میں ایک عورت دشمن شاعر رہا ہوں


میں عورت کی ایسی فروخت پر اکیلا تو پابندی نہیں لگا سکتا، مگر خود کو کہیں روک کر اس بارے میں غور تو کر سکتا ہوں کہ میں نے اب تک جو کیا ہے، جو عورت پر لکھا ہے، وہ کیا تھا۔ اب اپنی ہی شاعری پڑھتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ عورت پر لکھا ہوا میرا ہر شعر کھوٹا، میری ہر نظم جھوٹی اور میری ہر تحریر جعلی ہے۔ میں نے کبھی عورت کو سمجھا ہی نہیں، میں نے کبھی اسے اپنے برابر کا درجہ ہی نہیں دیا۔ میری شہوت تو بس منہ کھولے کھڑی رہی کہ اس کا پلو سرک جائے اور میں اس کے پستانوں پر کوئی ناول لکھ دوں، اس کے یاقوتی ہونٹوں پر شعر، نیلی آنکھوں پر نظم اور بدن کی ساخت پر الٹی سیدھی تحریریں لکھ کر ایک ہونق اور بے دماغ بھیڑ سے داد وصول کروں۔

ہمارے یہاں، خاص طور پر اردو میں شاعر کو کبھی کسی بات کے لیے ذمہ دار ٹھہرائے جانے کا رواج ہی نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ تو اپنے من سے لکھے گا، اسے جو اچھا لگے گا، جو اسے پسند آئے گا، وہ اسی کی تعریف تو کرے گا۔ اب اسے عورت کا بدن پسند آتا ہے تو وہ اور کیا کرے۔ اس نکتے کو سمجھنے میں ہم سے جہاں بھول ہوئی ہے، وہیں منٹو سے بھی ہوئی، بیدی سے بھی اور کرشن چندر سے بھی۔ منٹو نے چھیڑ چھاڑ کو جسٹفائی کرنے کے لیے ایک لڑکے کا قصہ بیان کیا، جس میں وہ چھیڑ خانی جیسے گمبھیر مسئلے کو اس ہلکے سے مذاق سے نمٹانا چاہتا ہے کہ اب اس کا کیا کیا جائے کہ ایک لڑکا راستے پر جا رہا تھا، راستے میں اسے ایک کتا دکھائی دیا، جو اسی کی طرف دیکھ رہا تھا، اچانک لڑکے کے جی میں نہ جانے کیا بات آئی کہ اس نے کتے کو آنکھ مار دی۔ یعنی سمجھایا گیا کہ آنکھ مارنا ایک فطری عمل ہے، چھیڑ چھاڑ کو نارملائز کرنے کی کوشش میں ایسا پھسپھسا مضمون لکھا صاحب نے کہ آج کل چھٹی ساتویں جماعت کا کوئی بچہ بھی اسے اٹھا کر کچرے کے ڈبے میں پھینک دے۔ شاید اسی وجہ سے ہم بھی کسی لڑکی کے فیس بک ان باکس میں گھس کر الٹی سیدھی بکواس کرنے، اسے سیڈیوس کرنے کو اپنا فنکارانہ حق سمجھنے لگے ہیں، بلکہ وہ پدی شاعر بھی، جنہیں ابھی شعر کہتے دو دن بھی نہیں ہوئے، تعریف ملتے ہی لڑکیوں پر جون ایلیائی نظر ڈالتے ہیں۔ ہمیں ان سب باتوں سے خود کو روکنا ہے تو پہلے اپنی اصلاح کرنی ہوگی۔ ادب ہو یا فن، کسی جیتے جاگتے وجود سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتا۔ اس لیے میں آج ایسی تمام عورتوں یا لڑکیوں سے اس مضمون کے ذریعے معافی بھی مانگنا چاہتا ہوں، جن کو کبھی جانے انجانے میں نے اپنی شاعری یا اپنی باتوں سے پریشان کیا ہو۔ بہرحال بات کہانی کاروں کی چل رہی تھی۔ بیدی نے اسی طرح اپنی ایک کہانی کلیانی میں ایک عورت کو جنسی قسم کے تمام ٹارچر سہہ کر اس بات پر خوش ہوتے ہوئے دکھایا کہ اسے اس کا مستقل گاہک مقررہ رقم سے کچھ زیادہ دے دیا کرتا تھا۔ کرشن چندر نے تو کمال ہی کیا، ایک کہانی میں (شاید شہزادہ) میں ایک عورت سے ہی کہلوا دیا کہ مرد سے مار کھانا کبھی کبھی عورت کو اچھا لگتا ہے۔

جب سمجھ میں آیا کہ ہم کہاں غلط ہیں تو معلوم ہوا کہ خرابی ہم میں تو ہے ہی، ہم سے زیادہ ہماری بنیادوں میں ہے۔ چنانچہ ہمیں شروع سے کام کرنا پڑے گا۔ ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ کوئی بھی شعر کہتے وقت ہم عورت کے جسم کو کنٹرول تو نہیں کر رہے، اس کو بیچ کر واہ واہی تو نہیں لوٹ رہے، اس کی ناف، اس کی ٹانگ، اس کے جسم کے اعضا پر اپنی شہرت کا محل تو نہیں بنا رہے؟ اگر کوئی میرے معاملے میں کہے کہ میں نو سو چوہے کھا کر حج کرنے چلا ہوں تو میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں عورت اور اس کے جسم پر لکھے گئے کسی بھی طرح کے شعر یا نظم سے دستبردار ہوتا ہوں۔ میں اب اس شاعری کو اپنی شاعری بھی نہیں مانتا اور فن کا نمونہ بھی نہیں گردانتا۔

میں نہیں کہہ رہا کہ ہمارے سارے ادب میں کیڑے ہیں، ہاں مگر عورت کے تعلق سے لکھی گئی نثر یا نظم کو بہت زیادہ محتاط ہو کر پڑھنے کی ضرورت ہے۔ دوسروں کا لکھا ہوا ادب بھی اور اپنا سابقہ لکھا ہوا بھی۔ میں تو خیر، اب شاعری میں عورت کو موضوع نہیں بنانا چاہتا۔ کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ میں عورت کا ہمدرد نہیں ہوں، شاید ہو بھی نہیں سکتا۔ مجھے تو اپنی عام زندگی میں پہلے یہی کام کرنا ہے کہ جو عورتیں میری زندگی میں، میرے آس پاس کسی نہ کسی رشتے یا تعلق کی شکل میں موجود ہیں، ان کی باتیں دھیان سے سنوں۔ انہیں سننا ضروری ہے اور انہیں سمجھنا اس سے بھی زیادہ ضروری۔ لکھنے کے لیے دوسری بہت سی باتیں ہیں، عورت کے بدن کے علاوہ بھی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2