مستنصر حسین تارڑ: راکھ میں چنگاری کی تلاش


”مولوی احتشام الدین کسی الشمس، البدر یا کسی باہنی کے تقدس یا وطن پرستی کے کام آ چکا تھا اور مہرؔالنساء اس جھونپڑے میں ایک چٹائی پر لیٹی اس جنگی بچے کے باہر آنے کی منتظر تھی جو کسی کا بھی ہو سکتا تھا۔ مہرالنساءؔ صرف دو چار روز بعد بے حد آسائش سے شوبھاؔ کو پیدا کر کے بے حد آسودگی سے مر گئی۔ ان دنوں کون پوچھتا تھا کہ صاحب آپ ایک نومولود بچے کو اٹھائے کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں۔ اسی لیے مردانؔ سے بھی کسی نے نہ پوچھا۔ نہ ہندوستان میں دوبارہ داخل ہوتے اور نہ بہاولپور کی طرف سے پاکستان میں اندر آتے۔ کسی نے نہ پوچھا۔“

یحییٰ خان کے ہم پیالہ و ہم نوالہ سیاستدانوں کے نئے پاکستان میں پہنچ کر مردانؔ فوج سے اپنی وابستگی ختم کر کے ایک سکول قائم کرتا ہے جس میں لیاری کے غریب بچوں کو مطالعۂ پاکستان کے درس دیتا ہے اور شوبھاؔ کو جسے اس کے اجتماعی احساس نے جنم دیا تھا۔ غیر معمولی محبت کے ساتھ پروان چڑھاتا ہے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد سے وہ چارپائی کی بجائے زمین پر سوتا چلا آ رہا ہے۔ دسمبر ہمیشہ اس کے دل کی آنکھوں کے سامنے ہماری قومی تاریخ کے زخموں کو عریاں کر دیتا ہے :

”میں یہی جاننے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ذمہ دار کون ہے؟ اتنے برس ہو گئے مجھے یہ سوال پوچھتے ہوئے کہ ذمہ دار کون ہے اور اس سوال کا آغاز میں اس اعتراف سے کر رہا ہوں کہ میں بھی ذمہ دار ہوں۔“

ستم ظریفی یہ ہے کہ مردانؔ جب بھی اپنی زخمی تاریخ کا یہ المناک سوال اٹھاتا ہے سننے والے کہتے ہیں :
”کوئی اور بات کرو مردان!“

شاید اس لیے کہ مردانؔ ہی نہیں ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں اور ہم سب سے بڑھ کر دشمن کی وہ فوج اس کی ذمہ دار ہے جس کے سامنے ہم نے ہتھیار ڈالنے کی ذلت گوارا کی تھی۔ اپنے اجتماعی پیکر پر سرینڈر کے داغ سجانے کے فوراً بعد سات سمندر پار سے ہمیں دشمن کو دوست مان لینے کی پٹی پڑھائی جانے لگی۔ چنانچہ حقیقت کے تمام تر ابعاد سے مردانہ وار آنکھیں چار کرنے کی بجائے ہم نے قربانی کے بکرے کی تلاش کردی۔ سیاست دانوں نے یحییٰ خان اور اس کے رنگیلے جرنیلوں کو الزام دیا تو جرنیلوں نے سیاست دانوں کی ادھر ہم، ادھر تم پر ساری ذمہ داری ڈال دی اور ہر دو نے مل کر پاکستان کی تعمیر میں مضمر خرابی کی صورتیں ایجاد کرنے کا ڈول ڈالا۔ اس ساری گالم گلوچ کا فائدہ اصل دشمن کو ہوا جس کی طرف بھول کر بھی توجہ کرنے کی نوبت نہیں آئی۔ نتیجہ یہ کہ سقوط ڈھاکہ کی تاریخ خود کو دہرانے لگی۔ ملیر میں اپنے پرانے اور مفلوک الحال کوارٹر کو ٹوٹی پھوٹی سائیکل پر آتے جاتے مردانؔ کو جاننے میں دقت پیش آنے لگی کہ یہ نارتھ ناظم آباد ہے یا جیسور، یہ لیاقت آباد ہے یا برہمن باڑیا، یہ کھلنا بیرکس میں الٹے لٹکے ہوئے فوجی جوان ہیں یا عزیز آباد کے عقوبت خانوں میں محبوس فوجی افسر۔ گلیوں میں اور چوراہوں پر ذرا سے شک میں مبتلا ہو کر ”شوٹ دی باسٹرڈ“ کہنے والے مشرقی پاکستان میں ”آپریشن بلٹز“ کے کارکناں ہیں یا کراچی میں امن قائم کرنے والے اداروں کے افراد۔ یہ Stray Bullets مکتی باہنی کا تحفہ ہیں یا کراچی کے ناراض اور گمراہ نوجوانوں کی کارستانی۔

یہ سٹرے بلٹ کیا ہے اور کیوں ہے؟ مستنصر حسینؔ تارڑ ان سوالات پریوں روشنی ڈالتا ہے :

”صرف ایک گولی اور اسے کیسے کیسے عارضے لاحق ہو جاتے ہیں۔ راہ راست سے ہٹ جاتی ہے۔ گمراہ ہو جاتی ہے۔ بھٹک، بہک اور بچھڑ جاتی ہے۔ لاوارث ہو جاتی ہے۔ مجھے کسی تعین پر اس لیے اختیار نہیں کہ وہ راہ راست سے ہٹ چکی ہے۔ اس نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے نہیں تھاما اور صراط مستقیم سے ہٹ چکی ہے۔“

چونکہ یہ کوئی اور ہے جو ہمارے لیے راستوں کا تعین کرتا ہے اس لیے ہمارا قومی وجود ہماری اپنی گولیوں سے چھلنی ہونے لگا ہے۔ مردانؔ بالآخر ایک ایسے ہی سٹرے بلٹ کی زد میں آ کر شہید ہو جاتا ہے۔

غیرت و حمیت، ایثار اور محبت اور قناعت و استغنا کی تجسیم مردانؔ کا کراچی میں ایک آوارہ گولی کا نشانہ بن کر مر جانا کیا معنی رکھتا ہے؟ کیا مردانؔ کا یہ انجام ہمیں سناونی سناتا ہے کہ ہماری اجتماعی زندگی سے وہ تمام اعلیٰ انسانی اقدار رخصت ہو چکی ہیں جن سے مردان کا وجود عبارت تھا اور پاکستانی قوم پرستی کا مقدر آوارہ گولیوں سے ہلاکت ہے؟ مستنصرؔ نے ان سوالات کا جواب نفی میں دیا ہے۔ ان سوالات کا جواب شوبھاؔ اور اظہارؔ اعوان ہیں۔

شوبھاؔ کو مردان کے ”اجتماعی احساس نے جنم دیا ہے“ اور اس کی شخصیت میں بنگالی مسلمان شناخت کے تمام تر رنگ منعکس ہیں مگر وہ اپنی جبلی پاکستانیت پر نازاں ہے۔ آغا خان میڈیکل کالج کی یہ طالبہ آپریشن تھیٹر میں اپنے رفیق ڈاکٹروں کی گفتگو:

”سن رہی تھی لیکن اس کا دھیان ادھر لیاری کے برآمدوں والے سکول میں تھا جس کے ایک برآمدے میں بابا (مردانؔ) چاک ہاتھ میں لئے اپنے سامنے چٹائیوں پر بیٹھے بیزار اور بھوکی شکلوں والے ان بچوں کو دیکھ رہے تھے جن کے بال کسی ایک ہی نائی نے ایک ہی مشین سے تراشے تھے۔ انہیں مختلف سائز کے تربوزوں میں بدل دیا تھا اور وہ اپنے آس پاس سے بے خبر، شوبھاؔ کو بھی بھولے ہوئے انہیں مطالعۂ پاکستان کے کسی باب کے بارے میں سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔“

اپنے بابا اور اس کی آئیڈلز سے ٹوٹ کر پیار کرنے والی شوبھاؔ فتح جنگ کے اظہارؔ اعوان کو اپنا رفیق حیات منتخب کرتی ہے جو ایک منفرد تاریخی احساس اور ایک انقلابی قومی و دینی طرز فکر کا مالک ہے۔ یوں شوبھاؔ اور اظہارؔ، مردانؔ کی اقدار حیات کا تسلسل بھی ہیں اور تجدید و توسیع بھی۔

سیر و سیاحت کا لپکا مستنصرؔ حسین تارڑ کی گھٹی میں پڑا ہے۔ شوق سفر اول اول انہیں سات سمندر پار لیے لیے پھرا۔ نگری نگری پھرا یہ مسافر ہر سفر کے اختتام پر اردو دنیا کو سفرنامہ کی سوغات نذر کرتا رہا۔ ان مقبول عام سفرناموں کے ادیب قارئین نے اکثر و بیشتر اجنبی سرزمینوں کے حسن کی بجائے اجنبی نازنینوں کے حسن التفات میں داد تحقیق کو کافی جانا۔ ایک مدت کے بعد مستنصرؔ نے سرزمین وطن کی سیاحت پر کمر باندھی اور اپنے سفرناموں میں پاکستان کے دشت و دمن اور کوہ و صحرا کا تہ در تہ حسن منکشف کرنا شروع کیا:

حسن بے پروا کو اپنی بے حجابی کے لئے
ہوں اگر شہروں سے بن پیارے تو شہر اچھے کہ بن؟

پھر ہوا یوں کہ آہستہ آہستہ اور بن بڑھنے پھیلنے اور باہم دگر آمیز ہونے لگے اور نوبت یہاں آ پہنچی کہ باد بیابانی سرمستی و دل سوزی پیدا کرنے کی بجائے نوادرات اور منشیات کے سمگلر پیدا کرنے لگی، شہر پر غول بیابانی قبضہ جمانے لگا، سفر نامہ ناول بننے لگا اور کھلا کہ:

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

اس راکھ میں ایسی ایسی چنگاری موجود ہے کہ آن کی آن میں بھڑک کر شعلۂ جوالہ بن سکتی ہے مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ اس راکھ کے گرد حصار بنائے بیٹھا ہے اور ہم آپ کو اس کے قریب نہیں بھٹکنے دیتا۔ مستنصرؔ نے ”راکھ“ میں ہمیں اس طبقے کے خد و خال ہی نہیں بلکہ خواب و خیال سے بھی بڑی فنی مہارت کے ساتھ روشناس کرایا ہے۔

فیصل مسجد سے ادھر، نیوی کالونی کے نواح میں، اسلام آباد کے سب سے مہنگے سیکٹر میں، ایک سمگلر کے شاندار گھر میں ایک محفل طرب برپا ہے۔ اس محفل میں عیاش جرنیل، اوباش سیاست دان اور ابن الوقت بیوروکریٹس شراب اور شباب سے شاد کام اور لذت اندوز ہو رہے ہیں :

”جیسے بھری دوپہر میں گاؤں کے کچے گھر روشن ہوتے ہیں ایسے رات کے گیارہ بجے اس سیکٹر میں یہ گھر سراسر روشن اور بے حد آباد تھا۔ گیٹ کے قریب دو جیپیں کھڑی تھیں جن میں پولیس کے اہلکار ڈیوٹی پر تھے۔ علاقے کا ایس ایچ او ذاتی طور پر نگرانی کر رہا تھا کہ خلل نہ پڑے۔“

قانون کے محافظ جن قانون شکن عناصر کی حفاظت پر مامور ہیں وہ یہاں اس لیے مدعو نہیں کیے گئے کہ صاحب خانہ زاہدؔ کالیا کی محبت کا دم بھرتا ہے بلکہ صرف اس لیے اکٹھے کیے گئے ہیں کہ یہ سب لوگ زاہد کالیا کو نوادرات کی بیرونی ممالک کو سمگلنگ میں اپنے اپنے ظرف اور ذوق کے مطابق امداد فراہم کرتے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3