معزز طوائف از ژاں پال سارتر


لزی: کیا تم مجھے پکڑاؤ گے؟
فریڈ: ہاں میں
لزی: تم
فریڈ: میں
لزی: میں دیکھوں گی کہ تم کیسے کرتے ہو
فریڈ: میں کلارک کا بیٹا ہوں
لزی: کون سا کلارک؟
فریڈ: سینیٹر کلارک

لزی: ہاں ہاں میں بھی روز ویلٹ کی بیٹی ہوں۔
فریڈ: کیا تم نے کبھی سینیٹر کلارک کی تصویر اخبار میں دیکھی ہے
لزی: تو پھر کیا؟

فریڈ : یہ دیکھو (وہ اسے تصویر دکھاتا ہے ) میں اس کے ساتھ کھڑا ہوں۔ اس نے اپنا بازو میرے شانے پر رکھا ہوا ہے۔

لزی: (خاموش ہو جاتی ہے۔ ) واہ! واہ! یہ شخص کتنا خوبصورت ہے۔ تمہارا باپ۔ مجھے غور سے تصویر دیکھنے دو۔ (فریڈ اس کے ہاتھوں سے تصویر چھین لیتا ہے )

فریڈ: اتنا کافی ہے

لزی: وہ کتنا خوبرو ہے۔ وہ توانا مگر شریف انسان لگتا ہے۔ کیا یہ درست ہے کہ اس کی زبان چاندی کی ہے۔ ؟ (وہ جواب نہیں دیتا) کیا یہ تمہارا باغ ہے؟

فریڈ: ہاں

لزی: وہ کتنا دراز قد ہے۔ اور یہ لڑکیاں جو کرسیوں پر بیٹھی ہین کیا یہ تمہاری بہنیں ہیں۔ (وہ جواب نہیں دیتا) تمہارا گھر پہاڑی پر بنا ہوا ہے۔

فریڈ: ہاں
لزی: چنانچہ جب تم صبح ناشتے کے لیے بیٹھتے ہو تو سارا شہر کھڑکی سے دیکھ سکتے ہو۔
فریڈ: ہاں
لزی: کیا تمہارے گھر گھنٹی بجا کر کھانے کے وقت کا اعلان ہوتا ہے۔
فریڈ: ہمارے گھر یہ کام کرنے کے لیے کئی لوگ ہیں۔

لزی: (خوشی سے ) مجھے سمجھ نہیں آتی۔ تمہارا اس قسم کا خاندان ایسا گھر پھر بھی تمہیں عورت کے ساتھ رات گزارنے کے لیے میرے پاس آنا پڑا۔ (رکتی ہے ) میں معذرت خواہ ہوں میں نے تمہاری ماں کے لیے ایسی باتیں کیں۔ میں غصے میں تھی۔ کیا وہ بھی تصویر میں ہے؟

فریڈ: میں نے تمہیں میری ماں کے بارے میں باتیں کرنے سے منع کیا تھا۔

لزی : اچھا بھئی ٹھیک ہے (وقفہ) کیا میں ایک سوال پوچھ سکتی ہوں؟ (وہ جواب نہیں دیتا) اگر تمہیں عورت کے ساتھ سونے میں گھن آتی ہے تو تم میرے پاس کیوں آئے؟ (وہ خاموش رہتا ہے۔ لزی ٹھنڈی آہ بھرتی ہے ) بہر حال جب تک میں تمہارے ساتھ ہوں مجھے تمہاری عادتوں کا عادی ہونا پڑے گا۔

(فریڈ آئینے کے آگے بالوں میں کنگھی کرتا ہے )
فریڈ: کیا تمہارا تعلق شمال سے ہے؟
لزی: ہاں
فریڈ: نیویارک سے؟
لزی:تم نے کیسے جانا؟
فریڈ: تم نے پہلے نیویارک کا ذکر کیا تھا۔
لزی: نیویارک کے ذکر سے تو کچھ ثابت نہیں ہوتا۔
فریڈ: تم وہیں کیوں نہیں رہیں؟
لزی: جی بھر گیا تھا۔
فریڈ: کیا کسی مسئلے کا شکار ہو گئی تھیں۔

لزی: ہاں ، ہاں یقیناً۔ تمہارا کیا خیال ہے میں مسئلوں کو دعوت دیتی ہوں۔ کیا تمہیں یہ سانپ نظر آ رہا ہے؟ (وہ اسے اپنے گلے کا ہار دکھاتی ہے ) یہ بری قسمت اور بدشگونی کی دعوت دیتا ہے۔

فریڈ : تو پھر اسے پہنتی کیوں ہو؟
لزی: جب تک یہ میری ملکیت ہے میں اسے اپنے ساتھ رکھوں گی۔ سانپ کا بدلہ بہت خطرناک ہوتا ہے۔
فریڈ: کیا تم وہ عورت ہو جس سے نیگرو نے زنا کرنے کی کوشش کی؟
لزی: کیا کہا؟
فریڈ: کیا تم پرسوں چھ بجے کی گاڑی سے نہیں آئی تھیں؟
لزی: ہاں
فریڈ: پھر تم ہی وہ عورت ہوگی۔

لزی: مجھ سے کسی نے زنا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ (ہنستی ہے جس میں تلخی کا ہلکا سا عکس بھی ہے ) مجھ سے زنا کرے۔ یہ بھی خوب کہی۔

فریڈ: تم ہی ہو ، ویبسٹر نے کل رات مجھے بتایا تھا جب ہم ناچ رہے تھے۔
لزی: ویبسٹر (وقفہ) تو یہ بات ہے
فریڈ: کیا بات

لزی: تو اس لیے تمہاری آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی تھی۔ تم جذباتی ہو گئے تھے۔ حرام زادے کہیں کے۔ اتنا اچھا باپ رکھنے کے باوجود؟

فریڈ: تم بہت بے وقوف ہو (وقفہ) اگر میں نے سوچا ہوتا کہ تم نیگرو کے ساتھ سوئی ہو تو۔
لزی: چھوڑو اس کو

فریڈ:میرے گھر میں پانچ رنگوں کے ملازم ہیں۔ جب وہ مجھے فون پر بلاتے ہیں تو پہلے ہر چیز کو پونچھ کر صاف کر لیتے ہیں۔

لزی : (سیٹی بجاتی ہے ) ایسی باتیں ہیں

فریڈ :اس علاقے میں نیگروؤں کو زیادہ پسند نہیں کرتے اور ان سفید لوگوں کو بھی نہیں جو ان کے ساتھ راہ و رسم رکھتے ہیں۔

لزی: اتنا کافی ہے۔ میرے دل میں ان کے بارے میں کوئی کدورت نہیں بس ان کا مجھے چھونا پسند نہیں۔

فریڈ : مجھے یقین نہیں آتا۔ تم شیطان ہو۔ نیگرو بھی شیطان ہیں۔ (پھر اچانک بولتا ہے ) کیا اس نے تمہارے ساتھ زنا کرنے کی کوشش کی؟

لزی: تمہیں اس سے کیا؟

فریڈ: جب تم گاڑی میں بیٹھی تھیں دو نیگرو تمہاری طرف بڑھے۔ پھر انہوں نے تمہاری طرف چھلانگ لگائی۔ تم نے مدد کے لیے پکارا اور کچھ گورے لوگ مدد کے لیے آئے۔ ایک نیگرو نے چاقو نکالا اور ایک سفید مرد نے اسے گولی مار دی۔ دوسرا نیگرو بھاگ گیا۔

لزی: تو کیا ویبسٹر نے تمہیں یہ کہانی سنائی ہے؟
فریڈ: ہاں
لزی: وہ یہ کہانی کہاں سے ڈھونڈ کے لایا ہے؟
فریڈ: یہ کہانی تو اب زباں زد خاص و عام ہو چکی۔ شہر میں سب جانتے ہیں۔
لزی: سارے شہر میں۔ میرے نصیب۔ کیا تمہارے پاس بات کرنے کو کوئی اور موضوع نہیں ہے؟
فریڈ: کیا میری کہانی درست ہے؟

لزی نہیں۔ تمہاری کہانی درست نہیں۔ دونوں نیگرو اپنے کام میں مصروف تھے۔ انہوں نے مجھے بری نگاہ سے دیکھا تک نہیں۔ چار گورے آدمی گاڑی میں داخل ہوئے اور مجھے چھیڑنے لگے۔ وہ فٹبال کا میچ جیت کر آئے تھے اور شراب کے نشے میں دھت تھے۔ وہ کہنے لگے کہ انہیں کسی نیگرو کی بو آ رہی ہے اور پھر وہ ان نیگروؤں کو کھڑکی سے باہر پھینکے کی کوشش کرنے لگے۔ ان لوگوں نے اپنی مدافعت کی اور اس دوران ایک گورا زخمی ہو گیا۔ یہ وہ وقت تھا جب اس نے بندوق نکالی اور گولی چلا دی۔ جب گاڑی رک رہی تھی تو دوسرا نیگرو گاڑی سے نکل کر بھاگ کھڑا ہوا۔

فریڈ: ہمیں معلوم ہے وہ شخص کون تھا۔ انتظار کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر تم عدالت میں گئیں تو کیا یہی کہانی سناؤ گی جو مجھے سنائی ہے۔

لزی: مجھے عدالت میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ مجھے ایسے کاموں سے نفرت ہے۔
فریڈ: لیکن تمہیں عدالت میں حاضر ہونا ہو گا
لزی: میں نہیں جاؤں گی۔ مجھے سپاہیوں سے مزید کوئی سروکار نہیں رکھنا۔
فریڈ: وہ خود آ کر تمہیں لے جائیں گے۔
لزی: اگر ایسا ہو گا تو میں انہیں بتا دوں گی جو میں نے دیکھا ہے

فریڈ: کیا تمہیں پتہ ہے اس کا کیا مطلب ہے؟
لزی: کیا مطلب ہے؟
فریڈ: اس کا مطلب یہ ہے کہ تم ایک گورے کے خلاف اور ایک نیگرو کے حق میں گواہی دو گی۔

لزی: اور اگر گورا مجرم ہے تو؟
فریڈ: وہ مجرم نہیں ہے
لزی: اس نے قتل کیا وہ مجرم ہے
فریڈ: کیسا جرم؟
لزی: قتل کا
فریڈ: لیکن اس نے ایک نیگرو ہی کو تو قتل کیا ہے
لزی: تو پھر کیا؟
فریڈ: اگر ہر نیگرو کو قتل کرنا ایک جرم ہو تو۔
لزی : اس کو اس کا کوئی حق نہیں تھا
فریڈ: یہ شمال سے برآمد شدہ ہے۔ مجرم ہو یا نہ ہو تم اپنی برادری کے کسی آدمی کو سزا نہیں دے سکتے

لزی: میں کسی کو سزا نہیں دلانا چاہتی۔ اگر وہ مجھ سے پوچھیں گے کہ میں نے کیا دیکھا تو میں بتلا دوں گی۔

فریڈ: یہ تمہارے اور نیگرو کے درمیان کیا رشتہ ہے۔ تم اس کی اتنی طرفداری کیوں کر رہی ہو؟
لزی: میں تو اسے جانتی تک نہیں۔
فریڈ: پھر مسئلہ کیا ہے؟
لزی: میں سچ بتانا چاہتی ہوں

فریڈ: ہوں۔ سچ بات۔ ایک دس ڈالر کی طوائف سچ بتانا چاہتی ہے۔ دنیا میں کوئی سچ نہیں ہے۔ یا گورے ہیں یا کالے ہیں۔ سترہ ہزار گورے بیس ہزار کالے۔ یہ نیویارک نہیں ہے۔ ہم یہاں ایسا مذاق برداشت نہیں کر سکتے۔ (وقفہ) تھامس میرا رشتے کا بھائی ہے۔

لزی: کیا؟
فریڈ: تھامس ، وہ شخص جس نے نیگرو کو قتل کیا تھا میرا پھوپھی زاد بھائی ہے۔
لزی: (حیرانی سے ) اوہ!
فریڈ: وہ ایک اچھے خاندان کا چشم و چراغ ہے۔ نجانے تمہاری نگاہوں میں اس کی کوئی اہمیت ہے یا نہیں؟

لزی: بہت خوب۔ وہ شخص جو بد تمیزی پر اتر آیا تھا اور میری اسکرٹ میں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اگر ایسے شریف ہیں تو میری توبہ ہی بھلی۔ مجھے یہ جان کر حیرت نہیں ہوئی کہ تم دونوں رشتہ دار ہو۔

فریڈ: (ہاتھ اٹھاتے ہوئے ) تم غلیظ کتیا (وہ اپنے آپ پر قابو پاتا ہے ) تم شیطان ہو اور شیطان سے انسان نہیں جیت سکتا۔ اس نے تمہارے اسکرٹ میں ہاتھ ڈالا۔ اس نے ایک نیگرو کو قتل کر دیا۔ یہ کام اس نے غیر ارادی طور پر کیے۔ یہ باتیں اہم نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ اس علاقے کا معزز شہری ہے۔

لزی: ہو سکتا ہے لیکن نیگرو تو بے گناہ تھا۔
فریڈ: نیگرو ہمیشہ گناہ گار ہوتا ہے۔
لزی: میں کسی کی فضول چغلی نہیں کھاؤں گی۔
فریڈ: تم اس کی نہیں کھاؤ گی تو تھامس کی کھاؤ گی۔ تمہیں ایک کی تو کھانی پڑے گی۔ فیصلہ تمہارا ہے۔

لزی: میں پھر مسائل میں گرفتار ہوتی جا رہی ہوں۔ (وہ ہار کی طرف دیکھتی ہے ) خدا تمہیں غارت کرے۔ میری ہی زندگی کیوں اجیرن کرتے ہو (وہ ہار زمین پر پھینک دیتی ہے )

فریڈ: تمہیں کتنے پیسوں کی ضرورت ہے؟
لزی: ایک پیسے کی بھی نہیں۔
فریڈ: پانچ سو ڈالر
لزی: ایک پیسہ بھی نہیں
فریڈ: پانچ سو ڈالر کمانے کے لیے تمہیں ایک رات سے زیادہ کی مزدوری کرنی پڑے گی۔

لزی: خاص کر اگر تم جیسے کنجوسوں سے واسطہ پڑا۔ (وقفہ) تو یہ وجہ ہے جو کل رات تم نے میرا انتخاب کیا تھا

فریڈ: تم جہنم میں جاؤ

لزی: تو یہ بات ہے جو تم نے اپنے آپ سے کہا تھا ، یہ چھوکری ہے میں اس کے ساتھ گھر چلا جاؤں گا اور سارا لفرا نبٹا لوں گا، یہ تم چاہتے تھے جب تم نے میرا ہاتھ گدگدایا تھا لیکن تم برف کی طرح سرد تھے۔ تم سوچ رہے تھے ، میں اس سے اپنا مطلب کیسے نکلواؤں گا، (وقفہ) مجھے یہ بتاؤ او لڑکے! اگر تم میرے ساتھ کاروبار کرنے آئے تھے تو تم میرے ساتھ سوئے کیوں؟ ہاں میرے ساتھ سوئے کیوں تم خبیث حرامزادے؟ کیا میرے ساتھ سونا ضروری تھا؟

فریڈ: لعنت ہو اگر مجھے پتہ ہو۔
لزی: (اپنی کرسی میں دھنس کر روتی ہے ) تم گندے غلیظ آدمی!

فریڈ: پانچ سو ڈالر۔ دیکھو رو نہیں۔ تمہیں عیسیٰ کی قسم پانچ سو ڈالر لو اور چپ ہو جاؤ۔ رونا بند کرو۔ چلانا بند کرو۔ کچھ عقل سے کام لو۔ پانچ سو ڈالر لے لو۔

لزی: (سسکیاں لیتے ہوئے ) مجھ میں عقل نہیں ہے اور مجھے تمہارے پانچ سو ڈالر نہیں چاہئیں۔ میں غلط گواہی نہیں دینا چاہتی۔ میں واپس نیویارک جانا چاہتی ہوں۔ میں اس ماحول سے نکل جانا چاہتی ہوں۔

(گھنٹی بجتی ہے۔ وہ حیران ہوتی ہے۔ رونا بند کر دیتی ہے۔ سرگوشی کے انداز میں ) یہ کون ہے؟ خاموش رہو۔ (لمبی گھنٹی بجتی ہے ) میں دروازہ نہیں کھولوں گی۔ (کوئی دروازہ کھٹکھٹاتا ہے )

آواز: پولیس ہے۔ دروازہ کھولو۔

لزی: (دھیمی آواز میں ) سپاہی ہیں مجھے اندیشہ تھا ایسا ہی ہو گا (اپنے ہار کو دیکھتی ہے ) یہ سب اس کا قصور ہے۔ (وہ ہار کو چومتی ہے اور کلائی میں ڈال لیتی ہے ) تم چھپ جاؤ (دروازہ پھر کھٹکھٹایا جاتا ہے )

آواز: پولیس
لزی: تم چھپتے کیوں نہیں؟ غسل خانے میں چلے جاؤ۔
(وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلتا وہ اسے پوری طاقت سے دھکا دیتی ہے ) نکل جاؤ یہاں سے دفعہ ہو جاؤ۔

آواز: کیا تم اندر ہو فریڈ؟ کیا تم یہیں ہو فریڈ؟
فریڈ : ہاں میں یہیں ہوں۔ (وہ لزی کو ایک طرف ہٹاتا ہے۔ لزی اسے حیرانی سے دیکھتی ہے )

لزی: تو یہ سب تمہارا منصوبہ تھا (فریڈ دروازہ کھولتا ہے اور جان اور جیمز اندر داخل ہوتے ہیں۔ دروازہ کھلا رہتا ہے )

جان : پولیس کیا تم لزی میکنے ہو؟
لزی: (سنی ان سنی کرتے ہوئے فریڈ کی طرف دیکھتی ہے ) تو یہ وجہ تھی۔
جان: (لزی کا کندھا ہلاتے ہوئے ) جب تم سے بات کی جائے تو اس کا جواب دو۔
لزی: کیا ہے؟ ہاں میں ہی ہوں
جان:تمہارے کاغذات۔

لزی: (اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے ) تمہیں مجھ سے سوال کرنے کا کیا حق حاصل ہے؟ تم میرے گھر میں کیا کر رہے ہو؟ (جان پولیس کا بلا دکھاتا ہے ) ایسے ستارے کوئی بھی لگا کر آ سکتا ہے۔ تم سب مل کر مجھے باتوں پر مجبور کر رہے ہو۔

جان: (اپنا پولیس کا کارڈ دکھاتا ہے ) کیا تم جانتی ہو یہ کیا ہے؟
لزی: جیمز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) یہ کون ہے؟
جان: (جیمز سے ) اسے اپنا کارڈ دکھاؤ۔
(جیمز کارڈ دکھاتا ہے۔ لزی دیکھتی ہے پھر میز کی طرف جاتی ہے اور انہیں اپنے کاغذات دکھاتی ہے )

جان : فریڈ کی طرف دیکھتے ہوئے۔ تم کل رات اس طوائف کو اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔ تم اس بات سے باخبر ہو کہ یہ خلاف قانون ہے؟

لزی: کیا تمہیں یقین ہے کہ تم میرے گھر میں بغیر وارنٹ کے داخل ہو سکتے ہو؟ تمہیں اس بات کا ڈر نہیں کہ میں تمہارے خلاف مقدمہ دائر کر دوں گی۔

جان: تم ہماری فکر نہ کرو (وقفہ) میں نے تم سے پوچھا کہ کیا تم اسے اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔

لزی: (جب سے پولیس آئی ہے اس کے لہجے میں سختی اور تلخی آ گئی ہے ) اپنا سر مت پھوڑو۔ میں اسے اپنے ساتھ لے کر آئی تھی اور میں اس کے ساتھ مفت سوئی ہوں۔ کیا اس سے تمہیں آگ لگتی ہے۔ لگتی ہے نا؟

فریڈ: تمہیں میز پر دو دس ڈالر کے نوٹ نظر آئیں گے یہ میرے ہیں۔
لزی: ثابت کرو

فریڈ: (دونوں مردوں سے مخاطب ہو کر) میں نے کل بینک سے تیس نوٹ لیے تھے ان کے نمبر ملا لو ثابت ہو جائے گا۔

لزی: (غصے سے ) میں نے نہیں لیے۔ میں نے اس کی غلیظ دولت لینے سے انکار کر دیا تھا۔ میں نے اس کے نوٹ اس کے منہ پر دے مارے تھے۔

جان: اگر تم نے انکار کیا تھا تو یہ میز پر کیوں پڑے ہیں؟

لزی: (وقفے کے بعد ) بات ختم ہوئی (فریڈ کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے ) تو یہ تمہاری سوچی سمجھی ترکیب تھی۔ (دوسروں کی طرف دیکھتے ہوئے ) تم آخر چاہتے کیا ہو؟

جان: بیٹھ جاؤ (فریڈ سے ) کیا تم نے اسے سارا ماجرا بتا دیا ہے۔ (فریڈ اثبات مین سر ہلاتا ہے ) میں نے کہا ہے بیٹھ جاؤ۔ (وہ اسے کرسی میں دھکیل دیتا ہے ) جج۔ تھامس کو اس شرط پر بری کرنے کے لیے رضامند ہے کہ تم اس بیان پر دستخط کر دو۔ بیان لکھا جا چکا ہے۔ تم نے صرف دستخط کرنے ہیں۔ کل عدالت میں آخری پیشی ہوگی۔ کیا تم پڑھنا جانتی ہو؟ (لزی کندھے ہلاتی ہے اور وہ اسے کاغذ تھما دیتا ہے ) اسے پڑھو اور دستخط کر دو۔

لزی: یہ سراپا جھوٹ ہے۔
جان: ہو سکتا ہے تو پھر کیا ہوا؟
لزی: میں اس پر دستخط نہیں کروں گی۔
فریڈ: اسے اپنے ساتھ لے جاؤ (لزی سے ) 18 مہینے کی سزا ہے کیا تم جانتی ہو؟
لزی: 18 مہینے لیکن جب میں آزاد ہوں گی تو تمہیں دن کو تارے دکھلاؤں گی۔

فریڈ: دیکھا جائے گا۔ (وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں ) تم نیویارک تار بھیجو شاید انہیں اس کی ضرورت ہو۔

لزی: تم عورت کی طرح کمینے ہو۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ تم جیسے بدطینت مرد سے واسطہ پڑے گا۔
جان: جلدی سے فیصلہ کرو۔ تمہیں دستخط منظور ہے یا قید میں جانا۔
لزی: قید میں جانا۔ مجھے جھوٹ بولنا پسند نہیں۔

فریڈ: جھوٹ بولنا۔ تم حرافہ! تو ساری رات کیا کرتی رہی؟ جب تو مجھے ، میرے محبوب جان من، کہہ کربلا رہی تھی تو کیا وہ جھوٹ نہیں تھا۔ جب تم زور زور سے سانس لے کر مجھے یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی تھی کہ میں نے تجھے غیر متوقع جنسی لذت سے محظوظ کیا ہے تو کیا وہ جھوٹ نہیں تھا۔ فریب نہیں تھا؟

لزی: (نظریں چراتے ہوئے ) تم یہی یقین کرنا چاہتے ہو کہ وہ جھوٹ تھا۔ درست ہے نا؟ نہیں وہ جھوٹ نہیں تھا۔ (وہ ایک دوسرے کی طرف گھورتے ہیں۔ فریڈ نظریں چرا لیتا ہے )

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail