حالت اب اضطراب کی سی ہے


میں، میلان کنڈیرا کی کتاب آئی ڈنٹیٹی کا اردو ترجمہ بعنوان ”پہچان“ مترجم محمد عمر میمن کی ابھی صرف ورق گردانی کر رہا تھا کہ میری بیٹیوں نے میرے کمرے میں داخل ہو کر مجھ سے کہا، ”ابو جی۔ ہماری بات دھیان سے سنیں۔ کرونا کی وجہ سے سکول کبھی بند ہو رہے ہیں کبھی کھل رہے ہیں۔ ہم نے تو لڑکیوں کو سکول سے اٹھوا لیا ہے۔ گھر پر ہی پڑھیں گی۔“

” کون پڑھائے گا گھر پر؟“ میں نے استفسار کیا تو کہنے لگیں، ”کہ ہم نے سبجیکٹ آپس میں بانٹ لیے ہیں بس ایک مضمون آپ پڑھائیں گے۔“ اب میں نے کتاب میز پر رکھ دی اور پوری توجہ سے ان کی بات سننے لگا۔ وہ کہہ رہی تھیں،

” آپ کتابی کیڑے ہیں، کہانیاں افسانے لکھتے ہیں، بس بچیوں کو اردو آپ پڑھائیں گے۔“

میں نے کچھ خوش دلی، کچھ ناگواری سے حامی بھر لی تو انہوں نے نویں جماعت کی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی اردو کی کتاب مجھے تھما دی کہ اب آپ جانیں اور بچیاں۔ میں نے کتاب رکھ لی اور رات گئے کتاب کھولی تو علم ہوا کہ اس میں تقریباً ستر فیصد وہی مواد تھا جو میں نے زمانہ قدیم میں اپنی ساتویں آٹھویں کی جماعتوں میں پڑھا تھا۔ تھوڑی سی مایوسی بھی ہوئی کہ ہم اتنے عرصے بعد بھی وہیں کھڑے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ خیال بھی آیا کہ لو یہ نصاب بچیوں کے ذہن نشین کرانا کون سا مشکل کام ہو گا میرے لیے۔ کتاب کی بہت سی کہانیاں، نظمیں تو ازبر تھیں مجھے۔

خیر، اگلے روز یہ طے ہوا کہ حصہ نظم پہلے پڑھا جائے گا تو ابتدا ہوئی جناب میر تقی میر کی مشہور و معروف غزل،

” نازکی اس کے لب کی کیا کہیے، پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے“ سے

میں دل ہی دل میں اس شعر کی تعریف کر رہا تھا اور جب بچیوں کو اس حوالے سے بتانے کی کوشش کی کہ تشبیہ اور استعارہ کیا ہوتا ہے اور شاعری میں کیا درجہ رکھتا ہے تو دیکھا کہ دونوں نواسیاں ایک دوسرے کی طرف کنکھیوں سے دیکھ کر زیر لب مسکرا رہی ہیں۔ میں نے ذرا سا ڈانٹ کر کہا، ”بی۔ سیریس“ تو ان کی مسکراہٹ کھی کھی میں بدل گئی۔ پتہ چلا کہ گلاب کی پنکھڑی تو ان کی سمجھ میں آ گئی تھی لیکن لب کی نازکی والی بات وہ قبول کرنے کو تیار نہیں تھیں۔

ان کا مشاہدہ دیکھ کر میں دنگ رہ گیا جب انہوں نے گھر میں کام کرنے والی ماسی اور کوڑا اٹھانے والی کالی بجھنگی عورت کے بھدے ہونٹوں کی مثالیں دیں اور اپنی ایک کلاس فیلو کا ذکر بھی کیا جس کا اوپر والا ہونٹ درمیان سے اتنا خالی تھا کہ ایک دانت نمایاں ہوتا تھا۔ اب میں ان کو لاکھ سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ بھئی شاعر نے اپنے محبوب کو اسی نظر سے دیکھا ہے اور میر تقی میر تو وہ شاعر ہیں جن کے بارے میں غالب نے کہا تھا، ”اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا“ ۔

بچیوں میں محبوب کا کوئی کونسیپٹ ہی نہیں تھا۔ وہ تو اپنی ماؤں سے اجازت لے کر فارغ وقت میں لیپ ٹاپ ٹائم یا موبائل ٹائم کرتی رہتی ہیں اور نہ جانے کون سی گیمز کھیلتی اور کون سی موسیقی سنتی رہتی ہیں۔ الٹا انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ یہ میر صاحب اگر کام والی ماسی کے ہونٹوں پر شعر کہتے تو کیا ایسا ہی کہتے۔ اس بات پر مجھے اپنا سارا علم کوتاہ نظر آیا اور وہ جو میں نے سوچا تھا کہ اس کتاب کے مندرجات پڑھانا، بائیں ہاتھ کا کھیل ہے، تو اس سوچ کی تو ہوا نکل گئی۔ اب میں ان کو کیا بتاتا کہ میر صاحب تو عطار کے لونڈے سے دوا بھی لیا کرتے تھے۔ اس سے اگلے شعر پر تو میں ایک اور ہی مشکل میں گرفتار ہو گیا، میر صاحب لکھتے ہیں،

” بار بار اس کے در پہ جاتا ہوں / حالت اب اضطراب کی سی ہے۔

تو بچیوں کا پہلا اعتراض تو یہ تھا کہ میر صاحب کے پاس کوئی سیل فون یا اینڈرائڈ موبائل نہیں تھا، وٹس ایپ کی سہولت نہ سہی، کم از کم لینڈ لائن تو ہو گا ہی۔ میرے منہ سے ایویں ہی نکل گیا کہ اس زمانے میں اس قسم کی خرافات ایجاد نہیں ہوئی تھیں تو انہیں لفظ خرافات پہ بہت غصہ آیا اور بیک وقت دونوں بول اٹھیں کہ، ”اس زمانے کی باتیں ہمیں اس زمانے میں کیوں پڑھائی جا رہی ہیں۔

اگلے روز جو تماشا میں نے دیکھا تو حیرت زدہ رہ گیا۔ وہ دونوں اتنی خوبصورت شاعری کا باقاعدہ مذاق اڑا رہی تھیں۔ چھوٹی بار بار پیٹ پہ ہاتھ رکھ کے باتھ روم کی طرف جا رہی تھی۔ بڑی نے کہا تمہیں کیا تکلیف ہے، بیٹھ کے ٹسٹ کی تیاری کرو تو چھوٹی نے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر باتھ روم کی طرف جاتے ہوئے کہا، ”حالت اب اضطراب کی سی ہے۔“ اور بھر پور قہقہے۔

میں نے ذرا تاسف سے کہا، ”بیٹا دراصل آپ لوگوں نے اچھے اردو ڈرامے، فلمیں اور موسیقی نہیں سن رکھی اس لیے بات آپ کی سمجھ میں نہیں آ رہی۔“

کہنے لگیں، ”ہمیں ماما کی طرف سے سب دیکھنے کی اجازت ہے لیکن ڈراموں میں کیا دیکھیں، ناکام محبت کی کہانی، طلاق، شادی شدہ عورتوں کے رومانس اور سوڈو رومینٹک شاعری، اور ڈراموں میں کوئی ساس اور کوئی بہو آج تک پرفیکٹ نظر نہیں آئی، رونا دھونا۔ ہر چینل پر مختلف اداکار، اگر انہیں اداکار مان لیا جائے تو، ایک ہی ڈرامہ بول رہے ہوتے ہیں۔ اس لئے ہم نے دیکھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔“

دوسری بولی، ”اسی لئے ہم مائیکل جیکسن، پالے رائل بینڈ اور موشن لیس وہائٹ سنتے ہیں۔ کیا ڈرم بجتے ہیں اور کیا ردھم ہوتا ہے۔ کتنی ویری ایشن ملتی ہے اور پھر اس کو سننے کے بعد حالت اضطراب کی سی تو بالکل نہیں ہوتی۔“

میں نے ایک نامور افسانہ نگار دوست سے سارا ماجرا بیان کیا اور اپنی پریشانی بتائی تاکہ کوئی مفید مشورہ حاصل کر سکوں تو وہ کہنے لگیں، ”مبارک ہو۔ تم نے اتنا اچھا پڑھایا بچیوں کو کہ ان کو“ اضطراب ”کا مطلب خوب اچھی طرح سمجھ میں آ گیا۔ تم ایک اچھے استاد ہو“

ہفتے اور اتوار کی چھٹی کے بعد پیر کے روز میں ذرا دیر سے بیدار ہوا تو دیکھا کہ بچیاں کتابوں سمیت موجود ہیں۔ ان کو پڑھانے کا شوق اب کچھ مٹھا پڑ چکا تھا اور میں خود کو حالت اضطراب میں محسوس کرنے لگا تھا۔

” ہاں بھئی آج کیا پڑھنا ہے“ میں نے پوچھا تو جواب ملا، ”خواجہ حیدر علی آتش“
” یہ آتش تخلص ہوتا ہے ناں ابا، آپ نے بتایا تھا“ ایک بچی بولی
” ہاں ہاں اصل نام حیدر علی اور آتش تخلص“
” اچھا تو آتش مطلب آگ، فائر؟“
” چلو چلو، غزل نکالو“ میں نے جز بز ہو کر کہا
میں ابھی میر تقی میر کے اضطراب والے صدمے سے جان بر نہیں ہوا تھا کہ آتش کی غزل کا پہلا شعر تھا
رخ و زلف پر جان کھویا کیا / اندھیرے اجالے میں رویا کیا

اب میں یہاں کیا بولتا۔ بچیوں کی تو ہنسی ہی رک نہیں پا رہی تھی۔ یہ بات ان کی سمجھ سے بالاتر تھی کہ زلف و رخسار پر بھی کوئی جان دیتا ہے۔

” ہم تو اپنے دوستوں کی اچھی عادات اور صفات کی وجہ سے دوستی کرتے ہیں، شکل خواہ کیسی بھی ہو کبھی کیمسٹری بھی مل جاتی ہے۔“ چھوٹی نے کہا

”اور یہ بھی، ابا، کہ کوئی دوستی کا جواب دوستی سے دے تو ویل اینڈ گد، موسٹ ویلکم اور جو پہلو بدل کے کھڑا ہو جائے تو نو پرابلم۔ اس میں اندھیرے اجالے میں رونا کیا۔ مطلب شاعر ہمیں کیا سمجھانا چاہتا ہے؟“ بڑی بولی

میں نے تنگ آ کر پوچھا کہ آپ کے سکول میں جو اتنی تجربہ کار ایم ایڈ، ایم فل اور سبجیکٹ سپیشلسٹ استانیاں ہیں وہ کیسے تشریح کرواتی رہی ہیں تو وہ ذرا مشکل میں پڑ گئیں اور پھر یاد کر کے بتایا کہ ہاں وہ کسی عشق مجازی اور عشق حقیقی کا ذکر کرتی ہیں اور تقریباً سارے شعر ہی عشق حقیقی کی طرف موڑ دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں مجازی آپ کے سمجھنے کی بات نہیں، بس ہر شعر میں حقیقی کا ٹچ دے دیا کریں۔ اور ایک نواسی نے استفسار کیا کہ

” وہ جو آپ کی بک شیلف میں موٹی سی کتاب، میر تقی میر نمبر پڑی ہے کیا اس میں سارا حقیقی ٹچ ہے اتنے زیادہ صفحات میں نازکی اور اضطراب جیسی باتیں لکھی ہیں؟“ یہ بات سن کر میں مزید حالت اضطراب میں چلا گیا۔

پھر میں نے انہیں اپنی کتابوں میں سے جناب فیض احمد فیض، کشور ناہید اور فہمیدہ ریاض کی کچھ شاعری سنائی تو حیرت کی بات ہے کہ نہ صرف وہ یہ شاعری سمجھ پائیں بلکہ انہیں اچھی بھی لگی۔ ان کا سوال تھا کہ ایسی شاعری ان کے نصاب میں کیوں نہیں۔

ایک دقت مجھے اور بھی پیش آئی جب ”شاعروں کے لطیفے“ نامی باب پڑھاتے ہوئے بچیوں کو سخت اعتراض تھا کہ ”میٹھے ہوں اور بہت سے ہوں“ بھلا غالب کی اس بات میں لطیفہ کہاں ہے اور ”ہاں۔ گدھے آم نہیں کھاتے“ تو زبردست طنز ہے۔ اسے لطیفہ کیوں کہا گیا ہے۔ یا

اس زلف پہ پھبتی شب دیجور کی سوجھی
اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی
تو حاضر جوابی اور بذلہ سنجی بنتی ہے نا کہ لطیفہ۔

میں یہاں ارباب اختیار یا نصاب کمیٹی کو کسی بھی قسم کی تجویز نہیں دوں گا کہ بات ان کی بھی سمجھ سے بالا تر ہے کہ ان کے مسائل کچھ اور نوعیت کے ہیں۔ مجھے تو اپنی اوقات کا پتہ چل گیا کہ میری اولاد نے مجھے ایک ”ممتاز افسانہ نگار“ اور ”عظیم اردو دان“ سمجھ کر جو آثار قدیمہ کا نصاب بچیوں کے اندر انڈیلنے کی ڈیوٹی لگائی تھی اس میں، میں بری طرح ناکام ہوا ہوں۔ اتنی مغز ماری تو مجھے افسانہ لکھتے ہوئے کبھی نہیں کرنا پڑی تھی۔

میری حالت اب اضطراب کی سی ہے۔

Facebook Comments HS