میں نے تو خیر اعتماد کیا، بچوں کا کیا جرم ہے؟


طلاق کا جھوٹا دعوی تو کر دیا لیکن آج تک بچوں کے مستقبل کے معاملات طے نہیں کیے گئے۔ ماہوار خرچ کا کیا حساب ہو گا، کچھ طے نہیں کیا گیا۔ میں بچوں کے ماہوار خرچ کی منتظر ہوں۔ آج (یہ تحریر لکھنے تک) پندرہ دسمبر ہے لیکن کوئی اتا پتہ نہیں۔ دودھ پیتے بچے چھوڑ دیے، چودہ ماہ کے بیٹے کو بغیر دیکھے چھوڑا، ڈھائی سال کی بیٹی جو دوسروں کی محبت میں باپ کو تلاشتی ہے اس کا خیال نہیں کیا گیا۔ میرا شوہر مجھ سے نفرت نبھاتا تو قابل فہم تھا، بچوں سے کیسی نفرت تھی؟ میرے بچے کیا یاد کریں گے کہ جب ہم پہ حملہ ہوا تھا، عین اس وقت باپ نے پہلا گھر بچانے کے لیے ہمیں ڈس اون کر دیا تھا؟ اب تو خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی خواتین نہیں کھڑی ہوئیں کہ بچوں کے ماہانہ خرچ سمیت ان کے مستقبل کے معاملات طے کرنا اس آدمی کا فرض ہے جس نے ان کو مشکل میں آنکھ کھولتے ہی چھوڑ دیا۔ میرے خلاف جھوٹ پہ مبنی مہم چلانے والے کہاں ہی۔ مجھے آج کے دن اور اس لمحے تک طلاق نہیں دی گئی نہ زبانی نہ تحریری، خلع کا دعوی میں نے اس وقت دائر کیا جب میں نے دیکھا کہ اتنے مشکل وقت میں جب مجھ پہ حملہ ہوا میرے شوہر نے مجھے ڈس اون کر دیا۔ پھر ایسے ذلت بھرے رشتے میں رہنے کا کیا جواز تھا؟

میرے اور میرے بچوں کے ویزے حملے سے کئی ہفتے پہلے ہی لگ چکے تھے۔ ایمبیسی سے نکلتے ہی پہلی کال انصار عباسی صاحب کو کی تھی اور شوہر کو پیغام بھجوایا کہ چار چھ ہفتوں کے لیے امریکہ آتی ہوں، بچوں سے ہی مل لو۔ شوہر نے بچوں سے ملنے سے بھی انکار کر دیا تو پھر امریکہ جانے کا کبھی دوبارہ نہیں سوچا، لیکن جب مجھے ڈس اون کر کے میری رسوائی کی گئی تو ہر طرف سوال ہو رہے تھے۔ دل شکستہ تھی۔ اس ساری ڈپریسنگ صورتحال سے بچنے کے لیے گاڑی فروخت کر کے امریکہ بہن کے پاس آ گئی تو کہا گیا کہ جنرل فیض حمید نے امریکہ بھجوایا ہے۔

افسوس کہ جب ایسا الزام لگایا جا رہا تھا تب بھی انصار عباسی صاحب خاموش رہے۔ ایک ٹویٹ نہ کیا کہ عنبرین اور اس کے بچوں کے ویزے بہت پہلے لگے تھے اس سے حساس ادارے کا کیا تعلق؟ میرے گھر والوں نے امریکہ جانے کا مشورہ پہلے بھی ایک مرتبہ دیا تھا جب میں اپنے بچے کے لیے چار ماہ کی حاملہ تھی اور شوہر کی بے رخی کے باعث خود کو بند گلی میں محسوس کرتی اور اس اذیت ناک رشتے سے نجات کا راستہ خود کشی نظر آیا تو خود کشی کی کوشش کی، ہسپتال پہنچ گئی۔ شوہر کو بتایا گیا تو اس نے حال تک نہ پوچھا۔

میرے اور بچوں کے ویزے لگنے سے میرا شوہر اس لیے برافروختہ ہوا کہ عنبرین یہاں آ گئی تو امریکی قوانین کی نظر میں میری پہلی بیوی کے لیے کوئی مسئلہ کھڑا نہ کر دے / اسی لیے خود اور اپنے دوستوں سے میرے خلاف خوب گندی مہم چلوائی کہ امریکہ جنرل فیض حمید نے بھجوایا ہے۔ تاکہ لوگ اصل مدعے کی طرف نہ آئیں کہ احمد نورانی نے زیادتی کی ہے، دودھ پیتے دو بچے چھوڑے ہیں اور ایک بیوی کو اندھیرے میں رکھ کر دوسرا گھر بسایا ہے۔

یہ ہے میری کہانی اور مجھ پہ لگے الزامات کی حقیقت۔ پونے دو سال سے میرے شوہر نے رابطہ نہیں کیا تھا مجھ سے۔ اس طرح کی علیحدگی ضرور تھی لیکن طلاق آج کے دن نہ تحریری ہوئی نہ زبانی۔ میری زندگی برباد ہو گئی اور بچے آنکھ کھلنے سے پہلے یتیم ہو گئے لیکن میرے شوہر کا پہلا گھر ضرور بچ گیا۔ مجھ سے بچوں کی پرورش کو لے کر معاملات تاحال طے نہیں کیے گئے، اور بچوں کا باپ غائب ہے، کسی طرح سے رابطے میں نہیں، کیا یہ بچے صرف میری ذمہ داری ہیں؟ بچوں کو اکیلی پال رہی ہوں، شدید مشکلات کا شکار ہوں لیکن کسی قسم کے معاملات طے نہیں کیے جا رہے، میری بات شاید پڑھنے والوں کو سخت یا نامناسب لگے لیکن میں کہوں گی کہ مجھے اب سمجھ آتی ہے کہ اپنے ہی پیٹ سے نکلے بچوں کو مار کر مائیں خود کیوں مر جاتی ہیں۔ یقیناً بھوک پیاس، باپ کے ہوتے ہوئے بچوں کی یتیمی کی زندگی، وغیرہ جیسی وجوہات ہی ہوتی ہوں گی۔

باپ کے ہوتے ہوئے ماں کا یوں سنگل پیرینٹ بن کے بچوں کی پرورش کرنا معاش کے لیے جدوجہد کرنا یقیناً کسی چینلج سے کم نہیں ہوتا اور اسی قسم کے چینلجز کا مجھے سامنا ہے لیکن جنہوں نے میرے خلاف میڈیا مہم چلائی، مجھے گندا کیا ان کی زبانوں پر اب تالے پڑے ہوئے ہیں کہ مسائل بیوی کے ساتھ تھے لیکن بچے تو آپ کے ہیں وہ آپ کی ذمہ داری ہیں۔ ان کے معاملات طے کرو تاکہ ایک اکیلی خاتون بچوں کو عزت سے پال سکے۔ حیرت ہے کہ کس طرح نیند آتی ہوگی کہ بیٹا دنیا میں لا کر دیکھا تک نہیں، بیٹی کی کبھی خبر نہیں لی لیکن ہائی پروفائل صحافی ہونے کی وجہ سے احمد نورانی کو ذاتی رشتے میں یہ سب کرنا جائز ہے کیونکہ اس کی رپورٹنگ ملکی اداروں اور سیاست کو ہلا دیتی ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

One thought on “میں نے تو خیر اعتماد کیا، بچوں کا کیا جرم ہے؟

  • 16/12/2021 at 10:27 صبح
    Permalink

    تم نے سہا ہے اور سہنے والے ہی کمال کرتے ہیں۔۔ اللہ تعالیٰ تمہیں صبر دے اور ہمت دے ۔ آمین ثم آمین

Comments are closed.