اور سابقہ بیویاں ایک بہت بڑے کمپاؤنڈ میں ساتھ ہی رہتیں۔ سابقہ بیویاں پرانی مراعات کے ساتھ وہیں قیام کر سکتی تھیں۔ دوسری شادی کرنے کی صورت میں انھیں مالی مراعات کے ساتھ اپنے بچوں سے بھی دست بردار ہونا پڑتا۔ بیشتر بیویاں اپنے بڑے بیٹوں کے نام سے پکاری جاتیں مثلاً ام یسلم یا ام بکر۔ ایک خاتون ام عمر سے بن لادن نے دو مرتبہ شادی کی۔ کارمن کہتی ہیں کہ شادیوں کے علاوہ شیخ اپنی دولت کو استعمال کر کے محدود مدت کے معاہدے کے تحت بھی خواتین سے تعلق رکھتے جو غالباً مسیار کی کوئی شکل تھی۔

تاہم اتنی زیادہ شادیوں اور تعلقات کے باوجود یہ پہلو بہرحال قابل تحسین ہے کہ شیخ بن لادن تمام سابقہ اور موجودہ بیویوں اور اپنے تمام بچوں کی بلا امتیاز کفالت کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ (کارمن کے مطابق) نکاح مسیار کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد اور ان کی ماؤں کو (اگر وہ آنا چاہتیں ) بھی اسی بڑے کمپاؤنڈ میں لے آتے، ان بچوں اور دیگر بچوں میں کوئی فرق روا نہیں رکھا جاتا تھا۔ کارمن مساوات پر مبنی کفالت کے اس نظام سے شاید اس لئے بھی مرعوب تھی کہ اس کے یورپی باپ نے جب دوسری عورت سے تعلق قائم کیا تو پلٹ کر اپنی بیوی تو کجا بیٹیوں کو بھی نہیں پوچھا۔

اپنی موت سے پہلے شیخ نے جدہ مکہ روڈ پر ایک بہت بڑا کمپاؤنڈ (جو ’کلومیٹر سیون‘ کہلاتا) اپنے وسیع خاندان کے لئے تعمیر کرایا جہاں خاندان آہستہ آہستہ منتقل ہو گیا۔ انھوں نے اپنی زندگی ہی میں اپنے بیشتر بچوں کو پڑھنے کے لئے پہلے بیروت، مصر، شام اور بڑے بیٹے سالم کو لندن بھیجا۔ ان کی موت کے بعد خاندان کے متعدد افراد مغرب میں منتقل ہو گئے جہاں انھوں نے جائیدادیں بھی خریدیں اور کاروبار بھی جمائے۔ شیخ کو اللہ تعالیٰ نے بہت مختصر عمر دی۔

کارمن کو کمپنی کے ایک ملازم نے بتایا کہ 1967 ء میں شیخ اپنی موت کی رات تیئسویں شادی کرنے والے تھے۔ وہ اپنے ذاتی طیارے میں اپنے ہونے والے سسرال ہی جا رہے تھے کہ ان کا جہاز کریش کر گیا۔ یوں وہ 59 سال کی عمر میں اپنی تمام تر دولت، بن لادن بزنس امپائر اور اپنے وسیع خاندان کو بھی چھوڑ کر اچانک اس جہان سے رخصت ہو گئے۔ یاد رہے شیخ نے اپنی جوانی کاروباری جدوجہد میں گزاری اور شادیاں بڑی عمر میں کیں۔ ان کے انتقال کے وقت ان کے صرف دو بیٹے سالم اور علی 21 سال کی عمر کے تھے باقی سب چھوٹے تھے۔ بچوں کے سکولوں میں کارمن، بن لادن کی دولت کے علاوہ اس بڑے خاندان کے نظام سے بھی بہت مرعوب تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شیخ کی زندگی میں ان کی کہی بات قانون ہوتی تھی تاہم وہ کبھی اپنی بیویوں اور بچوں پر سختی یا تشدد نہیں کرتے تھے۔ کارمن کے مطابق تمام بیویاں شیخ کے انتقال کے بعد بھی اتفاق سے زندگی بسر کرتی رہیں۔

اگرچہ شیخ کی زندگی میں موجودہ بیویوں کا درجہ سابقہ بیویوں سے زیادہ ہوتا مگر ان کی موت کے بعد مراتب میں کوئی فرق نہ رہا۔ شیخ کی چہیتی بیوی ام حیدر تھیں جن کا تعلق اسامہ کی والدہ کی طرح شام سے تھا۔ وہ خوبصورت اور نفیس ذوق رکھنے کے علاوہ بہت اچھی منتظمہ بھی تھیں اور اکثر گھریلو اور خاندانی معاملات کے انتظام کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔

شاہی خاندان سے بن لادن کے گہرے تعلق کا اندزہ یوں ہوتا ہے کہ شیخ کی اچانک موت کے بعد یہ شاہ فیصل ہی تھے جنہوں نے آٹھ افراد پر مشتمل ایک بورڈ بنایا جس نے بن لادن کمپنی کے معاملات کی نگرانی کی۔ ان دنوں تعمیراتی منصوبوں میں شہزادوں کا عمل داخل بڑھنے لگا تھا اور بن لادن کو غیر ملکی کمپنیوں کے علاوہ شہزادوں کی سپانسر کی ہوئی کمپنیوں سے بھی مقابلے کا سامنا تھا۔ شیخ کی موت کے بعد قبیلے کی روایات کے مطابق ان کے سب سے بڑے بیٹے سالم بن لادن نے کاروبار سنبھالا جو شرعی قوانین کے مطابق کمپنی کے سالانہ منافع کو تمام بیٹوں، بیٹیوں اور بیواؤں میں تقسیم کرتے۔ مطلقہ بیویاں اس منافع میں براہ راست حصہ دار نہ ہوتیں مگر ان کے بیٹے اپنے حصے سے ماؤں کی کفالت کیا کرتے تھے۔

کارمن کا کہنا ہے کہ قبیلے کی روایات اس قدر مضبوط تھیں کہ کسی کو کچھ کہنے کی ضرورت نہ پڑتی تھی اور خاندان کا نظام بغیر کسی رکاوٹ کے چلتا رہتا تھا۔ سالم کا قبیلے کے سربراہ کے طور پر سب بے حد احترام کرتے اور اس کی بات اپنے باپ کی طرح قانون سمجھی جاتی لیکن وہ بھی کوئی حکم صادر نہیں کرتا تھا۔ اس کے باوجود جن بہنوں کے سگے بھائی نہیں تھے وہ سالم کو بڑا مان کر اس پر اعتبار کرتیں اور اس کی اجازت سے ہر کام کیا کرتی تھیں۔ کارمن کے مطابق سالم اپنی ایک سوتیلی بہن سے بہت محبت کرتا تھا جس کا کوئی سگا بھائی یا بہن نہیں تھی۔ اکثر بیرون ملک دوروں میں بھی اسے ساتھ لے کر جاتا اور اس کی ہر خواہش پوری کرتا۔

یورپ میں پلنے بڑھنے کی وجہ سے غالباً کارمن بن لادن خاندان کی باقی عورتوں کے مقابلے میں احساس برتری کا شکار تھی جس کا اظہار وہ متعدد مقامات پر کرتی ہے۔ مثلاً ً اس کا کہنا تھا کہ تمام خاندان کی عورتیں اپنے شوہروں سے ڈرتی تھیں کہ کہیں وہ انھیں طلاق ہی نہ دے دیں۔ کارمن کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تمام عورتیں مذہب بالخصوص نمازوں کی بہت زیادہ پابند تھیں مگر اپنے شوہر یا باپ کی فرماں برداری کے علاوہ ان کی اپنی کوئی زندگی نہ تھی۔

مثلاً اپنی ساس کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ام یسلم ایک اچھی اور صابر عورت تھی مگر اس کی زندگی روایات میں مقید تھی۔ اس کی دو ہی دلچسپیاں تھیں :کھانا پکانا اور قرآن پڑھنا۔ وہ اپنی ساس کے بارے میں ایک اور دلچسپ بات بتاتی ہے کہ اس کے نزدیک ہر بات حرام تھی مثلاً میوزک سننا، نوکر یا ڈرائیور سے بات کرنا، گھر سے باہر چہل قدمی کرنا، کسی مرد کو بے پردہ نظر آ جانا۔ کارمن اس بات پر بھی حیران نظر آتی ہے کہ سعودی عورتوں کو ان پابندیوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، انھوں نے خوشی سے ان سخت روایات کو قبول کیا ہوا ہے۔

تاہم کارمن ہی کے بیان کے مطابق اس کی واحد نند یعنی یسلم کی چھوٹی بہن فوزیہ نے، جو شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی میں بزنس ایڈمنسٹریشن پڑھ رہی تھی، نے اپنی شادی سے دو دن قبل یہ شرط رکھی کہ نکاح نامہ میں اسے طلاق دینے کا حق دیا جائے۔ جب لڑکے کے خاندان نے یہ شرط مان لی تو شادی کی تقریبات دوبارہ شروع ہوئیں۔ اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام مغربی تاثر کے برعکس بن لادن خاندان اور سعودی عورتوں میں اپنے حقوق کا احساس اور جدوجہد کا جذبہ موجود ہے۔ 70 ء کی دہائی کے یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ بن لادن خاندان اپنی لڑکیوں کو بھی اعلیٰ تعلیم دلانے میں سنجیدہ تھا لیکن کارمن نے لڑکیوں کو تعلیم کے لئے بیرون ملک بھیجنے کا ذکر نہیں کیا۔

ایک اور جگہ کارمن نے ایک بڑی نند شیخا کا تذکرہ یوں کیا کہ وہ اپنے مذہبی ہونے کے سبب سارے خاندان میں عزت کی نظر سے دیکھی جاتی تھیں۔ کارمن کا خیال تھا کہ سر سے پیر تک سیاہ عبائے، دستانوں اور موزوں میں ملفوف یہ خاتون بھی دوسری عورتوں کی طرح مظلوم اور دبی ہوئی تھی مگر 1979 ء میں روس کے افغانستان پر حملہ کے بعد جب سعودی حکومت نے پاکستان میں مقیم مہاجرین کی مدد کے لئے اپنے عوام سے اپیل کی تو اسامہ کے ساتھ یہ خاتون (شیخا) نہ صرف امداد جمع کرنے کے لئے رضاکارانہ طور پر سرگرم ہو گئیں بلکہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ مہاجرین میں امداد تقسیم کرنے کے لئے جنگ زدہ افغانستان بھی جا پہنچیں۔ کارمن ان کی ہمت پر دنگ رہ گئی اور ان کی بہادری کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکی۔ مگر کارمن کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ عورتیں اپنی صلاحیتوں کو صرف مذہب کے لئے استعمال میں لا کر ضائع کر رہی ہیں۔ گویا اس کے خیال میں جنگ زدہ مہاجرین کی امداد کوئی انسانی نہیں بلکہ صرف اسلامی کاز تھا جو اتنا قابل قدر نہ تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words