مستنصر حسین تارڑ: راکھ میں چنگاری کی تلاش
زاہدؔ کالیا کا باپ لاہور کے اندرون شہر پھیری لگا کر برتن بیچا کرتا تھا مگر وہ سمگلنگ کا دھندہ اختیار کر کے رئیس الرؤساء بن چکا ہے۔ اپنے کاروبار کے فروغ کے لیے اسے اپنے محل نما مکان پر پرتکلف پارٹیاں منعقد کرنے کے لیے نت نئے بہانے کی تلاش رہتی ہے۔ ہر چند اپنے مہمانان خصوصی کے کردار کی طوائفیت پر اس کا جی متلاتا رہتا ہے مگر اپنے ناجائز اور غیر قانونی کاروبار کی کامیابی کی خاطر اسے آئے روز کسی نہ کسی پارٹی کا ڈھونگ رچانا پڑتا ہے۔ شاید اسی لیے اس محفل میں موجود کتے کے ایک معصوم پلے کو وہ چیف گیسٹ قرار دیتا ہے :
” کتورا آرام کرنا چاہتا تھا، ذرا اونگھنا چاہتا تھا لیکن اکثر اس زور سے طبلے پر تھاپ پڑتی۔ وہ چونک جاتا تھا اور جب وہ چونکتا تھا تو دیکھتا تھا کہ کوئی کمر میں ہاتھ ڈالے رقص کرتا ہے، کوئی اپنے آپ میں مخمورر ناچتا ہے اور کوئی وہسکی کی بوتل اپنے سر پر انڈیلتا ہوا بھیگتا ہے اور گشتیاں اس کے گرد ناچتی ہیں اور اسے چھیڑتی ہیں۔ اور اس کی جیب میں ٹھنسے ہوئے نوٹ نکال کر موسیقاروں کی طرف اچھالتی ہیں۔
وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اگرچہ وہ ایک معمولی وے سائڈ کتورا تھا۔ ”
اسی محفل میں بدمست صاحب کمال نے نودولتیے سیاستدان:
”سی ڈیؔ حسین کے نوٹوں کا ایک پلندا ہوا میں اچھالا تو ایک ایک نوٹ الگ الگ بلندی سے نیچے آنے لگا۔ ایک ایک نوٹ ایک ایک ہیلی کاپٹر تھا جو نیچے آ رہا تھا۔
میڈیکل سٹاف ہے سر۔
چند نرسیں اور زخمی اور قریب المرگ جوان سر۔ انہیں ایویکیوٹ کیا جا رہا ہے۔ برما کی جانب۔ دشمن ان بانسوں کے جنگل میں آ چکا ہے۔ اور ووئی مسٹ ایویکیوٹ۔ انہیں ہیلی کاپٹرسے اتار دو۔
ہیلی کاپٹر کے بلیڈ حرکت میں ہیں سر۔
اتار دو!
سر!
ہیلی کاپٹر بلند ہوا تو اس نے دیکھا کہ بانس کے جنگل کے برابر میں جو چھوٹا سا ہیلی پیڈ تھا وہاں مرتے ہوئے جوان اور نرسیں اس آس میں اوپر دیکھ رہے تھے کہ ہیلی واپس آئے گا۔
ہیلی واپس کیسے آتا؟ وہاں دشمن آ چکا تھا۔ ”
کراچی میں امن و امان کے محافظ رینجرز کا کمانڈر، صاحب کمال رقص کرنے والی طوائفوں کے جسم پر ایک ایک نوٹ کے لینڈ کرنے کے منظر سے لذت یاب ہو رہا تھا کہ اچانک قیام مشرقی پاکستان کی ایک یاد نے دل و دماغ پر یوں شب خون مارا کہ لذت اذیت میں بدل گئی اور آج جس بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں وہ اپنے اصل روپ میں نمایاں ہو گیا۔ کراچی میں امن کیسے بحال ہو وہاں تو دشمن آ چکا ہے۔
اس دشمن کی تہذیبی، نفسیاتی اور نسلی بنیادوں کو مستنصرؔ نے فاطمہؔ کے کردار کے نشو و ارتقا ء میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔ یہ دشمنی ایک اندھی اور خود سوز محبت بھی نہ مٹا سکی اور فاطمہؔ کو خود اس کے حقیقی بیٹوں نے ہندوستان سے نکال دیا۔ بابری مسجد تباہ کر کے جب وہ ماتھوں پر تلک لگائے گھر آئے تو یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ ان کے باپ سے شادی کرتے وقت ان کی عرب ماں نے ہندو مذہب قبول کر لیا تھا انہوں نے اسے اس جرم کی پاداش میں گھر سے نکال دیا کہ وہ نسلاً عرب تھی اور ایک مسلمان گھر میں پیدا ہوئی تھی۔ چنانچہ اب وہ ادھر کی رہی نہ ادھر کی۔ کویت واپسی کی راہ بھی مسدود اور بھارت میں قیام بھی ناممکن۔ ناچار پاکستان سے ہوتی ہوئی لندن جا بسی۔
مستنصرؔ کی انسان دوستی اتنی گہری اور عملی اور اس کی وسیع النظری اتنی نتھری ستھری اور سعادت شعار ہے کہ برصغیر کی زندگی کے بنیادی حقائق سے آنکھیں چار کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ طلسم فرنگ میں اسیر ہمارا حکمران طبقہ ان حقائق سے فرار کا خوگر ہے۔ فراری ذہنیت نہ تو حقائق کو درست تناظر میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور نہ ہی عبرت اندوز ہونے کی سکت۔ چنانچہ کراچی کے بحران میں بھی ریٹائرڈ جنرل صاحب کمال کا طرز فکر و عمل بالکل وہی ہے جو مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کے دوران تھا۔ ”ویرائل ٹائیگر نیازی“ کے حکم پر صاحب کمال نے بنگالیوں کی نسل بدلنے کے لیے زنا بالجبر کا نسخہ اس وسیع پیمانے پر بے دریغ استعمال کیا تھا کہ انجام کار نامرد ہو کر رہ گیا تھا۔ اب وہی کراچی میں رینجرز کو نامردوں کی سی سفاکی کے ساتھ جا و بے جا ”شوٹ دے باسٹرڈ“ کے احکامات دینے میں مصروف تھا اور سمگلنگ میں یوں مدد کر رہا تھا جیسے یہی اس کا سب سے بڑا فرض ہو۔ سچ یہ ہے کہ اپنوں پر تشدد اور غیروں کی کاسہ لیسی ہمارے حکمران طبقے کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے اور یہ طبقہ قومی بحران کی جڑ ہے اس کا حل نہیں۔ مستنصرؔ نے ہماری اجتماعی زندگی کی اس بھیانک حقیقت کو ذکاوت احساس اور درد دل کے ساتھ بے نقاب کیا ہے۔
نہ ”راکھ“ یک سطحی ناول ہے اور نہ مستنصرؔ حسین تارڑ کسی محدود قومی تعصب کا شکار فن کار ہے۔ مستنصرؔ ایک وسیع تر انسانی نقطۂ نظر اور ایک ہمہ گیر آفاقی طرز احساس کا حامل تخلیق کار ہے۔ ”راکھ“ میں ہر مذہب و ملت سے وابستہ کردار ہیں اور بہت سی نئی پرانی تہذیبوں کے محاسن جلوہ گر ہیں۔ مذاہب اور تہذیبوں اور انسانوں کے حسن اور حسن عمل سے برآمد ہونے والی ابدی اور آفاقی سچائیاں ”راکھ“ میں یہاں وہاں اپنا جادو جگا رہی ہیں۔ جو بات مستنصرؔ کو میرے دل سے قریب رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ مستنصرؔ اپنے قومی احساس کو اپنے آفاقی مطمح نظر کی ضد نہیں سمجھتا بلکہ جان و جگر قرار دیتا ہے۔ آفاقی ہوتے ہوئے وہ اپنے لوگوں کے مقدر اور اپنے وطن کی بقا اور ترقی کے لیے جبلی سطح پر سرگرم کار ہے۔ پاکستان کے تمام علاقوں اور دنیا کے مختلف خطوں میں پروان چڑھنے والے کرداروں کے ایک ہجوم میں سے میں نے ”راکھ“ کے دو ایک کرداروں اور ایک آدھ منظر پر اکتفا کیا ہے تاکہ پاکستان کی زخم زخم تاریخ اور بے مثال تہذیبوں کی وارث پاکستانی قوم کے مقدر میں مستنصرؔ حسین تارڑ کے شدید انہماک کو نمایاں کر سکوں۔ میری نارسائی دیکھئے کہ جن دو ایک کرداروں کو آپ سے ملاقات کرانے کی کوشش کی ہے ان کے تمام تر ابعاد بھی سامنے نہیں آئے۔ مثلاً زاہد کا لیا، بدھ اور گندھارا تہذیبوں کے نوادرات کی سمگلنگ بھی کیے جا رہا ہے اور بڑی دلسوزی کے ساتھ یہ بھی سوچ رہا ہے :
”ہزاروں برس کی کمائی ہاتھوں، آنکھوں اور دماغ کی ضائع ہو رہی ہے یارا۔ ندیاں سوکھ رہی ہیں۔ تم بنا شک الٹے ہو جاؤ پر ملک تبھی قائم رہتے ہیں جب وہ اپنی ہزاروں برس کی کمائی کو قلعی بنا کر دیواروں پر مذہبی نعرے نہیں لکھتے۔ جب وہ انصاف دیتے ہیں ان کو جو کم ہوتے ہیں اور جن کے عقیدے سے انہیں اختلاف ہوتا ہے اور سنو مشاہدی تا قیامت کچھ قائم نہیں رہتا۔“
سرزمین وطن سے کھود کھود کر نکالے جانے والے نوادرات کا یہی سمگلر دنیا بھر سے تہذیب و ثقافت کے نوادرات پاکستان سمگل کر کے اسلامی تہذیب کا ایک عجائب گھر قائم کرنے میں بھی مصروف ہے۔ جنرل سلامتؔ کی طرح اسے بھی اپنی قومی بقا اور اپنے تہذیبی نکھار کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا جیتا جاگتا احساس ہے۔ اجتماعی زندگی کی بے سمتی اور سیاسی قیادت کے اخلاقی اور ذہنی دیوالیہ پن پر اسے بھی گہری تشویش ہے۔ یہ حسرت تعمیر زاہدؔ کالیا کے سے کرداروں کی خطاؤں کی سیاہی کو دھندلا دیتی ہے اور قاری کو یہ اعتماد بخشتی ہے کہ:
ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں ”ہے“


