’بن لادن‘ خاندان کی الف لیلوی داستان
کارمن یسلم سے اپنی پہلی ملاقات کی بابت بتاتی ہے کہ سالم اپنے کسی غیر ملکی ٹرپ کے دوران یسلم سے ملاقات کے لئے جنیوا میں رکا، یہ تینوں کسی نائٹ کلب میں گئے تو یسلم نے اسے (کارمن کو) تنبیہ کی کہ اگر سالم تمہیں ڈانس کی پیشکش کرے تو قبول نہ کرنا ورنہ وہ تمہارے بارے میں برا تاثر لے گا۔ کارمن کا کہنا ہے کہ اسے یہ بات سمجھ نہیں آئی مگر اس کا کہنا تھا کہ سالم، یسلم کے مقابلے میں بہت اچھا ڈانس کرتا تھا۔ بن لادن خاندان کا ولی عہد اور بعد ازاں سربراہ سالم انتہائی شوقین اور جوش و جذبے سے بھرپور نوجوان تھا جو محض 42 سال کی عمر میں ذاتی جہاز اڑاتے ہوئے باپ کی طرح ہلاک ہو گیا۔
کارمن لکھتی ہے کہ نائن الیون کے بعد اسامہ کی اپنے بھائیوں کے ساتھ جو تصاویر میڈیا پر شیئر کی گئی ان میں اسامہ نہیں بلکہ اس سے مشابہہ ایک دوسرا بھائی ہے۔ اسامہ اس وقت شام کے لطاکیہ نامی ساحلی شہر میں اپنے ننھیال کے ہاں تھا۔ جب کارمن نے میڈیا پر اسامہ کے پلے بوائے ہونے کی خبریں پڑھیں تو اسے بہت حیرت ہوئی کیونکہ اس نے اسامہ کو لڑکپن ہی سے مذہبی دیکھا تھا، اسی وجہ سے تمام گھرانے میں اسامہ کا بہت احترام کیا جاتا تھا۔ کارمن نے کبھی اسامہ کے بارے میں ایسی ویسی کوئی بات نہیں سنی۔ اگر پلے بوائے ہونے کی بات سچ ہوتی تو اسے ضرور علم ہوتا۔ یاد رہے کہ کارمن کی شادی کے وقت اسامہ محض سولہ سال کا تھا۔
بن لادن کے دیگر بیٹوں کے برعکس اسامہ نے مملکت ہی میں تعلیم کو ترجیح دی۔ کارمن کے مطابق سن 1979 ء میں رونما ہونے والے تین اہم عالمی واقعات اسامہ کی فیملی لائف پر اثر انداز ہوئے۔
اول: ایرانی انقلاب، دوم:اسلامی انتہا پسند باغیوں کا مسجد الحرام پر قبضہ، سوم: روس کا افغانستان پر حملہ۔ اسامہ انجینئرنگ کی تعلیم سے فارغ ہی ہوا تھا کہ 22 سال کی عمر میں پاکستان چلا گیا۔ کارمن بتاتی ہے کہ شادی کے آغاز میں ایک دفعہ اسامہ، یسلم یعنی اپنے بڑے بھائی سے ملنے گھر آیا۔ اسامہ نے دروازے پر کارمن کے چہرے کو بے پردہ دیکھ کر منہ دوسری طرف کر لیا اور ہاتھ کے اشارے سے اسے اندر جانے کو کہا۔
اسامہ کی انتہا پسندی کا ایک قصہ سناتے ہوئے کارمن بتاتی ہے کہ ایک دفعہ گرمیوں میں سارا خاندان تفریح کے لئے طائف گیا۔ کارمن کی بڑی بیٹی اور اسامہ کا بیٹا دونوں ایک ہی عمر کے شیر خوار تھے۔ وہاں رہائش کے دوران کارمن نے نوٹ کیا کہ اسامہ کا بیٹا مسلسل رو رہا ہے اور اس کی بیوی نجوا شدید گرمی میں اسے چمچے سے پانی پلانے کی کوشش کر رہی ہے جو بچہ پی کر نہیں دے رہا۔
کارمن نے نجلہ کو اپنی بیٹی کی ایک فاضل بوتل آفر کی مگر نجلہ نے اسے خاموشی سے مسترد کر دیا۔ کارمن کی ساس نے اسے بتایا کہ اسامہ بوتل سے دودھ یا پانی پلانے کو غیر شرعی سمجھتا ہے۔ کارمن نے اپنے شوہر یسلم کے ذریعے اسامہ کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اتنی گرمی میں بچہ مر بھی سکتا ہے مگر اسامہ نے بڑے بھائی کی بات سننے سے بھی انکار کر دیا۔ کارمن کے مطابق جب وہ 1985 ء میں جنیوا منتقل ہوئی، اسامہ کی پہلی بیوی نجوا ( جو اس وقت 30 سال کی تھی) سات بیٹوں کی ماں بن چکی تھی۔
کارمن کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس وقت وہ سعودی عرب پہنچی، بن لادن کی عورتوں میں فیشن برانڈز استعمال کرنے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ اسے دیکھ کر ہی بن لادن کی عورتیں برانڈز سے متعارف ہوئیں۔ کارمن کی اپنی اور خاندان کے دوسری بچیاں سرکاری سکولوں میں جاتیں حالانکہ جدہ اور ریاض میں غیر ملکی بچوں کے لئے برٹش سکول موجود تھے۔ کارمن نے شیخ محمد کے شاہ عبدالعزیز اور شاہ فیصل سے تعلقات کا تذکرہ فخریہ طور پر کیا مگر اس کے بیان سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ شاہ فیصل کے انتقال کے بعد بن لادن کے بیٹوں کے لئے شاہی خاندان میں وہ گرمجوشی نہ رہی تھی جو ان کی زندگی میں تھی۔ بن لادن خاندان میں طویل عرصہ گزارنے کے باوجود کارمن نے سعودی شاہی خاندان کی کسی تقریب میں شرکت کا ذکر نہیں کیا۔
اس کی واحد شاہی دوست ’لطیفہ‘ سے اس کی ملاقات جنیوا میں ہوئی جو بادشاہ کی دور کی رشتہ دار تھیں لیکن اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ بن لادن برادران شاہی خاندان کے افراد کی مجلسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے کیونکہ شاہی فیملی سے تعلق ہی مملکت میں ٹھیکے دلا سکتا تھا۔ بعد ازاں جب کارمن یسلم کو لے کر جنیوا منتقل ہوئی تو یسلم نے وہاں سعودی سفارت خانے اور سعودی ائر لائنز کے سٹاف کے ذریعہ سعودی شہزادوں کے ساتھ تعلقات پیدا کیے اور اپنا ذاتی بینک کھولا جسے وہ کارمن سے طلاق کے بعد بھی چلا رہے ہیں۔
کارمن کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ بن لادن خاندان کی عورتوں اور بعض مردوں کے مذہبی رجحان میں اضافہ ہوتا گیا، متعدد لڑکیاں گھر میں بھی سکارف پہننے لگیں۔ یاد رہے کہ نائن الیون کے بعد بن لادن خاندان کی جو ستر کے عشرے کی سویڈن میں قیام کی جو تصویر میڈیا پر آئی اس میں لڑکیوں نے بھی مکمل آستینوں کی ٹی شرٹس، پتلونیں پہن رکھی ہیں جبکہ سر پر حجاب موجود نہیں۔ 1985 ء میں خاندان کی بعض عورتوں کو احساس ہوا کہ ان کے بچے مغربی تہذیب سے نہایت تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں، چنانچہ انھوں نے بچوں کی تعلیم کی خاطر جدہ میں بچوں کے لئے اسلامی سکول قائم کیے۔ کارمن کو بھی دعوت دی گئی کہ وہ اپنے بچوں کو اسلامی سکولوں میں منتقل کریں مگر کارمن سعودی عرب کے سرکاری سکولوں کے اسلامی ماحول سے ہی خاصی تنگ تھیں، چنانچہ اس نے نرمی سے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔
کارمن کے بیان سے ان مصنفین کے بیانات کی نفی ہوتی ہے جو ڈرامائی انداز میں بن لادن کو شاہی خاندان سے زیادہ امیر اور فضول خرچ ظاہر کرتے ہیں۔ بن لادن کی اس یورپی بہو کے بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ بن لادن خاندان بے انتہا دولت اور جائیدادوں کے باوجود اعتدال کی زندگی بسر کرتا تھا۔ مثلاً یسلم کا گھر والوں کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کے لئے جنیوا ہوٹل میں ٹھہرنے کے بجائے ایک اوسط درجے کا گھر کرائے پر لینا بچت کی عادت ہی ظاہرکرتا ہے۔
اس کے مقابلے میں شاہی خاندان کے معمولی افراد بھی جب یورپ اور امریکا کے شہروں میں جاتے تو ہوٹلوں کے پورے فلور ہفتوں، مہینوں کے لئے کرائے پر لیتے اور اپنے ذاتی خدمت گاروں کی فوج کے ساتھ وہاں خوب دولت لٹاتے اور اپنی شان و شوکت کا اظہار کرتے۔ بعض واقعات میں ان کی آمد سے قبل ہوٹلوں کے فرنیچر تک ان کی فرمائشوں پر تبدیل کر دیے جاتے۔
کارمن کی خود نوشت کے تفصیلی مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خاندان محنتی ہونے کے ساتھ جدید تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کی صلاحیت بھی رکھتا تھا مگر اس کے باوجود روایت اور مذہب کی پاسداری بھی اس کے لئے اہم تھی۔ خاندان کے لوگوں نے مغرب میں قیام کے دوران کسی حد تک مغرب کے طور طریقے بھی اپنائے مگر مذہب اب بھی ان میں سے بیشتر کی زندگی کا ایک لازمی جزو تھا خصوصاً خاندان کی عورتیں مذہب سے جڑی ہوئی تھیں۔
یہ کتاب ایک ایسے چشم دید گواہ کے بیانات پر مبنی ہے جو خود مغرب میں پلی بڑھی، بن لادن خاندان اور مملکت سعودیہ کے طرز زندگی کو تحقیر کی نظر سے دیکھتی ہے۔ کتاب ان مغربی دعوؤں کی نفی کرتی ہے جن میں بن لادن خاندان کو شاہی خاندان کے ساتھ ساتھ امریکی صدور کے بھی بہت قریب دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر امریکی صدور سے تعلق کی کہانیاں سچ ہیں تو اس کے تصویری ثبوت بھی ہونے چاہئیں۔
کارمن نے بن لادن مردوں اور عورتوں کے ساتھ طویل عرصہ ایک کمپاؤنڈ میں رہنے کے باوجود گھریلو تشدد یا کسی قسم کے متشدد رجحان کا تذکرہ نہیں کیا۔ انتہائی غربت سے امارت تک کے سفر کے علاوہ ایک قبیلے کی طرح وسیع خاندان کے طرز زندگی میں کوئی غیر معمولی بات محسوس نہیں ہوتی سوائے ایک فرد کے جس نے ’کلومیٹر سیون‘ کی آرام و آسائش کی زندگی چھوڑ کر حضرموت کی مانند دشوار گزار افغان علاقوں میں ایک جنون کی خاطر ایڈونچر سے بھرپور زندگی کو ترجیح دی۔
کتاب کے مطالعہ سے یہ بھی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسامہ کی زندگی اور اس کے خاندان کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا اس میں افسانہ زیادہ ہے اور حقائق کو بین الاقوامی سیاست اور ایک مخصوص ایجنڈے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔
(یہ مضمون پہلی مرتبہ نومبر 2016 کو ایکسپرسس نیوز سنڈے ایڈیشن میں شائع ہوا)

