مجھے فیمینسٹ نہ کہو: ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی یہ دوسری کتاب ہے جس کا میں نے ابھی مطالعہ کیا ہے۔ ان کی پہلی کتاب ”کنول پھول اور تتلیوں کے پنکھ“ پر میں ایک تاثراتی مضمون رقم کر چکا ہوں۔

زیر نظر کتاب بھی ڈاکٹر صاحبہ کے لکھے ہوئے مضامین یا کالموں کا مجموعہ ہے۔ چونکہ کتاب کا نام ”مجھے فیمینسٹ نہ کہو“ ہے تو ذرا دیکھیں فیمینزم ہے کیا؟ فیمنزم کی کوئی خاص تعریف ممکن نہیں۔ یہ سیاسی، سماجی، نظریاتی اور عورتوں کے بارے میں مختلف تحاریک کا ایک مجموعہ ہے۔

فیمینزم مجموعی طور پر عورتوں کے لیے برابری اور مساوی حقوق کی مانگ کرتا ہے یہ نظریہ جنس کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی عدم مساوات کے خلاف ہے اور سماج میں مرد کی بالادستی اور قابلیت پر سوال اٹھاتا ہے۔ عورت کو سماجی، معاشی اور جنسی استحصال سے بچانا اسے تحفظ دینا اور مساوی مواقع فراہم کرنا فیمنسٹ ایجنڈا میں سرفہرست ہے۔ اس لحاظ سے جو بھی فرد اوپر دیے ہوئے نظریات کا حامی ہے اسے فیمنسٹ کہا جاسکتا ہے خواہ وہ مرد ہو، عورت ہو یا ٹرانسجینڈر۔ فیمینزم کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ زمانہ قدیم سے عورتیں اپنے حقوق کی جدوجہد کرتی آ رہی ہیں۔

فیمنزم بحیثیت ایک تحریک کے، تین ادوار ہمارے سامنے ہیں۔ پہلا دور اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں شروع ہوا جب میری ولین کرافٹ اور اسٹیورٹ مل نے عورتوں کے لیے مساوی سیاسی اور قانونی حقوق کی جد و جہد کا باقاعدہ آغاز کیا۔ دوسرے دور کا آغاز ساٹھ اور ستر کی دہائی یورپ اور امریکہ میں سول رائٹس موو منٹ کے ساتھ ہوا اور تیسرا دور 1990 اور 2000 کے اوائل کی پیداوار کہا جا سکتا ہے کہ اس دور میں دونوں ادوار کے نکات کو جمع کرنے کے ساتھ ساتھ عورت کی شخصیت، جسم، محبت، اخلاقیات کے ساتھ جڑے مختلف اسٹیریو ٹائپ نظریات کو چیلنج کیا گیا۔ اس دور کے اہم مباحث عورتوں کے تولیدی حقوق، روزگار کے مساوی حقوق کی فراہمی اور جنسی اور ذہنی استحصال سے محفوظ کرنے کا حصول ہیں۔

ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کی یہ کتاب محض کالموں کا مجموعہ ہی نہیں عورت پر ہونے والے ظلم بلکہ غیر انسانی سلوک کے ہوش ربا، تلخ، تکلیف دہ لیکن سچے واقعات اور نفرت آمیز رویوں کی تاریخ ہے۔ اس کتاب کے مطالعے سے قاری کو پتہ چلتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی دوسری ذلتوں کے ساتھ ساتھ سماجی و معاشی بحران نے خواتین پر جاری مسلسل ظلم و جبر کی لعنت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ عورتوں پر تشدد مثلاً غیرت کے نام پر قتل، جنسی زیادتی اور تیزاب گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور ان واقعات کے خلاف بڑے پیمانے پر کسی قسم کی کوئی تحریک نظر نہیں آتی۔

دوسری طرف ملاں، حوروں کے سپیشلسٹ خطیب اور رجعتی ادیب از قسم قدرت اللہ شہاب، اوریا مقبول اور اشفاق احمد بالواسطہ اور خاموش طریقے سے جاہلانہ رویوں کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں جس سے اس طرح کے مکروہ جرائم کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی ہے۔ آزاد خیال سیاسی و سماجی شعور رکھنے والوں کی جانب سے ان اقدامات کے خلاف کی جانے والی کوششیں سطحی پیمانے کی ہیں اور ناکام رہی ہیں۔ ایک طویل مدت گزر جانے کی بعد بھی ’جمہوری‘ حکومتیں وحشی آمر ضیاء الحق کے خواتین دشمن قوانین کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

مردانہ تعصب اور میل شوونزم اور مردانہ تسلط پر مبنی سوچ اور رویے موجودہ سماج کے سماجی و ثقافتی رجحانات کا حصہ بن چکے ہیں۔ عورتوں، خاص کر محکوم و محنت کش طبقے کی خواتین کی حالت زار میں بہتری نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ محنت کش عورتیں دوہرے، بلکہ تہرے جبر کا شکار ہیں۔ محنت کش عورتوں کو کام کرنے کی جگہ، معاشرے اور خاندان میں نہ صرف متعصبانہ رویوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ لہٰذا جنسی استحصال کی سماجی و معاشی وجوہات کو سمجھے بغیر محض جنسی بنیادوں پر خواتین کے رنج و غم کا نہ تو کوئی ازالہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی لائحہ عمل مرتب کیا گیا ہے۔

اس کتاب کے تمام مضامین، بین السطور اور کہیں کھلے بندوں ہمیں یہی سمجھاتے نظر آتے ہیں کہ جنسی و معاشی استحصال سے آزادی کے لئے ہمیں طبقات اور جنس کے باہمی تعلق کو سمجھنا ہو گا۔ ان کالموں میں سماج میں موجود غربت اور جبر کی صورت حال کی مکمل تصویر نظر آتی ہے کہ کس طرح غریب خاندان انتہائی مشکل حالات میں گزارہ کرتے ہیں اور دو وقت کی روٹی بمشکل پوری کرتے ہیں۔ ایسے خاندانوں کی لاکھوں عورتیں ’گھریلو غلاموں‘ کی سی زندگی گزارتی ہیں۔ اور پھر مرد کے ہر قسم کے استحصال بشمول جنسی استحصال کا شکار ہوتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگ اور اہل قلم ان سب باتوں سے آگاہ ہیں لیکن وہ ان موضوعات پر نہ جانے کیوں خاموش ہیں۔ مردوں کو چھوڑیے، خواتین لکھاری بھی ان موضوعات کی بجائے ابھی تک روایتی ساس بہو کے جھگڑوں کے حوالے سے ہی کہانیاں لکھے جا رہی ہیں۔ ( کہیں کہیں کوئی تازہ ہوا کا جھونکا محسوس تو ہوتا ہے لیکن بہت کم۔ ) ایسے میں طاہرہ کاظمی کے قلم نے جو خون کے آنسو روئے ہیں انہیں اکارت نہیں جانا چاہیے۔ ذرا غور کیجئے کہ ان مضامین میں کیا کچھ ہے۔

” میرا نام کہاں ہے؟“ (صفحہ 30 ) ۔ کیا خوبصورت تحریر ہے۔ ”میری بکری، میری گائے، میری بیوی“ عورت کو نجی ملکیت ہی سمجھا جاتا ہے اور یہی سب خرابیوں کی جڑ ہے۔

صفحہ 37۔ ہمارے سماج میں باپ، بھائیوں کو اکثر یہ کہتے سنا ہے کہ روز محشر انہیں اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے اعمال کا بھی جواب دینا پڑے گا۔ اس سلسلے میں ”اللہ میاں کے نام ایک خط“ میں ڈاکٹر صاحبہ لکھتی ہیں کہ ”آخرت میں عورت کا سوال تو باپ، بھائی شوہر اور بیٹے سے ہو گا تو اے رب ہم کیسے تسلیم کر لیں کہ روز حشر تو ہماری کہانی ہم سے سننے کی بجائے کسی اور کے لبوں سے سنے گا۔“

صفحہ 41۔ ”پدر سری معاشرے کی با اختیار عورت یا دولے شاہ کی چوہیا“ اس کالم میں گجرات کے مشہور دولے شاہوں کا تفصیل سے ذکر ہے اور ہمارے سماج کی عورت کو بھی انہی سے تشبیہ دی گئی ہے۔

صفحہ 52 ”پردہ ء بکارت میں اٹکی عقل“ کے عنوان کے تحت اس کالم میں برسوں سے رائج ایک شدید اور خطرناک نتائج پیدا کرنے والی غلط فہمی کو سائنسی بنیادوں پر رد کیا گیا ہے۔ یہ اس کتاب کا ایک بہت اہم مضمون ہے۔ مرد اور عورت دونوں کا اسے پڑھنے سے بھلا ہو گا۔

(صفحہ 60۔ ہمارے ایک استاد کہا کرتے تھے کہ آنکھ بھلے کچھ بھی دیکھے، وہ نتیجہ اخذ نہیں کر سکتی کہ یہ کام ذہن کا ہے اور ذہن وہ بتاتا ہے جو برسوں لگا کر اسے سجھایا گیا ہے ”) کیا خوبصورت تشریح ہے ہمارے ذہن میں موجود وراثتی جبر کی

صفحہ 82 ”پاکستانی عورت پہ بابائے چادر کا احسان“ ہماری تاریخ کا سیاہ باب ہے جس کے نتائج پاکستانی عورت ابھی تک بھگت رہی ہے۔

صفحہ 105 پر پاکستانی عورت کو پولیا سنڈروم کا شکار بتایا گیا ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ ”عورتیں اپنی اپنی زندگی میں کسی نہ کسی سے مضروب ہوتیں، استحصال کا شکار ہوتیں، دھکے کھاتیں لیکن مرتے دم تک اپنے آپ کو طفل تسلیوں سے بہلائے رکھتی ہیں۔ “

صفحہ 133 پر ڈاکٹر صاحبہ نے ایک ضروری پیغام دیا ہے وہ لکھتی ہیں، ”ہمیں ایسے تمام والدین سے کہنا ہے کہ بیٹی کے وجود سے یا اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر شرمندگی محسوس کرنے کی بجائے اپنی بیٹی کو زبان عطا کیجئے، مزاحمتی الفاظ سکھایے اور بار بار سکھایے۔ “

کیا کوئی عورت اپنی پیدائش سے آٹھ برس پہلے بھی ونی کا شکار ہو سکتی ہے؟ یہ دلخراش داستان کتاب کے کالم نمبر 35 میں درج ہے۔

صفحہ 195 پر ”منٹو بنانے والیاں“ اس مجموعے کا ایک بہت اہم مضمون ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ لکھتی ہیں، ”منٹو، تمہیں رخصت ہوئے زمانہ بیت گیا، حق یہ ہے کہ تم رخصت ہی تو نہیں ہوئے۔ بیچ چوراہے میں کھڑے ہماری منافقت کے پردے ابھی تک چاک کر رہے ہو۔“

صفحہ 200 پر ”کیمیائی جنسی نامردی اور منٹو“ بھی نہایت غور سے پڑھنے کی چیز ہے۔

معروف افسانہ و ناول نگار بانو قدسیہ کے بارے میں ڈاکٹر صاحبہ کے خیالات سے میں پوری طرح متفق ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ بانو قدسیہ، بطور ادیب، اشفاق احمد سے کئی جہت آگے تھیں لیکن وہ خود اور ان کی تخلیقات اشفاقی جبر کا شکار رہیں۔

برصغیر کی منفرد ناول اور افسانہ نگار، محترمہ قرۃالعین کے بارے میں ڈاکٹر صاحبہ نے مستنصر حسین تارڑ اور عبداللہ حسین کی تحریروں میں سے بلا تبصرہ جو کچھ نقل کیا ہے وہ درست ہے کہ ہمارے بہت سے ادیب، عورت کے بارے میں عموماً اور لکھاری عورت کے بارے میں خصوصاً ایسا ہی رویہ رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر رشید جہاں کے عنوان تلے ڈاکٹر صاحبہ لکھتی ہیں، ”پدر سری نظام میں عورت ہونا ہی کیا کسی آزمائش سے کم ہے، کجا یہ کہ عورت ادیب بھی ہو اور طبیب بھی جو اطراف میں پائی جانے والی عورتوں کی حالت زار دیکھ سکے، دل دہلا دینے والی داستانیں سن سکے اور پھر اشک بھی بہا سکے، کبھی آنکھ سے، کبھی دل سے“

طاہرہ کاظمی صاحبہ کے تمام کالم ایسے ہی اشکوں سے لبریز ہیں جو کبھی دل سے اور کبھی آنکھ سے بہہ کر صفحہ قرطاس کو بھگو گئے ہیں۔ پدر سری روایات کے شکنجے میں محصور خواتین، ان کے حقوق، ان کی بہتری، عزت احترام اور عورت کو برابر کا انسان سمجھنے کی بات کی جائے تو فوراً فیمینسٹ کا لیبل بطور طنز لگا دیا جاتا ہے۔ لیکن ڈاکٹر صاحبہ نے اپنی کتاب کا نام ”مجھے فیمینسٹ نہ کہو“ رکھ کر ان طنز کاروں پر کاری ضرب لگائی ہے۔

معاشرے کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے عورت اور مرد دونوں کو اپنا کردار نبھانا ضروری ہے۔ جنسی زیادتی اور ہراساں کرنے والے واقعات تبھی ختم ہو سکتے ہیں جب سب اپنی اپنی اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داریاں پوری کریں اور اپنے بچوں، خواہ وہ لڑکی ہو یا لڑکا، کی اخلاقی اور معاشرتی تربیت کریں تاکہ وہ ایک ذمہ دار شہری بن سکیں۔ یہی اس کتاب کا پیغام ہے کتاب کی زبان میں افسانے جیسی چاشنی بھی ہے اور تلخ نوائی بھی۔ یہ بہت سادہ اور عام فہم ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ ”نقار خانے میں طوطی کی آواز“ نہیں سمجھی جائے گی۔ اس کتاب کو زیادہ سے زیادہ ہاتھوں میں جانا چاہیے اور خاص طور پر مردوں اور نوجوان طالب علموں کے لیے اسے نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔

محترمہ طاہرہ کاظمی نے بہت دلیری سے کام لیتے ہوئے یہ کالم لکھے ہیں اور میں سمجھتا ہوں یہ کسی بھی طور پر کسی اچھے ناول یا افسانوں کے اچھے مجموعے سے کم نہیں۔ انتہائی سنجیدہ موضوعات پر بڑی محنت سے قلم اٹھایا گیا ہے۔

سنگ ہائے دشنام

عام طور پر لوگ اپنی کتاب میں مشاہیر سے فلیپ یا پیش لفظ لکھواتے ہیں۔ اس کتاب میں بھی محترمہ کشور ناہید، زاہدہ حنا، وجاہت مسعود اور ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنی قیمتی آراء کا اظہار کیا ہے لیکن کتاب کے بیک کور پر ڈاکٹر صاحبہ نے ”سنگ ہائے دشنام“ کے تحت وہ تمام کومنٹس شائع کروائے ہیں جو ان کے مخالفین یا یوں کہیے عورت ذات کے مخالفین نے اپنی ذہنی اوقات کے مطابق کالموں کے بارے میں آوازوں کی طرح کسے۔ ہے ناں جرات کی بات اور اس بات پر الگ سے داد۔

کتاب کے سرورق کو ڈاکٹر صاحبہ کی تصویر اور خوبصورت رنگوں سے جناب سعید ابراہیم نے مزین کیا ہے اور یہ ایک خوبصورت سرورق ہے۔ یہ کتاب سانجھ پبلیکیشنز، لاہور سے دستیاب ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments