شہید بینظیر بھٹو! مزاحمتی سیاست کا استعارہ
پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے ہی ریاستی وسائل، عوامی اختیارات پہ نا اہل سول اور ملٹری افسر شاہی قابض ہو گئی، پاکستان اسی کشمکش میں دولخت ہوا، مگر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی اقتدار و اختیار کی بھوک ان کی ہوس کم نہ ہوئی، ان کے اس بھوک کے خلاف، سماجی نا انصافیوں کے خلاف، آئین کی بار بار پامالیوں کے خلاف، عوام کے حقوق پہ ڈاکوں کے خلاف، ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کی جدوجہد کرنے والی جمہوری قوتوں کو کمزور کرنے والے ریاستوں ہتھکنڈوں کے خلاف شہید محترمہ بینظیر بھٹو وہ واحد سیاسی رہنما تھیں جو آئین و قانون کی حکمرانی کی جدوجہد اور سول ملٹری اسٹبلشمنٹ سمیت ملا ملٹری الائنس کے خلاف مزاحمت کا ایک استعارہ بن گئیں تھیں۔
محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے والد کے عدالتی قتل کے بعد اپنی مرحومہ والدہ کے ساتھ مل کر پاکستان میں مزاحمتی سیاست کی ایک نئی تاریخ رقم کی، انہوں ضیائی مارشل لاء کا نہ صرف ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ انتہائی سخت قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو ضیاء الحق کی حادثاتی موت کے بعد دو بار ملک کی وزیراعظم بنیں اور اپنے والد کے مشن اور پارٹی منشور کے مطابق عوامی جمہوریہ پاکستان کو حقیقی اسلامی فلاحی جمہوری مملکت بنانے کی کوشش کی۔
جنرل۔ شرف کے دور اقتدار کے دوران انہوں نے اپنے روایتی نظریاتی حریف مسلم لیگ نون کے صدر میاں نواز شریف کے ساتھ ملک میں جمہوریت کی بحالی، آئین و قانون کی حکمرانی، عوام کی خوشحالی اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے میثاق جمہوریت پہ دستخط کیے مگر بدقسمتی سے زندگی نے انہیں اس میثاق پہ عمل کرنے کا موقع نہیں دیا اور وہ 27 دسمبر 2007 کو ایک خودکش بم دھماکہ میں جام شہادت نوش کر گئیں۔
محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت اس دور حاضر کا سقوط ڈھاکہ اور پھر اپنے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل سے بھی بڑا سانحہ تھا، محترمہ بینظیر بھٹو شہید پاکستان واپسی کے بعد یہ مصمم ارادہ کر چکی تھیں کہ اگر ان کے کندھوں پہ ملک کے جمہوری نظام کو چلانے کی ذمے داریاں آئیں، تو وہ ملک کو ایک روشن خیال اور ترقی یافتہ پاکستان بنائیں گی۔ بالکل نئی سوچ کے ساتھ مثبت سیاسی ماحول کو پروان چڑھائیں گی۔ مگر شومئی قسمت کہ ان کے روشن خیال ترقی یافتہ پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا اور انھیں جسمانی طور اپنے کروڑوں چاہنے والوں سے جدا کر دیا گیا۔
بی بی شہید اس بات سے قائل تھیں کہ آمروں کے ہاتھوں مسخ شدہ آئین کا پاکستان مزید متحمل نہیں ہو سکتا ، اسی لئے وہ میاں نواز شریف کے ساتھ مل کر 1973 کا آئین جدید تقاضوں کے ساتھ بحال کرنے کی خواہش مند تھیں۔ وہ مسلسل خراب سول ملٹری تعلقات کو از سر نو بہتر کرنے کی خواہاں تھیں۔ وہ پیپلز پارٹی اور ملٹری تعلقات کو بھی بہتر کرنا چاہتی تھیں، تا کہ پاکستان اور عوام کی ترقی و خوش حالی کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔ میاں نواز شریف سے تعلقات کی بہتری کی بھی ایک بہت بڑی وجہ یہی تھی کہ دائیں بازو کی سیاسی قوتیں بھی ہم نوا ہو جائیں گی تو ملکی معاملات چلانے اور عوام کی خوش حالی اور ترقی کی مسدود راہیں وا ہو سکیں گی۔
بے نظیر بھٹو اپنی موت کے بعد خطے کی غالباً وہ واحد سیاسی رہنما بن گئی ہیں جن پر ملک و دنیا بھر کے ادیبوں لکھاریوں نے کتابیں لکھیں ان کی خداداد قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کھل کر کیا، بلکہ ملک بھر سے شاعروں نے ان کی المناک موت کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا، کسی نے ان پر سلام لکھے اور نوحے کہے تو کسی نے اپنے محسوسات کو نظم اور غزل کا چولا پہنایا۔
اس حوالے سے سب سے پہلی یاد ایک بیاد بے نظیر ٹی وی مشاعرے میں احمد فراز کی سانحۂ ستائیس دسمبر کے حوالے سے سنائی گئی یہ نظم ہے
سارا شہر بلکتا ہے
پھر بھی کیسا سکتہ ہے
گلیوں میں بارود کی بو
یا پھر خون مہکتا ہے
سب کے بازو یخ بستہ
سب کا جسم دہکتا ہے
ایک سفر وہ ہے جس میں
پاؤں نہیں دل تھکتا ہے
سیاسی، سماجی، معاشرتی موضوعات پر شعر کہنے والی کشور ناہید اپنی رہنما کے اس طرح بچھڑنے پر اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں کرتی ہیں :
بے نظیر تو زمین میں کیسے سمائے گی
کہ یہ ساری دنیا تیرے بے مثل حوصلے کی تمنائی رہے گی
میں نے تیری قبر پہ گوٹا لگے دوپٹوں کو
کبوتروں کو چومتے دیکھا ہے
اسی موضوع پر منظر جعفری کا یہ پر اثرا نوحہ بھی سنیے
فصیل وعدہ
لہو کے چھینٹوں سے بھر گئی ہے
یہ سانحہ جو ابھی ہوا ہے
سقوط ڈھاکہ سے کم نہیں ہے
اندھیری شب کے سیاہ سائے
ہر ایک رخ کے مکالمے میں
شکستہ ساعت کا سرد سورج
شفق کا محمل
اور عکس سنگ مفارقت میں وہ خون ناحق
جو چشم قاتل سے جھانکتا ہے
ہجوم رنگ وفا سے بوجھل، صدائے گریہ
وہ غم زدہ جستجو کا دریا
یا لمحہ
جس کی وہ بالکونی سے اپنے مقتل کی سرخروئی
کو سب کی نظروں سے دیکھتی ہے
برابری کوئی کیا کرے گا
وہ اپنی قامت سے خود بڑی ہے۔
اور ایسے ہی بے شمار انتہائی پراثر اور خوبصورت شاعری کے نمونے کہ جن کو ایک ساتھ احاطہ تحریر میں لانا ممکن نہیں ہے۔
شاید اسی لیے بے نظیر نے اپنی موت پر نوحہ اپنی زندگی میں ہی لکھ دیا تھا
ان کی ایک انگریزی نظم سے ایک اقتباس جس کا اردو مفہوم کچھ یوں ہے
وہ لمحہ جب کائنات کی تخلیق میں کچھ وقت تھا
جب آدم کو خاک کی پوشاک پہنائی جا رہی تھا
اس وقت میرا رشتہ اپنے خالق سے استوار ہوا
جب میں نے اس کی واضح اور صاف آواز سنی
اور اس پر دل کی گہرائیوں سے لبیک کہا
پھر اس کے بعد اس مٹی سے میرا رشتہ استوار ہوا
میں جس میں پیدا کی گئی
اس زمین سے میری نسبت اس وقت شروع ہوئی
اور اب جب تقدیر کے فیصلے میں جلا وطن ہونا لکھا ہے
میرا ابدی گھر میرے دل کی دھڑکن سے زیادہ میرے قریب ہے
شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو آج ہم سے بچھڑے چودہ برس ہو گئے ہیں مزاحمت کا استعارہ منوں مٹی تلے جا سویا، اب صرف اس کی یادیں ہیں جو ہر سال اسی طرح اس کے یوم شہادت پہ آنکھیں نم کرتی رہیں گی۔


