مشرف کو جانے دیں


پختون معاشرے میں عدم برداشت کی وجہ سے قتل مقابلے اور دشمنیاں چلتی رہتی ہیں۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ موقع ملے تو جو مرد دشمنیاں پالتے ہیں وہی بیٹھ کر صلح بھی کر دیتے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ فریقین کے سارے مرد مار دیے گئے ہوں اور عورتوں نے بیٹھ کر آپس میں صلح کی ہو۔

پشتو زبان کا مقولہ ہے کہ جنگ میں لوگ مرتے ہیں، یوں جو مرد لڑتے مرتے ہیں وہی بیٹھ کر صلح بھی کر دیتے ہیں۔ یہی حالت فوج کی بھی ہے۔ فوج لڑتی ہے، جوان اور افسر مرتے ہیں، اور مخالفین کو مارتے ہیں۔ جنگ میں کبھی جیت ہوتی ہے اور کبھی ہار۔ زیادہ نقصان پہنچنے کا اندیشہ اور اس سے بچنے کی امید ہو تو کسی اور دن جب حالات سازگار ہوں، لڑنے کی خاطر ہتھیار بھی ڈالے جاتے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والا سپاہی یا جرنیل بزدل نہیں ہوتا عموماً بے بس ہوتا ہے۔ اس لئے یہ افسانوی لٹریچر پڑھنے اور جنگ کے فن سے ناواقف لوگوں کا موقف ہے کہ جنگ میں اسلحہ ڈالنا بزدلوں کا کام ہے۔ ہاں جنگ میں پیٹھ دکھانا اپنے ساتھیوں یا ماتحتوں جو چھوڑ کر سلامتی کی طرف بھاگنا بزدلوں اور غداری کرنے والوں کا عمل ہے۔ اس لئے جنرل نیازی کو میں نے کبھی سرنڈر کرنے پر دوش نہیں دیا۔ کیونکہ جب مشرقی پاکستان سے ٹاپ کے فوجی جرنیل استعفیٰ دے کر واپس آرہے تھے اور کوئی بھی افسر وہاں جانے کو تیار نہیں تھا، اس وقت جنرل نیازی نے بغیر بحث و تمحیص کے فی الفور وہاں جاکر ڈیوٹی جوائن کی، قلیل اور ناکارہ آلات حرب اور تھکے ہوئے سپاہیوں کے ذریعے جن کے پاس مناسب طبی سہولیات بھی نہیں تھیں، نو مہینے تک ملک کے چپے چپے کا دفاع کیا۔

جب انڈین افواج سرحدوں پر جمع ہو رہی تھیں تو اسے ان کے خلاف گوریلا کارروائیاں کرنے سے منع کیا گیا۔ پھر جنرل نیازی کے منع کرنے کے باوجود مغربی محاذ پر جنگ شروع کی گئی، جس کی وجہ سے انڈین فوج کھلم کھلا مشرقی پاکستان میں گھس آئی۔ جب ’مغربی محاذ سے مشرقی محاذ کی دفاع‘ کا منصوبہ تھا تو پھر تیرہ دن انتظار کیوں کیا گیا؟ اور جب حملہ کیا گیا تو وہاں پر کون سی فتح حاصل کی گئی؟ کیونکہ جنرل نیازی تو بدترین حالات، قلیل اور ناکارہ آلات حرب، تھکے ماندے لاوارث اور زخمی سپاہیوں کے ساتھ گھر سے ہزاروں میل دور چاروں طرف سے دشمن کے نرغے میں نو مہینے تک لڑتا رہا اور کمانڈر انچیف کے حکم پر ہتھیار ڈالے، لیکن مغربی محاذ پر سب کچھ میسر ہونے کے باوجود چھ ہزار مربع کلومیٹر علاقہ دشمن کے حوالے کرنے والے کون تھے؟

لیکن پھر بھی ہمارا ولن جنرل نیازی ہے۔ جبکہ اصل مجرم جنرل یحیٰی خان اور اس کی اقتدار میں رہنے کی حرص تھی۔ مقدمہ اس پر چلانے کی ضرورت تھی، لیکن مقدمہ تو اس پر کیا چلتا، مرنے کے بعد اسے پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ قومی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا گیا۔ جبکہ یہ قومی پرچم کی توہین تھی۔ کیونکہ جنرل نیازی یقینی اور بے بسی کی موت مرنے والے نوے ہزار پاکستانیوں کو بدترین حالات میں بچا کر لائے تو اسے بھی اسی قومی پرچم میں مرنے کے بعد لپیٹا جائے جس میں اقتدار کا بھوکا اور عیاشیوں میں مخمور یحییٰ کو دفن کیا گیا جس کی کوتاہ اندیشی کی وجہ سے ملک دولخت اور وہاں پر ہمارا پرچم ہمیشہ کے لئے سرنگوں ہوا۔

ملک کو تقسیم کرنے اور خون میں نہلانے والا واحد غاصب یحییٰ خان نہیں تھا۔ پرائی جنگ، جس کو عمران خان ڈالروں کی خاطر جنگ قرار دیتا ہے، کو اپنے گھر لاکر اس میں ستر ہزار سے زائد اپنے بے گناہ شہریوں کو قتل ہونے دینے والا اور ملک کو بدترین سیاسی تقسیم سے ہم کنار کرنے والا دوسرا ذمہ دار مشرف بھی ہے۔ اس نے پنجاب کے نواز شریف سے زبردستی حکومت چھین کر اس کے پنجاب کے ووٹرز کو خصوصاً اور باقی ملک کے ووٹرز کو عموماً ناراض کیا۔ آئین کو پاؤں تلے روندنے اور قانون کو درخور اعتنا نہ سمجھنے کے علاوہ بھاری مینڈیٹ لینے والے نواز شریف کو پہلے جیل میں ڈالا اور پھر دس سال کے لئے جلا وطن کیا۔

عمر رسیدہ بلوچ سردار اکبر بگتی کو، ڈاکٹر شازیہ میمن ریپ کیس میں انصاف دینے کی بجائے، قتل کر کے پورے بلوچستان کو تب سے آگ میں دھکیلا ہے جو ابھی تک جل رہا ہے۔

پھر مشرف کی جنگ پسند پالیسیوں کی وجہ سے پختونخوا میں کون سا سانحہ تھا جو وقوع پذیر نہیں ہوا اور جس سے وہاں کی آبادی بری طرح متاثر نہیں ہوئی۔

لال مسجد پر چڑھائی کر کے اس نے مذہبی طبقے کو فوج کے اس طرح خلاف کیا کہ وہ لوگ جو ملک و فوج کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے تھے خود اپنی فوج پر حملے کرنے لگے، جن سے صلح کے لئے ابھی تک مذاکرات جاری ہیں۔

اسی مشرف کے دور میں بینظیر بھٹو اس حالت میں شہید کی گئی کہ خون کے چھینٹے سڑک اور قاتلوں کے ہاتھوں سے فورا دھلانے کے باوجود مشرف کے دستانوں پر نمودار ہوتے نظر آئے۔

بارہ مئی کو کراچی کی سڑکوں پر ’عوامی طاقت کا مظاہرہ‘ کرنے کا اسلام آباد کے جلسے میں مکا لہرا کر اقرار کر کے مشرف نے قانون کی سربلندی کے لئے نکلنے والے وکلاء برادری اور سڑکوں پر قتل ہونے والوں کے ورثاء کو ناراض کیا۔

یوں مشرف کے غیر آئینی حکومت کے دوران، وہ جن کی جنگ لڑنے نکلا تھا، وہ امریکہ بھی ناراض، لال مسجد حملہ کی بنا پر مذہبی طبقہ بھی ناراض، میدان جنگ میں بودوباش کرنے اور روز مرنے والے پختونخوا کے پختون بھی ناراض، بگتی کی شہادت کی وجہ سے بلوچ بھی ناراض، نواز شریف کی گرفتاری جلاوطنی اور ووٹروں کی رائے کی توہین کرنے کی وجہ سے اکثریتی پنجابی بھی ناراض اور سندھی بینظیر بھٹو کی شہادت کی وجہ سے سندھی بھی ناراض۔

یہی سارا پاکستان تھا اور یہ سارا پاکستان ایک ڈکٹیٹر کی بے حس طرز حکمرانی کی وجہ سے منفی انداز میں متاثر ناراض اور گوناگوں نقصانات سے دوچار ہوا۔ اگر بروقت مشرف کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا تو نہ صرف یہ کہ متاثرہ فریق کے گلے شکوے دور ہو کر ابھی تک ان کی اشک شوئی ہو چکی ہوتی بلکہ فوج کے ادارے کو مشرف کے ان غیر قانونی اور ناعاقبت اندیشانہ پالیسیوں کی وجہ سے جو نقصان پہنچا تھا اس کا بھی بروقت مداوا ہوجاتا۔ لیکن اتنی ساری ناراضگیوں کو نظر انداز کر کے اس وقت کے جرنیلوں نے مشرف کو بیرون ملک مقیم کرا کر اسے تحفظ دیا۔

اب جب ایک عرصہ گزر گیا، زخم مندمل ہوئے اور یادداشت پر گرد پڑنے لگی ہے، ہما شما سمیت ایک سابقہ وزیراعظم بھی آرمی جرنیلوں اور فوج پر انگشت نمائی کر رہا ہے، بہتر ہو گا، کہ غیر سیاسی ہونے کے دعوے کے ثبوت کے طور پر خود کو ایک سیاسی جرنیل سے الگ کیا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے نہ صرف یہ کہ قوم اور فوج میں یکجہتی کا احساس بڑھ جائے گا بلکہ مستقبل کے پروپیگنڈا سے بھی نجات مل جائے گی۔ یوں مشرف سے فاصلہ پیدا کر کے مذہبی شدت پسندوں بلوچوں سندھیوں پختونوں اور پنجابیوں سے مکالمہ کرنے میں آسانی اور معاہدہ کرنے میں پائیداری پیدا ہو جائے گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 92 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments