کیا آپ کو عینی بلیدی، نور مقدم اور صائمہ رضا میں اپنا عکس نظر آتا ہے؟
پچھلے کچھ دن سے تین ہیش ٹیگ توجہ کا مرکز بنے Justice for noor، justice for anni baledi، justice for Saima یہ قتل نہیں، ہیش ٹیگ ہیں۔ اس لیے کہ یہ قتل تو ہمارے معاشرے کی اساس ہیں۔ ہم خواتین ان کا خطرہ اپنے جسم میں محسوس کر سکتی ہیں۔ باپ سے آگے پڑھنے کی بات کرتے ہوئے، بھائی سے بے وقت کی چائے سے انکار پر تھپڑ کے ڈر سے، ماموں چچا سے خاندان کی مرضی کے لڑکے سے شادی کرنے سے انکار کرتے ہوئے، بلاوجہ خاوند سے گالی کھا کر اس کو یہ بتاتے ہوئے کہ بات کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے اور بچوں کے سامنے گالی دینے سے ان پر برا اثر پڑتا ہے، بازار میں اپنے آپ کو پوری طرح سے ڈھانپنے کے بعد بھی نگاہیں جسم میں گڑتی محسوس ہوتی ہیں، اسکول کالج یونیورسٹی میں، ہر جگہ یہ خطرہ آپ کے ساتھ ہوتا ہے، جب آپ کے بچے باہر نکلتے ہیں یہ خطرے کا احساس آپ کے ساتھ ہوتا ہے اور اس وقت بھی آپ کے ساتھ ہوتا ہے جب آپ اپنے بچوں کو good touch bad touch سے آگاہ کرتے ہوئے ان کو خبردار کرتے ہیں کہ یہ صرف باہر کے لوگوں کے لیے نہیں بلکہ خاندان کے افراد پر بھی لاگو ہوتا ہے، یہ بالکل ویسا احساس ہے جو جنگل کے کمزور باسی اپنے جسم میں محسوس کرتے ہیں جب وہ درندوں کو اپنی طرف بڑھتے دیکھتے ہیں اور ان کو پوری طرح آگہی ہوتی ہے کہ جنگل میں قانون نام کی کوئی شے نہیں اور نہ ہی کوئی ان کے تحفظ کے لیے آنے والا ہے ان کا مارے جانا ایک معمولی بات ہے یہاں تک کہ مارنے کا طریقہ زیادہ بہیمانہ ہو تو ہی توجہ کا مرکز بنے گا۔
اس لیے یہ خطرہ ہمہ وقت ان کے ساتھ اور زندگی اس خطرے سے نمٹتے وقت ایک جہنم ہے۔ اکثر عورتیں شوہر یا شوہر کے گھر والوں کا ایموشنل ابیوز سن کر اس لیے چپ رہتی ہیں کہ چلو صرف چلاتا ہے یا گالیاں دیتا ہے ہاتھ تو نہیں اٹھاتا اور اس بارے میں بات اس لیے نہیں کرنی کیونکہ یہ ڈر دل میں بیٹھا ہے کہ بات کی اور تھپڑ مار دیا تو ان کا برسوں کی محنت سے بنایا سنڈریلا کا محل پل بھر میں ریزہ ریزہ ہو جائے گا یا بات کرنے کی پاداش میں مجازی خدا نے اس سپنوں کے محل سے ہاتھ پکڑ کر باہر نکال دیا تو کیا ہو گا، یہ وہی سپنوں کا محل ہے جہاں سج دھج کے عینی بلیدی داخل ہوئیں اور اس کو بچاتے بچاتے مار کھا کھا کے اپنے شکستہ تن اور روح کے ساتھ مر گئیں اور چار بچے چھوڑ گئیں اور جس کو بنانے کی کوشش میں نور مقدم جان سے گئیں اور افسوسناک بات یہ ہے کہ جس سماج نے اس حسین رشتے کے خواب دکھائے وہ نہ تو عینی کی حفاظت کے لیے آگے بڑھا اور نہ ہی ان کے بچوں کی حفاظت کے لیے بڑھے گا اور اسی معاشرے کے دعوے دار نور سے اس کے قتل کے بعد بھی یہ سوال پوچھنے کی کوشش میں مصروف ہیں کہ وہ وہاں کیا کر رہی تھی؟
امید ہے کہ یہ سوال حبس بیجا میں رکھے گئے ہر مظلوم سے بلا تفریق جنس پوچھا جائے گا کہ وہ اپنے اغوا کار تک کیسے گیا اگر کام سے اغوا ہوا تو کام پر جانے کی کیا ضرورت تھی؟ گھر رہنا تھا، باہر تو درندوں کا راج ہے۔ صائمہ رضا کسی آشنا کی گولی کا نشانہ نہیں بنی بلکہ ان کے اپنے والد نے ان کی والدہ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور ساتھ ہی ان کو اور ان کے بھائی کو بھی گولی کا نشانہ بنایا۔ یہ ان کے اپنے بچے ہیں جو ریاست سے انصاف اور تحفظ مانگ رہے ہیں۔
اس سپنوں کے محل کی بنیاد رازداری پر رکھی جاتی ہے جو بھی قیامت گزرے گی وہ صیغہ راز رکھی جائے گی اکثر مرد پہلی ملاقات میں یہ سبق ازبر کراتے ہیں کہ عورت ان کی ملکیت اور وہ اس کے کرتا دھرتا ہیں جو کچھ بھی اس رشتے میں چاہے وہ میاں بیوی ہو یا live in realationship اس کا ذکر کسی سے نہیں کرنا کوئی شکایت ہو مجھے بتانا یعنی خود ہی مجرم خود ہی منصف یہ بات اتنی دفعہ کی جاتی ہے کہ خواتین ایموشنل ابیوز کو یا ہلکی پھلکی مار کو تو خاموشی سے پی جاتی ہیں جہاں تک سسرال کے طعنوں کا سوال رہا یہ سسرال کا حق اور معاشرتی نارمل چیز ہے۔
اس رشتے کی فینٹسی اس طرح لڑکیوں کے دماغ میں بیوٹی اور بیسٹ کی کہانی پر بنائی جاتی ہے کہ مرد میں کوئی بھی مسئلہ ہے تو عورت اپنے صبر اور محبت سے اس کو سنوار لے گی چاہے وہ صبر کرتے کرتے لاش ہی کیوں نہ بن جائے اور اس کی محبت کا صلہ یہ ملے کہ عینی یا بشری رضا کی طرح اس کو اپنے ہی بچوں کے سامنے قتل کر دیا جائے اور قاتل آرام سے گھومتا رہے اور ایف آئی آر لکھوانے کے لیے سوشل میڈیا کمپین چلانی پڑے۔ نور مقدم پر سوال کرنے والے پوچھتے ہیں کہ یہ جانتے ہوئے کہ ظاہر کی تشدد اور ڈرگ ابیوز کی ہسڑی ہے تو وہ اس کے ساتھ دوستی اور محبت کا رشتہ کیوں استوار کیا۔
بہت عجیب بات ہے ہم سب یہی تو کرتے ہیں مرد میں کوئی خرابی ہے اس کی شادی کر دو، خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔ نشہ کرتا ہے، شادی کر دو۔ چوری چکاری کرتا ہے، شادی کر دو۔ غصے پر قابو نہیں، شادی کر دو۔ مارنے کے لیے بیوی مل جائے گی باقی سب کی جان چھوٹ جائے گی۔ نفسیاتی مریض ہے، شادی کر دو۔ بد کردار ہے، شادی کر دو۔ کام کاج نہیں کرتا شادی کر دو یعنی ہر برائی کا حل شادی ہے۔ اس لیے نہیں کہ واقعی ایسا ہے بلکہ اس لیے کیونکہ ہم اپنے بیٹوں کو جب سدھارنے میں ناکام ہوتے ہیں اور وہ مونسٹر بن کر ہمارے سر پر ناچتے اور درد کرتے ہیں اور ہم اس پھٹے ڈھول کو بجانے سے قاصر ہوتے ہیں تو ہم ایک گائے بکری تلاش کرتے ہیں جس کو اس درندے کی بھینٹ چڑھائیں۔
سدھر گیا تو ہماری جے، نہیں سدھرا اور گائے بکری کو چیر پھاڑا تو اس گائے بکری کی قسمت اور گائے بکری تو ہوتی قربانی دینے کے لیے ہیں تو اس میں نور کا کیا قصور اگر اسے لگا کہ اس کا پیار ظاہر کو سدھار دے گا۔ کیا یہ ہم سب نہیں سمجھتے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ سب عورتیں مار کھاتے وقت قرۃ العین کی طرح یہی سوچتی ہیں کہ ایک دن ان کے شوہر کو ان کی قربانی اور محبت کا یقین آ جائے گا اور وہ یہ مارپیٹ بند کر دے گا یہی یقین ان کے ماں باپ کو ہوتا ہے جب ان کی بیٹی ان کے پاس مار کھا کر آتی ہے تو ہر دفعہ وہ یہی سمجھتے ہیں کہ وہ داماد سے بات کریں گے اور وہ ایک دم اچھا انسان بن جائے گا اور یہ مار پیٹ بند کر دے گا یہ یقین ان کو اس وقت تک رہتا ہے جب تک وہ بیٹی کا جنازہ نہیں اٹھا لیتے اور یہی یقین ہر کاری اور ونی ہونے والی خاتون کو ہوتا ہے کہ اس کے باپ بھائی کبھی اس کو موت کے گھاٹ نہیں اتاریں گے اور نہ ہی اپنے گناہ کے عوض ان کو ریپ کے لیے اپنے دشمنوں کے حوالے کریں گے کیونکہ ہم سب عورتوں کو یہ یقین ہوتا ہے کہ ہمارا باپ بھائی شوہر کتنا ہی برا سہی، باہر کے درندے سے بہتر ہے اور ہم دونوں اطراف سے مار کھاتی ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ ریاست عورت پر تشدد کو گھریلو معاملے کے طور پر دیکھنا بند کرے اور عورتوں کو یہ یقین دلائے کہ وہ ان کے ساتھ اس مشکل کی گھڑی میں کھڑی ہے اس بات کا احساس ان قوانین سے ہو گا جو عورت کو تحفظ فراہم کریں جیسے انسداد گھریلو تشدد کا بل اس کو سرد خانے کی نذر نہ کیا جائے بلکہ اس کو جلد سے جلد قانون کا حصہ بنایا جائے۔ ساتھ ہی ایسی ہیلپ لائن بنائی جائے جہاں پر ٹرینڈ مدد کار موجود ہو جو بروقت مدد فراہم کریں، پولیس کی ٹرینگ کی جائے کہ وہ عورت پر تشدد کو گھریلو معاملے کی بجائے انسان پر تشدد کے حوالے سے دیکھے اور امیر غریب کے فرق کی بجائے فوراً کارروائی کرے اور مجرم کو پکڑے۔
عدالتیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایسے مجرموں کو سزا ملے اور وہ خون بہا دے کر معافی نہ پا سکیں۔ وومن پروٹیکشن سینٹر جس میں ایک چھت کے نیچے پولیس، وکیل، ڈاکٹر اور دارالامان کی سہولت موجود ہو ان کو ہر تحصیل کی سطح پر بنایا جائے۔ تشدد اور جنسی حملوں کے بارے میں آگہی اسکول کی سطح سے فراہم کی جائے، اعلی عہدوں خاص کر سرکاری عہدوں پر فائز افراد کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ عورتوں کے خلاف توہین آمیز زبان یا اخلاق سے گرے ہوئے جملے نہیں استعمال کریں گے اور اس سوچ کو پیغام کی صورت میں حکومت کی طرف سے ہر سطح پر عام کیا جائے کہ گھریلو تشدد کسی کا بھی ذاتی معاملہ نہیں، اس جو جہاں دیکھیں فوراً رپورٹ کریں اور رپورٹ کرنے والے کی زندگی کو پولیس حرام نہ کرے اور میڈیا خدا کے لیے سنڈریلا اور بیوٹی اینڈ بیسٹ کے خواب دکھانا بند کرے اور اس بات کا سبق دے کہ عورتیں اپنے پر انحصار کرنا سیکھیں اور یہ بات سمجھیں کہ اپنی آخری پناہ گاہ وہ خود ہیں۔
اس کے لیے ان کو تعلیم اور معاشی خود انحصاری کی ضرورت ہے جس کے لیے حکومت کو لڑکیوں کے سکول، کالج اور ووکیشنل ٹرینگ سینٹر ہر گاؤں میں کھولنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ یہ ایک لمبا سفر ہے لیکن ہمارا اٹھایا پہلا صحیح قدم ہمیں منزل تک لے جائے گا۔ ورنہ ہم ایسے ہی ہیش ٹیگ میں پھنسے رہیں گے اور سوشل میڈیا مہم ختم ہوتے ہی ملزم پھر ہمارے درمیان دندناتے پھریں گے اور ہم پھر ایک بہیمانہ قتل کا انتظار کریں گے ریاست کا ضمیر جھنجوڑنے کے لیے۔

