میاں کلچر کی نئی علمبردار: صدف کنول


کچھ عرصہ قبل معروف موٹیویشنل سپیکر قاسم علی شاہ نے ایک انٹرویو میں اس بات کا شکوہ کیا تھا کہ ہمارے سماج میں اچھی اور مثالی بیوی بننا نہیں سکھایا جاتا۔ جس کی وجہ سے ہمیں بہت سے سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مشہور ماڈل صدف کنول نے شاہ صاحب کی اس بات کو کافی سنجیدہ لیا ہے۔ اور یہ ثابت کر دیا کہ شاہ صاحب جو بات کر رہے تھے اس کو عملی جامہ کیسے پہنایا جاسکتا ہے؟ انہوں نے گزشتہ دنوں اپنے شوہر کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس بات کا انکشاف کیا کہ وہ ایک مثالی بیوی ہیں۔

اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”بطور ایک بیوی اپنے شوہر کے کپڑے استری کرنا، جوتے اٹھانا، اس کی ہر بات کا خیال رکھنا ان کے فرائض میں شامل ہے۔“ کیونکہ ان کے مطابق ”ہمارا میاں ہی ہمارا کلچر ہے“ ۔ اس لیے ان کو اپنے شوہر کی ہر بات کا بہت اچھے سے پتا ہونا چاہیے۔ ان کے نزدیک مرد عورت سے طاقتور اور برتر بھی ہے انہوں نے فیمینزم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یہاں پر بہت سارے لبرلز آ گئے ہیں اور ہر وقت فیمینزم کا پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں پاکستان میں عورت کمزور نہیں، بلکہ بہت مضبوط ہے۔

محترمہ صدف صاحبہ کے ان تاثرات پر کچھ نا معقول قسم کے لبرل لوگوں نے یہ کہہ کر تنقید کی کہ موصوفہ نے یہ سب کتنی غلط باتیں کی ہیں؟ حالانکہ حقیقت میں ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ صدف کنول صاحبہ کی ہر بات حرف بہ حرف درست ہے کیونکہ ہمارے سماج میں عورت جب بیوی بنتی ہے تو اس کو یہ سب ذمہ داریاں نبھانا ہوتی ہیں۔ بلکہ عورت کو بیاہ کر لایا ہی اس لیے جاتا ہے کہ وہ نا صرف اپنے شوہر کی ہر طرح سے خدمت کرے گی بلکہ اس کے باقی گھر والوں کا بھی خوب خیال رکھے گی۔ چاہے اس کا کوئی خیال رکھے یا نہ رکھے۔ تبھی تو سوشل میڈیا پر صدف کنول صاحبہ کو ثنا خواں تقدیس مشرق کے حلقوں کی طرف سے بہت زیادہ سراہا گیا ہے۔

اور کئی لوگ جن کو صدف پہلے اپنے ماڈرن لائف سٹائل کی وجہ سے نا پسند تھیں، وہ بھی اب ان کے واری واری جاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ان کے مطابق، صدف صاحبہ نے دیسی لبرلز کو کیا خوب جواب دیا ہے؟ اور ان کو ہمارے اصلی ”میاں کلچر“ کی پھر سے کیا خوب پہچان کروائی ہے؟ کیونکہ لبرلز تو بس مغربی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ اور ان کی صرف یہ کوشش ہے کہ یہاں بھی مغربی سماج کی طرح شادی کے بعد میاں اور بیوی دونوں برابری سے چلیں۔

جہاں بیوی کو ضرورت ہو، وہاں میاں ساتھ دے، جہاں میاں کو ضرورت ہو، وہاں بیوی ساتھ دے۔ دونوں میں سے کوئی بھی برتر نہ ہو۔ دونوں ہی ایک دوسرے کا خیال کریں۔ یہ تفریق نہ ہو کہ یہ کام صرف میاں کر سکتا ہے اور یہ بیوی، اسی لیے گھر کے سبھی کام میاں بیوی مل کر کریں۔ بچوں کی پرورش بھی صرف ماں کی ذمہ داری نہ ہو، بلکہ باپ بھی ان کی پرورش میں برابر حصہ دار ہو۔

اسی طرح کمائی کے حوالے سے بھی کوئی فرق نہ روا رکھا جائے۔ ایسے ہی اگر میاں بیمار ہو جائے تو جیسے بیوی اس کا خیال کرے ویسے ہی بیوی کے بیمار ہونے پر، خاص طور پر اس کے پریگننسی اور پیریڈز کے دنوں میں میاں اس کا ہر طرح سے خیال رکھے۔ اسے گھر کے کام نہ کرنے دے۔ اسی طرح دونوں کے درمیان جنسی عمل بھی دونوں ہی کی مرضی سے سرانجام دیا جائے۔ اور اس ضمن میں اگر ایک فریق کی بھی منشا نہ ہو تو دوسرا فریق اسے جنسی عمل پر کسی بھی طرح مجبور نہ کرے۔ پھر دونوں فریقین کی طرف سے کسی پر بھی بے جا پابندیاں نہ لگائی جائیں۔ دونوں ایک دوسرے کی پرسنل سپیس کا بھی خیال رکھیں۔

لیکن یہ سب ہمارے ”میاں کلچر“ والے سماج میں بھلا کیسے ہونے دیا جاسکتا ہے؟ اس لیے بھلا ہو صدف کنول صاحبہ کا کہ انہوں نے اس مغربی ایجنڈے پر کام کرنے والے لبرلز کا بھانڈہ پھوڑ دیا اور بتایا کہ اس ضمن میں ہمیں مغرب کی تقلید کی قطعاً ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس اپنا ”میاں کلچر“ موجود ہے جس کی وجہ سے عورت بالکل بھی کمزور نہیں رہی بلکہ بہت مضبوط اور محفوظ ہو گئی ہے۔ نہ تو اس کو اب قتل کیا جاتا ہے، نہ اس کا ریپ ہوتا ہے۔ نہ اسے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، نہ اس پر تشدد کیا جاتا ہے۔ اور نہ ہی ہمارا ملک عورتوں کے لئے دنیا کا تیسرا بد ترین ملک ہے۔ اس حوالے سے سارے اعداد و شمار محض مغرب کی سازش ہیں۔

اور یہاں پر موجود سب لبرلز کبھی فیمینزم کے نام پر اور کبھی عورت مارچ کے نام پر مغرب کی سازش کا حصہ بن کر اس کے ایجنڈے کو پورا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ لہذا صدف کنول صاحبہ ان سب لبرلز اور ان کے جعلی فیمینزم کو بے نقاب کرنے پر خراج تحسین کی مستحق ہیں۔ اس حوالے سے قبلہ قاسم شاہ صاحب سے التماس ہے کہ وہ ایک ایسا ادارہ تشکیل دے دیں جہاں پر ”مثالی بیوی“ بننے کے طریقے سکھائے جائیں۔

کیونکہ اس ادارے کے سربراہ کے لئے شاہ صاحب کو اب محترمہ صدف کنول کی صورت میں موزوں ترین امیدوار میسر آ گئی ہیں جو وہاں پر ہماری خواتین کو ”میاں کلچر“ سے روشناس کروا کر ایک ”مثالی بیوی“ بننے کے تمام گر سکھائیں۔ وہ ان کو بتائیں کہ شادی سے پہلے کی زندگی کا شادی کے بعد کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ شادی سے پہلے چاہے آپ جتنا مرضی جدید طرز زندگی اپنا لیں، لیکن شادی کے بعد چونکہ آپ ”میاں کلچر“ کا حصہ بن جانا ہوتا ہے تو اس لیے آپ کو ”پارو سے پاروتی“ کا سفر طے کر کے ایک ”مثالی بیوی“ ہی بن جانا چاہیے۔

اس حوالے سے مولانا اشرف تھانوی کی مشہور زمانہ کتاب ”بہشتی زیور“ سے بھی استفادہ کیا جائے تاکہ ہمارا پورا سماج ”میاں کلچر“ کی ایک عملی تصویر بن جائے اور ہماری خواتین یہاں جعلی لبرلز کی وجہ سے گمراہ نہ ہو سکیں۔ جہاں تک ”مثالی شوہر“ کی بات ہے تو ہمارے جیسے ”میاں کلچر“ والے سماج میں تو پہلے سے ہی ”مثالی شوہر“ موجود ہیں۔ لہذا ان کے لئے کسی ادارے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments