کیا ریپ کے واقعات کے خلاف آواز اٹھانے والی خواتین فیمنسٹ فسطائی ہیں؟

بھائی لوگوں کا فرمانا ہے کہ حقوق نسواں پر بات کرنے والی بیبیاں انتہا پسند ہیں۔ اور فیمینزم (مجھے تو ہتا بھی نہیں کہ یہ ہے کیا) دراصل عورتوں کی فسطائیت ہے۔ اور خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث مردوں کے خلاف بات کرنا تمام مردوں کے خلاف تعصب ہے۔ یعنی کہ اگر میں موٹروے ریپ کیس، نور مقدم کے سر کاٹ دیے جانے، قرۃ العین کے اس کے خاوند کے ہاتھوں سر میں ڈنڈے کھا کھا کے مر جانے، چھوٹی چھوٹی بچیوں اور بچوں کی ساتھ درندگی کے بعد مسخ شدہ لاشیں ملنے، بکریوں بلیوں گدھیوں، مرغیوں غرض ہر وہ جانور جس پر کچھ مرد نما انسانوں نے حیوانیت دکھائی، جہیز کی بے جا مانگ اور لعنت، پھول جیسے چہروں پر تیزاب پھینکے جانے، غیرت کے نام پر قتل، روز سامنے آنے والے ریپ کیسز، گھریلو تشدد اور آزادانہ حق رائے دہی و حق وراثت پر آواز اٹھاؤں اور حوالہ دوں قرآن حدیث، قانون اور مہذب معاشرت اقدار کا تو میں ایک متعصب اور انتہا پسند وومن فسطائی ہوں۔

دوسری بات

9مارچ 2021 کا نیوز ٹائمز سسٹینبل سوشل ڈویلیپمنٹ آرگنائزشین کی اس سال وومن ڈے کے موقع پر جاری شدہ رپورٹ

Tracking Numbers: State of Violence Against Women and Children in Pakistan ”

کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ پاکستان میں سال 2020 کے آخری چھ مہینے عورتوں اور بچوں کے کیے قیامت بن کر نازل ہوئے کیونکہ اس دوران عورتوں کے خلاف جرائم کی تعداد دگنی اور بچوں کے خلاف تگنی ہو گئی تھی۔ اس حوالے سے رپورٹڈ کیسز میں پنجاب سر فہرست اور جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا دوسرے اور تیسرے نمبر پر موجود تھے۔

اس رپورٹ میں پیش کیے جانے والے اعداد و شمار اور انکشافات اس قدر ہوشربا ہیں (گورنمنٹ کی عورتوں اور بچوں کو تحفظ دینے کے حوالے سے بدترین ناکامی ہے ) کہ حساس ذہن پریشان ہو جائے۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں بچوں اور عورتوں کے خلاف جرائم میں انتہائی تیز رفتاری اے اضافہ ہوا۔ اور ابھی صرف یہ وہ اعداد ہیں جو یکم جنوری سے اکتیس دسمبر تک یا تو سرکاری سطح پر اور یا میڈیا میں رپورٹ ہوئے۔ گمنام سانحات اور معاشرتی تاریکی میں دب جانے والی چیخوں اور قیامتوں کا تو کوئی اندازہ ہی نہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق ان جرائم کی روک تھام کے کیے تحقیقی کام اور ڈیٹا بیس کی تشکیل کے حوالے سے خواتین اور بچوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے جس کا واضح نتیجہ یہ ہے کہ قانون سازی اور پالیسی سازی میں ٹھوس اور بنیادی فیصلے کبھی لیے ہی نہیں جا سکے۔

رپورٹ کہتی ہے کہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق چائلڈ ابیوز کے 1020، چائلڈ لیبر کے 117، کم عمری کی شادیاں 32، گھریلو تشدد 1422، عورتوں پر تشدد، 9401، ریپ 4321، عورتوں کا اغوا 15714، غیرت کا نام پر قتل 2556 کیسز رپورٹ ہوئے۔

ورک پلیس پر ہراسمنٹ کے کیسز چونکہ محتسب کے دفتر میں ڈیل ہوتے ہیں اس لیے وہ اس رپورٹ کا حصہ نہ ہیں۔

مزے کی بات یہ ہے کہ میڈیا میں اس حوالے سے جو کیس رپورٹ ہوئے وہ سرکاری تعداد سے بہت کم ہیں جس کا واضح مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ میڈیا ان معاملات کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا یا پھر اسے ان سے ریٹنگ ملنے کی کوئی امید نہیں۔ یا پھر ہمارا میڈیا موثر رپورٹنگ میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ اور میڈیا کے لیے اہم بات یہ ہے کہ کس سیاستدان نے کیا بونگی ماری اور کس اداکار نے کیا چول ماری۔

دوسری طرف بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حوالے سے سرکاری سطح پر بچوں اور عورتوں کے خلاف جرائم کا رپورٹ کیے بغیر دبا دیا جانا اور مجرموں کو ان کے منتقی انجام تک پہنچائے بغیر چھوڑ دیا جانا انسانی حقوق کی پاسداری کے حوالے سے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

خدا کی شان دیکھیے کہ 13 فروری 2021 کو ٹائمز آف انڈیا بھی اس حوالے سے پاکستان پر رپورٹنگ کر رہا ہے اور جیو نیوز میں پیش کی جانے والی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے کہتا ہے کہ جب کرونا کے عروج کا وقت تھا اور لوگوں کو ان کے گھروں میں رہنے کی تلقین کی جا رہی تھی تو اس وقت سال 2020 میں پاکستان کے صرف پچیس اضلاع میں پولیس کے تصدیق شدہ اعداد و شمار کے مطابق عورتوں پر تشدد کے 2297 کیس رپورٹ ہوئے۔

اور اس خبر کا بنیادی ماخذ ہے عورت فاؤنڈیشن کی رپورٹ جس کا نام ہے
”Violence against women and girls in
the time of Covid 19 pandemic ”
جو کہ عورت فاؤنڈیشن کے پراجیکٹ
Jazba-Democracy and Empowered Women

کے تحت شائع کی گئی۔ اخبار کے مطابق یہ صرف پچیس اضلاع کے وہ اعداد ہیں جو میڈیا میں کیسز رپورٹ ہوئے اور بعد میں پولیس نے ان کی تصدیق کی۔ جو کیسز میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوئے مگر سرکاری سطح پر ہوئے یا کبھی رپورٹ ہی نہیں ہوئے ان کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

ٹائمز آف انڈیا مزید لکھتا ہے جیو نیوز کی ہی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر روز کم از کم 11 کیس صرف ریپ کے رپورٹ ہوتے ہیں اور پچھلے چھے سالوں میں 22000 ریپ کے صرف رپورٹڈ کیس ہیں۔

جنسی زیادتی کے 22,037 کیسز محض سال 2015 میں رجسٹرڈ ہوئے۔ جن میں سے 4,060 کیسز ابھی تک عدالتوں میں زیر التوا ہیں۔ اور بد قسمتی سے صرف اٹھارہ فیصد کیسز ہی پراسیکیوشن سٹیج تک پہنچ سکے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words