خواتین کے قتل اور تشدد کی لہر

عورتوں کے قتل، ریپ اور بے رحمانہ سلوک کی وارداتیں بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ پاکستان کے بارے میں دنیا کا تاثر پہلے ہی کچھ زیادہ اچھا نہیں۔ ہمارے نظام انصاف کو بھی بے اعتبار سمجھا جاتا ہے۔ قانون کے نفاذ کو بھی امتیاز پر ہی مبنی خیال کیا جاتا ہے۔ احتساب کو بھی غیر جانبدارانہ خیال نہیں کیا جاتا۔ ہم کچھ بھی کہتے رہیں اور کتنی ہی صفائیاں کیوں نہ دیتے رہیں، دنیا کے شکوک و شبہات دور نہیں ہو رہے۔ ہمارے بارے میں یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ہم عسکریت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں مذہبی رواداری نہیں۔ ہم جمہوری کلچر سے محروم ہیں اور اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرتے۔ ہمارے ہاں بنیادی حقوق کا احترام نہیں کیا جاتا۔ ہماری حکومتیں اپنے سیاسی مخالفین کو جھوٹے مقدمات میں الجھاتی اور عدالتوں سے ساز باز کر کے سزائیں دلواتی ہیں۔ ہمارے ہاں لوٹ مار کا کلچر ہے۔ ہمارے ہاں خواتین کو حقیر مخلوق سمجھا جاتا ہے۔ کبھی غیرت کے نام پر اور کبھی کسی اور بہانے عورتوں کو بھیانک سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

الزامات کی یہ فہرست بہت طویل ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ تمام الزامات درست ہیں۔ یقیناً بہت سی باتیں مبالغہ آمیز بھی ہو سکتی ہیں۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ دنیا ہمارے بارے میں منفی پروپیگنڈے کے زیر اثر ہے اور بوجوہ ہم سے بغض رکھتی ہے۔ لیکن یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ ان الزامات میں سرے سے کوئی حقیقت نہیں۔ یہ صرف پاکستان دشمنی یا مسلم دشمنی کی وجہ سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں واقعی سنگین معاشرتی اور سماجی مسائل کا سامنا ہے۔

یہ مسائل آج کے نہیں، برسوں سے چل رہے ہیں لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے ان پر کتنی توجہ دی؟ ریاستی سطح پر ان کی اصلاح کے لئے کتنے اقدامات کیے ؟ خاص طور پر خواتین پر مظالم کا سلسلہ روکنے کے لئے کتنے موثر اقدامات کیے گئے؟ بلاشبہ نئے نئے خوبصورت قوانین بنانے میں کوئی ہمارا ثانی نہیں۔ اسی لئے پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شما ر ہوتا ہے جہاں قوانین کے انبار لگے ہیں۔ اگر ان قوانین پر جائیں تو گمان ہوتا ہے کہ یہ ملک تو۔

”جنت“ کا گہوارہ ہو گا۔ اتنے زبردست قوانین اور اتنی بڑی بڑی سزائیں رکھنے والے ملک میں کوئی شخص ارتکاب جرم کا کیسے حوصلہ کر سکتا ہے۔ لیکن اگر ہمارے قوانین کے انبار ہیں تو جرائم کی بھی بھرمار ہے۔ کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی ایسی کمزوری یا خامی ضرور موجود ہے جس کی وجہ سے یا تو قانون پر عمل درآمد کرنے والی مشینری کمزور ہے یا مجرموں کو مجرم ثابت کرنے والے نظام میں خامیاں ہیں یا ہمارا عدالتی نظام ایسا ہے کہ بڑے بڑے جرائم کے مرتکب لوگ بھی کسی نہ کسی بہانے چھوٹ جاتے ہیں۔

اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا اور تشدد کا واقعہ تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی کشیدگی کی نذر ہو گیا ہے۔ پاکستان کے مختلف اداروں کا موقف یہ ہے کہ نہ افغان سفیر کی بیٹی اغوا ہوئی نہ اس پر کسی نے تشدد کیا۔ وہ از خود گھر سے نکلی اور جو کچھ بھی ہوا اس کی ذمہ داری اسی پر ہے۔ ہم اس موقف کو سو فیصد درست تسلیم کر لیتے ہیں لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کئی کئی کان اور کئی کئی آنکھیں رکھنے والی وہ ایجنسیاں کہاں تھیں جنہوں نے ایک سفارت خانے سے نکلنے والی خاتون کی نقل و حرکت کا جائزہ نہیں لیا؟

یہ بھی نہ دیکھا کہ وہ کہاں جا رہی ہے؟ کس سے مل رہی ہے؟ سفارتخانوں کی ذرا ذرا سی نقل و حرکت، مقامی ایجنسیوں کی نگاہ میں رہتی ہے۔ یہ بات نا قابل فہم ہے کہ کسی سفارتخانے سے کوئی اہل کار، یا سفیر کا عزیز یا عزیزہ جب چاہیں نکل جائیں، جس سے چاہیں ملیں اور جب چاہیں گھر پلٹ آئیں۔ کسی کو کانوں کان خبر ہی نہ ہو۔ اگر ایسا ہوا ہے تو انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اپنے نظام کی اصلاح کرنا ہو گی۔

اور اب نور قدم کے بھیانک قتل نے پورے ملک کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ یہ قتل پاکستان کے کسی دور دراز علاقے یا گاؤں میں نہیں، اسلام آباد کے عین قلب میں ہوا۔ نور مقدم کا اپنا گھر پاکستان نیوی کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں تھا اور اس کا قتل ایف۔ 7 سیکٹر کے ایک گھر میں ہوا جسے اسلام آباد کا قلب خیال کیا جاتا ہے۔ نور مقدم کے والد پاکستان کے ایک سابق سفیر ہیں۔ یہ واردات یکایک نہیں ہوئی۔ یہ قصہ تقریباً 46 گھنٹوں تک محیط ہے۔

ملزم ظاہر جعفر کے بارے میں نت نئی تحقیقات سامنے آ رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ برطانیہ اور امریکہ میں بھی مجرمانہ ریکارڈ رکھتا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پاکستان کے اداروں کو بھی اس کی خبر ہونی چاہیے تھی۔ اب وہ خود کو امریکی شہری کے طور پر پیش کر رہا ہے، کیونکہ اس کے پاس امریکہ کی شہریت بھی ہے۔ امریکی سفارت خانہ متحرک ہو گیا ہے اور اپنے ”شہری“ کے حوالے سے معلومات حاصل کر رہا ہے۔ ایک خاتون امریکی سفارت کار نے ملزم سے ملاقات بھی کی ہے۔

اس قتل کو اب دوسرا ہفتہ شروع ہو چکا ہے۔ پوری تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں آ سکیں۔ ہوتا یہی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس بھیانک جرائم کی سنگینی کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ کوئی نئی واردات، اسے پس منظر میں دھکیل دیتی ہے۔ پولیس کی مستعدی بھی کم ہو جاتی ہے۔ لمبے ہاتھوں والے زور آور لوگ ہر جگہ سرنگیں لگا لیتے ہیں اور پھر ایک دن پتہ چلتا ہے کہ نا کافی شواہد کی وجہ سے ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے حیدر آباد میں بھی ایک سنگین واردات ہوئی ہے جس میں مبینہ طور پر خاوند نے اپنی بیوی کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا۔ یہ واردات اس نے اپنے معصوم بچوں کے سامنے کی۔ ایک بچی نے پولیس کو تمام واقعات سنائے۔ وہ شخص سب بچوں کو، جن میں سب سے چھوٹا صرف دو سال کا تھا ماں کی خوں آلود لاش کے پاس چھوڑ کر فرار ہو گیا۔

پاکستانی معاشرے میں خواتین کے قتل، ریپ اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پورے معاشرے کے لئے لمحہ فکریہ ہیں۔ گھریلو تشدد کی بے شمار وارداتیں رپورٹ ہی نہیں ہوتیں۔ عورتوں کو غلام یا کنیز خیال کرتے ہوئے انہیں ذہنی، جذباتی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنانا ایک معمول بن چکا ہے۔ ملک میں ایسی این۔ جی۔ اوز کی کمی نہیں جو عورتوں کے حقوق کے نام پر عالمی اداروں سے کروڑوں کی گرانٹس لیتی ہیں لیکن وہ بھی کوئی موثر تحریک اٹھانے میں ناکام رہی ہیں۔ میڈیا کا سارا زور بھی ایسی وارداتوں کی تفصیلات بتانے پر مرکوز رہتا ہے۔ خواتین کی تنظیموں کو بالخصوص پارلیمنٹ میں موجود خواتین کو اس سلسلے میں بھرپور آواز اٹھانی چاہیے۔ یہ سلسلہ نہ رکا تو پاکستان کا چہرہ عالمی برادری کے سامنے اور بھی داغدار ہو جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ نئی بات

Comments - User is solely responsible for his/her words