سیلف ہارم: خود کو ایذا دینا اور خود کشی کے قوانین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چترال میں گزشتہ تین ماہ کے دوران نو خواتین کی دریائے کنر میں چھلانگ مار کر خودکشی۔ علاقہ کے باشندے حیران اور خوف زدہ۔ (گلف نیوز 16 جون 2021 )

چترال میں خودکشی کی اونچی شرح کافی عرصے سے خبروں میں ہے۔ حال ہی میں اس موضوع پر بنی مختصر فلم دریا کے اس پار کو نیویارک فلم فیسٹیول میں کافی سراہا بھی گیا ہے۔

عام جسمانی امراض کے مقابلے میں ذہنی اور دماغی امراض میں فرق یہ ہے کہ ان سے متاثرہ افراد اپنا دفاع نہیں کر سکتے۔ معاشرے میں ان سے متعلق دقیانوسی اور امتیازی رویے غالب ہوتے ہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ دیگر غیر محفوظ اور کمزور شہریوں کی طرح ذہنی مسائل کے شکار افراد کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے، اس کے لئے قانون سازی کرے اور ان قوانین کا نفاذ بھی۔ قانون سازی کے بغیر فرسودہ معاشرتی اقدار اور رویوں کو بدلنا ناممکن ہے۔ برطانیہ میں ذہنی صحت سے متعلق قوانین کے ارتقاء کا مختصر جائزہ انتہائی ضروری ہے۔ بالخصوص اس لئے کہ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش سمیت درجنوں ایشیائی ممالک برطانوی نوآبادیات رہے اور آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی ان میں قبل از آزادی 1860 ء کے کولونیئل خود کشی قوانین کا تسلسل رہا ہے۔

تقریباً تمام مذاہب خودکشی کرنے کی سخت مذمت اور ممانعت کرتے ہیں۔ عہد وسطی میں یورپ میں کلیسا کا نظام حکومت میں بہت زیادہ عمل دخل تھا لہذا کلیسائی احکامات کے تحت خودکشی میں کامیاب ہو جانے والے کی جائیداد ضبط کرلی جاتی تھی، اس کی آخری رسومات اور عام قبرستان میں تدفین کرنے کی اجازت بھی نہ تھی۔ جرمنی وہ پہلا ملک تھا جس نے 1751 ء میں خودکشی کو جرائم کی فہرست سے خارج کر دیا۔ فرانسیسی انقلاب کے بعد رفتہ رفتہ یورپی اور شمالی امریکہ میں بھی خودکشی جرم نہ رہی یہ الگ بات ہے کہ کافی عرصے تک مرتکب اور اس کے اہل خانہ کے لئے خودکشی ایک ایسا بد نما داغ سمجھا جاتا رہا جس سے کئی نسل بعد بھی جان چھڑانا ممکن نہ تھا۔

انیسویں صدی میں فرانسیسی ماہر سماجیات ڈرکھئیم نے یہ نظریہ پیش کیا کہ خودکشی کے رویے کا اصل محرک بیرونی دباؤ یا معاشرتی مسائل ہوتے ہیں۔ اس نظریہ سے خودکشی کی بابت انسانی شعور میں بہت اضافہ ہوا۔ اس سے قبل خودکشی کو اخلاقی پستی اور گمراہی کا نتیجہ سمجھا جاتا تھا۔ دوسرا اہم کردار بابائے نفسیات سگمنڈ فرائیڈ نے ادا کیا جنہوں نے شدید خلل دماغ یعنی سائیکوسس کا تصور روشناس کراتے ہوئے بتایا کہ دماغی امراض بھی درحقیقت بیماریاں ہوتی ہیں اور صحیح تشخیص کے بعد علاج ممکن ہے۔

اس پس منظر میں 1959 ء کا برطانوی دماغی صحت کا قانون بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اس قانون میں پہلی مرتبہ دماغی بے ترتیبی یعنی مینٹل ڈس آرڈر کی اصطلاح استعمال کی گئی اس سے قبل قانونی مخطوطات میں پاگل پن، احمق اور بدھو جیسے تضحیک آمیز الفاظ کی تکرار ملتی ہے۔ نئے قانون کے تحت ذہنی امراض کے خصوصی اداروں جنہیں انیسویں صدی میں پاگل خانے کہا جاتا تھا اور عام اسپتالوں میں تفریق کو ختم کرنے کا حکم صادر ہوا۔ اس طرح ان پابند سلاسل بیماروں کے لئے کمیونٹی میں علاج معالجہ کا حق تسلیم کیا گیا۔

1961 ء میں خودکشی کا قانون پاس کیا گیا جو ایک انقلابی اقدام تھا یہ قانون خود کشی یا اس کی ناکام کوشش کرنے والے افراد کو ناقابل تعزیر یعنی بے گناہ قرار دیتا ہے۔

یہی وہ اہم موڑ تھا جس کے بعد سے خود کو ایذا رسانی بھی ایک پوشیدہ عارضہ نہ رہا بلکہ رفتہ رفتہ اسے ایک ایسا رویہ مان لیا گیا جس کو سمجھنے اور اس کے شکار افراد کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔

خود کو نقصان پہنچانا کیا ہے؟

سیلف ہارم یا خود کو نقصان پہنچانا ایک ایسی اصطلاح ہے جو بہت سارے مختلف رویوں کا احاطہ کرتی ہے۔ سیلف ہارم اپنے جسم پر خود ہی پہنچائے جانے والے درد سے کہیں زیادہ اس جذباتی کرب کا اظہار ہے جسے یہ نوعمر افراد جھیل نہیں پا رہے ہوتے۔ یہ ایک طرح کا برداشت بڑھانے کا نظام (کوپنگ مکینزم) ہے۔ یہ خود کشی کا سوچنے سے باز رہنے کا طریقہ بھی ہے۔

سیلف ہارم کے طریقے
زیادہ مقدار میں گولیاں کھا لینا۔
جسم کے مختلف حصوں کو تیز دار آلے سے کاٹنا۔
خود کو آگ یا گرم پانی سے جلانا۔
سر پٹخنا یا دیوار پر دے مارنا۔
خود کو مکے مارنا۔
جسم کے حصوں میں کوئی چیز داخل کرنا۔
ایسی چیزیں نگلنا جنہیں نہیں نگلنا چاہیے۔
بال نوچنا، بھنویں اکھیڑ لینا۔
زخم کو کریدنا۔
اپنی ہڈی توڑ لینا یا کوئی جوڑ مثلاً شانہ اتار لینا۔
اس کے علاوہ کچھ بالواسطہ طریقے ہیں جیسے :
شراب نوشی
ادویات
غیر محفوظ جنسی تعلقات
بہت زیادہ یا بہت کم کھانا
کوشش کر کے الٹیاں کرنا
یہ عارضہ کتنا عام ہے

برطانوی اعداد و شمار کے مطابق دس فیصد ٹین ایجر اس کا شکار ہوتے ہیں۔ خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس رویے کے متاثرین کا تعلق تمام طبقات، مذاہب، نسل اور رنگت سے ہوتا ہے۔

کون افراد خود ایذا رسانی کرتے ہیں؟
عموماً 12 سال کی عمر سے لے کر ٹین ایجرز لیکن پختہ عمر کے افراد بھی ایسا کرتے ہیں۔
قیدی، پناہ گزین اور جنگوں سے واپس آنے والے فوجی۔
ہم جنس پرست اور ٹرانس جینڈر۔ یاد رہے کہ یہ افراد سماجی دباؤ کا نشانہ بنتے ہیں۔

کچھ نوجوان افراد مل کر اجتماعی ایذا رسانی کرتے ہیں۔ اگر دوستوں میں ایک فرد یہ کرے تو دوسروں کے بھی مائل ہونے کا امکان رہتا ہے۔

وہ لوگ جنہیں بچپن میں توجہ نہیں ملی یا جو جسمانی، جذباتی یا جنسی زیادتی کا شکار ہوئے۔
وہ افراد جن کا کوئی عزیز خودکشی میں جان دے بیٹھا ہو۔
لوگ خود کو ایذا کیوں دیتے ہیں؟

مختلف افراد کے لئے ناقابل برداشت پریشانی (سٹریس) کے اسباب قطعاً مختلف ہوسکتے ہیں۔ کچھ لوگ اہل خانہ یا دوستوں سے بات چیت کر کے اپنی مشکلات کا بوجھ کم کرلیتے ہیں جبکہ کچھ کے لئے یہ سٹریس قابو سے باہر ہوجاتا ہے۔ جب ہم اپنے جذبات کا اظہار نہ کر پائیں اور کہہ نہ سکیں کہ بہت پریشانی، غصہ یا ناخوشی ہو رہی ہے تو دباؤ بڑھتے بڑھتے ایک آتش فشاں بن جاتا ہے۔ ایسے میں کچھ لوگ یہ سارا غبار اپنے آپ پر اتارتے ہیں اور اپنے جسم سے ان خیالات اور جذبات کا اظہار کرواتے ہیں جو وہ زبان سے نہیں کہہ سکتے۔

ہر شخص کے لئے سیلف ہارم کی وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں لیکن عام طور پر گھریلو پریشانیاں، جسمانی یا جنسی تشدد، دوستوں سے لڑائی، تنہائی، اسکولوں میں پریشر، طبعی یا آن لائن غنڈہ گردی، ہراسانی، بلیک میلنگ، ڈپریشن، انگزائٹی، خود کو بے توقیر محسوس کرنا، تنقیدی یا تکمیلیت پسند (پرفیکشنسٹ) والدین، مشکل عبوری دور جیسے اسکولوں یا شہر کی تبدیلی، شراب یا منشیات کا استعمال سیلف ہارم کی طرف دھکیل دیتا ہے۔

سیلف ہارم اور عام غلط فہمیاں

سیلف ہارم کی وجوہات نہ سمجھنے کے سبب معاشرے میں ایسی غلط فہمیاں اور روایتی سوچ بہت عام ہیں جو دوستوں، والدین حتی کہ عام ڈاکٹروں کو بھی گمراہ کر سکتی ہیں۔ مثلاً

سیلف ہارم توجہ حاصل کرنے کا بہانہ ہے۔ یہ بالکل لغو خیال ہے سیلف ہارم کرنے والوں کی بڑی اکثریت اس عمل کو دوسروں سے پوشیدہ رکھتی ہے۔

یہ مردوں کا کام نہیں۔ ہر چند سیلف ہارم کرنے والوں میں لڑکیوں کا تناسب زیادہ ہوتا ہے لیکن دونوں اصناف میں یہ رویہ پایا جاتا ہے۔ گو طریقے اور وجوہات مختلف ہوسکتے ہیں۔

خود کو ایذا دینے والوں کو بہت مزہ آتا ہے۔ یہ ایک غلط مفروضہ ہے یہ افراد بھی اسی طرح درد محسوس کرتے ہیں جیسے دوسرے افراد۔

سیلف ہارم کرنے والے اپنی زندگی ختم کرنا چاہتے ہیں۔

سیلف ہارم کرنے والوں کی اکثریت میں زندگی ختم کرنے کی خواہش نہیں پائی جاتی۔ لیکن یہ بھی ایک پریشان کن حقیقت ہے کہ اس طرح کے ہر ایک سو میں سے تین افراد آگے چل کر خود کشی سے ہمکنار ہوتے ہیں۔

ایک عام غلط فہمی یہ بھی ہے کہ ان افراد کے پاس سے تمام تیز دھار آلے، لائٹر اور ادویات چھپا دینے سے خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ حقیقت میں ایسا کرنے سے یہ خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

انٹرنیٹ اور سیلف ہارم

ماہرین کی رائے میں سوشل میڈیا سمیت انٹرنیٹ کی دنیا میں فعال ہونے اور قابل بھروسا دوستیاں کرنے سے تنہائی میں کمی آتی ہے۔ سیلف ہارم کے شکار بچوں پر انٹرنیٹ کے استعمال پر قدغن نہیں لگائی چاہیے البتہ یہ دھیان رکھنا چاہیے کہ وہ ایسے گروپوں کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں جہاں خود کو ایذا رسانی پر اکسایا جاتا ہے یا خود کشی کی ترغیب دی جاتی ہے۔

ماتم، ٹیٹو، جسم چھدوانا
اس قسم کی تمام سماجی طور پر تسلیم شدہ سرگرمیاں سیلف ہارم نہیں۔
سیلف ہارم اور اپنی مدد آپ

سیلف ہارم کرنے والوں کو اس موضوع ہر بات کرنے میں سخت دشواری ہوتی ہے لیکن کسی اچھے دوست، رشتہ دار، ٹیچر یا سماجی کارکن کے سامنے اپنا دل کھول کے رکھ دینا بہت کارآمد ہوتا ہے۔

اپنے موڈ کی ڈائری لکھیں۔ ضروری نہیں کہ یہ ڈائری کسی اور شخص کو پڑھائی جائے۔
مناسب مقدار میں پانی پیئیں اور بھرپور نیند لیں۔
خود کو محفوظ رکھنے کی حکمت عملی

سیلف ہارم سے خود کو روکنا بہت دشوار ہوتا ہے۔ اس رویے پر قابو پانے میں بہت وقت لگ سکتا ہے۔ سیلف ہارم کی خواہش پر مندرجہ ذیل اقدام کیے جا سکتے ہیں :

چہل قدمی پر نکل جائیں یا ہلکی پھلکی ورزش کریں
اپنے سانس پر توجہ رکھیں
کسی دوست کو ٹیکسٹ کر کے بتائیں کہ آپ کیا سوچ رہے ہیں۔
موسیقی سنیں، ساتھ ساتھ گائیں یا رقص کریں
برف کے ٹکڑے ہاتھ میں پکڑ کر دبائیں
اپنے خیالات لکھیں
تکیہ کی پٹائی لگائیں
پرانا اخبار یا میگزین لے کر اس کے صفحات پھاڑیں

خود کو تسکین دینے کے لئے ایک باکس بنا لیں۔ اس میں ایسی چیزیں رکھیں جن کو چھوا اور محسوس کیا جاسکے جیسے پلے ڈو، سیپی، رنگ برنگے پتھر، کچھ اچھی یادداشتیں مثلاً تصاویر یا تحائف اور کچھ خوشبوئیں جیسے خوشبودار موم بتی۔ پاکستان کے مخصوص خاندانی نظام میں امی کا دوپٹہ بھی کافی مددگار ہو سکتا ہے۔

کیوں کہ ایک چھوٹی تعداد میں خودکشی کا خطرہ ہوتا ہے اس لئے تربیت یافتہ ماہرین نفسیات سائیکولوجسٹ یا سائکاٹرسٹ سے رجوع کرنا چاہیے بالخصوص اگر سیلف ہارم زیادہ تواتر سے ہونے لگے اور شدت میں اضافہ ہو تو دیر نہیں کرنی چاہیے۔

سیلف ہارم کی سرگرمیاں گھر میں ہی کی جاتی ہیں۔ والدین کے لئے یہ ایک بہت تکلیف دہ انکشاف ہوتا ہے۔ فطری طور پر صدمہ، غصہ، بے بسی کا احساس اور خود کو ذمہ دار ٹھہرانے جیسے جذبات ابھر سکتے ہیں۔ ایسے موقع پر اعصاب پر قابو رکھنا بہت ضروری ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سیلف ہارم آپ کے بچے کا کوپنگ مکینیزم ہے۔ بچہ آگے کیسا برتاؤ کرتا ہے اس کا کافی دار و مدار آپ کے ابتدائی رد عمل پر ہوگا۔ بچے کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ اس عادت کے باوجود آپ کا پیار، شفقت اور سپورٹ اس کے لئے ہیں اس کو اس کی مثبت خصوصیات کی یاددہانی کرائیں۔ جہاں بالکل نظر انداز کرنا بھی ناممکن اور نامناسب ہے وہیں چیخ چیخ کر سارا محلہ اکٹھا کرلینا اور مسلسل سر ہر سوار ہونا بھی نقصان دہ بلکہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ شرمندگی کا احساس سیلف ہارم میں اضافہ کرتا ہے۔ بچے کے ساتھ ساتھ اگر ضرورت سمجھیں تو اپنے لئے بھی نفسیاتی ماہرین سے رابطہ کریں۔

پاکستان میں خود کو ایذا رسانی کو رپورٹ کرنا یا حقیقی اعداد و شمار کا سراغ لگانا بالکل ممکن نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان پینل کوڈ مجریہ 325 کے مطابق ”جو شخص خودکشی کی کوشش کرے یا ایسا عمل کرے جس کے نتیجے میں یہ جرم سرزد ہو سکتا ہو اس کو ایک سال تک قید یا جرمانے یا دونوں کی سزا دی جا سکتی ہے“

اس قانون کی رو سے ایذا رسانی کے ہر واقعے کو ایسے اسپتال میں دکھانا لازمی ہے جو میڈیکو لیگل مرکز بھی ہو۔ مریض اور اس کے عزیز و اقارب قانونی، سماجی، ثقافتی اور مذہبی رسوائی کے ڈر سے تمام واقعات کو صیغۂ راز میں رکھتے ہیں۔ اگر اسپتال جانا پڑ جائے تو وہاں ایکسیڈنٹ ظاہر کیا جاتا ہے۔ طبی مجلوں کی رو سے ہمارے یہاں کیڑے مارنے والی ادویات آرگینو فاسفیٹ کی زہر خورانی سیلف ہارم کے لئے سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والا طریقہ ہے۔

پاکستان کے موقر انگریزی روزنامہ ڈان کے مطابق پاکستان میں ہر روز 15 سے 35 افراد خودکشی میں جان کی بازی ہار دیتے ہیں۔ اسی اخبار میں شائع شدہ جامع سروے جس میں 5157 شرکاء کے جوابات کا تجزیہ کیا گیا بتاتا ہے کہ 45 فیصد نے خود کشی کا سوچا جبکہ 9 فیصد نے اپنی جان لینے کی کوشش کی۔

سندھ دماغی صحت ایکٹ 2013 ء

10 اپریل 2015 ء کو سندھ اسمبلی میں اتفاق رائے سے پاس ہونے والا قانون جس کے مطابق خودکشی کی کوشش کرنے والے یا بلاسفیمی کے ملزم کا سائیکاٹرسٹ سے معائنہ ہونا چاہیے اور اگر ان میں ذہنی مرض کی تشخیص ہو تو انہیں فوراً طبی امداد دی جائے گی اس وقت خطۂ پاکستان میں ذہنی صحت کا سب سے ترقی پسندانہ قانون ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تعزیرات پاکستان دفعہ 325 سے بھی جلد از جلد جان چھڑا لی جائے تاکہ خودکشی، خودکشی کی سوچ اور سیلف ہارم کے بیماروں کی مشکلات کم ہو سکیں۔

پہلی تاریخ اشاعت: Jun 19, 2021


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments