سدھو موسے والا


سدھو موسے والا ہندوستان کے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھتا تھا۔ اسے بچپن سے ہی میوزک میں دلچسپی تھی، مگر وہ پڑھائی کے لحاظ سے کلاس کے چند ہونہار لڑکوں میں بھی شمار ہوا کرتا تھا۔

سنہ 2016 میں الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ کینیڈا شفٹ ہو گیا اور اس نے میوزک کا بطور کیریئر انتخاب کر لیا۔ 2016 سے 2022 تک کے چھ سالہ مختصر سے پروفیشنل کیریئر میں اس نے شہرت و مقبولیت کی بلندیوں کو چھو لیا۔ وہ پنڈورا، کالی گڈی اور 295 جیسے گانوں کی بدولت پنجابیوں کے دلوں پر راج کرنے لگا۔ چونکہ وہ پنجاب کی بہادر زمیں کا بہادر سپوت تھا، لہذا صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ رکھتا تھا۔ اس وجہ سے اکثر و بیشتر تنازعات کا شکار بھی رہتا تھا۔

وہ خالصتان تحریک کی حمایت بھی کرتا رہا اور حال ہی میں اس نے کانگریس کے پلیٹ فارم سے صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے الیکشن بھی لڑا۔ وہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے حق میں بھی کبھی کبھار اپنی آواز بلند کرتا رہتا تھا اور ہندوستان کے مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کے حقوق کی نمائندگی بھی مختلف پلیٹ فارمز پر دل کھول کر کیا کرتا تھا۔ مگر مودی کے ہندوستان میں بدقسمتی سے اقلیتوں کے حق میں بلند ہونے والی ہر آواز کو بے دردی سے کچل دیا جاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ سدھو کے ساتھ بھی کیا گیا۔ مسلمانوں کے حق میں اس کے بیان کے دو دن بعد ہی ناحق مارا گیا۔ وہ اپنی عمر کے بمشکل اٹھائیس سال ہی بسر کر سکا۔ عین جوانی میں بوڑھے ماں باپ کو بے سہارا چھوڑ کے چل بسا۔

اسی طرح کچھ عرصہ پہلے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے حق میں بلند ہونے والی آواز کو عمر قید کی سزا سنا کر بند کوٹھری میں دفن کر دیا گیا۔ ساری عمر کشمیریوں کی آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کا راگ الاپنے والا یاسین ملک اپنی آزادی ہی کھو بیٹھا اور مودی کی مسلمان دشمنی اور ہیجان خیزی کا شکار ہو گیا۔

دنیا میں یہ نام نہاد قومیت کو بنیاد بنا کر اقلیتوں کے حقوق پر ڈاکا زنی کی وارداتیں حالیہ دور میں کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی ہیں۔ فلسطین اور برما میں مسلمانوں کی حالت زار کا رونا روتے ہوئے تو کئی عشرے بیت گئے۔ مگر اب ترقی یافتہ ممالک میں بھی اقلیتیں محفوظ نہیں رہیں۔ فرانس میں میرین۔ لی۔ پن (marine Le Pen) ، اٹلی میں میٹیو سالوینی (Matteo Salvini) اور امریکہ میں سابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت اور ان لیڈروں کے بیانات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ قومیت اور وطن پرستی کے مقابلے میں انسانیت کا مقام بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

جرمنی میں ’متبادل جرمنی‘ (Alternative For Germany) اور اسپین میں ’وی او ایکس‘ (VOX) نامی سیاسی جماعتوں کی اقلیتوں کی مخالفت میں واضح پالیسی نے مغرب میں مزید خطرے کی گھنٹی کو بجا دیا ہے۔ خود کو دنیا میں سب سے زیادہ مہذب کہلوانے والے یہ ممالک بھی اس نفرت کے بازار میں سب سے آگے نکلنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ اس بنا پر قتل و غارتگری کی وارداتیں آئے روز میڈیا کے مختلف فورمز رپورٹ کرتے رہتے پیں۔

قومیت پرستی کے نام پر نفرت اور شدت پسندی کی اس آگ کو روکنا پڑے گا۔ اس کے لیے دانشوروں، صحافیوں، سیاستدانوں اور سب سے بڑھ کر سول سوسائٹی کو انسانیت، محبت اور بھائی چارے کا درس دینا پڑے گا۔ اقلیتوں کو ان کے تمام بنیادی انسانی حقوق مہیا کرنے کے لیے بین الاقوامی معاشرے کے تمام ستونوں کو اپنا اپنا کلیدی کردار ادا کرنا پڑے گا۔ ہر کسی کو اس کے نظریے، مذہب، پسند اور نا پسند کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا حق دینا پڑے گا۔

ورنہ یہ قوم پرستی کی بڑھتی ہوئی نفرت زمانہ قریب میں ہی دنیا کو تیسری عالمی جنگ میں جھونک سکتی ہے۔ روس کے یوکرین پر حملے اور اس پر عالمی ردعمل کے تناظر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس بار جدید ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی میں عالمی جنگ بلاشبہ دنیا سے انسان نام کے حیوانوں سمیت ساری مخلوق کو سیارہ زمین سے ملیا میٹ کر سکتی ہے۔

Facebook Comments HS