محمود خان اچکزئی: عظیم باپ کا عظیم بیٹا


اس خاندان نے شہادتیں دیکھی۔ قبائلی دشمنیاں برداشت کیں۔ آزادی پاکستان سے پہلے انگریزوں کے ظلم و ستم اور جیل کی کوٹھریوں کا سامنا کیا جبکہ آزادی کے بعد جنرل ایوب خان جیسے مسلمانوں کا ظلم اور سالوں جیل کی سختیاں جھیلیں۔ لیکن اپنی قوم اور وطن کے لئے چنے گئے راستے سے نہیں ہٹے۔

خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی تمام زندگی ضد استبداد، ضد استعمار، لوگوں کے حقوق کی حفاظت، میڈیا کی آزادی اور جمہوریت کی آبیاری میں گزر گئی۔ قوم اور وطن سے محبت کی پاداش میں نہ صرف زندگی کے قیمتی ترین سال جیل میں گزار دیے بلکہ دوسری طرف انگریز سرکار اور ایوبی حکومت کے تمام لالچ اور مراعات کو ٹھکرا دیا تھا۔ وطن اور قوم سے محبت کی اور کون سی مثال ہو سکتی ہے جب کوئی اپنا سر مٹی کے لیے قربان کرے۔ یہی خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کے ساتھ ہوا جب انہیں 1973 اپنے گھر میں سوتے ہوئے بم سے شہید کیا گیا۔

اپنے باپ کے خون آلود سرہانے بیٹھے جہاں ایک طرف ایک عبدالصمد خان ابدی نیند سو رہا تھا تو دوسری طرف پچیس سالہ نوجوان بیٹا محمود خان اچکزئی دوسرے عبدالصمد خان کی صورت میں پسے ہوئے قوم کی رہنمائی کے لیے اٹھ رہا تھا۔ دشمن کو شاید معلوم نہ تھا کہ محمود خان اچکزئی کی قیادت میں محکوم پشتون قوم شعور کی نئی حدیں چھو لے گی۔

1973 کو پچیس سالہ محمود خان اچکزئی نے جب نیشنل عوامی پارٹی جو کہ بعد میں 1989 میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی بنی کی باگ دوڑ سنبھالی تو انہوں نے انجینئرنگ کی تعلیم کو خیر بعد کہا اور جب 1977 میں جنرل ضیا الحق کا مارشل لا آیا تو اس نوجوان اچکزئی کی قیادت کا اور جمہوریت سے اس کے والد کی طرح کمٹمنٹ کا امتحان بھی شروع ہوا۔ جس پر وہ پورا اترے۔ اور ضیاءئی مارشل لاء کے خلاف صف اول کا کردار ادا کیا۔ اور 7 اکتوبر 1984 میں کوئٹہ میں آمریت مخالف جلوس کی قیادت کی تو بزور شمشیر حکومت کرنے والی سرکار نے نہتے اور معصوم جمہوریت پسندوں پر فائرنگ کی جس سے اس جلوس میں موجود پارٹی کے رہنما شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔

محمود خان اچکزئی کے 48 سالہ سیاسی سفر کا محور تین چیزیں رہی ہیں۔ جمہوریت کے ساتھ غیر متزلزل عزم، پشتونوں کی بحیثیت قوم حقوق کی ترجمانی اور مظلوم اقوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا۔

ان مقاصد کے حصول کے لیے ایم آر ڈی تحریک، مشرف کے خلاف اے پی ڈی ایم، موجودہ تحریک پی ڈی ایم اور 90 کی دہائی میں مظلوم اقوام کے حقوق کے لئے بننے والی تحریک پونم میں صف اول کا کردار ادا کیا۔ مزید براں، پونم کی کوششوں ہی کی بدولت بلوچستان میں پشتون اور بلوچ اقوام کے درمیان بھائی چارے، ہم آہنگی، اور امن سے رہنے کی فضا قائم ہوئی۔

جمہوریت سے وفاداری اور انسانی حقوق کی دفاع میں کھڑے محمود خان اچکزئی کے خلاف جب باقی تدبیروں نے نتیجہ نہیں دکھایا تو کچھ نادان دوستوں نے ان کو غدار قرار دینا شروع کیا اور کورٹ میں پیٹیشن داخل کی۔ جس کو کورٹ نے مسترد کیا جو کہ محمود خان اچکزئی کی حب الوطنی پر مہر ثبت کرتی ہے۔ مزید براں کئی دفعہ ممبر قومی اسمبلی رہنے کے باوجود بے داغ ماضی کئی مالک اس پشتون لیڈر کے ماتھے پر کرپشن کا داغ ابھی تک ثابت نہیں ہوا ہے۔ اسی بے داغ ماضی نے 2013 کی بدولت اپوزیشن اور حکومت دونوں نے انہیں نگران وزیراعظم بنانے کی پیشکش کی تھی۔ جو اچکزئی نے اس لے ٹکرایا کیوں کہ بقول ان کے مفادات کا ٹکراو آ رہا تھا اور اس کی اپنی پارٹی انتخابات میں حصہ لے رہی تھی۔

ایک عام تنقید جو محمود خان اچکزئی کی پارٹی پر کی جاتی ہے کہ یہ خان عبدالصمد خان اچکزئی کی ضد جاگیردار پالیسی سے ہٹ گئی ہے اور پارٹی میں بھت سے اہم عہدوں پر جاگیرداروں کا قبضہ ہے۔ یہ الزام دراصل تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے۔ خان عبدالصمد خان اچکزئی کی زندگی کبھی بھی اس طرح کی کوئی پالیسی نہیں رہی۔ بلکہ انہیں معاشرے کے بھٹکے ہوئے لوگ سمجھتے تھے یہی وجہ تھی کی انہوں نے ان کو راہ راست پر لانے کے لیے جمہوری جدوجہد کی اور بزور قلم ان میں شعور پیدا کرنے کی کوشش کی۔

جہاں تک محمود خان اچکزئی پر اس الزام کا تعلق ہے وہ بھی حقیقت سے دور ہے۔ اس کی پارٹی کے اہم ترین عہدوں پر کوئی بھی جاگیردار نہیں۔ اکثر عہدیدار مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں جو سٹوڈنٹس پالیٹکس کے وقت سے پارٹی کے نظریے کو سینے سے لگائے گئے ہیں۔ ہمارے سامنے بہترین مثال نصراللہ زیرے کی ہے۔ جن کا تعلق مڈل کلاس فیملی سے ہے۔ جو کہ دوسری دفعہ ممبر صوبائی اسمبلی بھی بنے ہیں۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ کچھ صاحب استطاعت لوگ پارٹی میں شامل ہے۔ لیکن اس کا قطعی مطلب یہ نہیں لیا جا سکتا کہ پارٹی یرغمال ہے۔

اختلاف ہر کسی سے بھی کیا جاسکتا ہے اور محمود خان اچکزئی بھی اس سے مبرا نہیں۔ لیکن محمود خان اچکزئی کی وطن سے محبت، عوام کے حقوق کے لئے آواز اٹھانا، جمہوریت کے ساتھ اس کا متزلزل عہد، کرپشن سے مبرا سیاسی کیریئر، امن پسندی، اور انسانی حقوق کی پاسداری اور عملداری کے لئے آواز اٹھانا، جیسے خصوصیات پر شاید ہی کوئی انگلی اٹھائے۔

پشتونوں کے گنے چنے لیڈروں میں یکتا۔ محمود خان اچکزئی کے کندھوں پر موجودہ حالات میں بہت زیادہ ذمہ داری آن پڑی ہے۔ ایک طرف جہاں افغانستان میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے تو دوسری طرف پاکستان میں ان کے تحفظات بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں وہ ایک پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ امید کرنی چاہیے کہ بنوں میں مستقبل قریب میں ان کا بلایا ہوا جرگہ امن اور شانتی کے لئے زینہ مہیا کرے۔

Facebook Comments HS