EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

قومی ادارے کی تضحیک کا کھیل اب  بند ہونا چاہیئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آزاد کشمیر میں جاری حالیہ انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے کے خلاف افسوس ناک زبان درازی کا سلسلہ جاری ہے۔ مریم نواز ایک بار پھر نون لیگ کا مزاحمتی چہرہ بن کر میدان میں ہیں۔ خاموشی کے ایک اور وقفے کے بعد کہ جس میں شہباز شریف کو اپنا کردار ادا کرنے کا موقع دیا گیا تھا، اب وہ دوبارہ عمران خان کی آڑ میں اداروں پر حملہ آور ہیں۔ کہتی ہیں کہ عمران خان نے امریکہ میں کشمیر کی سودے بازی کی۔ اسی سودے بازی کے نتیجے میں مودی نے کشمیر سے متعلق اقدامات کیے ۔ کشمیر کو صوبہ بنانے کی سازش کا الزام بھی مسلسل لگا رہی ہیں۔ مودی کے خلاف اب تک ایک لفظ نہیں بولیں!

سنہ 1948 ء کی پاک بھارت جنگ سے لے کر پاکستان نے جتنی بھی جنگیں لڑیں ان کا بنیادی محرک کشمیر رہا ہے۔ روز اول سے کشمیر کسی ایک فرد نہیں، بحیثیت ادارہ افواج پاکستان کی منصوبہ بندی کا محور رہا ہے۔ 1970 ء کے انتخابات کے نتیجے میں شیخ مجیب الرحمٰن کی پارٹی اکثریتی جماعت بن کر ابھری تو اندرا گاندھی کے لئے یہ امر اطمینان بخش تھا۔ بنگالیوں کے ہاتھ میں متحدہ پاکستان کی باگ ڈور آنے کے نتیجے میں ’پنجابی فوج‘ کا ملکی معاملات میں اثر و رسوخ کم ہوتا اور مسئلہ کشمیر سرد خانے میں چلا جاتا۔

ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی ہوا تو جہاں شیخ مجیب الرحمٰن کے موقف میں فیصلہ کن سختی آ گئی تو وہیں اسی ماہ کے دوران بھارتی فوج کی ہائی کمان کو مشرقی پاکستان پر فوج کشی کی منصوبہ بندی کا حکم مل گیا۔ مشرقی پاکستان میں فتح کے بعد بھارت کی جانب سے مغربی محاذ کھولے جانے کے امکانات بڑھ گئے کہ جس کا ہدف پاکستان پر قبضہ نہیں، بلکہ محض پاکستانی فوج کو اس حد تک کمزور کرنا تھا کہ وہ کشمیر پر سوچنا چھوڑ دے۔ خطے میں کروٹ بدلتے عالمی تعلقات آڑے آئے۔

شملہ میں کشمیر کو ’دو طرفہ معاملہ‘ قرار دے کر بھارت نے اپنی طرف سے مسئلے کو ہمیشہ کے لئے سرد خانے میں ڈال دیا۔ پاکستانی فوج اپنی تاریخ کے کڑے دور سے گزر رہی تھی، خاموشی سے سب دیکھتی رہی۔ کشمیر مگر اس کی منصوبہ سازی کا محور رہا۔ پہلا عسکری منصوبہ جنرل ضیاء الحق کو پیش کیا گیا۔ جہاندیدہ جرنیل نے کچھ سوالات کے بعد منصوبہ قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہی منصوبہ کئی سالوں بعد وزیر اعظم بے نظیر کے سامنے پیش کیا گیا۔

نوجوان مگر ذہین خاتون کو قائل نہ کیا جا سکا۔ سال 1997 ء کے اوائل میں نواز شریف برسر اقتدار آئے تو امریکی اور بھارتی رہنماؤں سے ذاتی مراسم استوار کرتے ہوتے وزارت خارجہ اور عسکری اداروں سے بالا بالا کشمیر اور افغانستان سے متعلق اہم معاملات کو خاندانی و کاروباری امور کی طرح چلانے لگے۔ کشمیر پر خفیہ سفارت کاری کے نتیجے میں واجپائی پاکستان آئے تو عسکری قیادت اس سے قبل سیاچن کو بھارت سے ملانے والی شاہراہ کے کنارے پہاڑوں پر قبضے کی پلاننگ کر چکی تھی۔ گمان یہی ہے کہ وزیر اعظم کے لئے بریفنگ ضرور مبہم رکھی گئی ہو گی۔ تاریخ میں ’فاتح کشمیر‘ کے لقب سے یاد رکھے جانے کا خواب دیکھنے والے وزیر اعظم کو خود بھی مگر تفصیلات سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ مشرف کو بھونڈے انداز میں برطرف کیا گیا تو رد عمل فوری آیا۔

جلا وطنی سے لوٹے تو نواز شریف کا دل رنج و بغض سے بھرا ہوا تھا۔ لائن آف کنٹرول پر کھڑے ہو کر کہا کہ کشمیری عوام پر پاکستانی فوج نے ہندوستانی فوج سے کہیں بڑھ کر ظلم کیا ہے۔ تیسری بار وزیراعظم بنے تو انتہا پسند بھارتی قیادت سے ذاتی مراسم کی پینگیں بڑھائی جانے لگیں۔ بھارتی دورے پر گئے ہوئے کسی پاکستانی وزیر اعظم کی جانب سے کشمیری رہنماؤں سے تاریخ میں پہلی بار ملاقات سے انکار کیا گیا۔ دور دراز مقامات پر بھارتیوں سے خفیہ ملاقاتیں کی گئیں۔

کہیں کوئی اعلامیہ جاری ہوا بھی تو کشمیر کے ذکر سے خالی رہا۔ بدنام زمانہ پاکستان دشمن بھارتیوں کو شاہی پروٹوکول کے ساتھ ذاتی مہمانداری سے نوازا گیا۔ عالمی حالات اور افغانستان سمیت خطے میں امریکی اہداف و مفادات بدل چکے تھے۔ فوجی آپریشن کے نتیجے میں پاک فوج نے قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کو سرحد پار دھکیل دیا۔ تاہم شہروں کے اندر موجود انتہا پسند تنظیموں پر ہاتھ ڈالنا اب بھی اس قدر سہل نہ تھا۔ قومی اداروں کے ساتھ مل کر قومی اہداف کے حصول میں یکسو ہونے کی بجائے انہیں شرمسار کرنے کے منصوبے بنائے جانے لگے۔ اپنے ہی اداروں کے متعلق دنیا میں بدگمانی پھیلانے کی منظم مہم چلائی گئی۔

حالات نے کروٹ بدلی تو خاندان کا ایک حصہ نظریاتی ہو گیا۔ اداروں کے ساتھ دوغلے پن کے کھیل کا آغاز ہوا۔ یہی کھیل اب بھی جاری ہے۔ خاندان کا آدھا حصہ گولہ باری کرتا ہے تو یکایک دوسرا حصہ مفاہمت کا ڈول ڈال دیتا ہے۔ پچھلے سال ستمبر میں جو گولہ باری شروع کی گئی تو گمان یہی ہے کہ اسی کے نتیجے میں طاقتور شخصیات دباؤ میں آئیں۔ کراچی کے جلسے اور اسی روز پیش آنے والے واقعات کے نتیجے میں بلاول بھٹو کو آنے والی ٹیلی فون کال بظاہر اسی انتہائی دباؤ کا اظہار تھی۔

مینار پاکستان کے جلسے کے بعد پی ڈی ایم کی تحریک نے دم توڑا تو اندازہ یہی ہے کہ اسی کے نتیجے میں ’فیملی‘ کے مزاحمتی حصے نے ایک بار پھر خاموشی اختیار کرتے ہوئے دوسرے حصے کو مفاہمت کا موقع دینے کا فیصلہ کیا۔ اب شہباز شریف ایک بار پھر پیچھے ہٹ گئے ہیں اور ’خاندان‘ کا مزاحمتی حصہ دوبارہ اداروں پر حملہ آور ہے۔ خود غرضی کی انتہا کہیں یا احمقانہ روش، کشمیر میں کھڑے ہو کر کشمیری عوام میں نفرت اس ادارے کے خلاف پھیلائی جا رہی ہے جس کی ایک نسل کے بعد دوسری، تیسری نسل نے اپنے خون سے کشمیر کی سر زمین کو سیراب کیا ہے۔

آنے والے دن ایک بار پھر خون کا خراج مانگتے نظر آرہے ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران صرف بلوچستان اور ہمارے قبائلی علاقوں میں دو خوبرو افسروں سمیت 20 سجیلے جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ ان شہادتوں پر ہر پاکستانی کی طرح میرا دل بھی بوجھل ہے۔ اس بوجھل ماحول میں کم از کم مجھے تو دوغلے پن کی سیاست سے شدید کوفت ہو رہی ہے۔ ملک کی سیاسی تاریخ میں کسی ایک خاندان نے سوچی سمجھی ترتیب کے ساتھ دو حصوں میں بٹ کر ایک منظم ادارے کے ساتھ اس درجے کی مہارت کے ساتھ، اس تسلسل کے ساتھ شاید ہی ایسے کھیل کھیلا ہو۔

’خاندان‘ سے معاملات کیسے طے ہوں گے، عمران خان جانیں یا وہ کہ جنہیں مریم نواز، ’عمران کے بڑے‘ کہہ کر مخاطب کر رہی ہیں۔ اس کھیل میں کس کی ہار ہوتی ہے اور کس کی جیت، درحقیقت کیپٹن باسط شہید کے تابوت سے لپٹے بوڑھے باپ کی آہ و بکا دیکھنے کے بعد مجھے اب اس سوال میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رہی۔ شخصی مفادات یا مجبوریاں کسی طرف بھی آڑے آرہے ہوں، قطرہ قطرہ خون بہاتے قومی ادارے کی تضحیک کا کھیل اب بند ہونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے