صدائے صنف آہن


فلم ہیلارو (Hellaro)

یہ فلم میری دیکھی گئی ہندی فلموں کی فہرست میں اب سب سے اوپر ہے۔ یہ پہلی گجراتی فلم ہے جسے ہندوستان کی 66 سالہ تاریخ میں پہلی بار نیشنل ایوارڈ دیا گیا اور اس فلم نے سال 2019 کی سب سے بہترین فلم کا ایوارڈ اپنے نام کیا۔ یہ فلم عورت پر ہونے والے ظلم اور ان کی خود مختاری کو بیان کرتی ہے۔

ایک نظر گجراتی فلم ”ہیلارو“ پر!

لیکن!
پہلے اس کی کہانی اس کی زبانی جو اس فلم کا محور و مرکز ہے!

میں بھی ایک مکمل انسان ہوں! میری داستان بہت طویل ہے۔ میرا عروج فضائے نیلی سے بھی بلند تھا تو میرا زوال کرۂ ارض کی اتھا گہرائیوں سے بھی نیچے جا پہنچا ہے۔ ابتدائے داستان میرا وجود روئے سحر کی تازگی، نور کائنات کی تابندگی، آفتاب کی روشنی، ماہتاب کی چاندنی، چشموں کی روانی، پھولوں کی خوش بو، شہد کی مٹھاس، ہواؤں کی سر مستیوں کا سبب و موجب تھا۔

مجھے سرسبز و شاداب جنگلات کی فضاؤں، سنگلاخ پہاڑوں کی پناہ گاہوں اور تپتے صحراؤں کی گرم ہواؤں میں پوجا کے سنگھاسن پر بٹھایا گیا۔ مجھے بابل، سومیر، یونان اور شام میں دھرتی ماتا، ۔ ہورسگ، دی متر اور سی بیلی کہہ کر پکارا گیا۔ یونان و روم کی گلیوں میں مجھے محبت و حسن کی دیوی ایفرودیت و وینس کا نام دیا گیا۔ زندگی نے موت کے خوف سے، بہار نے خزاں کے ڈر سے، ہریالی نے خشک سالی کے وہم میں، بیماری نے تندرستی کی تمنا میں، شکست نے فتح کی آس میں میری مورتیوں کے گلے میں مالائیں پہنائیں، میرے چرنوں میں چڑھاوے چڑھائے۔

سرزمین ہند نے کبھی تو مجھے ”پرنم، پاکیزہ اور علم و ادب کی دیوی سرسوتی“ ہونے کا اعزاز بخشا تو کبھی روح شب و سحر ”اوشا و راتڑی“ سے موسوم کیا۔ مردان ہند قریہ قریہ، نگرنگر میرے روبرو سربسجود تھے۔ مجھے ”اون یانی و اندرانی“ سمجھ کر میرے سامنے سیس نواتے۔ خوش بختی و دھن دولت کی دیوی لکشمی کے روپ میں میرے درشن کرتے۔ محبت کی دیوی ”سیتا“ ، دختر کوہسار ”پاروتی“ اورجاہ و جلال کی علامت ”کا لی ماتا“ کا درجہ دے کر بھینٹ پر بھینٹ دی جاتی۔ میں تو برہما کے سنگ اپنی دھن میں مست و مگن تھی لیکن پاپیوں کے پاپ دھونے کے لیے وشنو کی زلفوں سے بہہ کر گنگا کا روپ بھی لے لیا۔ کسی کو میرے قدموں میں جنت نظر آئی تو کسی نے مجھے ملکۂ ارض و سما کا مقام دیا لیکن!

وقت کے دھارے نے اپنا رخ بدلا، انھی نگاہوں کے دیکھنے کا انداز بدلا، گویا کائنات کا راز بدلا، وہ محبت بھرا ساز بدلا۔ آتش پاتال کی لپٹوں نے مجھے گھیر لیا اور آسمان کے بپھرے گرد و غبار نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پدرشاہی راج نے میرے سر سے نیکی کی دیوی کا تاج اتار کر مجھے شر اور پاپ کی ماتا قرار دے دیا، دختر کوہسار، دہکتا شرار محسوس ہونے لگی، پاروتی کا چاند چہرہ، داغ دار و سیاہی بھرا ہو گیا، گنگا کی امرت بھری لہریں زہر بھری، خوں فشاں سی لگنے لگیں، محبت کی دیوی سیتا کی پاک دامنی اتنی مشکوک ٹھہری کہ داغ گناہ دھونے کے لئے اگنی پرکشا دینی پڑی۔

اب مظلومیت میرے آنگن کی دھوپ اور محکومی چھاؤں ٹھہری۔ بابل میں ملیٹا کے مندروں میں مجھے پیش کیا جانے لگا۔ ”ملکۂ فلک نوت“ بھی بے وفا ٹھہری۔ روم و یونان کے مندروں میں میری بھینٹ جائز قرار پائی۔ میرے حسن کے دیوانے، یونانی فلسفی بھی، مجھے فتنہ و فساد کہنے لگے۔ یونان کی وہ گلیاں و کوچے جو کبھی میری پوجا کے گیتوں سے گونجتے تھے اب ان میں میرا نام مصائب کا پنڈورا بن کر گونجنے لگا۔ مری حاکمیت محکومیت میں تبدیل ہو گئی۔

مجھے ملکہ کے تخت سے اتار کر زرخرید لونڈیوں کے باڑے میں ڈال دیا گیا۔ اب مجھے اپنے آپ پر، اپنے وجود، اپنی ذات پر، اپنی بات پر، اپنی اوقات پر، اپنے دن رات پر، اپنے حالات پر حتی کہ اپنے احساسات پر کوئی اختیار حاصل نہیں تھا۔ اب میں ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکی تھی۔ پدر سری پاکباز راج میں، میرا وجود، شر، وجۂ شر اور مجسم گناہ بن چکا تھا۔ اب میری اہمیت، شانے پہ دھرے بستر نما بوجھ، ہر دم غیر محفوظ ملکیت، ناقابل اعتبار جاندار اور ضرورت کی ایک شے سے کچھ زیادہ نہ تھی۔ میرے حسن و جمال کی توصیف و تعریف میں دیوان پہ دیوان رقم کرنے والی دنیا نے میرے حسن و جمال کے لیے پہرہ و پہرے دار کا بھیس بدل لیا۔ مجھ سے میرے ہنسنے بولنے، چلنے پھرنے، اوڑھنے بچھونے کی مرضی تک چھین لی گئی۔

میں ایک مکمل تخلیق ہوں، ایک مکمل انسان ہوں، میں عورت ہوں! لیکن اب میں ایسے زندان میں محبوس ہوں جس کی دیواریں، خودساختہ سماجی قوانین کی اینٹوں سے، مضبوط کی گئی ہے جس کا دروازہ، غیر فطری رسم و رواج کی قدیم لکڑی سے، تراشا گیا ہے، اور اس دروازے پر، فحاشی و شر پسندی کی بے پناہ قوت کو برداشت کرنے والا، من پسند غیرت کے آہن کا قفل لگا دیا گیا ہے میں کیا تھی اور مجھے کیا سے کیا بنا دیا گیا ہے۔

عورت کی کہانی خود اسی کی زبانی بیان کرنے کی وجہ اس بار ہماری منتخب کردہ فلم ”ہیلارو“ کا مرکزی خیال ہے جو عورت کے دل و دماغ میں دبے جوالہ مکھی کو لفظوں اور کرداروں کی لاجواب اداکاری کی شکل میں پردۂ سکرین پر مکمل کامیابی کے ساتھ ہمارے روبرو پیش کرتا ہے۔ فلم ہمیں کیا بتانا چاہتی ہے اس کی تفصیل بیان کرنے سے پہلے فلم کی کہانی کے پس منظر میں موجود تاریخ و روایات اور اسباب و وجوہات پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔

چونکہ فلم ہندومت کی ہر اس عورت کی کہانی سناتی ہے جو ابھی تک قدیم رسم و رواج اور پرم پرا کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے زندگی کا ہر دن جیتے جی مر مر کر گزار رہی ہے اس لیے پس منظر میں موجود ہندو مت کی عورت کے بارے سوچ بیان کی گئی ہے ورنہ دنیا کی قریبا ہر تہذیب عورت کے معاملے میں سوچ کے اعتبار سے کمال کی حد تک یکساں رہی ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کہانی ہر معاشرے اور ہر علاقے کی زبوں حال عورت کی کس مپرسی بیان کرتی ہے۔

ہندو مت میں منو کی داستان بہت مشہور ہے۔ منوکی مچھلی سے کی گئی دل چسپ گفتگو مکمل پڑھنا کافی پرلطف رہتا ہے۔ یہاں پر صرف اتنا بتانا مقصود ہے کہ منوسمرتی کا ہندومت پر بڑا گہرا اثر ہے۔ عورت کے حوالے سے ہندو مت کی قدیم کتابوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت تھا (اب ہر جگہ ایسا نہیں ) کہ عورت خواہ کم سن ہو، بالغ ہو یا کہ بوڑھی، وہ خود مختاری سے اپنے گھر کے اندر بھی کام نہیں کر سکتی کتاب اسے سکھاتی کہ اسے خودمختاری کو ہرگز پسند نہیں کرنا چاہیے (ایضاً 5 ؛ 741، 941 ) جس طرح جھوٹ بولنا ناپاک ہے بالکل اسی طرح عورتیں بھی ناپاک ہیں (منوسمرتی باب 2 ) گھر میں ایک طرف عورت اور دوسری طرف دولت، حسن اور تابناکی کے درمیان کوئی فرق نہیں (ایضاً 9 ؛ 62 ) شوہر کے مرجانے کے بعد بیوہ کو اپنے پتی کی چتا کے ساتھ جل مرنے کی رسم عام تھی۔

ستی (خود سوزی ) کی یہ قدیم رسم شیو دیوتا کی بیوی ستی کے آگ میں جل جانے سے وجود میں آئی۔ منوسمرتی میں لکھا ہے کہ ستی ہونے والی عورت اتنے سال تک جنت میں رہتی ہے جتنی شریانیں اس کے مرد کے جسم میں ہوتی ہیں (منو سمرتی باب 2 ؛ 3 ) اگر کبھی ایسا ہوتا کہ پتنی ستی ہونے پر رضامند نہ ہوتی تو اس کے لیے اس کی زندگی جہنم بنا دی جاتی، اس کا سانس لینا دوبھر کر دیا جاتا۔ ہندو مت میں دیو داسی کے نام پر عورت کو ہوس کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ یوں تو عورت پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کی داستان بہت قدیم ہے لیکن جب یہ ستم گری تقدیس بھری رسومات کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے تو زیادہ مضر و خطرناک ہوجاتی ہے۔

تعلیمی شعور نے انسانی رویوں میں بہت سی تبدیلیاں رونما کی ہیں لیکن آج بھی پاک و ہند سمیت دنیا کے بے شمار ممالک میں ایسے دور دراز گاؤں موجود ہیں جہاں عورت ابھی تک انھی قدیمی رسم رواج کی چکی میں عملی طور پر پس رہی ہے جب کہ شہروں اور قصبات میں بھی کہیں عملی تو کہیں فکری طور پر عورت کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ مذکورہ فلم انھی موضوعات کا نہایت ہی خوبصورتی سے احاطہ کرتی ہے۔

”ہیلارو“: فلم کا نام اور بنیادی خیال :

”ہیلارو“ گجراتی زبان میں ایسی لہر کو کہتے ہیں جو ہر بند کو عبور کر کے اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔ اس فلم میں مندر میں پوجا پاٹ کے سنگھاسن پر بٹھائی جانے والی دیوی سے لے کر بظاہر آزاد لیکن گھر میں قید ناری تک کی داستان جبر و الم کو بیان کیا گیا ہے۔ فلم عورتوں کی خود مختاری پر قدغن اور ذات پات کے قدیم فر سودہ و خود ساختہ نظام پر سوال اٹھاتی ہے۔ فلم بیوی کی مرضی کے بنا اس پر جنسی جبر کو ریپ کے مترادف گردانتی ہے۔

فلم یہ ثابت کرتی ہے کہ عورت بھی ایک مکمل انسان ہے اور جس طرح ہر انسان فطرتی خوبصورتیوں کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے بالکل اسی طرح عورت کی جبلت میں بھی فطرت کے تمام رنگوں اور مسرتوں کے لیے جذبۂ کشش موجود ہے جسے جابرانہ انداز میں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن کبھی نہ کبھی فطرت ہر روایت اور زنجیر کو توڑ ہی دیتی ہے۔ فی زمانہ یہ موضوع عام ہے لیکن فلم میں جس انداز میں موضوع کو اجاگر کرتی ہے وہ ذرا ہٹ کے اور خاص ہے جو اس فلم کو بھی خاص الخاص بناتا ہے اور فرق تو انداز بیان ہی ڈالتا ہے ”ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں“ ۔

مصنف و ہدایتکار :

”ابھیشیک شاہ“ گجرات سے فلم میکنگ کے آسمان پر ایک ابھرتا ہوا روشن ستارہ ہیں۔ بطور ہدایتکار یہ ان کی پہلی فلم ہے۔ جس محنت، باریک بینی اور حقیقت پسندی سے انھوں نے یہ فلم بنائی ہے قابل داد ہے۔ اس فلم نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ایک بہترین کہانی اور اسے سنبھالنے والا ہنر مند دماغ کسی بھی زبان میں ایک شاہکار تخلیق کر سکتا ہے۔ ایک انٹرویو میں ابھیشیک جی نے بتایا کہ فلم کی شوٹنگ کے لیے سیٹ کے طور پر ایک پورا نیا گاؤں تعمیر کیا گیا۔

فلم کی شوٹنگ پاکستان کے بارڈر سے دس کلومیٹر دور اسی گاؤں میں مکمل کی گئی۔ صرف تین کروڑ کے کم ترین بجٹ سے بنائی گئی یہ فلم ایک شاندار، لاجواب اور بے مثال آرٹ ورک ہے۔ فلم کے اداکاروں نے اپنے فن سے ہر کردار میں حقیقت کا وہ رنگ بھرا کہ ہر سین کو لازوال بنا ڈالا۔ سینماٹوگرافی اس قدر خوبصورت ہے کہ ہر سین پر داد دینے کو جی چاہتا ہے۔

میوزک اور گربا ڈانس:

اس فلم کی دوسری خاص بات اس کا گربہ اور لوک موسیقی ہے۔ ”گربا رقص“ ”درگا دیوی“ کے لیے نوراتری ( یعنی نورا تو کے تہوار) پر رچایا جاتا ہے۔ فوک میوزک اور گربا کی شکل میں، موسیقی کا تال میل اور سنگم، بصارت و سماعت میں ایسا رنگ و رس گھولتا ہے کہ ناظر و سامع دونوں ہی خوابوں کی جھلمل سی دنیا میں کھو جاتے ہیں۔

ایک نظر فلم کی کہانی پر:

کہانی گجرات کے ضلع کچ کے ایک گاؤں ثمر پورہ کی ہے یہ سن 1975 ہے کچ میں تین سال سے بارش نہیں ہوئی۔ گاؤں کے مرد دیوی ماں کے مندر کے سامنے ہاتھ جوڑ کر بارش کی التجا کر رہے ہیں۔ دیوی ماں کے لئے بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔ گاؤں کے قوانین اور رسم و رواج کے مطابق ہر برائی اور آفت کی ذمہ دار عورت کو ہی سمجھا جاتا ہے۔ عورتوں کا گھر سے نکلنا اور گربا کرنا ایک جرم ہے۔ وہ گاؤں کے باہر جوہڑ سے پانی بھر کر لانے کے لیے ہی گھر سے نکل سکتی ہیں۔

ایک بیوہ عورت کیسر کو ڈیڑھ سال کے بعد گھر سے نکلنے کی اجازت صرف اس وقت ملتی ہے جب گھر میں پانی بھر کر لانے والا کوئی نہیں رہتا۔ کیسر کے ودھوا ہونے کے جرم میں دیگر عورتوں تک کو اس سے بات چیت کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ ایک لڑکی منجری اس سے بات کرنے کی کوشش کرتی ہے تو دوسری عورتیں روک دیتی ہیں اور سمجھاتی ہیں کہ یہ جرم اور خلاف قانون ہے۔ منجری جواباً بول اٹھتی ہے ”یہ کھیل بھی مردوں کا ہے اور قانون بھی ان کے ہیں، یہ کافی نہیں کہ ہم ان کے ظلم کا شکار ہیں، اب ہم یہ کھیل اور نہیں کھیل سکتیں“ ۔

فطرت کی طاقت کا اظہار یعنی ”ہیلارو“ اس سین میں دکھایا جاتا ہے جب پانی بھرنے والی عورتوں کا جھنڈ زمین پر لیٹے ایک شخص کو دیکھتی ہیں تو اسے مرا جان کر پہلے تو ڈر جاتی ہیں لیکن بعد میں اسے ڈرتے ڈرتے پانی پلا دیتی ہیں۔ جاتے جاتے انھیں پتا چلتا ہے کہ وہ ایک ڈھولی ہے کیونکہ اس پاس ڈھول موجود تھا۔ ایک ڈھول بجانے کی فرمائش کرتی ہے لیکن باقی سب ڈر جاتی ہیں اور جب ڈھول پر پہلی تھاپ پڑتی ہے تو پہلی لڑکی کے رقص کو دیکھ کر فطرت یوں خوف کا چولا اتار پھینکتی ہے کہ تھوڑی دیر بعد تمام عورتیں مدتوں سے اپنے اپنے دل میں دبی اظہار مسرت کی تمنا کو گربا کے اسی رقص سے پورا کرنے لگتی ہیں جو ان کے لیے ایک امر ممنوع بنا دیا گیا ہوتا ہے۔

ڈھولی ان کی طرف پیٹھ کیے ڈھول بجاتا رہتا ہے اور وہ سب مست و بے خود ہو کر سچی مسرت کے احساس لذت کا حظ و لطف اٹھاتی رہتی ہیں۔ بے خودی کا سرور ٹوٹنے پر عورتیں اس خدشہ کا اظہار کرتی ہیں کہ اس پاپ پر انھیں دیوی کے شراپ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بیوہ عورت کیسر بے خوف کہتی ہے ”اگر دیوی کو سزا دینی ہے تو وہ مجھے دے“ ۔ منجری کہتی ہے کہ اس دنیا میں کوئی اور سزا باقی ہے جو تجھے دی جائے۔ جب ایک لڑکی مارے جانے کے ڈر سے ڈھول بجانے کے عمل کو روکنا چاہتی ہے تو ایک آواز سرمستی میں ( ہیلارو کی طرح ہر بند توڑتے ہوئے ) گونج اٹھتی ہے ”ڈھول بجانا بند مت کر! تمہارے ڈھول کی تھاپ پر رقص بھرے ان چند لمحات میں ہی تو ہم نے خود کو زندہ محسوس کیا ہے، اب ہم مارے جانے کے ڈر سے جینا تو نہیں چھوڑ سکتیں“ ۔

ایسے حالات میں جب گاؤں کی عورتوں کا یہ راز کھل جاتا ہے، جب مجبور و بے بس وجود اپنے ہونے کا احساس پاتے ہیں، جب ٹھہرے پانی کی مانند دبی آوازیں ”ہیلارو“ کا روپ دھارتی ہیں تو پھر بند ٹوٹتے ہیں یا نہیں؟ فلم اپنے موضوع کا حق ادا کرتی ہے یا نہیں؟ وہ تعریف میں مہا کنجوس شخص کے منہ سے بھی ”واہ کیا بات ہے! نکلواتی ہے یا نہیں؟ فلم منجمد سوچ میں ہلچل مچاتی ہے یا نہیں؟ فلم ہر دل میں اپنا پیش کردہ درد جگاتی ہے یا نہیں؟ ان سب رازوں سے پردہ اٹھانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے اس فلم کو پہلی فرصت میں، پہلی فراغت میں دیکھنا۔

آج ہمارے معاشرے میں عورت کو نفسیاتی، سماجی اور ثقافتی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہر دور میں بیٹوں کو اہمیت دی جاتی ہے اور جب کبھی بھوک، مجبوری، جنگ اور بے عزتی کا خوف لاحق ہو تو مردانہ غیرت ہمیشہ لڑکی کو موت کے لیے چنتی ہے۔ عورت کو زندہ درگور کرنے والے قدیم ادوار کے اکا دکا واقعات کو بار بار بیان کرنے والا آج کے دور کا انسان یہ بھول جاتا ہے کہ آج شاید پہلے سے بھی زیادہ اس طرح کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ آج اس کے جذبات احساسات اور خواہشات کو، ذہنی و فکری اپاہج پن کی پیداوار، من گھڑت رسومات کے بیلچے سے، کھودی گئی نفرت و بد اعتمادی کی گور میں، دفن کر دیا جاتا ہے۔

جب ”کرونائی طوفان“ نے لوگوں کو اپنے ہی گھروں میں محصور ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ تو ہمارے لیے ہمارے اپنے ہی گھر کی چاردیواری میں رہنا محال ہو گیا۔ گویا کسی نے ہماری سانسیں بند کر دی ہوں۔ ہم بوریت کے ہاتھوں چڑچڑے پن کا شکار تھے۔ جس کو بھی موقع ملتا ہے وہ کسی نہ کسی بہانے باہر کی طرف بھاگتا۔ ہم کتنے لاڈلے ہیں! لیکن ہم نے شاید کبھی غور نہیں کیا کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کی ایک اکثریت اپنی پوری زندگی ہی ”قرنطینہ“ میں گزار دیتی ہے۔

ہر دوسرا یہی کہتا نظر آتا ہے کہ اسے ماسک سے الجھن ہوتی ہے، سانس رکتا محسوس ہوتا ہے لیکن شاید خواتین کو ایسی الجھن ہوتی ہی نہیں! اپنے ہی گھر میں گھبرا جانے والے ہمارے پیارے بھائی جان کو بہن یا بیوی پارک یا بازار تک جانے کا کہہ دے تو اس کی شیشے سے نازک انا کو فوراً ٹھیس پہنچ جاتی ہے کہ بھلا اس غیر محفوظ شے کو اپنے جیسے دوسرے مردوں میں سے کس کس کی نظر سے بچاتا پھروں گا۔ بالفرض محال کوئی ہمراہ لے بھی لے تو کڑی نظر رکھتا ہے اور ”تم ہنس کیوں رہی ہو؟

ادھر کیوں دیکھا؟ ادھر کیوں دیکھا؟ نظر جھکا کر چلو! میرے پیچھے چلو! زیادہ گفتگو نہ کرو! ہر مرد اپنے علاوہ ہر دوسرے مرد کو بھیڑیا سمجھتا ہے اور یقیناً دوسرے اسے یہی سمجھتے ہوں گے، حقیقتاً سب بھیڑیے ہیں؟ یا یہ ایک نفسیاتی الجھن ہے؟ یہ فیصلہ بھی مردوں نے ہی کرنا کہ جن کے منہ سے نکلی ہر گالی بھی ماں، بہن اور بیٹی یعنی عورت کی تذلیل کرتی سنائی دیتی ہے جب کہ باپ، بھائی اور بیٹے کے نام سے تو گالیاں بھی دستیاب نہیں۔

عورتوں سے مارپیٹ کرنے، تیزاب پھینکنے، جلائے جانے اور غیرت کے نام پر اپنے ہی بھائی باپ کے ہاتھوں قتل ہونے کے واقعات ہر دن میڈیا کی ریٹنگ بڑھانے میں خوب مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ عورت کا مرد سے مارپیٹ کرنا، مرد پر تیزاب پھینکنا، جلایا جانا، عورت کا مرد کو غیرت کے نام پر قتل کرنا یا بھائی اور باپ کا اپنے بیٹے کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کے واقعات کا عدم وجود کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ کچھ شوہروں کو بیویوں سے مار پڑ بھی جاتی ہے لیکن نسبتاً عورتوں کے ساتھ ہونے والے واقعات ”نمک میں آٹے“ اور مردوں کے ساتھ ایسا ہونا شاید ”آٹے میں نمک“ کے برابر بھی نہیں۔

ایسا نہیں کہ ہر مرد ایسی سوچ کا حامل ہے لیکن آج بھی ایک اکثریت کا ایسا سوچنا فکری و ذہنی ترقی کو مشکوک بناتا ہے۔ عورت کی شان میں لکھے گئے اشعار و اقوال سے کتب بھری پڑی ہیں لیکن قلب کی گہرائیوں میں حقارت کی کھچڑی ہر دم تازہ رہتی ہے۔ عموما مرد کو عورت سے ہر حال میں اپنی اطاعت، عبادت اور خدمت درکار ہے لیکن جواباً رعونت، خشونت اور حقارت کے سوا کچھ دینے کو تیار نہیں۔

” اناطول فرانسس“ کے نوبل انعام یافتہ ناول ”تائیس“ کے مطابق ہر مرد خود کو ”راہب پفنوتوس“ سمجھتا ہے کہ دنیا کی ہر عورت ”تائیس“ جیسی گناہ گار ہے اور اسے ہماری مدد اور ہمدردی کی ضرورت ہے۔ شاید پفنوتوس کی لاعلمی ہر مزاج کا حصہ ہے جو اس احساس کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے کہ کائنات میں پفنوتوس جیسے لوگوں سے زیادہ کوئی بے یار و مددگار نہیں، اس بے معنیٰ حقارت و غرور کے زیب تن کیے جامہ کے اندر جھانک کر خود اپنا سامنا کرنا پفنوتوس جیسے ہر نام نہاد نیک کے لیے ناگزیر ہوتا جا رہا ہے ورنہ نفرت و حقارت کا یہ باب کبھی بند نہیں ہو گا۔

”خدا کو عورت کے روپ میں دیکھنا زیادہ بہتر ہے بہ نسبت اسے کسی اور چیز کے تصور کرنا“
ابن العربی
حوالہ جات
ماضی کے مزار از سبط حسن
مذاہب عالم کا انسائیکلو پیڈیا مترجم یاسر جواد
انسانی تہذیب کا ارتقا ول ڈیورانٹ مترجم تنویر جہان

Facebook Comments HS