نور مقدم کے اصل قاتل: وہ لوگ جنہوں نے تشدد کے خلاف قانون پاس نہیں ہونے دیا
نور مقدم پر ہونے والے بہیمانہ ظلم اور خوفناک قتل کے ذمے دار وہ مولوی ہیں جنھوں نے آج تک خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے بل کو پاس نہیں ہونے دیا۔ اس قتل کے ذمے دار وہ سیاستدان ہیں جنھوں نے گھریلو تشدد کے خلاف بل کو ووٹ آؤٹ کیا۔ اس قتل کا ذمے دار صرف ظاہر جعفر نہیں بلکہ وہ مشیر، وزیر اور اسپیکر اسمبلی ہیں جنھوں نے یہ بل پاس کرنے کی بجائے اسلامی نظریاتی کونسل میں بھجوایا اور مولویوں نے اس کو سرد خانے کی نذر کر دیا۔ اس ناقابل یقین جرم کے ذمے دار وہ وزیراعظم ہیں جنھوں نے ملا کے خوف سے اس کو اول ترجیح سمجھ کر منظور کروانے کی بجائے ملا کونسل میں بھیجنے کو غنیمت جانا تا کہ اقتدار محفوظ رہے۔ اس قوم کی بیٹیاں بھلے بھیڑیوں کے ہتھے چڑھتی رہیں۔
گزشتہ دو تین برس میں خواتین کے خلاف جرائم میں اتنی تیزی سے اضافہ ہوا ہے کہ ہر روز خواتین کے خلاف تشدد، مار ڈالنے، جلائے جانے اور ریپ کرنے کے واقعات تسلسل سے سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ بن رہے ہیں۔ جسٹس فار نسیم بی بی، جسٹس فار قراۃ العین، جسٹس فار صدف، جسٹس فار ماہا، جسٹس فار اقرا اور جسٹس فار نور مقدم ایک لمبی فہرست ہے عورتوں لڑکیوں اور بچیوں کی جو ہر روز اس ریاست میں مرد کے ہاتھوں شدید تشدد کا نشانہ بن رہی ہیں اور موت کے گھاٹ اتر رہی ہیں۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق لوئر مڈل کلاس یا مڈل کلاس کے ایسے گھرانوں سے ہے جہاں برقع نہیں تو چادر یا دوپٹے کا اہتمام ضرور کیا جاتا ہے یعنی ان کا ریپ ان کے نازیبا کپڑوں کی بدولت نہیں ہوا۔ مردوں کے ہاتھوں جان سے جانے والی ان خواتین میں سے کسی ایک کے کپڑوں سے بھی عریانی یا فحاشی ظاہر نہیں ہوتی۔ لیکن یہ بات ان عقل مندوں کو کون سمجھائے جو عورتوں پر ہونے والے جرائم کو ان کے نامناسب لباس سے نتھی کر کے ظلم کرنے والے مردوں کے جرم کی نفی کر دیتے ہیں۔
جب یہ کہا جاتا ہے کہ معاشرے میں فحاشی کے سبب جرائم جنم لے رہے ہیں تو اس کے لیے اس بات کا تعین کرنا ضروری ہوتا ہے کہ آیا یہ عریانی سڑکوں بازاروں اسکول کالجوں یا گھروں میں رہنے والی خواتین پھیلا رہی ہیں یا شہوانی جذبات کو بھڑکانے والی وہ فلمیں اور فحش مواد جو مردوں کے موبائلوں میں موجود ہوتا ہے۔ جس ملک کے کالج یونیورسٹیز میں بھی لڑکیاں برقع چادریں دوپٹے اوڑھ کر آئیں، جہاں کی جامعات میں لڑکیوں کے لپ اسٹک لگانے پر پابندی کے نوٹس جاری کیے جائیں، جہاں خواتین کے کالجوں میں مرد مہمانوں کو مدعو کرنے سے انتشار پھیلنے کا اندیشہ ہو اور اس کا اظہار نوٹس کے ذریعے کیا جائے۔ جہاں سب سے بڑے صوبے کی سب سے بڑی جامعہ کے اسلامیات ڈپارٹمنٹ میں لڑکوں اور لڑکیوں کے بیچ پردہ لٹکا دیا جائے تو ایسے گھٹن زدہ معاشرے میں نہ صرف عورتوں پر تشدد اور ان کو قتل کرنے کے جرائم جنم لیتے ہیں بلکہ یہ صورتحال عورتوں کے ساتھ ساتھ جانوروں پر بھی اس طرح کے تشدد کا سبب بنتی ہے۔
یاد رکھیے کہ پاکستان کا آئین یہاں بسنے والے ہر انسان کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے لباس کا انتخاب کر سکے۔ یہاں کی عورت چاہے تو اپنے گھر کے مردوں سے بنا پوچھے جو چاہے پہن سکتی ہے جس کا ایک مہذب معاشرہ اجازت دیتا ہے لیکن اس ملک کی اسی فیصد خواتین کو اپنے لباس کے انتخاب میں بھی آزادی حاصل نہیں۔ ملک کے بیشتر دیہی علاقوں میں اب بھی برقع پہنا جاتا ہے اور اتنی باپردگی کے باوجود عورت کے خلاف سب سے زیادہ جنسی جرائم کی خبریں ان ہی علاقوں سے آتی ہیں۔ اس رجحان کو مد نظر رکھتے ہوئے اس معاشرے کے مرد کو یہ سمجھ آ جانی چاہیے تھی کہ جنسی درندگی یا تشدد کا تعلق ہرگز عورت کے لباس سے نہیں بلکہ مرد کے دماغ سے ہوتا ہے۔ موٹر وے کیس میں سفر کرنے والی عورت کا لباس نازیبا نہیں تھا بلکہ اس کے مجرم عابد کا ٹریک ریکارڈ تھا کہ وہ جس جگہ بھی ڈاکا ڈالتا تھا وہاں کی خواتین سے زیادتی کرتا تھا اور اتنے مقدمات ہونے کے باوجود کئی بار ضمانت پر رہا ہو چکا تھا۔
نور مقدم کے کیس میں والدین کی اپنے بیٹے کو بچانے کے لئے شواہد چھپانے کی کوشش نے ایک ایسی ذہنیت کو بے نقاب کیا ہے جو اس حد تک خود غرض اور ظالمانہ ہے کہ جوان لڑکی کا سر تن سے جدا کیا جانا بھی ان کے لیے بیٹے کی زندگی سے زیادہ بڑا اور اہم واقعہ نہیں ہوتا۔ یہ کیس اگر منطقی انجام تک پہنچ پایا تو اس میں سب سے بڑا کردار سوشل میڈیا کا ہو گا ورنہ ایک امریکن شہری کو پاکستان میں سزا ملنا اچنبھے سے کم نہیں۔ اس کیس میں وہ تمام کردار جو گھنٹوں اس بات سے واقف رہے کہ لڑکی کے ساتھ بند کمرے میں تشدد ہو رہا ہے لیکن وہ اتنی جرات کا مظاہرہ نہ کر پائے کہ پولیس کو اطلاع کر دیں، اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ لڑکی کا بھاگ کر نیچے آنا، گارڈ کے کمرے میں چھپ جانا لیکن مجرم کا سب کی نظروں کے سامنے اس کو گھسیٹ کر واپس لے جانا، والدین کا پولیس کو اطلاع نہ کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عورت تھوڑی بہت مار کھا لے گی تو کوئی بات نہیں لیکن پولیس میں خاندان کا نام جائے گا، اخباروں میں چھپ جائے گا تو بڑی ذلت ہو گی۔ اس لئے کسی نے بھی پولیس کو اطلاع دینے کی پروا نہ کی۔ زیادہ سے زیادہ تھوڑے بہت معمولی زخم ہوں گے جو ٹھیک ہو جائیں گے۔ لڑکی تھوڑی بہت مار کھا لے تو ٹھیک ہے لیکن گھر کی بات باہر نہیں جانی چاہیے۔
چور اچکے موبائل چوری کرتے ہوئے پکڑے جائیں تو عدالتیں دس بیس کا دن کا ریمانڈ دیتی ہیں لیکن اس کیس میں پولیس کے ایک مرتبہ دس اور ایک مرتبہ گیارہ دن کا ریمانڈ مانگنے پر عدالت کی طرف سے دونوں بار دو دو دن کا ریمانڈ دینے کی تک سمجھ سے بالاتر ہے۔ خیر کہنے کو تو پولیس والا بھی کہہ رہا تھا کہ بڑا قابل بچہ ہے۔
نور مقدم کے قتل سے والدین کو ایک سبق سیکھ لینا چاہیے کہ اپنے گھروں کے دروازے بیٹیوں پر بند نہ کریں۔ جب ان کی شادی کر دیں تو یہ نہ سمجھیں کہ بس فرض سے سبکدوش ہو گئے، اب وہ جانے اور اس کا شوہر۔ بلکہ اپنے گھروں کے دروازے اپنی بٰیٹیوں کے لیے شادی کے بعد بھی کھلے رکھیں۔ ان کو بتائیں کہ ہم نے تمھاری شادی ایک اچھے آدمی سے کی ہے لیکن اگر یہ انسان کی جگہ شیطان نکل آئے تو اس کے ہاتھوں اپنی جان نہ گنوا دینا بلکہ گھر واپس چلی آنا۔ اگر اس معاشرے کے والدین یہ کرنا سیکھ لیں تو گھریلو تشدد میں کافی کمی آ سکتی ہے کیونکہ پھر عورت پر یہ خوف طاری نہیں ہو گا کہ اگر وہ مرد کی مار سے بچنے کے لیے ماں باپ کے گھر واپس جائے گی تو گھر کا دروازہ اسے بند پائے گی۔ لیکن جس ملک کے دور دراز دیہی علاقوں سے آج بھی سوارہ اور ونی کی آڑ میں بیٹے کے گناہ کے بدلے بیٹی سے زیادتی کی اجازت دینے کے واقعات بھر مار ہو، وہاں ایسی سوچ کیسے جنم لے سکتی ہے۔
شاید منٹو نے ہی کہا تھا کہ
کوئی کہہ رہا تھا کہ
عورت
جوں جوں ترقی کر رہی ہے
فحاشی
پھیل رہی ہے۔
جبکہ
میرا خیال ہے کہ
عورت
جوں جوں ترقی کر رہی ہے تو
مرد کی ذہنی گندگی بے نقاب ہو رہی ہے۔


